آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سلامتی کونسل میں اسرائیل سے غزہ میں مزید کارروائی روکنے کا مطالبہ، نتن یاہو کا اپنے فیصلے کا دفاع

اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ کے توسیعی منصوبے کی منظوری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جاری ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ واحد آپشن ہے۔

خلاصہ

  • ہم غزہ میں نہیں رہنا چاہتے، ہمارا ہدف ہے کہ حماس وہاں نہ رہے: نتن یاہو
  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں امریکی کوششوں کو کمزور کیا ہے: امریکی سفیر
  • اسرائیل کا فیصلہ مزید خونریزی کا راستہ ہے، ہمیں خطرے کی گھنٹی بجانے کی ضرورت ہے: برطانیہ اور فرانس کا انتباہ
  • نتن یاہو کے غزہ پر مکمل قبضے کے فیصلے کے خلاف اسرائیلی عوام کا احتجاج: 'ہم جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں'
  • آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا امریکہ کا سرکاری دورہ اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں
  • 'جو بھی ریاست سے بات کرنا چاہتا ہے، ہتھیار ڈال کر آئے، گلے لگائیں گے': وزیراعلیٰ بلوچستان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پوتن آئندہ جمعے کو امریکی ریاست الاسکا میں ملاقات کریں گے۔
  • جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی: 'ایسا فوجی سامان برآمد نہیں کیا جائے گا جو غزہ میں استعمال ہو سکے'

لائیو کوریج

  1. کیئو نے امن معاہدے کے بدلے اپنے سرحدی علاقے دینے سے انکار کیوں کیا؟, زانا بزپیاچک، بی بی سی یوکرینی سروس

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے میں شرائط کافی حد تک واضح ہیں، جیسے سرحدی حدود میں رد و بدل۔

    ٹرمپ نے کہا تھا کہ کسی حد تک علاقوں کی لین دین روس اور یوکرین دونوں کے لیے موزوں ہے۔

    یوکرین نے یہ پوچھنے کے بجائے کہ روس کون سے علاقے چھوڑے گا اور معاہدے کے تحت یوکرین کو کیا ملے گا، اس تجویز کو یکسر مسترد کیا ہے۔

    کیئو کو خطرہ ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں دونتسک اور لوہانسک کے علاقوں پر کنٹرول کر لے گا جہاں گذشتہ کئی برسوں سے شدید لڑائی جاری ہے اور روس کے شدید حملوں کے باوجود خطے کے کئی علاقے یوکرین کے کنٹرول میں ہیں۔

    یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات آئندہ ہفتے اُسی روز یعنی 15 اگست کو متوقع ہے، جس دن جنگ بندی کے لیے روس کو دی گئی مہلت ختم ہو رہی ہے۔

    فی الحال صدر ٹرمپ سے ملاقات پر رضامندی سے صدر پوتن نے روس کے توانائی کے شعبے پر عائد ممکنہ امریکی پابندیاں عارضی طور پر روک لی ہیں۔

    کیا ٹرمپ پوتن کے ساتھ اپنی ملاقات کو امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ سہ فریقی اجلاس کے آغاز طور پر دیکھ سکتے ہیں؟ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔

    یوکرین کے صدر زیلنسکی نے زور دیا ہے کہ امن معاہدے کی شرائط طے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کیئو بھی مذاکرات کی میز پر ہو۔

    یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات پر کیئو کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

  2. روس میں رہائشی عمارت پر ڈورن حملہ، افواج کی یوکرینی علاقوں میں پیش قدمی

    روس کے شہر روستوف کی رہائشی عمارت پر ڈورن حملہ ہوا جس کے بعد بلڈنگ میں آگ لگ گئی لیکن اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

    حکام کے مطابق یہ ڈورن بیس منزلہ رہائشی عمارت کی اٹھارہویں منزل سے ٹکرایا جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔ آگ سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن کئی فلیٹس کو نقصان پہنچا۔

    دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ اس نے دونتسک کے علاقے کے ایک دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ روس کے وزیر دفاع نے بتایا کہ یہ دیہات مشرقی یوکرین کے علاقے میں ہے۔

    اس جنگ میں روس نے مشرقی یوکرین کے علاقوں میں قدرے سست پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

