مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہر آزاد ایم این اے، ایم پی اے کا حق ہے کہ جس جماعت میں شامل ہو۔ میں دفاع نہیں کروں گا کہ پی ٹی آئی، سنی اتحاد نے بڑی غلطیاں کیں۔‘
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’اگر سنی اتحاد اور تحریک انصاف ایک ہو جاتیں تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن وہ بھی نہیں کیا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا۔ آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا۔ سیاسی جماعت کی ممبرشپ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ’وقت آگیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلے۔‘
سنی اتحاد کونسل کے وکیل کے دلائل ختم ہونے کے بعد اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’الیکشن ایکٹ کے مطابق کوئی شخص دو جماعتوں کا رکن نہیں ہو سکتا۔ (درخواست گزار) کنول شوزب کو پہلے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا پڑے گا۔‘
ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہم پی ٹی آئی کا نہیں، سنی اتحاد کونسل کا کیس سن رہے ہیں۔‘
انھوں نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’ہم آپ کو ایسے نہیں سن سکتے کیونکہ مخصوص نشست کے لیے نہ پی ٹی آئی سے ہیں یا سنی اتحاد کونسل سے۔‘
سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ ’میری موکلہ نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار نہیں کی۔‘
جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ ’یہ بتائیں کہ 86 امیدوار ایک فرد والی جماعت میں کیوں شامل ہوئے؟‘
’کیا وجہ تھی کہ پی ٹی آئی کے امیدوار دوسری جماعت میں گئے؟‘
سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ انتخابی نشان واپس ہوگیا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے مجبوری میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجبوری ہو تو کیا آئین و قانون کو نہیں مانا جاتا؟ کیا مجبوری میں تمام قوانین و اصول توڑ دیے جاتے ہیں؟‘
سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ ’سینیئر وکلا نے یہ فیصلہ کیا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت میں کوئی حرج نہیں۔‘
وکیل سلمان اکرم راجہ نے دورانِ دلائل بتایا کہ ’کہا جا رہا تھا پی ٹی آئی کالعدم ہو جائے گی۔‘
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پی ٹی آئی میں کوئی وکیل نہ ہوتا، پہلا الیکشن لڑ رہی ہوتی تو ہم یہ مفروضے سنتے۔ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رُک نہیں سکتا، کسی نے غلط ایڈوائس دی ہے۔‘
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ایسا ہو سکتا ہے شاید مگر یہ فیصلہ تھا۔‘ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’تو یہ مشورہ دینے والے پر کیس کریں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آئین عوام اور منتخب نمائندگان کے لیے بنایا گیا ہے۔ جب آئین واضح ہو تو تشریح کی ضرورت نہیں۔ عام کتاب ہے، کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔‘
انھوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ ’آئین کی اہمیت ہے۔ کوئی بھی آجاتا ہے، جو چیز آئین میں واضح ہے، اس پر عمل کریں۔‘
اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ہم نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، الیکشن کمیشن بھی گئے۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کوئی سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کرے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘
’بار بار سپریم کورٹ کا نہ کہیں۔ رجسٹرار کے پاس جوڈیشل پاور نہیں۔‘