آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

متحدہ عرب امارات کو دفاع کا حق حاصل ہے، امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے فضائی و علاقائی حدود نہیں استعمال کرنے دیں گے: اماراتی وزیر

متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت لانا نسیبہ نے خطے کے ممالک پر ایران کے ’ گھناؤنے، غیرقانونی اور بلا اشتعال حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ صورتحال صرف حملوں کی شدت کے باعث ہی حیران کن نہیں، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ ایران نے اس تنازع میں پورے خطے کو گھسیٹ لیا ہے۔

خلاصہ

  • ایرانی نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کی ہے۔
  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا۔
  • ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے سفر اور سیاحت کے شعبے کو یومیہ کم از کم 600 ملین ڈالر (448 ملین پاؤنڈ) کا نقصان
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ’جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور بین الاقوامی ضمانتیں ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. ایران کے نئے رہبرِ اعلی کا پہلا پیغام: آبنائے ہرمز کو بند رکھنے اور ہر ایرانی کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان

    ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہوا جس میں اُنھوں نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے تسلسل پر زور دیا اور کہا کہ ’میناب کے سکول کے بچوں سمیت ہلاک ہونے والے تمام ایرانیوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘

    ایران کے سرکاری ٹیلی وژن سے مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام نشر کیا گیا جو انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کی حیثیت سے دیا۔ یہ پیغام سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان نے پڑھ کر سنایا۔

    اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’انھیں مجلسِ خبرگان کے اپنے انتخاب کے فیصلے کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا۔‘

    امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے ایران کی جوابی کارروائیوں کے جاری رہنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’دشمن کے خلاف ایسے دیگر محاذ کھولنے کے بارے میں مطالعہ کیا گیا ہے جہاں اسے کم تجربہ ہے اور وہ شدید کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر جنگی صورتحال برقرار رہی تو ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان محاذوں پر کارروائی کی جائے گی۔‘

    مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام کے ایک حصے میں یمن میں مزاحمتی محاذ، لبنان میں حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی افواج کا شکریہ ادا کیا۔

    اپنے پہلے پیغام میں ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم دشمن سے ہرجانہ وصول کریں گے۔ اگر وہ انکار کرے تو ہم ایسا ہی نقصان دشمن کی املاک کو پہنچائیں گے اور اُن کو تباہ کر دیں گے۔‘

    انھوں نے خطے کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسا کہ ہم نے پہلے خبردار کیا تھا، ہم نے ان ممالک پر حملہ نہیں کیا بلکہ صرف وہاں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور آئندہ بھی مجبوراً ہمیں ایسا کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی کو ضروری سمجھتے ہیں۔‘

    مجلسِ خبرگان نے پیر کے روز مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر مقرر کیا۔

    اسلامی جمہوریہ کے مختلف اداروں جن میں سرکاری، عدالتی، سکیورٹی اور فوجی ادارے شامل ہیں نے ان کے انتخاب کا خیر مقدم کیا اور ان کی حمایت کا اعلان کیا۔

    یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی صحت اور جسمانی حالت کے بارے میں میڈیا میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

    اس سے پہلے قبرص میں ایران کے سفیر علیرضا سالاریان نے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا تھا کہ ’میں نے سنا ہے کہ ان کی ٹانگوں، ہاتھ اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں۔۔۔ میرا خیال ہے وہ ہسپتال میں ہیں کیونکہ وہ زخمی ہیں، اور میرا نہیں خیال کہ وہ اس حالت میں تقریر کرسکیں گے۔‘

  2. پاسدارانِ انقلاب کا عراق اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات اور عراق میں امریکی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ’انھوں نے یو اے ای، عراق اور کویت میں امریکی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ ’سپاہ نیوز‘ پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ

    ’دبئی کے شیخ زاید روڈ پر امریکی افواج کے زیرِ استعمال ایک اہم مقام اور کویت کے احمد الجابر ایئرپورٹ میں امریکی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکہ کے میرینز یعنی بحریہ کے دستوں کی رہائش گاہ، جو الظفرہ ایئر بیس، متحدہ عرب امارات میں ہے، اور عراق میں امریکی متحرک اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

