ایران امریکہ مذاکرات: بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، امریکی سفارتکار
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہوئے اور جس کے بعد اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے دونوں مُمالک یعنی پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہ عمل رواں ہفتے جاری رہے گا۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اس مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباق عراقچی کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور قطر کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔‘
تاہم امریکہ کی جانب سے کوئی واضح ردِ عمل اب تک سامنے نہیں آیا ہے مگر مذاکرات میں شریک ایک سینئر امریکی سفارتکار نے بتایا کہ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز اتوار کے روز ہوا تھا، جب گزشتہ ہفتے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
اتوار کی شب امریکی سفارتکار نے کہا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی سے متعلق ایران کے بعض ’غیر واضح پیغامات‘ کی وضاحت، جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ اور جوہری معاہدے کے مختلف نکات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے لبنان میں اسرائیل کے ساتھ جاری جھڑپوں کے دوران حزب اللہ کی حمایت بند نہ کی تو امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ ایران نے اس انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی بھی تصادم کے لیے تیار ہے۔
امریکی سفارتکار کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں وفود آج کی پیش رفت کو آئندہ تکنیکی مذاکرات کی بنیاد کے طور پر استعمال کریں گے۔
گزشتہ ہفتے طے پانے والے ابتدائی معاہدے میں 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے، تمام محاذوں پر لڑائی کے خاتمے، بشمول لبنان اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے وعدے شامل تھے۔
تاہم اس کے بعد جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپوں میں شدت آ گئی، جبکہ اسرائیلی فضائی حملوں میں لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
صورتحال میں کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکہ نے جمعے کے روز اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود جاری جھڑپوں اور فضائی حملوں کے بعد ایران نے سنیچر کے روز آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، تاہم بحری نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز اب بھی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