آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کا احتجاج: حکومت کا ’سکیورٹی خدشات والے علاقوں میں‘ موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس بند کرنے کا عندیہ

وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صرف سیکورٹی کے خدشات والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس کو بند کرنے یا نہ کرنے کا تعین کیا جائے گا۔

خلاصہ

  • پاکستان تحریک انصاف 24 نومبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کرے گی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے واضح کیا ہے کہ اس تاریخ میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جائے گا
  • اس کے پیش نظر سنیچر سے ہی اسلام آباد کے داخلی راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ موٹرویز کے علاوہ ٹرانسپورٹ اڈے بھی بند کیے گئے ہیں
  • وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے
  • اسلام آباد کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی دفعہ 144 نافذ ہے

لائیو کوریج

  1. روس کا یوکرین پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ’نئے‘ بیلسٹک میزائل سے حملہ

    یوکرین کے وسطی شہر نیپرو پر حملے میں روس کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ’نئے‘ بیلسٹک میزائل استعمال کیے ہیں۔

    روس کے سرکاری ٹیلی ویژن پر صدر ولادیمیر پوتن نے قوم سے اپنے ایک حالیہ خطاب کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ ماسکو نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے نئے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے جو ’2.5 سے 3 کلومیٹر فی سیکنڈ‘ کی رفتار سے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    یوکرین کے صدر اور وزارت خارجہ نے روسی فوج پر یہ الزام لگایا تھا کہ یہ روس کی جانب سے حملے میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کا استعمال کیا گیا تھا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ’ڈینیپرو کی جانب داغے جانے والے روسی میزائل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کی 'خصوصیات' موجود ہیں۔‘ اس سے قبل یوکرین کی فضائیہ نے کہا تھا کہ روس کی جانب سے آئی سی بی ایم لانچ کیا گیا ہے۔

    ٹیلی گرام پر زیلنسکی لکھتے ہیں کہ ’تمام خصوصیات: رفتار، اونچائی اور دیگر بین البراعظمی بیلسٹک میزائل والی ہی ہیں۔‘

    دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’یوکرین پر رات گئے داغا جانے والا میزائل بیلسٹک میزائل تھا لیکن بین البراعظمی بیلسٹک میزائل نہیں تھا۔‘

    روس کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ’نئے‘ بیلسٹک میزائلوں کے یوکرین کے خلاف استعمال کے بعد اب امریکہ نے روسی بینکوں پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ خاص طور پر روس کے سرکاری گیزپروم بینک کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو ملک کا تیسرا سب سے بڑا بینک ہے۔

    امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ’یہ نئی پابندیاں، جو روس کے سب سے بڑے بینک کو نشانہ بناتی ہیں، ’روس کی جنگی صلاحیت کو مزید کمزور کریں گی۔‘

    قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے مزید کہا کہ ’امریکہ 50 سے زیادہ مالیاتی اداروں پر اہم نئی پابندیاں عائد کر رہا ہے تاکہ روس کی بین الاقوامی مالیاتی نظام کو یوکرین کے عوام کے خلاف اپنی وحشیانہ جنگ کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت کو مزید کم کیا جا سکے۔‘

    فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب گیزپروم بینک کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے امریکہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

  2. اسلام آباد ہائیکورٹ کا انتظامیہ کو پر امن احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا حکم

    پاکستان تحریک انصاف کے 24 نومبر کے احتجاج کے خلاف درخواست پر آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ جاری کرتے ہوئے انتظامیہ کو پی ٹی آئی کے ساتھ پُرامن احتجاج کے لیے مذاکرات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوں تو وزیر داخلہ قانون کے مطابق اسلام آباد میں امن و امان کو یقینی بنائیں۔

    پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج کے خلاف تاجروں کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ جاری کیا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں اس درخواست پر سماعت کی گئی اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج اور پبلک آرڈر 2024 دھرنے، احتجاج، ریلی وغیرہ کی اجازت کے لیے مروجہ قانون ہے اور اسلام آباد انتظامیہ مروجہ قانون کے خلاف دھرنا، ریلی یا احتجاج کی اجازت نہ دے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ قانون کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے۔