  3. امریکی بحریہ تیل بردار بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں: امریکی وزیرِ توانائی

    امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ ’ان کے ملک کی بحریہ اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

    تاہم ان کا یہ بیان منگل کے روز سامنے آنے والے بیان کے برعکس ہے، درحقیقت 48 گھنٹے پہلے انھوں نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے کامیابی سے ایک آئل ٹینکر کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزانے میں مدد فراہم کی ہے۔

    امریکی وزیرِ توانائی کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں تھیں، لیکن چند ہی منٹ کے بعد ایکس پر سے اُن کا یہ بیان ڈیلیٹ ہو گیا تھا۔

    اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ امریکی بحریہ نے دراصل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی تیل بردار بحری جہاز کو تحفظ رفاہم کرنے کی بات نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کُچھ ہوا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے اس بیان کے مان بعد رالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو گیا۔

    جمعرات کو خبر رساں ادارے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے رائٹ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کو جلد ہی تحفظ فراہم کیا جائے گا لیکن ایسا ابھی نہیں ہو سکتا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم فی الحال ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس وقت ہماری تمام فوجی طاقت ایران کی جارحانہ صلاحیتوں اور ان صنعتوں کو تباہ کرنے پر مرکوز ہیں جو ان کی جارحانہ کارروائیوں کے لیے سازوسامان فراہم کرتی ہیں۔‘

  4. بریکنگ, نئے رہبرِ اعلیٰ کا پہلا پیغام جلد جاری کیا جائے گا: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام جلد جاری کیا جائے گا۔

    ٹیلیگرام پر ایرانی سرکاری ٹی وی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ پہلا سٹریٹیجک پیغام سات اہم نکات یا حصوں پر مشتمل ہوگا جن میں ’سابق رہبرِ انقلاب کا ذکر ہوگا، عوام کے کردار اور ذمہ داریوں، مسلح افواج، حکومتی اداروں، مزاحمتی محاذ، خطے کے ممالک اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے سے متعلق اہم باتیں شامل ہوں گیں۔‘

    تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پیغام ویڈیو کی شکل میں جاری کیا جائے گا یا تحریری بیان کے طور پر اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ اسے کب جاری کیا جائے گا۔

  5. پاسدارانِ انقلاب کا خلیج میں امریکی تیل برداد بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہے ہے کہ انھوں نے خلیج میں ایک امریکی جہاز پر حملہ کیا ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق جمعرات کی صبح خلیج میں ایک امریکی ملکیت کے جہاز پر حملہ پاسدارانِ انقلاب نے کیا۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کا کہنا ہے کہ ’عراقی پانیوں میں بصرہ کے قریب دو تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے ایک ’سیف سی وشنو‘ ہے جس کی ملکیت امریکہ کے پاس ہے اور اور دوسرا ’مارشل آئی لینڈز‘ کے پرچم کے تحت چلتا ہے۔‘

    خبر رساں ادارے فارس کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے کہ جس کے بارے میں اُن کا دعویٰ ہے کہ اس میں ’سیف سی وشنو‘ پر حملہ اور اس کے بعد اس میں لگنے والی آگ کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس سے پہلے انڈین حکام نے کہا تھا کہ ’سیف سی وشنو‘ کو ایک سفید رنگ کی بغیر پائلٹ تیز رفتار کشتی نے نشانہ بنایا جس میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ یہ کشتی جہاز سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں جہاز میں ایک دھماکے کے بعد شدید آگ لگ گئی۔‘

    خبر رساں ادارے فارس کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ ’اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ باقی عملے کو بچا لیا گیا۔‘

    فارس کے مطابق اس تیل بردار بحری جہاز نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دی گئی وارننگز پر عمل نہیں کیا تھا اس لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔

  6. ایرانی جزائر پر حملے ہوئے تو خلیجِ فارس کو خون سے بھر دیں گے: محمد باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’ایرانی جزائر کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

    ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اسرائیل اور امریکہ پر شدید الفاظ میں تنقید کی انھوں نے اپنے بیان میں لکھا کہ ’وطن یا موت!، ایرانی جزائر کے خلاف کسی بھی جارحیت سے صبر کے تمام ضبط ٹوٹ جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ایرانی جزائر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی ہوئی تو ہم خلیج فارس کو حملہ آوروں کے خون سے بھر دیں گے۔‘

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا اپنے پیغام کے آخر پر کہا تھا کہ ’ایرانی جزائر پر کارروائی اور اس کے جواب میں جتنے بھی امریکی فوجیوں کی جانیں گئیں تو کی ذمہ داری امریکی صدر ٹرمپ کے سر ہوگی۔‘

  7. وزیرِاعظم پاکستان کا سعودی عرب کا سرکاری دورہ: خطے میں جاری کشیدگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا، دفترِ خارجہ

    پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف سرکاری دورہ پر سعودی عرب پر روانہ ہوگئے ہیں۔

    وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب پر روانہ ہوئے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے جس میں خطے میں جاری کشیدگی، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال ہوگا۔

    پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کے دورے کے حوالے سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی روانہ ہوئے ہیں۔‘

    دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ایران پر ایک ایسے وقت میں حملہ کیا گیا کہ جب مذاکرات جاری تھے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم گلف ممالک پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اس تمام تر صورتحال میں تین باتوں پر زور دیتا ہے۔ پہلی یہ کہ ’تمام ممالک کی خودمختاری کا خیال رکھا جائے۔‘ دوسری یہ کہ ’عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہ کی جائے‘ اور تیسری اور اہم بات یہ کہ ’تمام فریقین بات چیت اور سفارتکاری سے کام لیں۔‘

  8. تباہ کی گئی ایرانی سائٹ جوہری ہتھیاروں کی ’صلاحیت کو جدید بنانے کے لیے‘ استعمال کی جا رہی تھی: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ’گذشتہ دنوں کے دوران‘ کیے گئے حملوں میں اس نے تہران میں ’جوہری ہتھیار بنانے والے کمپاؤنڈ‘ کو نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق: ’ایرانی حکومت جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو جدید بنانے کے لیے تالیغان کمپاؤنڈ کو استعمال کر رہی تھی۔‘

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے مطابق سنہ 2000 کی دہائی میں اس مقام کو دھماکہ خیز مواد بنانے اور ’خفیہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کے‘ تجربات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    ٹیلی گرام پر جاری بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں نے اس پروگرام کو ’خاصا نقصان‘ پہنچایا تھا۔

    بیان میں کہا گیا: ’آئی ڈی ایف نے حال ہی میں نشاندہی کی ہے کہ اکتوبر 2024 میں نشانہ بنائے جانے کے بعد ایرانی حکومت نے اس کمپاؤنڈ کی بحالی کے اقدامات کیے۔‘

    واضح رہے کہ ایران بارہا اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک میں سے ایران وہ واحد ملک ہے جس نے تقریباً ہتھیار بنانے کے لیے درکار سطح تک یورینیم افزودہ کر لیا ہے۔

  9. ایران کے جوہری ہتھیار بنانے والے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا: اسرائیل کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ’گذشتہ دنوں کے دوران‘ کیے گئے حملوں میں اس نے تہران میں ’جوہری ہتھیار بنانے والے کمپاؤنڈ‘ کو نشانہ بنایا۔

  10. ایران میں لڑکیوں کے سکول پر حملے سے ہلاکتوں کے بعد امریکہ میں سوالات, ٹام بیٹ مین، نامہ نگار امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھا ہے جس میں ایران کے خلاف جنگ کے آغاز پر لڑکوں کے سکول پر ہونے والے حملے کے بارے میں جواب طلب کیے گئے ہیں۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 110 بچوں سمیت 168 افراد ہلاک ہوئے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ممکنہ طور پر اس حملے کی ذمہ دار امریکی فورسز ہی ہیں، اگرچہ ابھی حتمی نتیجہ نہیں نکالا گیا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

    یہ خط سینیٹ کے تقریباً تمام ڈیموکریٹس کی جانب سے ہے۔ اس میں ہیگستھ سے میناب میں ہونے والے اس حملے کے بارے میں تفصیلی سوالات کیے گئے ہیں۔ پہلا سوال ہی یہ ہے کہ کیا یہ حملہ امریکہ نے کیا تھا۔

