آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

توہین مذہب کے مقدمات پر کمیشن تشکیل دینے کی درخواست: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے تیار فریق جوڈیشل کمیشن کے لیے کیوں تیار نہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ

توہین مذہب کے قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں گرفتار 134 متاثرین کے اہلخانہ نے وفاقی حکومت کو ایک تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے کمیشن کی تشکیل نہ کرنے پر ان 134 میں سے 101 افراد کے اہلخانہ نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹس میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

خلاصہ

  • ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے تبصروں میں دہشت گرد حملوں میں شہری ہلاکتوں کو کم کرکے پیش کیا گیا ہے۔ شرپسند عناصر کے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔
  • امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی ایک رپورٹ میں انڈیا کی انٹیلیجنس ایجنسی 'را' پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے خلاف پابندیوں کی سفارش کی ہے۔
  • وزیر اعظم کی گوادر میں فائرنگ سے پانچ مسافروں کی ہلاکت کی مذمت: 'ملک دشمن عناصر کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے'
  • بلوچستان میں انتظامیہ کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں بدھ کی شب تشدد کے واقعات میں سی ٹی ڈی کے ایک اسسٹنٹ سب انسپیکٹر سمیت کم ازکم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • جنوبی کوریا کے جنگلات میں 'تباہ کن' آگ بجھانے کے لیے امدادی کاروائیاں جاری، ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستان اور چین سمیت آٹھ ممالک کی 70 کمپنیوں پر امریکی برآمدی پابندیاں عائد

    امریکہ نے پاکستان سمیت چین، متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ممالک کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی پابندی کی ذد میں آنے والی ان کمپنیوں میں 19 پاکستانی، 42 چین اور چار متحدہ عرب امارات سمیت ایران، فرانس، افریقہ، سینیگال اور برطانیہ کی کمپنی بھی شامل ہیں۔

    امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ جن اداروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایسا پہلی بار نہیں کہ امریکہ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کی ہوں۔

    اپریل 2024 میں بھی امریکہ نے چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام کی تیاری اور تعاون کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    امریکی پابندیوں کی ذد میں جو پاکستانی کمپنیاں آئی ہیں ان میں الائیڈ بزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ، اریسٹن ٹریڈ لنکس، بریٹلائٹ انجینئرنگ کمپنی، گلوبل ٹریڈرز، انڈنٹیک انٹرنیشنل، انٹرا لنک انکارپوریٹڈ، لنکرز آٹومیش پرائیویٹ لمیٹڈ، این اے انٹرپرائززشامل ہیں۔

    پاکستانی کمپنیوں میں اوٹو مینوفیکچرنگ، پوٹھوہار انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ کنسرن، پراک ماسٹر، پروفیشنل سسٹمز پرائیویٹ لمیٹڈ، رچنا سپلائیز پرائیویٹ لمیٹڈ اور رسٹیک ٹیکنالوجیز بھی پابندیوں کا شکار کمپنیاں ہیں۔

    یاد رہے اس سے قبل دسمبر 2021 میں بھی امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دی تھیں۔

    جبکہ 2018 میں بھی امریکہ نے پاکستان کی سات ایسی انجینیئرنگ کمپنیوں کو سخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیا تھا جو امریکہ کے بقول مبینہ طور پر جوہری آلات کی تجارت میں ملوث ہیں اور اُس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے لیے خطرہ ہو سکتی ہیں۔

  2. امریکہ نے سراج حقانی سمیت دیگر طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمت واپس لے لی، یہ فیصلہ ’طالبان حکومت کی مسلسل سفارتی کوششوں‘ کا نتیجہ ہے: طالبان, یوگیتا لیمائے، بی بی سی نیوز

    امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی سمیت دیگر سینیئر رہنماؤں کے سروں کی قیمت کے نام پر مقرر کیے گئے لاکھوں ڈالر کے انعامات ختم کر دیے ہیں۔

    یہ فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے چند ہفتے بعد اور خصوصا اس واقعے کے کچھ روز بعد سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے کابل میں طالبان حکومت سے ایک امریکی سیاح کی رہائی کے لیے ملاقات کی تھی۔

    یاد رہے کہ سراج الدین حقانی افغانستان میں طالبان حکومت میں وزیر داخلہ بھی ہیں۔ اس پیش رفت کو موجودہ تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ کے دوران کئی ہائی پروفائل اور شدید نوعیت کے حملے کرنے کا الزام ہے۔ انہی میں امریکی اور انڈین سفارت خانوں اور نیٹو افواج پر حملے بھی شامل ہیں۔