    ہائی کورٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ عام شہریوں کے کاروبار زندگی میں کوئی رخنہ نہ پڑے گا۔

  3. پاڑہ چنار کو ملک سے جوڑنے والی وہ سڑک جہاں بار بار حملے ہوتے ہیں, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    ہر چند ماہ بعد ایک ایسا وقت آتا ہے جب ضلع کرم کے صدر مقام پاڑہ چنار سے پاکستان کے کسی بھی حصے میں جانے کے لے لوگوں کو ایک کانوائے کی شکل میں سفر کرنا پڑتا ہے۔

    اس کی وجہ پاڑہ چنار اور ٹل کے درمیان واحد رابطہ سڑک پر حملوں کا خطرہ ہے۔ ایسے حملے جو زمینوں کے اس تنازعے سے جڑے ہیں جس سے اٹھنے والی لڑائی چند گھنٹوں میں فرقہ ورانہ فسادات میں تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر یہ سلسلہ کئی ہفتے جاری رہتا ہے۔

    پاکستان کے نارتھ ویسٹرن بارڈر پر موجود ضلع کرم کا صدر مقام پاڑہ چنار ہے جہاں آبادی کی اکثریت اہلِ تشیع مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔

    پاڑہ چنار پاکستان کے دیگر علاقوں سے صرف ایک سڑک کے راستے جڑا ہوا ہے جو لوئر کرم میں سدہ کے علاقے سے گزرتی ہے۔ یہ علاقہ یعنی سدہ، سنی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے۔

    جب بھی یہاں فرقہ واریت بڑھتی ہے یا زمینوں پر تنازعہ پھیلتا ہے تو پاڑہ چنار کے رہائشیوں کو سدہ کے سنی اکثریتی علاقے سے گزرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں تحفظ فراہم کرتی ہے۔

    پاڑہ چنار کے داخلی مقام اور ٹل اور کرم کی سرحد پر واقع چپڑی چیک پوسٹ کے مقام پر وہ لوگ جمع ہوتے ہیں جنھیں پاڑہ چنار سے ملک کے دیگر حصوں یا دیگر شہروں سے پاڑہ چنار کی جانب سفر کرنا ہو۔ اور پھر یہ گاڑیاں، ایف سی، فوج یا پولیس کی حفاظت میں ایک کانوائے کی شکل میں اس سڑک پر سفر کرتی ہیں۔

    اس کانوائے کا آخری سٹاپ پاڑہ چنار سے تقریبا سو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود باب کرم ہے جو ٹل کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔

    حالات خراب ہونے کی صورت میں یہ سڑک کئی دن تک ہر قسم کی آمدو رفت کے لیے بند کر دی جاتی ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات کا شکار پاڑہ چنار کے شہری ہوتے ہیں۔

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ یہ سڑک بند کی گئی ہو یا یہاں پرتشدد واقعات ہوئے ہوں۔

    حالیہ تاریخ میں دو ہزار سات میں شروع ہونے والے فسادات اس قدر شدید تھے کہ مسافر گاڑیاں روک کر سواریوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا جا رہا تھا۔ اس سال لوگوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔ اور پاڑہ چنار کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی یہ واحد سڑک طویل عرصے تک بند رہی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاڑہ چنار کی مقامی آبادی افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہونے پر مجبور تھی۔

  4. ’پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، 24 نومبر کو اسلام آباد میں موبائل سروس بند ہو گی‘ محسن نقوی

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اس حق میں ہوں کہ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے مگر مذاکرات دھمکیوں سے نہیں ہوتے۔‘

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کو بیلاروس کا وفد اسلام آباد آ رہا ہے، اس دوران اسلام آباد میں موبائل سروس بند ہو گی اور اجازت کے بغیر جلسے جلوس کی اجازت نہیں دے سکتے۔

    آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی وزیرداخلہ کو عدالت بلایا تھا۔ سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بیرسٹرگوہر بانی پی ٹی آئی سے ملے تھے تاہم ’کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ آ کر ہمارے لوگوں پر ڈنڈے برسائیں، دھمکیاں دیں اور پھر کہیں مذاکرات ہوں، یہ نہیں ہو گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ریڈ زون اور ڈی چوک کو محفوظ بنانا ہے اور اس کے لیے پنجاب پولیس، رینجرز ایف سی سب مل کر فرائض انجام دیں گے۔