    گو کہ روس نے بہت بڑے پیمانے پر یوکرینی حدود پر قبضہ نہیں کیا لیکن 20 فیصد یوکرین کی حدود روس کے زیرِ کنٹرول ہے۔ دوسری جانب یوکرین ابھی تک روس کو پیچھے نہیں دھکیل سکا ہے۔

  3. برطانیہ کا امریکہ، یوکرین اور یورپی اتحادیوں کا اجلاس بلانے کا اعلان

    برطانیہ نے ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات سے قبل امریکہ، یوکرین اور یورپی اتحادی ممالک کے قومتی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

    برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس ممکنہ طور پر کینٹ کے شیوئینگ ہاؤس میں ہو گا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں برطانیہ کے خارجہ اُمور کے وزیر ڈیوڈ لیمی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی مہمان نوازی کی تھی۔

    ڈؤائنگ سٹریٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سٹامر نے اس اجلاس کے بارے میں صدر زیلنسکی سے بات چیت کی اور دونوں نے اتفاق کیا ہے کہ ’دیرپا امن کے قیام کے لیے یہ ایک اہم فورم ہو گا۔‘

    اس سے قبل یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹامر سے بات چیت میں دونوں رہنما یوکرین میں ’دیرپا امن‘ کے قیام پر متفق ہیں اور خطرہ یہ ہے کہ روس ’بات چیت کی ہر کوشش کو نامکمن بنا رہا ہے۔‘

    یوکرین نے امریکہ، برطانیہ سمیت تمام فریقین کی جانب سے جنگ ختم کرنے کی کوشیش کو سراہا اور یہ ممالک ’تعمیری سفارتکاری اور قابلِ عمل فیصلوں‘ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    رواں سال کے آغاز سے برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے جنگ کے خاتمے اور یوکرین کے دفاع کے لیے ایک اتحاد بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

  4. ٹرمپ اور پوتن جو ایک دوسرے کے لیے ’اجنبی نہیں‘, میڈلین ہیلپرٹ، بی بی سی نیوز

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔

    دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں اُس وقت ہوئی جب سنہ 2016 میں دونوں جی-20 ممالک کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں امریکہ کے انتخابی نتائج میں ردوبدل میں روس کی مبینہ مداخلت سمیت مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی۔

    اس کے بات سنہ 2017 ہی میں دونوں کی ملاقات ویتنام میں ہونے والی ایک کانفرنس میں ہوئی جس کے اختتام پر جاری سرکاری اعلامیے کے مطابق ’دونوں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے عزم‘ پر بات چیت کی۔

    اسی ملاقات کے اگلے سال فن لینڈ کے شہر ہلسنکی میں روس امریکہ سمٹ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے تقریبا دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

    اسی ملاقات کے بعد روس کے حق میں ٹرمپ کے بیان نے اُس وقت ہنگامہ کھڑا کر دیا، جب انھوں نے امریکی انٹیلیجنس ایجنسی کی رپورٹ کے برعکس کہا کہ سال 2016 میں امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس نے مداخلت نہیں کی تھی۔

    امریکی خفیہ ایجنسیاں اس نتیجے پر پہنچی تھیں کہ روس نے سائبر حملوں اور فیک خبروں کے ذریعے سابق صدارتی اُمیدوار ہیلری کلنٹن کو نقصان پہنچایا۔

    اس نے بعد سنہ 2019 میں جاپان میں ہونے والے جی- 20 اجلاس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی جس کے بعد ٹرمپ نے نامہ نگاروں کے سامنے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ پوتن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن میں مداخلت نہیں کریں۔‘

  5. ’یوکرین اپنی زمین روس کو نہیں دے گا‘: پوتن اور ٹرمپ کی ملاقات سے قبل یوکرینی صدر کا بیان

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین اپنی زمین روس کو بطور تحفہ نہیں گا۔

    یوکرین جنگ کے معاملے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے مابین ملاقات کے اعلان کے بعد یوکرین کی جانب یہ پہلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین ’اپنی زمین قابضوں کو نہیں دے گا۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں زیلنسکی نے کہا کہ ’اس جنگ کا اب خاتمہ ہونا چاہیے اور روس کو اسے ختم کرنا ہو گا۔ یہ جنگ روس نے شروع کی تھی اور تمام ڈیڈ لائنز کے باوجود وہ اسے طول دے رہا ہے۔ دراصل یہی مسئلہ ہے (جنگ کے خاتمے کے لیے)۔‘

