آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران جوہری تنازع پر امریکہ کے ’دباؤ اور پابندیوں‘ کے آگے نہیں جھکے گا: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد تہران میں مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی پابندیوں اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور امریکہ سے براہ راست مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

خلاصہ

  • ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کو روس اور ماسکو کے زیرِ قبضہ یوکرین کے علاقوں میں موجود نایاب معدنیات کے ذخائر تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں۔
  • امن کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ یوکرین کو بھول جائیں: فرانس کے صدر کی ٹرمپ سے ملاقات کا احوال
  • یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات چند ہفتوں میں ہو سکتے ہیں: فرانس
  • یوکرین میں روس کی جنگ کے تین برس مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دو بار ایسے مواقع آئے جب امریکہ نے روس کا ساتھ دیا۔
  • فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلعے خیبر میں ایک فوجی آپریشن کے دوران دس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں
  • اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے جنوبی شام کے زیادہ حصے کو غیرفوجی علاقہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے
  • پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما اور وکیل قیضار خان میانخیل کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے

لائیو کوریج

  1. بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیں گے، ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ہوگا: وزیر خزانہ

    پاکستان کے وزیرخزانہ نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ مسلسل تنخواہ دار طبقے پر ہے، جسے اب کم کرنا ہے اور اس بار بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس دائرہ کار کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔

    کراچی میں بینکنگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہ سمگلنگ روکنے کے لیے سرحدوں پرسکیورٹی سخت کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلی بار افغانستان چینی سمگل نہیں برآمد ہوئی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو بینکنگ سیکٹر سے 30 ارب روپے جمع کر کے دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس شعبے کا قومی معیشت میں اہم کردار ہے اور بینکنگ سیکٹرنے ٹیکس ادائیگی میں تیل وگیس کے شعبے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ’یہ شعبہ ملک میں دستاویز معیشت کے فارمولے پر کام کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی ہرممکن حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق ’ہمیں ابھرتی ہوئی منڈیوں پر توجہ دینا ہو گی، نجکاری سے بہت سے دیگرشعبوں میں ترقی ممکن ہو گی۔

    ’ہمیں اب پائیدار اورشمولیتی ترقی کی جانب بڑھنا ہے۔‘

    وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ ایف بی آرمیں اصلاحات کر رہے ہیں، مصنوعی ذہانت اورڈیجیٹائزیشن پرتوجہ مرکوز ہے۔

    ’پبلک پرائیویٹ سیکٹرمیں روزگارکے مواقع پیدا کرنے ہیں، برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے، زرعی اجناس کی برآمدات ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔‘

  2. جرمنی کے نئے رہنما نے امریکہ پر انحصار ختم کرنے کی بات کیوں کی؟

    جرمنی کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والے فریڈرک مرز جو اب اس ملک کے چانسلر بن جائیں گے نے یورپ کے لیے ایک ’نئے دور‘ کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ جرمنی میں فریڈرک مرز کی قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین نے انتخابات میں واضح سبقت حاصل کر لی ہے۔ اس کامیابی کے باوجود جماعت کو جو امید تھی وہ کامیابی نہ مل سکی۔ اس جماعت کو 30 فیصد سے بھی کم ووٹ ملے ہیں۔

    فریڈرک مرز جن کی اب جرمنی کے چانسلر بننے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔

    فریڈرک مرز نے نیٹو کے مستقبل پر سوال اٹھاتے ہوئے یورپی ممالک سے جلد اپنے مؤثر دفاعی نظام کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

    دو ماہ پہلے تک امریکہ کے ایک قریبی اتحادی کے اس طرح سے بدلتا لہجہ جرمنی کی پالیسی میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی غمازی کرتا ہے۔

    امریکی صدر پہلے ہی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ دوسری عالمی جنگ یعنی 1945 سے یورپ کے دفاع کی ضمانت واپس لے سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان پر یورپی ممالک ششدر رہ گئے۔

    اتوار کی رات کو فریڈرک مرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روایتی حریف روس کی طرح خبر لی۔ انھوں نے کہا کہ اب دو ممالک یورپ کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب یورپ کو ہنگامی فیصلہ کرنا ہوگا۔