  5. ’کانوائے میں 200 گاڑیاں تھیں، پہلے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا پھر مسافر کانوائے کو دونوں اطراف سے نشانہ بنایا گیا‘ بیرسٹر سیف

    خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پہلے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور پھر مسافر کانوائے کو دونوں اطراف سے نشانہ بنایا گیا۔

    بیرسٹر کا کہنا ہے کہ کانوائے میں 200 کے قریب گاڑیاں شامل تھیں جنھیں نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اب تک 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 19 شدید زخمی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور واقعے کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں اور ضلعی انتظامیہ، ڈی پی او، آر پی او سمیت تمام متعلقہ افسران جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

    ادھر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے ٹیلی فونک رابطے میں سکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی اور صوبے میں دہشتگردی کے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت سے امن و امان کی صورتحال پر بات چیت ہوتی رہتی ہے اور خیبرپختونخوا ملک کا اہم صوبہ ہے جہاں ضرورت ہو گی مدد کریں گے۔

    انھوں نے وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے بات چیت میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مزید روابط اور اتفاق رائے پر زور دیا۔

  6. ضلع کرم اہم کیوں ہے؟

    پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر واقع ضلع کرم کا جغرافیہ اور اس کی آبادی اسے منفرد بناتے ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد قبائلی ضلع ہے جہاں آبادی کی اکثریت کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔

    پاکستان کے نقشے پر کرم کو تلاش کریں تو آپ کو علم ہو گا کہ یہ ضلع تین اطرف سے افغانستان جبکہ ایک جانب پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس کے جغرافیہ کی وجہ سے ہی کرم کو کسی زمانے میں ’پیرٹس بیک‘ یعنی ’طوطے کی چونچ‘ کہا جاتا تھا اور افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران اس ضلع کی سٹریٹیجک اہمیت میں اسی وجہ سے اضافہ ہوا۔

    کرم پاکستان کے کسی بھی شہر کے مقابلے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب ترین ہے اور یہ افغانستان میں خوست، پکتیا، لوگر اور ننگرہار جیسے صوبوں کی سرحد پر بھی واقع ہے جو شیعہ مخالف شدت پسند تنظیموں داعش اور تحریک طالبان کا گڑھ ہیں۔

    پارہ چنار پاکستان کے دیگر علاقوں سے صرف ایک سڑک کے راستے جڑا ہوا ہے جو لوئر کرم میں صدہ کے علاقے سے گزرتی ہے جو سُنی اکثریت آبادی پر مشتمل ہے۔

    ’کُرم‘ کا لفظ دریائے کرم سے منسوب ہے جو ضلع کے اطراف سے گزرتا ہے۔ یہ ضلع تین حصوں میں تقسیم ہے یعنی اپر کرم، سینٹرل اور لوئر کرم۔ اس علاقے کو کوہ سفید کے بلند و بالا پہاڑی سلسلہ افغانستان سے جدا کرتا ہے جو تقریباً سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔

    رواں سال اگست کے مہینے میں پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں ایک بار پھر شروع ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات کے دوران کم از کم 43 افراد ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہوئے تو ساتھ ہی ساتھ چھ روز تک علاقے کے باسیوں کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گیا۔

  7. بریکنگ, کرم میں مسافر گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ سے چھ خواتین سمیت 38 سے زائد ہلاک

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے میں 38 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود نے بی بی سی کے افتخار خان کو 38 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    اس واقعے میں 19 افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں ٹل اور پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

    یہ واقعہ لوئر کرم کے علاقے مندروی میں اس وقت پیش آیا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں پشاور سے پاڑہ چنار آنے والی گاڑیوں کے قافلے پر اس سڑک پر حملہ ہوا جسے حال ہی میں کھولا گیا تھا۔

    مندروی کے بنیادی مرکزِ صحت میں تعینات ڈاکٹر محمد نواز نے بی بی سی کے افتخار خان کو بتایا کہ وہاں اب تک 33 لاشیں لائی گئی ہیں جن میں چھ خواتین بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ پانچ لاشیں اور آٹھ زخموں کو علیزی کے ہسپتال میں لایا گیا ہے۔