    انھوں نے کہا کہ یوکرین کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتا ہے۔

    اپنے میں بیان میں ٹرمپ-پوتن ملاقات کے حوالے سے زیلنسکی نے کہا کہ ’ہماری زمین اور ہماری عوام پر مسلط جنگ سے میلوں دور یوکرین کے بغیر کیا گیا کوئی فیصلہ جنگ ختم نہیں کر سکتا۔‘

    صدر زیلنسکی نے کہا کہ ’ہم حقیقی امن کے لیے صدر ٹرمپ سمیت تمام ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    زمین کے معاملے پر لین دین دونوں کے لیے بہتر: صدر ٹرمپ

    روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یوکرین کو جنگ بندی کے لیے اپنی کچھ زمین چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اس علاقے کو دیکھا جا رہا ہے جس پر ساڑھے تین سال سے جنگ ہو رہی ہے۔ روس اور یوکرین کے درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ بہت پیچیدہ (معاملہ) ہے۔ ہم اس میں کچھ واپس لیں اور کچھ انھیں دیں گے۔ دونوں فریقین (روس اور یوکرین) کی بہتری کے لیے زمینی حدود کے معاملے میں لین دین ہو گا۔‘

    جنگ بندی کے لیے اس تجویز پر امریکی صدر نے زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پوتن آئندہ جمعے کو امریکی ریاست الاسکا میں ملاقات کریں گے جس میں ماسکو کی یوکرین کے خلاف جنگ پر بات چیت کی جا سکے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے یوکرین کو شامل کیے بغیر کوئی بھی معاہدہ یوکرین اور اُس کے یورپی اتحادیوں کے لیے تشویش کا باعث ہو گا۔

    آگرچہ حالیہ ماہ کے دوران روس کے بارے میں امریکی موقف میں سختی آئی ہے لیکن یوکرین تاحال روس کے خلاف ٹھوس اقدامات کا منتظر ہے۔

  6. سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں افغان سرحد کے قریب سمبازہ میں 14 شدت پسند ہلاک: پاکستانی حکام

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک ’کامیاب آپریشن‘ میں افغانستان کی سرحد کے قریب سمبازہ میں 14 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    ایک بیان میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ شدت پسند ’انڈین سپانسرڈ‘ تھے۔ خیال رہے کہ ماضی میں انڈیا حکام ایسے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

    دریں اثنا محسن نقوی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ’بلوچستان میں امن کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی سازش کو ناکام بنایا ہے۔‘

    ایک بیان میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستانی علاقے سمبازہ میں کیا گیا جس دوران شدت پسندوں کو ڈھونڈ کر ہلاک کیا گیا اور ان سے دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔

    فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں دو روز کے دوران کل47 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

  7. صدر ٹرمپ کی سربراہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط

    آذربائیجان اور آرمینیا کے رہنماؤں نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی میزبانی میں کئی دہائیوں سے جاری تنازعات کو ختم کرنے کے لیے امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان نے امریکی صدر کی جانب سے اس تقریب کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔

    صدر ٹرمپ نے معاہدے کے بارے میں کہا کہ ’یہاں تک پہنچنے میں کافی وقت لگا ہے۔ یہ معاہدہ فریقین کے درمیان کچھ اہم ٹرانسپورٹ روٹس کو دوبارہ کھولے گا اورخطے میں امریکی اثر و رسوخ میں اضافہ کرے گا۔‘

    یاد رہے کہ سنہ 1980 کی دہائی کے آخر سے دو سابق سوویت ریاستیں نگورنو کاراباخ کے علاقے پر اپنے حق کے دعوے کے لیے لڑتی چلی آ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور دسیوں ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

    اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ آرمینیا اور آذربائیجان نے ’ہمیشہ کے لیے‘ تمام لڑائیاں روکنے کے ساتھ ساتھ سفر، کاروبار اور سفارتی تعلقات کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ پینتیس سال لڑے، اور اب وہ دوست ہیں اور وہ طویل عرصے تک دوست رہیں گے۔‘