    تاہم 2021 سے ملک میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد سے اب یہ نیٹ ورک طالبان حکومت میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ’سراج الدین حقانی، ان کے بھائی عبدالعزیز حقانی اور برادر نسبتی یحییٰ حقانی کے سر پر اب کوئی انعام نہیں تاہم وہ اب بھی شدت پسندوں کی عالمی فہرست میں شامل ہیں اور ان کا نیٹ ورک ایک شدت پسند تنظیم ہی مانا جاتا ہے۔‘

    ایف بی آئی کی ویب سائٹ پرسوموار تک سراج الدین حقانی کے لیے 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان موجود تھا اور یہ اعلان اب ہٹا دیا گیا ہے۔

    طالبان کے ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کا اشارہ دیتا ہے۔

    طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بی بی سی کو بتایا کہ انعامات ہٹانے کا فیصلہ ’طالبان حکومت کی مسلسل سفارتی کوششوں‘ کا نتیجہ ہے۔

    ان کے مطابق ’یہ ایک مثبت قدم ہے اور یہ ہماری دنیا خاص طور پر امریکہ کے ساتھ نئے تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’امریکی وفد نے ہم سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ مثبت تعلقات اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔‘

    سنیچرکو یرغمالیوں کی رہائی کے ایلچی ایڈم بوہلر اور افغانستان کے لیے سابق ایلچی زلمے خلیل زاد سمسیت دیگر حکام نے کابل میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور دیگر طالبان حکام سے ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے بعد امریکی شہری جارج گلیزمین کو طالبان حکومت نے رہا کر دیا تھا جنھیں دسمبر 2022 میں سیاحت کے دوران گرفتار کیا گیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا انعامات ہٹانے کا فیصلہ ان مذاکرات کا حصہ تھا یا نہیں۔

    حقانی نیٹ ورک کا عسکریت پسند تنظیم کا سفر

    حقانی نیٹ ورک کی بنیاد سراج الدین حقانی کے والد جلال الدین حقانی نے 1980 کی دہائی میں رکھی تھی۔

    ابتدا میں یہ گروہ سی آئی اے کی حمایت یافتہ ایک تنظیم کے طور پر افغانستان اور پاکستان میں سوویت افواج کے خلاف کام کرتا تھا لیکن بعد میں یہ خطے میں مغرب مخالف ایک عسکریت پسند تنظیم بن گیا۔

    یہ گروپ 1996 میں طالبان کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوا جب انھوں نے پہلی بار افغانستان پر قبضہ کیا۔ جلال الدین حقانی 2018 میں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔

    یاد رہے کہ سراج الدین حقانی طالبان حکومت میں ایک طاقتور شخصیت کے طور پر ابھر رہے ہیں خاص طور پر اس وقت جب ان کے اور طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

    طالبان حکومت کے کچھ ارکان نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین کی تعلیم کا مسئلہ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    واضح رہے کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق حقانی نیٹ ورک خود کو ایک نسبتاً معتدل گروہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ان افغان شہریوں کی حمایت حاصل کر رہا ہے جو سپریم لیڈر کی خواتین کی تعلیم پر سخت پالیسیوں سے مایوس ہیں۔

  3. پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے نئے قرض اور توسیعی فنڈ کی دوسری قسط کے لیے سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے نئے قرض اور توسیعی فنڈ کی دوسری قسط کے لیے سٹاف لیول کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ایک بیان مِیں کہا گیا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستانی حکام کے درمیان پاکستان کی توسیعی فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت پہلے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹینبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت ایک نئے معاہدے پر سٹاف لیول کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق اس معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹیو بورڈ دے گا۔ معاہدے کی منظوری کی صورت میں آئی ایم ایف توسیعی فنڈ فیسیلیٹی کے تحت پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

    پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور آفات سے نمٹنے کے لیے 28 ماہ کی ارینجمنٹ کے تحت 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔

    عالمی مالیاتی فنڈ نے مزید کہا کہ اصلاحات پر عمل درآمد اور پاکستان کے سماجی تحفظ کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں، ادارہ قدرتی آفات کے خلاف پاکستان کی مدد کرے گا جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بجٹ اور سرمایہ کاری بڑھانے کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

    آئی ایم ایف نے کہا کہ توانائی کے شعبے کی اصلاحات کیلئے بھی پاکستان کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران، پاکستان نے چیلنجنگ عالمی ماحول کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کی بحالی اور اعتماد کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

    عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی معتدل رہی ہے تاہم افراط زر 2015 کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر آ گیا ہے اور مالی حالات بہتر ہوئے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ اقتصادی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری کی توقع ہے لیکن معیشت کو لاحق خطرات اب بھی موجود ہیں۔