    کانوائے کی حفاظت پر مامور ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ہم پانچ سے چھ اہلکار تھے، پتا نہیں چلا کہ فائرنگ کہاں سے ہوئی۔ ہمارا ایک ساتھی بھی فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔‘

    کانوائے کے مسافروں میں شامل پیر حسین شاہ نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ ’اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئی جس میں بھاری ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آج وہ کسی کی جان نہیں چھوڑیں گے۔‘

    سعیدہ بانو پشاور میں ملازمت کرتی ہیں وہ بھی اس قافلے میں شامل تھیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب پشاور سے پاڑہ چنار کی حدود میں داخل ہو رہے تھے تو اس وقت میں نے اپنی گاڑی سے اتر کر سکیورٹی فورسز سے کہا کہ ’کانوائے بڑا ہے اور سیکورٹی اہلکار کم ہیں‘ مگر مجھے کہا گیا کہ گاڑی میں بیٹھ جاؤ سب ٹھیک ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں کانوائے کے درمیاں میں تھی۔ پہلے مجھے ایسے لگا کہ کانوائے کے پیچھے سے فائرنگ کا آغاز ہوا ہے۔ اس کے بعد مجھے لگا کہ میرے سامنے بھی فائرنگ ہورہی ہے۔ اس موقع پر میں نے اپنے بچوں کو گاڑی کی سیٹ کے نیچے کر دیا تھا۔ کئی منٹ تک ہر طرف سے فائرنگ ہوتی رہی تھی۔‘

    سعیدہ بانو کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگا کہ آج میں بچوں سمیت ماری جاؤں گی۔ مگر کانوائے کے درمیاں میں گاڑیوں کو زیادہ نقصاں نہیں ہوا۔ وہ گاڑیاں جو شروع اور آخر میں تھیں وہ براہ راست ٹارگٹ تھیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب فائرنگ ختم ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ہر طرف زخمی اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ کوئی چیخ رہا تھا اور کوئی ہلاک ہو چکا ہے۔ اس موقع پر کچھ لوگوں نے زخمیوں کی مدد کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔‘

    سعیدہ بانو کا کہنا تھا کہ اس کانوائے میں شاہد ایک خاتون ڈاکٹر یا نرس تھی اور وہ دوڑ دوڑ کر زخمیوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔‘

    یاد رہے کہ ضلع کرم میں ہر قسم کے سفر کے لیے پولیس سکیورٹی میں مسافر قافلوں کی صورت میں سفر کرتے ہیں۔

    اسے قبل 12 اکتوبر کو اپر کرم کے علاقے کونج علیزئی میں ہوئے مسافر ویگن قافلے پر حملے کے نتیجے میں 15 افراد کی ہلاکت کے بعد سے پاڑہ چنار، پشاور روڈ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند تھی۔

  8. پی ٹی آئی کے احتجاج میں سرکاری وسائل استعمال نہ ہوں: وزارتِ داخلہ کی چیف سیکرٹری کے پی کے کو ہدایات

    پاکستان کی وزراتِ داخلہ نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو کیے جانے والے احتجاج میں سرکاری وسائل استعمال نہ ہوں۔

    وازارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے احتجاج کے تناظر اس بات کو یقینی بنایا جائے خیبر پختونخوا کی حکومت جماعت کے سیاسی احتجاج کے لیے سرکاری مشینری، سازوسامان، عہدیداروں یا مالی وسائل کا استعمال نہ کرے۔‘

    یاد رہے کہ پی ٹی ائی نے اس سے پہلے چار اکتوبر کو حال ہی میں منظور ہونے والی آئینی ترامیم کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کی کال دی تھی میں باقی ملک کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا سے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی قافلہ لے کر اسلام آباد گئے تھے۔

    اس احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی مرکزی شاہراؤں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا تھا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں جماعت کے قافلے اسلام آباد کے ڈی چوک پر پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے ایک رات مسلسل سفر کرنے کے بعد وہ سنیچر پانچ اکتوبر کی شام اسلام آباد پہنچے تھے۔