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق معاہدے کے ایک حصے کے طور پربین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لیے امریکہ ایک بڑے ٹرانزٹ کوریڈور کی تعمیر میں بھی مدد کرے گا جسے ٹرمپ روٹ کا نام دیا جائے گا۔

    آرمینیا اور آذربائیجان کہاں ہیں اور ان دونوں کے درمیان لڑائی کیسے شروع ہوئی؟

    یہ دونوں ملک جنوبی قفقاز (ساؤتھ کاکیسس) میں بحیرہ اسود اور بحیرہ کیسپین کے درمیان مشرقی یورپ اور ایشیا کے ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہیں۔

    آذربائیجان کی آبادی ایک کروڑ سے کچھ زیادہ ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ آرمینیا کی 30 لاکھ آبادی مسیحیوں پر مشتمل ہے۔

    سنہ 1923 میں، سوویت یونین نے نگورنو کاراباخ کو جس میں آرمینیائی آبادی کی اکثریت تھی، آذربائیجان جمہوریہ کا ایک خود مختار خطہ بنایا تھا۔ اس خطے کی 150,000 آبادی کی اکثریت اب بھی آرمینیائی ہے۔

    سنہ 1988 میں نگورنو کاراباخ میں نسلی آرمینیائی باشندوں نے اس پر آرمینیا کی حکمرانی کے لیے تحریک شروع کی۔ اس نے نسلی کشیدگی کو ہوا دی اور جب سنہ 1991 میں اس خطے نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کیا تو آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

    اس کے نتیجے میں تقریباً 30,000 ہلاکتیں ہوئیں اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    سنہ 1993 تک آرمینیا نے نگورنو کاراباخ اور آذربائیجان کے آس پاس کے بہت سے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

  8. نریندر مودی کا پوتن سے رابطہ، روسی صدر کے دورہ انڈیا کا منتظر ہوں: انڈین وزیر اعظم

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی صدرپوتن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں ان کو تعلقات کو مزید وسعت دینے کے اعادے کے ساتھ انھیں انڈیا دورے کی دعوت بھی دی ہے۔

    ٹیلیفونک گفتگو کے بعد نریندر مودی نے اپنے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اپنے دوست پوتن کے ساتھ بہت اچھی اور تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، ہم نے دوطرفہ ایجنڈے میں پیشرفت کا جائزہ لیا۔‘

    انڈین وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین میں تازہ پیش رفت سے آگاہ کرنے پر روسی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سال کے آخر میں روسی صدر پوتن کے دورہ انڈیا کا منتظر ہوں۔‘

    مودی کے بیان کے مطابق ’ بات چیت میں روس اور انڈیا کے درمیان خصوصی اور مراعات یافتہ سٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘

  9. ٹرمپ اور پوتن اگلے جمعے کو ملاقات کریں گے، روس یوکرین جنگ پر بات چیت متوقع

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پوتن آئندہ جمعے کو امریکی ریاست الاسکا میں ملاقات کریں گے۔

    امریکہ اور روس کے رہنماؤں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اگلے جمعے کو امریکی ریاست الاسکا میں ملاقات کریں گے تاکہ ماسکو کی یوکرین کے خلاف جنگ پر بات چیت کی جا سکے۔

    وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے پہلے اس خبر کی تصدیق کی اور پھر اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’بطور امریکی صدر میرے اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان انتہائی اہم ملاقات اگلے جمعہ 15 اگست 2025 الاسکا میں ہوگی جس کی مزید تفصیلات جلد ہی سامنے آئیں گی۔‘

    دوسری جانب صدر ٹرمپ اور پوتن کی الاسکا میں ملاقات کے اعلان کے سامنے کے بعد روس نےامریکی صدر ماسکو آنے کی دعوت بھی دے دی ہے۔

    کریملن کے بیان کے مطابق وہ امریکی صدر کو روس آنے کی دعوت دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔

    پوتن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق اگلا سربراہی اجلاس ماسکو میں ہو سکتا ہے اور یہ دعوت پہلے ہی دے دی گئی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ روس کا دورہ کرنے والے آخری امریکی صدر باراک اوباما تھے جنھوں نے 2013 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقدہ جی-20 اجلاس میں شرکت کی تھی۔

  10. گزشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبریں

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔ آگے بڑھنے سے ہم آپ کے لیے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ شامل کر رہے ہیں۔