    خط میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا لڑکیوں کے سکول کو نشانہ بنانے کی وجہ غلط اندازہ تھی؟ اور کیا جنگی جرائم سے بچاؤ کے اصولوں پر عمل کیا گیا؟

    اگر ثابت ہو جائے کہ اس حملے میں امریکہ کا کردار تھا، تو یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی تنازعات کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بدترین واقعات میں سے ایک ہو گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں یہ حملہ ایران نے خود کیا، اگرچہ انھوں نے اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ اس حملے کی ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی ٹوماہاک میزائل اس ایرانی فوجی اڈے پر گرا جو سکول کے قریب واقع تھا۔

    حملے کے بارے میں گذشتہ ہفتے جب بی بی سی نے ہیگسیتھ سے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ امریکہ نے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا اور اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    سینیٹرز کے خط کے بارے میں تبصرے کے لیے پینٹاگون سے رابطہ کیا گیا ہے۔

  11. جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحری جہازوں پر 16 حملوں کی اطلاعات: یو کے ایم ٹی او

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیج، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں اب تک 16 بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    یو کے ایم ٹی او کا یہ بھی کہنا ہے کہ تنازعے کے دوران ’مشکوک سرگرمی‘ کی بھی چار اطلاعات موصول ہوئیں۔

  12. کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرونز کا حملہ، سرکاری میڈیا

    کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کئی ڈرونز نے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ خبر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حوالے سے رپورٹ کی گئی۔

    ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا گیا کہ حملے میں ’جانی نقصان تو نہیں، البتہ مالی نقصان ضرور ہوا ہے۔‘

  13. اسرائیل کی ایران کے خلاف ’وسیع پیمانے پر حملوں کی نئی لہر‘

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف ’وسیع پیمانے پر حملوں کی لہر‘ کا آغاز کر دیا ہے۔

    ٹیلی گرام پوسٹ میں اسرائیل ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  14. تیل کی قیمتیں اتنی نیچے آ جائیں گی جس کا کسی کو گمان نہ ہو گا: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں جلد ہی بہت کم ہوں گی اور اس قدر کمی کا کسی کو گمان بھی نہیں ہو گا۔

    کینٹکی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ 32 ممالک کی جانب سے تیل کے ذخائر جاری کرنے کے فیصلے سے قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔

    اس سے قبل انھوں نے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ’جنگ کا معاملہ‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’قیمتیں بہت نمایاں طور پر نیچے آ رہی ہیں۔ تیل نیچے آئے گا۔ یہ صرف جنگ کا معاملہ ہے جو ہوتا ہے۔ آپ تقریباً اس کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ’بہت گہری نظر رکھے گا۔‘

    ان کے مطابق ’آبنائے بہترین حالت میں ہے۔ ہم نے ان کی تمام کشتیاں تباہ کر دی ہیں۔ ان کے پاس کچھ میزائل ہیں، لیکن تعداد میں زیادہ نہیں۔‘

  15. ایران کے عراق، بحرین اور عمان میں حملوں سے آگ بھڑک اٹھی، بین القوامی بینکوں کا خلیجی ممالک میں کام متاثر, باربرا پلیٹ عشر، بی بی سی نیوز

    ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کے خلاف کارروائی کے باعث مسلسل حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر افراتفری مچا دی ہے۔

    عراق کے جنوبی شہر بصرہ کی بندرگاہ کے قریب دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز پر آپریشن روک دیا گیا۔ عملے کے زیادہ تر افراد کو بچا لیا گیا تاہم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    بحرین میں ایران کے حملے کے بعد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب تیل اور ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی۔ دھواں اتنا شدید ہے کہ حکام نے شہریوں کو کھڑکیاں بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