    اس احتجاج میں بتایا گیا تھا کہ خیبرپختوخوا سے آنے والے پولیس، ریسکیو 1122 کے اہلکار بھی شامل تھے۔

    اس موقعے پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کارروائی کے دوران ’اسلام آباد میں پابندی کے باوجود احتجاج کرنے والے 564 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں۔’

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ ’یہ مسلح جتھے تھے، ان کے پاس پاس لانگ رینج ٹیئر گیس تھی، جو انھوں نے استعمال کی۔‘

  9. سعودی عرب: محمد بن سلمان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے استعمال کا الزام

    ہیومن رائٹس واچ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پھر ان خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے خودمختار پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

    انسانی حقوق کی تنظیم نے ’دنیا کو خریدنے والا انسان‘ کے عنوان سے ایک طویل رپورٹ میں محمد بن سلمان جو اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سعودی ریاست کی بے پناہ دولت ایک شخص کے کنٹرول میں ہے۔‘

    سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ جو دنیا کے سب سے بڑے خودمختار فنڈز میں سے ایک ہے، اس کی مالیت تقریباً ایک کھرب ڈالر بتائی گئی ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ فنڈ کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی ایسے منصوبوں کو قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے جن کی وجہ سے وہاں کے رہائشی بے گھر ہو چکے ہیں۔

    تنظیم کے مطابق ’جن علاقوں میں منصوبے بنائے جا رہے ہیں وہاں محل وقوع کو تباہ کر دیا گیا ہے، تارکین وطن مزدوروں کو سنگین زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور مقامی لوگوں کو طاقت کے زور پر خاموش کروا دیا گیا ہے۔‘

    ان منصوبوں میں سرِ فہرست نیوم سٹی ہے، جو بحیرہ احمر پر ایک نیا اقتصادی زون ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ’سعودی حکام نے الحویت قبیلے کے ارکان کو بے دخل کر دیا، جو صدیوں سے نیوم کے منصوبے کے لیے مختص کردہ علاقے میں آباد تھے، انھوں نے بے دخلی کے خلاف احتجاج کرنے والے رہائشیوں کو بھی گرفتار کیا اور ان میں سے ایک کو قتل کر دیا، دو افراد کو 50 سال قید کی سزا سنائی اور تین کو مزاحمت کرنے پر موت کی سزا سنائی گئی۔

    سعودی حکام نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  10. بریکنگ, غزہ کی پٹی میں رہائشی علاقے میں اسرائیلی بمباری، 57 افراد ہلاک اور کم از کم 100 زخمی

    غزہ کی پٹی میں صحت کے حکام کے مطابق جمعرات کی صبح شمالی غزہ کی پٹی میں ایک رہائشی چوک پر اسرائیلی بمباری میں کم از کم 57 افراد ہلاک اور 100 دیگر زخمی ہو گئے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیا میں پانچ گھروں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، بہت سے لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    قبل ازیں صحت کے حکام نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں کم از کم 48 فلسطینیوں کو ہلاک کیا، جن میں ایک امدادی کارکن بھی شامل تھا، جب کہ فورسز نے پٹی کے شمالی کنارے پر اپنی دراندازی جاری رکھی۔

    حکام نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز نے ایک ہسپتال پر بھی بمباری کی اور پٹی کے مختلف حصوں میں گھروں کو دھماکے سے اڑا دیا۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز قبل شمالی غزہ میں جبالیہ کے علاقے میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 12 فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے اور کم از کم 10 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جب کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قریب ہی ٹینک کی گولہ باری میں ایک اور شخص مارا گیا۔

    یہ بھی پڑھیے

    بدھ کو صحت کے حکام نے بتایا کہ غزہ شہر کے شیخ رضوان محلے میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے۔

    غزہ کے طبی ماہرین نے بتایا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں، المواسی میں، ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک لڑکی سمیت سات فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ فلسطینی اور اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پٹی میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے الرمل محلے میں ایک مکان پر ایک اور فضائی حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے، جب کہ وسطی غزہ کی پٹی میں بے گھر خاندانوں کے ایک سکول میں ایک چھاپے میں تین فلسطینی ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے۔