    • غزہ سے حال ہی میں لوٹنے والے ایک امریکی ڈاکٹر مارک برونر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غزہ میں بھوک اور افلاس کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے اور وہاں چھوٹے بچے زندہ لاشوں کی مانند دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں غذائی قلت اور بھوک سے دو بچوں سمیت مزید چار ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
    • امریکی نائب صدر جیمز ڈیوس وینس نے کہا کہ وہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ’خصوصی تعلقات‘ کو اجاگر کریں گے اور ان کی ملاقات میں مشرق وسطیٰ اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات پر بات چیت بھی شامل ہوگی۔
    • غزہ پر قبضے کے لیے اسرائیلی کابینہ کے منصوبے کی منظوری کے بعد اپنے ردعمل میں سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے فسطینی عوام کے خلاف بھوک اور سفاکیت پر مبنی اقدامات اور نسل کشی کی مذمت کرتا ہے۔
    • جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی اور کہا ہے کہ ’ایسا فوجی سامان برآمد نہیں کیا جائے گا جو غزہ میں استعمال ہو سکے‘۔ دوسری جانب بیلجیئیم نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔ جبکہ یورپی کمیشن سمیت چین نے بھی اس منصوبے کی مذمت کی ہے۔
    • پاکستانی فوج کے مطابق پاک افغان سرحد سے صوبہ بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 33 شدت پسند کو کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
    • بنوں کے علاقے ہوید میں دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز اور پولیس کا مشترکہ سرچ اینڈ ٹارگیٹڈ آپریشن جاری رہا۔
    • گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں اس وقت دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مختلف مقامات پر زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ مقامات پر زمینی کٹاؤ جاری ہے جبکہ ہنزہ کے شیشپئر گلیشیئرمیں گلوف کی صورتحال پیدا ہوئی اور پانی کے بہاؤ سے شاہراہ قراقرم کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے۔
    • سپریم کورٹ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون کی جائیدادوں کی نیلامی کے خلاف درخواست پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی ہے۔
  11. ’غزہ کے بچے حواس باختہ ہیں اور ’زندہ لاشوں‘ کی مانند دکھائی دیتے ہیں‘

    غزہ سے حال ہی میں لوٹنے والے ایک امریکی ڈاکٹر مارک برونر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غزہ میں بھوک اور افلاس کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے اور وہاں چھوٹے بچے زندہ لاشوں کی مانند دکھائی دے رہے ہیں۔

    بی بی سی نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے بچے بھوک کی وجہ سے بدحواسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور وہ بالکل زندہ لاشوں جیسے ہو گئے ہیں۔

    ڈاکٹر مارک کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کے بچوں میں تو ابھی قوت مدافعت کا نظام مکمل طور پر بن بھی نہیں سکتا اس لیے غزہ میں اس عمر کے بچوں کو کسی بھی قسم کا انفیکشن لگ جاتا ہے۔

    وہ بتاتے ہیں کہ بچوں کی آنتیں کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین کی شدید کمی کی وجہ سے خود بخود ختم ہو رہی ہیں۔

    ان کا خیال ہے کہ ہزاروں بچے ایسے ہیں جو شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

    خیال رہے کہ غزہ میں غذائی قلت کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے 98 بتائی ہے لیکن ڈاکٹر مارک سمجھتے ہیں کہ یہ اصل تعداد سے کم اعداد و شمار ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تباہی کا شکار ہو چکے ہیں وہ اپنے خیموں میں تنہا پڑے ہوئے ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔

  12. امریکہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بنیادی ہدف حماس کا خاتمہ ہے: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جیمز ڈیوس وینس نے کہا کہ وہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ’خصوصی تعلقات‘ کو اجاگر کریں گے اور ان کی ملاقات میں مشرق وسطیٰ اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات پر بات چیت بھی شامل ہوگی۔

    ان سے پوچھا گیا کہ اگر اسرائیل نے کچھ شرائط پوری نہیں کیں تو کیا ہوگا اور ان سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے برطانیہ کے فیصلے پر رائے لی گئی۔

    اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس پر بات ہو گی تاہم فلسطین کو تسلیم کرنے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا امریکہ ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، اور وہ نہیں جانتا کہ ’وہاں فعال حکومت کی عدم موجودگی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کیا مطلب ہوگا۔‘

