آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جنوبی وزیرستان میں فائرنگ کے تبادلے میں پانچ شدت پسند اور چار فوجی اہلکار ہلاک

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور ہلاکتوں کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ یہاں موجود دیگر شدت پسندوں کا بھی خاتمہ کیا جا سکے۔

خلاصہ

  • ایران کا سیستان-بلوچستان میں 18 افغان تاجک شدت پسندوں کو ہلاک کرنےکا دعویٰ
  • نجاب حکومت کا سموگ کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبے کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے بند کرنے اور سکولوں کو آن لاٸن کلاسز کا اہتمام کرنے کی ہدایت کر دی
  • اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ کو برطرف کرنے کے بعد ملک بھر میں وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا
  • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ’اعتماد کے بحران‘ کی وجہ سے اپنے وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا
  • لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ منگل کی شام ساحلی قصبے برجا پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. سروسز چیفس کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کا بل قومی اسمبلی سے منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کا ترمیمی بل پیر کے روز کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

    اس بل کے تحت پاکستان کی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر اب پانچ سال کر دی گئی ہے۔

    سوموار کے روز اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ جس کے تحت پاکستان کے بری فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں اضافے کے لیے آرمی ایکٹ 1952 کی شق 8 اے، 8 بی اور 8 سی میں ترمیم کی گئی۔

    اسی طرح بحریہ کے سربراہ کی مدت ملازمت میں اضافے کے لیے پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 کی شق 14 اے، 14 بی اور 14 سی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اور پاکستان کی فضائیہ کے سربراہ کی مدت ملازمت میں اضافے کے لیے پاکستان ائیر فورس ایکٹ 1953 کی شق 10 اے، 10 بی اور 10 سی میں تبدیلی کی گئی ہے۔

    اس دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مسلسل احتجاج اور ’نو نو‘ کے نعرے لگائے گئے۔

    بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس بل کی سینیٹ سے منظوری کے بعد اس کا اطلاق فوری ہو گا۔

    اس بل میں ترمیم کے بعد پاکستان کی بری فوج میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کے قواعد کا اطلاق آرمی چیف پر نہیں ہو گا، تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا ایکسٹینشن کی صورت آرمی چیف بطور جنرل کام کرتا رہے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آرمی ایکٹ کے تحت آرمی چیف سمیت تمام سروسز چیفس کی مدت ملازمت تین سال مقرر تھی اور ایگزیکٹیو کے اختیارات کے تحت آرمی چیف کو تین سال کی ایکسٹینشن دی جاتی رہی تھی۔

    آخری بار مدت ملازمت میں توسیع جنرل قمر جاوید باجوہ کو دی گئی تھی اور ان کی ایکسٹیشن کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی تھی جس کے بعد ایگزیکٹیو نے ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی تھی۔

    سپیکر کی جانب سے بلز کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

  2. سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل سینیٹ و قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور، سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34 تک ہو گی: وزیر قانون

    پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

    اس ترمیمی بل کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 تک کر دی گئی ہے۔

    پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے سے متعلق ترمیمی بل پیش کیا گیا۔

    سپریم کورٹ میں نمبر آف ججز ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا اور بتایا کہ اس بل کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 تک کر دی گئی ہے۔

    حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے سپریم کورٹ ایکٹ 1997 کی شق 2 میں ترمیم کرتے ہوئے اس کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 تک کی ہے۔

    اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کی شق 3 میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کر دی گئی ہے۔

    اس ترمیمی بل کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 34 کی جا سکتی ہے، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ضرورت کے مطابق ججز کی تعداد میں اضافہ کر سکے گا،ججز کی تعداد میں اضافے کے فیصلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو ہے۔

    سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد سینٹ سے بھی منظور کروالیا گیا ہے تاہم دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ہے۔

    وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اب آئینی عدالت بنائی جانی ہے۔ اس کے لیے بھی ججز چاہیے ہیں۔ ججز کی تعداد بڑھانے کا مقصد زیر التوا مقدمات کی تعداد کم کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سینیٹ کی قائمہ کمٹیی نے سینیٹر عبدالقادر کے بل کی حمایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی تھی۔

    بل کی شق وار منظوری کا عمل ہوا تو اس دوران اپوزیشن کی جانب سے مسلسل شور شرابا کیا گیا اور احتجاج کیا گیا تاہم اس دوران کثرت رائے سے اس بل کی مظوری دے دی گئی۔

  3. سٹیٹ بینک نے ڈھائی فیصد کمی کے ساتھ شرح سود 15 فیصد کر دی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کے روز شرح سود میں ڈھائی فیصد کمی کا اعلان کیا جس کے بعد اب شرح سود 15 فیصد پر آ گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق اس کمی کا اطلاق پانچ نومبر سے ہو گا۔

    سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق زری پالیسی کمیٹی نے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 250 بیسز پوائنٹس کم کر کے 15 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا۔

    سٹیٹ بینک کا بیان میں کہنا ہے کہ ’مہنگائی توقع سے زیادہ تیزی سے کم ہوئی ہے اور اکتوبر میں اپنے وسط مدتی ہدف کے قریب پہنچ گئی ہے۔‘

    یاد رہے اس سے قبل 12 ستمبرکو سٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے 17.5 فیصد مقرر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

    جبکہ اس سے قبل 29 جولائی کو مانیٹری پالیسی کے حوالے سے پریس بریفنگ دیتے ہوئے سٹیٹ بینک کے حکام نے شرح سود 20.5 فیصد سے کم کرکے 19.5 فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    سٹیٹ بینک کے بیان کے مطابق ’آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے نئے پروگرام کی منظوری دی جس سے غیر یقینی کیفیت میں کمی ہوئی ہے اور مجوزہ بیرونی رقوم کی آمد کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔

    اپنے بیان میں سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ غذائی مہنگائی میں تیز رفتار تنزلی، عالمی سطح پر تیل کی موافق قیمتیں، متوقع گیس ٹیرف اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو ایڈجسٹ نہیں کی گئیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کم ہوئی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زری پالیسی کمیٹی اب یہ توقع کرتی ہے کہ مالی سال 2024 کے لیے اوسط مہنگائی پچھلی پیش گوئی کی حد 11.5 سے 13.5 فیصد سے نمایاں طور پر کم رہے گی۔

  4. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:

    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ڈھائی فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد اب شرح سود 15 فیصد پر آ گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق اس کمی کا اطلاق پانچ نومبر سے ہو گا۔
    • اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے کمانڈر ابو علی ردا کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پیر کے روز کہا گیا کہ صوبہ گلستان کے نینویٰ بریگیڈ کے کمانڈر حامد مازندرانی ایک فضائی حادثے میں مارے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سراوان کے علاقے میں آپریشنل مشقوں کے دوران پاسداران انقلاب کی گراؤنڈ فورس کا ایک جائروپلین (چھوٹا ہوائی جہاز) سرحدی علاقے سرکان میں حادثے کا شکار ہوا۔
    • پیر کے روز ڈاکٹروں کی ایک چار رکنی ٹیم نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔ عمران خان کا معائنہ کرنے والی ٹیم میں پمز ہسپتال کے تین ڈاکٹروں کے علاوہ شوکت خانم ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عاصم یونس بھی شامل تھے۔ میڈیکل بورڈ کی تیار کردہ رپورٹ اسلام اباد ہائی کورٹ میں پیش کی جائے گی۔
  5. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان سے لے کر مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