    غزہ میں 13 ماہ سے جاری اسرائیلی آپریشن کے نتیجے میں تقریباً 44,000 افراد ہلاک اور کم از کم ایک بار اس پٹی کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔

    اسرائیل نے غزہ پر اپنی جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے کیے گئے ایک غیر معمولی حملے کے بعد کیا، جس کے نتیجے میں 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 250 سے زائد یرغمال بنائے گئے۔

  11. انڈیا کے امیر ترین افراد میں شامل گوتم اڈانی پر امریکہ میں دھوکہ دہی کے الزام میں مقدمہ

    انڈیا کے امیر ترین افراد میں شامل گوتم اڈانی پر امریکہ میں دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے امریکہ میں اپنی ایک کمپنی کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے 25 کروڑ ڈالر کی رشوت دی اور معاملے کو چھپایا۔

    بدھ کے روز نیویارک میں درج فوجداری مقدمہ 62 سالہ گوتم اڈانی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو انڈیا کے امیر ترین آدمیوں میں سے ایک ہیں۔ اڈانی کی کاروباری سلطنت بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سے توانائی کے شعبے تک پھیلی ہوئی ہے۔

    امریکی پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا کہ اڈانی اور ان کی کمپنی کے دیگر اعلیٰ حکام نے اپنی توانائی کمپنی کے لیے ٹھیکے حاصل کرنے کی غرض سے انڈین اہلکاروں کو ادائیگی کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

    اس معاہدے سے کمپنی کو آئندہ 20 سالوں میں دو ارب ڈالر سے زیادہ کا منافع ہونے کی امید تھی۔

    اڈانی گروپ نے ابھی تک اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

    اڈانی گروپ 2023 سے امریکہ میں شک کے دائرے میں ہے۔ اسی سال ہندنبرگ نام کی ایک کمپنی نے اڈانی پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا تھا۔

    گوتم اڈانی نے کمپنی کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا تھا لیکن اس خبر کے سامنے آنے کے بعد اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے شیئرز میں زبردست گراوٹ آئی۔

    اس رشوت ستانی کی خبریں بھی کئی مہینوں سے آرہی تھیں۔ استغاثہ نے کہا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات سال 2022 میں ہی شروع کی گئی تھی۔

    الزام ہے کہ ان کے منیجرز نے قرضوں اور بانڈز کی شکل میں تین ارب ڈالر اکٹھے کیے۔ اس میں کچھ رقم امریکی فرموں سے بھی لی گئی۔ الزام ہے کہ یہ رقم رشوت ستانی مخالف پالیسیوں کے خلاف گمراہ کن بیانات کے ذریعے اکٹھی کی گئی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ رشوت ستانی کی سکیم کو آگے بڑھانے کے لیے اڈانی خود کئی مواقع پر سرکاری افسران سے ملے۔

    یہ بھی پڑھیے

    گوتم اڈانی کے علاوہ ان لوگوں میں سات اور لوگ بھی ہیں جن کے خلاف امریکی اٹارنی آفس نے اس معاملے میں الزامات عائد کیے ہیں۔ ان سات لوگوں میں ساگر آر اڈانی، ونیت ایس جین، رنجیت گپتا، روپیش اگروال، دیپک ملہوترا، سوربھ اگروال اور سیرل کیبنیز شامل ہیں۔

    اڈانی کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ انڈیا کی اپوزیشن جماعتیں طویل عرصے سے الزام لگا رہی ہیں کہ سیاسی رابطوں کی وجہ سے اڈانی کو فائدہ ہو رہا ہے۔ تاہم اڈانی ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

    امریکہ میں صدر اٹارنی کا تقرر کرتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے چند ہفتے قبل ہی الیکشن جیتا تھا۔

    ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ پچھلے ہفتے، اڈانی نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کو ان کی جیت پر مبارکباد دی تھی اور امریکہ میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

  12. ہنگامہ آرائی، کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام، عمران خان کی ایک اور مقدمے میں گرفتاری ظاہر کر دی گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو

    راولپنڈی پولیس نے ہنگامہ آرائی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت درج ایک مقدمے میں بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری ظاہر کر دی ہے۔