    وینس نے کہا کہ امریکہ کا بنیادی ہدف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ’حماس کبھی بھی اسرائیلی شہریوں پر دوبارہ حملہ نہیں کر سکے گی، جسے ’حماس کو ختم کر کے‘ حاصل کیا جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ’غزہ میں انسانی المیے کی ہولناک تصویروں سے بہت متاثر ہوئے اور وہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

    جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ’ظاہر ہے، یہ حل کرنا آسان مسئلہ نہیں ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم اس توجہ اور اس مقصد کو شیئر کرتے ہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے طریقہ کار پر ہم مختلف ہو سکتے ہیں، اور ہم آج اس پر بات کریں گے۔‘

  13. غزہ میں غذائی قلت اور بھوک سے دو بچوں سمیت مزید چار ہلاکتیں

    غزہ میں بھوک سے دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق فلسطینی خبر رساں ایجنسی (WAFA) نے غزہ کی پٹی میں طبّی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھوک اور غذائی قلت کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو بچوں سمیت چار مزید افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ غذائی قلت کے باعث مرنے والوں کی تعداد 201 ہو گئی ہے، جن میں 98 بچے بھی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں خوراک کی صورتحال آئی پی سی، گلوبل فوڈ انسیکیوریٹی انڈیکس کے مطابق فیز 5 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ درجہ بندی کی اعلیٰ ترین سطح ہے، جو قحط کے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔

  14. غزہ شہر جس پر اسرائیل قبصہ کرنا چاہتا ہے کتنا بڑا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

    غزہ کی پٹی پر سب سے بڑا علاقہ غزہ شہر کا ہے۔

    جنگ سے پہلے غزہ شہر جو کہ 48 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے سات لاکھ 75 ہزار افراد کا مسکن تھا جبکہ غزہ کی کل آبادی 21 لاکھ ہے۔

    یہ شہر دنیا کی سب سے گنجان ترین آبادیوں میں سے ایک ہے۔

    یآریگن سٹیٹ یونیورسٹی اور CUNY گریجوایٹ سینٹر کی جانب سے سیٹلائیٹ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ جس کے مطابق غزہ شہر غزہ کی پٹی پر شمال میں ہے اور یہ ان پہلے علاقوں میں شامل ہے جنھیں اسرائیل نے جنگ کے آغاز میں سب سے پہلے نشانہ بنایا تھا اور یہاں بہت زیادہ تباہی ہوئی تھی۔

    غزہ شہر میں الشفا ہسپتال ہے جو کہ پورے غزہ کے لیے سب سے بڑی طبّی سہولت تھی۔ اس کے بہت بڑے حصے کو گذشتہ برس اسرائیل نے دو ہفتوں تک نشانہ بنا کر تباہ کر دیا لیکن یہ اب بھی کچھ حد تک طبّی امداد فراہم کر رہا ہے اور اس کا ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ بھی کھلا ہوا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے اندازوں کے مطابق دس لاکھ افراد اب بھی غزہ شہر میں رہ رہے ہیں جنھیں اسرائیل کے نئے منصوبے پر عملدرآمد کی صورت میں مزید جنوب کی جانب نقل مکانی کرنی ہو گی۔

    تاہم اس وقت وہاں کتنے لوگ موجود ہیں اس کی حتمی تعداد بتانا ممکن نہیں کیونکہ اسرائیلی حکومت بی بی سی سمیت کسی بھی بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو غزہ میں آزادانہ رپورٹنگ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

  15. ’یہ ہر فلسطینی کے لیے ’سزائے موت‘ ہے‘: اسرائیلی منصوبے پر غزہ کے مکینوں کا ردعمل

    غزہ شہر کے مکین اسرائیلی منصوبے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہر فلسطینی کے لیے موت کی سزا ہے۔

    ایک خاتون نے بی بی سی کے لیے کام کرنے والے ایک فری لانس صحافی کو بتایا کہ ’میرا خیال ہے اس منصوبے کے نتیجے میں ساری آبادی ہلاک ہو جائے گی، بمباری سے یا پھر بھوک سے۔‘

    ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم میں اب اتنی سکت نہیں کہ ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ جائیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ لوگ اب تھک چکے ہیں ہم اپنے بچوں کو بمشکل کھانا دے رہے ہیں۔

