پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ پنجاب کے وزرا کو ’صوبائی کارڈ کھیلنے‘ پر معافی مانگنی چاہیے۔ سینیٹ میں ان کی تقریر کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان نے واک آؤٹ کیا ہے۔
سینیٹ
کے اجلاس میں کارروائی کے ابتدا میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت وفاق کو
استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ ’سرحدوں پر پھر میلی آنکھ کی بات ہو رہی ہے۔ جس پر ہم
سب ایک ساتھ کھڑے ہیں۔‘
لیکن
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیلاب کے باعث 60 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں
جن کی اکثریت پنجاب سے تعلق رکھتی ہے۔
سینیٹر
شیری رحمان نے کہا کہ 2022 کی طرح پھر سے کئی علاقے زیرِ آب ہیں۔ ان کا کہنا تھا
کہ آفات کے دوران متفق ہونے کی بجائے ’پنجاب اور سندھ میں الفاظ کی جنگ حکومتی اتحاد
کو متاثر کر رہی ہے۔‘
سینیٹر
شیری رحمان نے کہا کہ ’جب سرخ لکیر عبور ہوتی ہے، جب کوئی پنجاب کارڈ استعمال کر
کے کہتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ (بلاول بھٹو) نے پاکستان
کی خارجہ پالیسی کا تحفظ نہیں کیا اور آصفہ بھٹو نے بھی ملک کے لیے کوئی کام نہیں
کیا، یہ باتیں تنقید کے دائرے سے آگے نکل جاتی ہیں اور تمیز کے دائرے کو بھی عبور
کر جاتی ہیں۔‘
شیری
رحمان نے کہا کہ بلاول نے پنجاب میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ ’ہماری وہاں
نمائندگی بھی ہے۔ پنجاب حکومت نے پارلیمانی لیڈروں کی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔ پیپلز
پارٹی کے چیئرمین نے صرف اتنا کہا تھا کہ آپ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام استعمال کر
لیں۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ سوشل سکیورٹی کی منتقلی کا سب سے موثر طریقہ ہے۔
تاہم
ان کا کہنا تھا کہ اسے مداخلت سمجھا گیا۔ ’معافی مانگنے میں کسی کی عزت نفس میں
کمی نہیں آتی۔‘
سینیٹر
شیری رحمان نے کہا کہ ’کوئی صوبہ کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ سب پاکستانی ہیں۔ اس وقت
صوبائی کارڈ نہ کھیلیں۔ ہر شخص فوری ریلیف کا مستحق ہے۔‘
انھوں
نے متنبہ کیا کہ اگر معافی نہیں مانگی جاتی تو سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی
جماعت ہے۔ ’ہمارے سپورٹ کو نظر انداز نہ کریں۔ ہم کچھ توڑنا نہیں چاہتے۔‘
سینیٹر
شیری رحمان کی اس تقریر کے بعد ایوان سے پیپلز پارٹی کے ارکان نے واک آؤٹ کر دیا۔
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی طرف سے ’انگلی توڑنے‘ کے بیان کے بعد سے سندھ اور پنجاب کے وزرا کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ جاری ہے۔
گذشتہ روز سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت وفاق کو ’نشانہ‘ بنا رہی ہے۔
اس کے جواب میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ سندھ کے وزیر ’وفاق اور پنجاب کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ اگرچہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومتیں قائم ہیں مگر وفاق میں یہ دونوں جماعتیں اس حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں جس کے سربراہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔
سینیٹ
میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے شیری رحمان کی تقریر کے جواب میں کہا کہ جمہوریت
میں احتجاج ہر کسی کا حق ہے۔
انھوں
نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں دو صوبوں کے حکومتی عہدیداروں کے بیانات کے حوالے سے سینیٹ
کے اجلاسوں کو اثر انداز نہ ہونے دیں۔ ’اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو مجھے اس پر
تکلیف ہے۔‘
وزیر
قانون نے کہا کہ ’پانی کی تقسیم ارسا کے معاہدے کے تحت ہی ہو گی۔‘
اعظم
نذیر تارڑ نے کہا کہ ’ہم کوشش کریں گے کہ اپنے دوستوں کو منا کر لائیں۔‘