پولیس
کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں ایک فیسٹیول کے قریب کم از
کم 12 افراد کو گولی مارنے کے بعد وہ ملزمان کی تلاش کر رہی ہے۔
ٹولیڈو
پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 10 افراد کی حالت ’مستحکم‘ ہے جبکہ دو ابھی بھی تشویشناک
حالت میں ہیں۔
پولیس
نے بتایا کہ سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق تقریباً شام ساڑھے پانچ بجے پر اولڈ ویسٹ اینڈ فیسٹیول کے قریب فائرنگ
کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔
ٹولیڈو
کے ڈپٹی پولیس چیف جو ہیفرنن نے کہا کہ بظاہر دو افراد نے اسلحہ استعمال کیا اور
وہ ’شاید ایک دوسرے پر فائر کر رہے تھے‘۔
سوشل
میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز جن کی بی بی سی نے ابھی تک آزادانہ تصدیق نہیں کی میں
دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کی آوازوں کے درمیان لوگ چیختے اور بھاگتے نظر آتے
ہیں۔
متاثرہ
افراد کی عمریں 16 سے 61 سال کے درمیان ہیں۔
عینی
شاہد ٹیٹو ایگیولر نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ وہ
کھانا آرڈر کر رہے تھے جب انھوں نے نوجوانوں کے ایک گروہ کو ایک دوسرے نوجوان پر
حملہ کرتے دیکھا۔
ایگیولر
کے مطابق انھوں نے اپنے فون پر ریکارڈنگ شروع کی، اسی دوران فائرنگ کی آواز سنائی
دی۔ وہ موقع سے بھاگ گئے، لیکن بعد میں اپنے دوستوں کو ڈھونڈنے کے لیے واپس آئے،
جہاں انھوں نے کئی افراد کو زخمی حالت میں دیکھا۔
پولیس
لیفٹیننٹ ڈین گرکن نے تشدد کی شدت پر حیرت کا اظہار کیا۔
انھوں
نے صحافیوں سے کہا ’بارہ
لوگوں کو گولی مارے جانا، یہ میری زندگی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ میں کئی مواقع پر
گیا ہوں، لیکن یہ حد سے زیادہ ہے۔‘
گرکن
نے بتایا کہ پولیس متاثرین اور عینی شاہدین سے بات کر رہی ہے اور کیمرہ فوٹیج کا
جائزہ لے رہی ہے۔ انھوں نے مقامی کمیونٹی سے بھی تعاون کی اپیل کی۔
اولڈ
ویسٹ اینڈ فیسٹیول دو روزہ تقریب ہے جس میں ملک کے بڑے تاریخی علاقوں میں سے ایک
کا جشن منایا جاتا ہے، جس میں لائیو میوزک، مختلف فوڈ مارکیٹس، بیئر گارڈن، گھروں
کے دورے، خریداری اور مزید سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔
ہیفرنن
نے صحافیوں سے کہا ’یہ افسوسناک ہے کہ چند لوگ، چاہے ان کے ذہن میں جو بھی وجوہات
ہوں، ایک ایسے ایونٹ کو متاثر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جو کئی سالوں سے کمیونٹی کے
لیے اہم رہا ہے۔‘
پولیس
کے مطابق تحقیقات اس وقت ڈیلاویئر ایونیو اور رابِن ووڈ ایونیو کے علاقے تک پھیلی
ہوئی ہیں۔ فیسٹیول کی ویب سائٹ کے نقشے کے مطابق اس مقام پر موسیقی اور کھانے کا
علاقہ موجود تھا۔
آن
لائن شیئر کی گئی دیگر ویڈیوز میں دو افراد کو سٹریچر پر لے جاتے اور کئی زخمیوں
کو ایک خیمے کے قریب گھاس پر لیٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