    ایک اور شہری نے بتایا ہمارا حماس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

    نوٹ: خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت بی بی سی سمیت کسی بین الاقوامی خبررساں ایجنسی کو غزہ میں آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں دیتی۔

  16. فسطینی عوام کے خلاف بھوک اور سفاکیت پر مبنی اقدامات اور نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں: سعودی عرب

    سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے کی مذمت کرتا ہے۔

    غزہ پر قبضے کے لیے اسرائیلی کابینہ کے منصوبے کی منظوری کے بعد اپنے ردعمل میں سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے فسطینی عوام کے خلاف بھوک اور سفاکیت پر مبنی اقدامات اور نسل کشی کی مذمت کرتا ہے۔

    دوسری جانب بیلجیئیم نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔

    پرتگال کی جانب سے کہا ہے وہ غزہ پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کے حوالے سے بہت زیادہ تشویش کا شکار ہے۔

    پرتگال کا مزید کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی کے لیے اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مزید کمزور کرے گا۔

    ادھر اردن کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی منصوبے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اسرائیلی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے جس میں وہ فلسطینی عوام کے خلاف بھوک اور محاصرے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

  17. افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 33 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے مطابق پاک افغان سرحد سے صوبہ بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 33 شدت پسند کو کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک بڑا گروہ جو پاکستان- افغان سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کر رہا تھا کو سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ژوب کے جنرل علاقے سمبازہ میں نشانہ بنایا۔

    بتایا گیا ہے کہ ’شدت پسندوں کے قبضے سے ’اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے۔

  18. اسرائیل کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا: اسرائیلی منصوبے پر حماس کا انتباہ, رشدی ابوالوف، نامہ نگار برائے غزہ

    حماس نے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے اور اس کے مکینوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے منصوبے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ دس لاکھ فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرم ہے۔

    اپنے ایک پیغام میں حماس نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ ان کی حکومت جنگ کو وسعت دے کر اسرائیلی مغویوں کو نظر اندار کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام اس کی جانب سے حال ہی میں سیز فائر کے لیے کیے جانے والے مذاکرات کو چھوڑنے کی وضاحت کرتا ہے جس میں حماس کے بقول فریقین مغویوں کے تبادلے اور کسی معاہدے کےقریب پہنچ چکے تھے۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اس نے مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں لچک اور مثبت انداز اپنایا تھا اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کے لیے جامع ڈیل کے لیے راستہ کھلا رکھا تھا۔

    حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا منصوبہ آسان نہیں ہو گا وہ جواب میں شدید مزاحمت کا سامنا کرے گا۔

    حماس نے امریکہ کو بھی اس تمام صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ وہ اسرائیل کو فوجی اور سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے۔

    حماس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی منصوبے کو روکیں۔

  19. چین کا غزہ جنگ بندی کا مطالبہ: ’غزہ کی پٹی پر فلسطینی لوگوں کا حق ہے‘

    چین کی وزات خارجہ نے غزہ شہر پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی منظوری کے بعد اپنے ردعمل میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

    چین کا کہنا ہے کہ غزہ فلسطینی عوام کا ہے۔

    دوسری جانب ڈچ وزیر خارجہ کاسپر ویلڈکمپ نے اپنے بیان میں اسرائیلی حکومت کے غزہ میں آپریشنز کو تیز کرنے کے منصوبوں پر کہا ہے کہ یہ ایک غلط قدم ہے اور اس سے مغویوں کو گھر لانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ ’

    ادھر ڈنمارک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی آپریشن مزید تیز کرنے کے فیصلے کو واپس لے لینا چاہیے۔

  20. اسرائیل اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے: یورپی کمیشن کی صدر کا پیغام

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن نے اپنے پیغام میں اسرائیل سے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی آپریشن کو وسیع کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

    انھوں نے یہ پیغام سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا اور کہا ہے کہ مغوی جو اس وقت ناموافق حالات میں قید ہیں، کی رہائی ضروری ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ میں فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے جسے پہنچایا جانا چاہیے۔

    انھوں نے غزہ میں فوری طور پر سیز فائر کا مطالبہ بھی کیا۔