قطر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی جانب سے
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں بطور ثالث ’دہرے کھیل‘ کے الزام کو
مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک اس ہی کی کوششوں کے نتیجے میں یرغمالیوں کی
رہائی ممکن ہو پائی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں
قطر پر دونوں فریقین سے دہری باتیں کر کے دہرا کھیل کھیلنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا
تھا کہ اب اسے ’فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ مہذب دنیا کے ساتھ ہے یا حماس کے ساتھ‘۔
نتن یاہو کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے قطری وزارت خارجہ کے
ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری ’اشتعال انگیز‘ بیان کو مسترد کرتا ہے جس
میں ان کے مطابق ’نچلی ترین سطح کے سیاسی
اور اخلاقی ذمہ داری کا بھی مظاہرہ نہیں کیا گیا۔‘
قطری عہدیدار نے اسرائیل کی جانب سے مہذب دنیا کا ساتھ دینے کے
مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غزہ
کے خلاف مسلسل جارحیت کو تہذیب کے دفاع کے طور پر پیش کرنے سے ماضی کی ان حکومتوں
کی بیان بازی ذہن میں آجاتی ہے جو معصوم شہریوں کے خلاف اپنے جرائم کو جواز
فراہم کرنے کے لیے جھوٹے نعرے استعمال کرتی آئی ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے، ’جنگ کے آغاز سے قطر نے اپنے شراکت داروں کے
ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرتے ہوئے ثالثی کی کاوشوں کی ہر ممکن حمایت کی کوشش کی ہے جس کا
مقصد لڑائی ختم کرنا، شہریوں کی حفاظت اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا ہے۔‘
ماجد الانصاری نے کہا کہ اسرائیل یہ بتائے کہ کیا 138 یرغمالیوں
کو فوجی کارروائیوں کے ذریعے رہا کروایا گیا ہے یا ثالثی کی ان کوششوں کے ذریعے جن
پر اب سوال اٹھایا جا رہا ہے؟
ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ ’جھوٹی معلومات پرمبنی مہم‘ اور ’سیاسی دباؤ‘ کو استعمال کر کے قطر کو لوگوں کے حقوق اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے
کھڑے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
نتن یاہو کے الزامات قطر کی جانب سے جمعے کے روز دی ہیگ میں بین
الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں قطر نے اسرائیل
پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔ نتن یاہو کا اصرار ہے کہ اسرائیل ’حق کی لڑائی‘ کر رہا ہے۔
دریں اثنا، اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نتن یاہو کی جانب سے
آذربائیجان کا دورہ ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ میں متوقع بڑے
پیمانے پر آپریشن میں مدد کے لیے ہزاروں ریزرو فوجیوں کی خدمات طلب کر لی ہیں۔
اسرائیلی اخبار یدیوتھ احرونوت کے مطابق، ریزرو فوجیوں کو ریگولر
فوجیوں کی جگہ لبنان کے ساتھ سرحد اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تعینات کیا جائے گا
تاکہ ریگولر فوجی غزہ پر ایک نئے حملے میں حصہ لے سکیں۔