  4. صحافی وحید مراد کو نامعلوم افراد نے اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے صحافی وحید مراد کو نامعلوم افراد نے گذشتہ رات مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق انھیں مبینہ طور پر جی ایٹ میں ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کے تھانہ کراچی کمپنی میں وحید مراد کی بازیابی اور مبینہ اغوا کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بدھ کی رات تقریباً دو بجے وحید مراد کو تین گاڑیوں میں سوار نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر سے اغوا کر کے لے گئے ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے وقت وحید مراد کی ساس بھی گھر میں موجود تھیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلح افراد جاتے وقت وحید مراد کی ساس کا فون بھی ساتھ لے گئے ہیں۔

    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافی اعزاز سید نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وحید مراد کی اہلیہ نے انھیں بتایا ہے کہ مسلح افراد نے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی اور ان کے شوہر کو باہر آنے کو کہا۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ وحید مراد کی اہلیہ کے مطابق ان کے گھر آئے افراد نے دعویٰ کیا کہ وحید مراد افغان شہری ہیں جس پر ان کے شوہر نے دروازے کے نیچے سے انھیں اپنا شناختی کارڈ دکھایا تاہم مسلح افراد دروازہ توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوگئے اور ان کے شوہر کو اپنے ساتھ لے گئے۔

    اعزاز سید کے مطابق، وحید مراد کی اہلیہ نے انھیں فون پر بتایا کہ ان کے گھر پر آنے والے افراد کالی وردیوں میں ملبوس تھے اور جاتے وقت وہ وحید مراد کے فون بھی اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ان کے گھر کی تلاشی بھی لی گئی۔

    یاد رہے کہ صحافی وحید مراد اردو نیوز سے وابستہ ہیں اور اس کے علاوہ وہ پاکستان 24 کے نام اسے ایک ویب پورٹل بھی چلاتے ہیں۔

  5. روس اور یوکرین کا بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر اتفاق، زیلنسکی کا روس پر جھوٹ بولنے کا الزام

    وائٹ ہاؤس کے مطابق روس اور یوکرین نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے اور فوجی حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    واشنگٹن نے یہ اعلان سعودی عرب میں امریکی حکام اور دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقات کے بعد کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے بی بی سی کو بھیجے گئے بیان میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان ریاض میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ:

    • امریکہ اور یوکرین نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت، طاقت کے استعمال کے خاتمے اور تجارتی جہازوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
    • دونوں ممالک جنگی قیدیوں کے تبادلے، شہریوں قیدیوں کی رہائی اور زبردستی منتقل کیے گئے یوکرینی بچوں کی واپسی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
    • کیئو اور واشنگٹن نے روس اور یوکرین میں توانائی کے مراکز پر حملے روکنے کے لیے عملی اقدامات تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
    • دونوں ممالک ’پائیدار اور دیرپا امن‘ کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور دیگر ممالک کو بھی بحری اور توانائی معاہدوں کے نفاذ میں تعاون کی دعوت دیں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ نے دونوں فریقوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ خونریزی بند ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

    زیلنسکی کا روس پر مذاکرات کے نتائج کے متعلق جھوٹ بولنے کا الزام

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر مذاکرات کے نتائج کے بارے میں جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’کریملن پھر سے جھوٹ بول رہا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بحیرہ اسود میں جنگ بندی دراصل پابندیوں پر منحصر ہے اور انرجی سیز فائر 18 مارچ کو شروع ہو چکا ہے۔ ماسکو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس کی جانب سے شائع کردہ بیان ’بالکل واضح‘ ہے اور اب یہ دنیا اور ان سب ممالک پر منحصر ہے جو واقعی امن چاہتے ہیں کہ آیا روس کو دوبارہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔‘

  6. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • بلوچ یکجیتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف منگل کے روز بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیوں کے علاوہ مظاہرے کیے گئے۔ دوسری جانب کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ کے علاوہ دیگر کے خلاف مزید تین ایف آئی آر درج کر لی گئیں۔
    • سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے منگل کو کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور ٹھٹہ سمیت سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے اور دریائے سندھ پر چولستان کینال کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کیا۔
    • کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو جوڈیشل میجسٹریٹ کی جانب سے رہا کیے جانے کے بعد پولیس نے ایک بار پھر ایم پی او کے تحت احاطۂ عدالت سے دوبارہ گرفتار کر کے 30 روز کے لیے جیل منتقل کر دیا۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج سے متعلق کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے معاملہ کمیشن کی تشکیل سے متعلق ہے نہ کہ کسی کے ایمان کی جانچ پڑتال کرنے اور نہ ہی یہ معاملہ ہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں کسی کو سزا دی جانی چاہیے یا نہیں۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