    راولپنڈی کے تھانہ نیو ٹاؤن میں یہ مقدمہ ستمبر 2024 کے آخری ہفتے میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ 20 نومبر (بدھ) کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سابق وزیر اعظم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔

    راولپنڈی پولیس کے مطابق ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں پولیس کی ایک ٹیم اس مقدمے کے سلسلے میں بانی پی ٹی آئی سے تفتیش کر رہی تھی جس کے نتیجے میں آج (21 نومبر) کو عدالت سے اُن کے ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔

    سرکار کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں موجود عمران خان نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو شہر کے مرکزی علاقے، لیاقت باغ، میں احتجاج کی ہدایات دے رکھی تھیں اس سے قطع نظر کہ شہر کی انتظامیہ نے اس دورانیے میں پورے راولپنڈی ریجن میں دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا۔

    ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کے احتجاج کرنے کی اس کال پر راولپنڈی کے چند رہنماؤں نے 40 سے 45 کارکنوں کے ہمراہ تھانہ نیو ٹاؤن کی حدود میں غیرقانونی اجتماع کیا اور اس دوران قریب موجود ایک پولیس موبائل وین پر پیٹرول بم سے حملہ کیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق اس موقع پر ڈنڈوں سے مسلح مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے بمشکل اپنی جانیں بچائیں۔ ایف آئی آر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جلاؤ گھیراؤ کیا اور کارِ سرکار میں مداخلت کی۔

    یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت درجن بھر مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں تاہم حکام کی جانب سے اُن پر جیل کے اندر رہ کر اپنی جماعت کے کارکنوں کو مشتعل کرنے اور حکومت کے خلاف اُکسانے جیسے الزامات عائد کیا جاتے رہے ہیں اور اس ضمن میں ان کے خلاف کیس بھی درج کیے گئے ہیں۔

  13. پی ٹی آئی کا ’لانگ مارچ‘: اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز پہنچ گئے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کے لانگ مارچ کے پیشِ نظر اسلام آباد کی انتظامیہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز پہنچانا شروع کر دیے ہیں اور پولیس کے مطابق بوقت ضرورت سڑکوں کے کناروں پر موجود ان کنٹینرز کو شاہراؤں پر رکھ دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

    گذشتہ روز وفاقی دارالحکومت کی انتطامیہ نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پنجاب اور سندھ پولیس سے بھی مدد طلب کی تھی۔ اسلام آباد کے چیف کمشنر کے دفتر سے وزارتِ داخلہ کو لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کر رکھا جس سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کے دو ڈی آئی جیز اور 10 ڈی پی او کو اسلام آباد میں ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے۔

    شہری انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر سندھ اور پنجاب سے بھی دو، دو ہزار پولیس اہلکاروں پر مشتمل نفری بھی طلب کر رکھی ہے۔

    شہری انتظامیہ نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ پنجاب سے آنے والے 10 ڈی پی اوز اپنے ساتھ 500، 500 پولیس اہلکار کو بھی ساتھ لائیں۔ مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ ان تمام افسران اور سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات 22 نومبر سے درکار ہوں گی۔

  14. توشہ خانہ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی ضمانت منظور کرلی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت منظور کرلی ہے۔

    بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے کے جج جسٹس میاں گُل اورنگزیب نے عمران خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 10، 10 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایات دیں۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کردیا جائے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی اس مقدمے میں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

    دورانِ سماعت ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر عمیر مجید نے عدالت کو بتایا کہ بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کروایا گیا اور ریاست کے تحفے کی کم قیمت لگواکر ریاست کو نقصان پہنچایا گیا۔

    جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ اس سے عمران خان کو کیا فائدہ ہوا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ’جب بیوی کو فائدہ ملا تو شوہر کا بھی فائدہ ہوا۔‘

    جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیا کہ ’میری بیوی کی چیزیں بھی میری نہیں ہیں، ہم پتا نہیں کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔‘

    دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے توشہ خانہ پالیسی 2018 کے تحت تحائف خریدے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جو قیمت کسٹم اور اپریزر نے لگائی ان کے مؤکل نے قیمت ادا کر کے اپنے پاس تحفہ رکھ لیا۔

    توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان پر الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو مختلف سربراہان مملکت کی جانب سے 108 تحائف ملے جن میں سے انھوں نے 58 تحائف اپنے پاس رکھ لیے اور ان تحائف کی ’کم مالیت ظاہر کی گئی۔‘

    ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ ’ملزمان نے سعودی ولی عہد سے ملنے والا جیولری سیٹ بھی کم مالیت پر حاصل کیا۔ بشریٰ بی بی نے سعودی ولی عہد سے ملنے والا جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا۔‘

    خیال رہے رواں برس ستمبر میں توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی تین رُکنی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی تھی۔ یہ مقدمہ سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

    کیا توشہ خانہ کیس میں ضمانت کے بعد عمران خان کی رہائی ممکن ہے؟

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق عمران خان کی توشہ خانہ کے ایک دوسرے کیس میں پہلے ہی سزا معطل ہوچکی ہے، جبکہ دوران نکاح عدت کیس میں وہ اہلیہ سمیت بری ہوچکے ہیں۔

    جماعت کے مطابق سائفر کیس میں بھی عمران خان بری ہوچکے ہیں، جبکہ القادر کیس میں بھی ان کی ضمانت منظور ہوئی ہے۔

    ایسے دو درجن سے زائد مزید مقدمات ہیں جن میں پہلے ہی عمران خان ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے مطابق سابق وزیرِ اعظم 9 مئی سے متعلق آٹھ مقدمات میں نامزد ہیں اور لاہور کی ایک انسدادِ دہشتگردی کی عدالت 30 نومبر کو ان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرے گی۔

    ان کی جماعت کے مطابق اگر ان مقدمات میں عمران خان کی ضمانتیں منظور ہوجاتی ہیں تو ان کو رہا کیا جا سکتا ہے۔

  15. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    پنجاب میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے لاہور اور ملتان میں بھی سموگ کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد تعلیمی ادارے 20 نومبر یعنی آج سے کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارش کے بعد ملتان اور لاہور سمیت صوبہ بھر کے تمام ڈویژنز میں تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    روسی فضائی حملے کے پیشِ نظر امریکہ اور سپین کے سفارتخانے بند یوکرین میں

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں امریکہ سمیت متعدد ممالک نے ممکنہ روسی فضائی حملے کے پیشِ نظر اپنے سفارتخانوں کو بند کر دیا ہے۔ امریکہ، سپین، اٹلی اور یونان ان نمایاں ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے یوکرینی دارالحکومت میں اپنے سفارتخانے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یوکرین میں امریکی سفارتخانے کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ ’20 نومبر کو کسی ممکنہ بڑے فضائی حملے کی معلومات‘ کے پیشِ نظر کیئو میں اپنا سفارتخانہ بند کر رہے ہیں۔ امریکی سفارتخانے نے اپنے سفارتی اہلکاروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ محفوظ مقام پر پناہ لے لیں۔ دوسری جانب سپین نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ’ممکنہ بڑے فضائی حملے‘ کے خدشات کے پیشِ نظر یوکرینی دارالحکومت میں اپنا سفارتخانہ بند کر رہے ہیں۔

    بنوں میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے مالی خیل میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستانی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منگل کو ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی دیوار اور آس پاس موجود عمارت بھی مسمار ہوئی جس کے باعث 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز 10 جوان اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار ہلاک ہوئے۔

    ’لانگ مارچز کر لیں یا پھر ترقی اور خوشحالی کے مینار کھڑے کر لیں‘

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’اگر واقعی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی آپ سب کو عزیز ہے جو کہ آپ کو عزیز ہے تو پھر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دھرنے دے لیں، لانگ مارچز کر لیں یا پھر ترقی اور خوشحالی کے مینار کھڑے کر لیں۔‘ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے منگل کے روز نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں اعلیٰ عسکری و سول قیادت و متعلقہ وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلیٰ، انٹیلی جینس اداروں کے سربراہان، پاکستان کے زیرِ اتظام کشمیر کے ومیر اعظم اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بھی اجلاس میں شامل تھے۔

  16. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    20 نومبر تک کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں