جنوبی اسرائیل کے شہر بیر شیبہ میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون پولیس اہلکار ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق حملہ آور کو جائے وقوعہ پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ شہر کے مرکزی بس سٹیشن پر ہونے والے اس حملے کو پولیس ’مشتبہ دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دے رہی ہے۔ حملہ بیر شیبہ کے مرکزی بس سٹیشن ٹرمینل کے اندر واقع میکڈونلڈ کے قریب ہوا ہے اور یہاں کئی دکانیں اور ریستورانٹس ہیں۔
حملے میں ہلاک ہونے والے کی شناخت 19 سالہ شیرا چایا سسلک کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ اسرائیل کی سرحدی پولیس میں سارجنٹ تھیں۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق حملے میں دس افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے کچھ کو گولی لگنے سے زخم آئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے حملہ آور کو موقع پر موجود سکیورٹی فورسز نے ’چند سیکنڈوں میں ہلاک کر دیا تھا۔‘
حملے کے فوراً بعد، اسرائیل کے وزیر ٹرانسپورٹ میری ریجیو نے ’دہشت گردوں‘ کے خاندانوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی سرزمین پر حملوں کو روکنے کے لیے عبرتناک سزا دی جائے۔
گذشتہ ہفتے تل ابیب میں فائرنگ اور چاقو حملے کے ایک واقعے میں سات اسرائیلی ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوگئے تھے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا تھا جب ایران کا اسرائیل کے خلاف میزائل حملہ جاری تھا۔
اسرائیلی پولیس اور شین بت سکیورٹی سروس کے مشترکہ بیان میں بتایا تھا کہ ’دو دہشتگرد ٹرین کی ایک بوگی سے اترے، مسافروں پر فائرنگ شروع کی جبکہ راہ چلتے افراد کو بھی نشانہ بنایا۔‘
مشترکہ بیان کے مطابق ’یہ دہشتگرد 19 برس کے محمد مسک (جو موقع پر ہی مارے گئے) اور 25 برس کے احمد ہیمانی (جو شدید زخمی ہیں) تھے۔‘
بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’دونوں حملہ آور بیت الخلیل کے رہائشی تھے اور ان کے پاس ایک M16 رائفل، متعدد میگزین اور ایک چاقو تھا۔‘