روس کا یوکرین پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ’نئے‘ بیلسٹک میزائل سے حملہ
یوکرین کے وسطی شہر نیپرو پر حملے میں روس کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ’نئے‘ بیلسٹک میزائل استعمال کیے ہیں۔
روس کے سرکاری ٹیلی ویژن پر صدر ولادیمیر پوتن نے قوم سے اپنے ایک حالیہ خطاب کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ ماسکو نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے نئے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے جو ’2.5 سے 3 کلومیٹر فی سیکنڈ‘ کی رفتار سے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یوکرین کے صدر اور وزارت خارجہ نے روسی فوج پر یہ الزام لگایا تھا کہ یہ روس کی جانب سے حملے میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کا استعمال کیا گیا تھا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ’ڈینیپرو کی جانب داغے جانے والے روسی میزائل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کی 'خصوصیات' موجود ہیں۔‘ اس سے قبل یوکرین کی فضائیہ نے کہا تھا کہ روس کی جانب سے آئی سی بی ایم لانچ کیا گیا ہے۔
ٹیلی گرام پر زیلنسکی لکھتے ہیں کہ ’تمام خصوصیات: رفتار، اونچائی اور دیگر بین البراعظمی بیلسٹک میزائل والی ہی ہیں۔‘
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’یوکرین پر رات گئے داغا جانے والا میزائل بیلسٹک میزائل تھا لیکن بین البراعظمی بیلسٹک میزائل نہیں تھا۔‘
روس کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ’نئے‘ بیلسٹک میزائلوں کے یوکرین کے خلاف استعمال کے بعد اب امریکہ نے روسی بینکوں پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ خاص طور پر روس کے سرکاری گیزپروم بینک کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو ملک کا تیسرا سب سے بڑا بینک ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ’یہ نئی پابندیاں، جو روس کے سب سے بڑے بینک کو نشانہ بناتی ہیں، ’روس کی جنگی صلاحیت کو مزید کمزور کریں گی۔‘
قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے مزید کہا کہ ’امریکہ 50 سے زیادہ مالیاتی اداروں پر اہم نئی پابندیاں عائد کر رہا ہے تاکہ روس کی بین الاقوامی مالیاتی نظام کو یوکرین کے عوام کے خلاف اپنی وحشیانہ جنگ کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت کو مزید کم کیا جا سکے۔‘
فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب گیزپروم بینک کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔
صدر زیلنسکی نے امریکہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کا خیر مقدم کیا ہے۔