    عمان کے شہر صلالہ کی بندرگاہ پر ایندھن کے ذخائر پر کل کے حملے کے بعد آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام نے احتیاطاً آئل ایکسپورٹ ٹرمینل پر موجود جہازوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے کو معاشی جھٹکے سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے مغربی مالیاتی اداروں کو بھی ’جائز ہدف‘ قرار دیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی بینکوں نے خلیجی ممالک میں اپنے دفاتر بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ قطر میں ایچ ایس بی سی جبکہ دبئی میں سٹی بینک اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے ملازمین کو گھروں پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔

  16. نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ، سمری صدر پاکستان کو ارسال

    مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے سمری منظوری کے لیے صدر پاکستان کو بھجوا دی ہے۔

    وزیر اعظم کی نہال ہاشمی سے ملاقات بھی کی اور گورنر سندھ تعیناتی پر مبارکباد پیش کی۔ ملاقات میں رانا ثناء اللّٰہ، اسحاق ڈار اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

    خیال رہے کہ اس وقت گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری ہیں جن کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے۔

    کراچی سے تعلق رکھنے والے نہال ہاشمی گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں۔

    اس سے قبل وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں ان کے مشیر برائے قانون و انصاف رہے جبکہ کراچی میں مسلم لیگ ن کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    فروری 2018 میں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہینِ عدالت کے جرم کا مرتکب پاتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی اور انھیں پانچ برس کے لیے کسی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا تھا۔

    نہال ہاشمی کون ہیں؟

    مسلم لیگ ن میں سینیٹر نہال ہاشمی کی پہچان متوسط طبقے سے تعلق اور نواز شریف کے ساتھ بے لوث وابستگی ہے۔

    وہ اس وقت مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے جب سندھ اور بالخصوص کراچی میں ان کی جماعت کے نام لیوا بہت کم تھے اور جو تھے وہ یا تو جیل میں تھے یا جیل جانے سے بچنے کے لیے چھپتے پھرتے تھے۔

    ایسے وقت میں نہال ہاشمی جو کہ کراچی میں ذیلی عدالتوں میں وکالت کرتے تھے، طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں نواز شریف کی عدالت حاضری کے وقت ان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔

    نہال ہاشمی نواز شریف کے قریب تو بہت تھے لیکن کبھی بھی ان کے سنجیدہ مشاورتی حلقے میں شامل نہیں رہے۔

    وجہ اس کی، ان کے مزاج کا سیلانی پن بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ پارٹی میٹنگز میں بھی بعض اوقات ایسی بات کر جاتے جس پر ان کے علاوہ شرکا کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑتا۔

    یہی جذباتی پن بلآخر ان کے جیل جانے کا باعث بنا ہے۔ مئی 2017 میں انھوں نے پاناما کیس کے دوران اس کیس کی تفتیش کرنے والے جے آئی ٹی اور عدلیہ کے ارکان کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز تقریر کی، تو مسلم لیگ ن نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے سینیٹ سے استعفیٰ طلب کیا۔

    ان[وں نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا اور نواز شریف سے ملاقات کا وقت مانگا جو انھیں نہیں ملا۔

    کہا جاتا ہے کہ اس کٹھن وقت میں انھیں مسلم لیگ کی صرف ایک خاتون شخصیت کی حمایت حاصل رہ گئی تھی جو اس وقت پارٹی میں دوسری اہم ترین فرد سمجھی جاتی ہیں۔

  17. ایران میں سکول پر حملے میں ممکنہ طور پر امریکہ کا کردار ہو سکتا ہے: امریکی سابق کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

    امریکہ کے سابق سی آئی اے ڈائریکٹر اور یو ایس سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے ایران کے جنوبی علاقے میں ایک سکول پر حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر اس حملے میں امریکہ کا کردار ہو سکتا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے پہلے دن میناب میں اس سکول پر ہونے والے حملے میں 168 افراد ہلاک ہوئے۔

    جنرل پیٹریاس نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اگرچہ انھوں نے براہِ راست شواہد نہیں دیکھے لیکن ان کے خیال میں ’افسوسناک طور پر شاید ہم ہی ذمہ دار تھے، کیونکہ اس جنگی مشق میں ٹوماہاک میزائل صرف ہمارے پاس تھے۔‘

    یاف رہے کہ ایرانی حکام نے اس حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا تھا تاہم دونوں ممالک نے تاحال اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جب یہ عمارت برسوں پہلے ایرانی بحریہ کے ایک بڑے کمپاؤنڈ کا حصہ تھی تو اب ایسا لگ رہا ہے کہ (اس وقت کا ) کچھ پرانا ڈیٹا استعمال ہوگیا ہے۔‘

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق ابتدائی جائزے میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکہ اس حملے کا ذمہ دار تھا، تاہم سکول کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ یہ غلطی سے نشانہ بن گیا تاہم اس حوالے سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

  18. ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ بچوں کےلیے تباہ کن، 1100 بچے زخمی و ہلاک: یونیسف

    اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ کے ادارے (یونیسیف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں تنازع خطے کے لاکھوں بچوں کے لیے تباہ کن بن چکا ہے۔

    یونیسیف نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملے کے آغاز کے بعد سے اب تک 1100 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان میں 200 بچے ایران میں، 91 بچے لبنان میں، چار بچے اسرائیل میں اور ایک بچہ کویت میں مارا گیا۔

    بیان میں زور دیا گیا کہ ’بچوں کو مارنے اور معذور کرنے، یا ان کے لیے ضروری خدمات کو تباہ اور ان میں خلل ڈالنے کا کوئی بھی جواز نہیں بنتا۔‘

    یونیسیف نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، انتونیو گوتیرس سے ’لڑائی ختم کرنے اور سفارتی مذاکرات میں مشغول ہونے‘ کے مطالبے کو دہرانے کی اپیل کی۔

    اس اعلامیے میں فریقین پر زور دیا گیا کہ ’شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لیے جنگ کے ذرائع اور طریقوں کے انتخاب میں تمام ضروری احتیاط برتیں، بشمول دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کریں جو بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔‘

  19. مشرقِ وسطیٰ میں سیاحت کے شعبے کو 600 ملین ڈالر یومیہ کا نقصان, سائمن براؤونگ، بی بی سی نیوز

    ایران میں جاری جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے سفر اور سیاحت کے شعبے کو یومیہ کم از کم 600 ملین ڈالر (448 ملین پاؤنڈ) کا نقصان ہو رہا ہے۔

    نقصان کا یہ تخمینہ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل (ڈبلیو ٹی ٹی سی) نے لگایا ہے۔

    ادارے کے مطابق نقصان کی بڑی وجہ فضائی سفر میں شدید رکاوٹ کے باعث بین الاقوامی سیاحوں کی آمد و رفت میں کمی کا ہونا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کے باعث خطے کے بڑے حصے کی فضائی حدود بند ہے اور صرف محدود تجارتی پروازیں چل رہی ہیں۔

    ڈبلیو ٹی ٹی سی نے جنگ سے قبل پیش گوئی کی تھی کہ 2026 میں مشرقِ وسطیٰ میں بین الاقوامی سیاحوں کے اخراجات تقریباً 207 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

    ادارے کی صدر اور سی ای او گلوریا گیورا نے کہا کہ سفر اور سیاحت سب سے زیادہ مستحکم شعبوں میں سے ایک ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ یہ شعبہ جلد بحال ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب حکومتیں مسافروں کو ہوٹل سہولت یا وطن واپسی میں مدد فراہم کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے بحرانوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی سے متعلق واقعات کے بعد سیاحت سب سے تیزی سے بحال ہوتی ہے بشرطیکہ حکومتیں اور صنعت مل کر مسافروں کا اعتماد بحال کریں۔

  20. تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایشیا میں جمعرات کے روز نو فیصد بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

    امریکی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمت 9 فیصد بڑھ کر 95.27 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔

    ایران کے ساتھ اسرائیل امریکہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

    یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور برطانیہ سمیت درجنوں ممالک نے ہنگامی ذخائر کی ریکارڈ مقدار جاری کرنے کا اعلان کیا، تاہم اس اقدام کے باوجود آئل کی قیمتوں میں کمی نہیں آسکی۔

    یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف دھمکیاں جاری رکھی ہیں، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

    واضح رہے کہ تیل کی قیمتیں اس ہفتے کے آغاز میں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں اور اس کے بعد سے مسلسل شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