    خیال رہے کہ پیر کو فرانسیسی صدر ایمیونوئل میخواں کے دورے کے بعد برطانیہ کے وزیراعظم جعمرات کو واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔

    جرمنی کے نئے رہنما نے جرمنی کو اہم فیصلہ سازی سے دور رکھنے سے متعلق خدشہ ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جرمنی کو اس کا مقام دلائیں گے۔ فرانس اور برطانیہ کے علاوہ جرمنی یورپ کا سب سے با اثر ملک ہے۔

    امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں جہاں یوکرین کو مدعو نہیں کیا گیا وہیں جرمنی کو بھی یہ لگتا ہے کہ اس اہم معاملے پر یورپ کو بھی اہمیت نہیں دی گئی۔

    ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے پرانے دور کی دو ممالک کی سیاست دنیا کا نقشہ واضح کر رہی ہو۔ فریڈرک مرز نے کہا کہ ان کی ترجیح اول جرمنی کو عالمی سطح پر لے کر آنا ہے۔

    امریکہ کے بعد جرمنی یوکرین کو فوجی مدد دینے والا دوسر بڑا ملک ہے۔

  3. حسن نصرااللہ کے بعد حزب اللہ کا مستقبل کیا ہے اور یہ گروہ اب اسرائیل کے خلاف لڑائی میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتا؟

    حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی نماز جنازہ اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی ہلاکت کے تقریباً پانچ ماہ بعد اتوار کو بیروت میں ادا کر دی گئی ہے جس میں حزب اللہ کے ہزاروں حامیوں اور شہریوں نے شرکت کی۔

    ان کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین کی بھی تدفین کی گئی۔ لبنان کے صدر جوزف عون کے نمائندوں اور ملک کے وزیر اعظم نے بھی حزب اللہ کے رہنماؤں کے جنازوں میں شرکت کی۔

    لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ بیروت کے جنوب میں ایک مضافاتی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔ کچھ عرصے بعد حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ اور گروپ کے ڈی فیکٹو سیکنڈ ان کمانڈ، ہاشم صفی الدین، جو حسن نصر اللہ کے بعد متوقع سربراہ تھے وہ بھی اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔

    اسرائیل نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اس گروپ کے موجودہ سیکرٹری جنرل نعیم قاسم کی مدت مختصر رہے گی۔

    حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اتوار کو اپنے خطاب میں کہا کہ ’اس قدر وسیع اور مقبول جنازہ لبنان میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔‘ انھوں نے دسیوں ہزار افراد کی شرکت کو ’قومی اتحاد‘ کی علامت قرار دیا۔

    ایران کے حمایت یافتہ نصر اللہ حزب اللہ کے بانی اراکین میں شامل تھے اور تین دہائیوں تک تنظیم کے سربراہ رہے۔ ان کی ہلاکت اس تنظیم کے لیے ایک زبردست دھچکہ تھی۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حسن نصراللہ کے بعد حزب اللہ کا مستقبل کیا ہوگا۔

    یہ بات تو واضح ہے کہ اس وقت حزب اللہ اسرائیل سے براہ راست لڑائی مول لینے کے حسن نصرااللہ کے فیصلے پر کھڑی نظر نہیں آ رہی ہے۔

    اس گروپ کے موجودہ سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا کہ یہ لبنان کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ ’اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھے‘۔

    تاہم نعیم قاسم نے غزہ پر اسرائیل کے حملے میں مداخلت کے نصر اللہ کے فیصلے کی بھی تعریف کی اور کہا کہ حزب اللہ نے غزہ کی جنگ میں مداخلت کی وجہ یہ تھی کہ اسرائیل کا ’غزہ پر حملہ کرنے کے چار دن بعد لبنان پر حملہ کرنے کا ارادہ تھا، جلد یا بدیر وہ حملہ کر دیتا۔‘

    عوامی سطح پر تدفین کے ذریعے حزب اللہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے

    خبر رساں ادارے رؤٹرز کا کہنا ہے کہ اپنے سابق رہنما کی عوامی سطح پر تدفین کے ذریعے حزب اللہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے کیونکہ گذشتہ سال کی جنگ کے بعد یہ گروہ کمزور ہو چکا ہے۔

    حزب اللہ کے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ عوام میں اس کی مخالفت بھی پائی جاتی ہے۔ لبنان میں بہت سے لوگ 2006 میں اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی ایک ماہ تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ کو اب بھی یاد کرتے ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ یہ گروپ ملک کو ایک اور تنازعے میں دھکیل سکتا ہے۔

    حزب اللہ کے مقاصد میں سے ایک اسرائیل کی تباہی ہے، جو اس گروپ کو حماس سے زیادہ طاقتور دشمن کے طور پر دیکھتا ہے۔ حزب اللہ کے پاس ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جس میں ایسے میزائل شامل ہیں جو اسرائیلی علاقے میں دور تک حملہ کر سکتے ہیں۔ ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو اس کے علاوہ ہیں۔

    حزب اللہ کو بطور ایک ملیشیا قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد لبنان پر حملہ کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف لڑنا تھا۔ اب یہ ایک ایسی عسکری طاقت ہے جو لبنان کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور سیاسی جوڑ توڑ میں بھی حصہ لیتی ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے لبنان میں صحت، تعلیم اور دیگر سوشل سروسز مہیا کی جاتی ہیں۔ ایران علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے۔

    حسن نصراللہ اور حزب اللہ سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے اس خبر پر کلک کریں۔

    حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع گذشتہ برس 8 اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب حزب اللہ نے اسرائیلی مورچوں کو نشانہ بنایا تھا۔

    حزب اللہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ حملے اس نے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بدلے میں اور ’غزہ کی حمایت‘ میں کیے ہیں۔ خیال رہے گذشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا تھا اور اس کارروائی کو ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا نام دیا تھا۔

    اسرائیل کی جانب سے حماس کے حملوں کے جواب میں غزہ میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

    حزب اللہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف محاذ اس وقت تک کھولے رکھے گا جب تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہو جاتی۔

    اس کے علاوہ اس خطے میں ایک عسکری اتحاد بھی کام کر رہا ہے جس میں حزب اللہ، حماس، حوثی جنگجو، اسلامک جہاد اور دیگر عراقی گروہ شامل ہیں اور اس اتحاد کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔

  4. جرمنی کے انتخابات میں قدامت پسند جماعت کی برتری، حکومت سازی کے لیے انتہائی دائیں بازو کی ریکارڈ کامیابی بڑا چیلنج

    جرمنی میں فریڈرک مرز کی قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی نے انتخابات میں واضح سبقت حاصل کر لی ہے۔ اس کامیابی کے باوجود جماعت کو جو امید تھی وہ کامیابی نہ مل سکی۔ اس جماعت کو 30 فیصد سے بھی کم ووٹ ملے ہیں۔

    فریڈرک مرز جن کی اب جرمنی کے چانسلر بننے کی راہ ہموار ہو چکی ہے اس وقت قائد حزب اختلاف ہیں۔

    فریڈرک مرز نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج رات ہمیں جشن منانا چاہیے مگر صبح ہم سب کام پر چلے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ان چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں جن کا انھیں آگے سامنا کرنا ہے۔

    ان انتخابات میں دوسرے نمبر پر اکثریت حاصل کرنے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ یعنی اے ایف ڈی ہے، جسے 20.8 فیصد ووٹ ملے۔

    اس جماعت کی طرف سے چانسلر کی امیدوار ایلس ویڈل نے اپنے حامیوں کی طرف جیت کا نشان بنایا اگرچہ ان کی جماعت کو اس سے کہیں زیادہ ووٹ ملنے کے امکانات تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت اے ایف ڈی کے مرکزی دفتر میں سوگ جیسا ماحول ہے۔

    مشرقی جرمنی میں اے ایف ڈی کو واضح سبقت حاصل ہوئی ہے۔

    ایلس ویڈل نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جرمنی کے عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فریڈرک مرز کی طرف سے اتحاد بنانے کی کوئی بھی کوشش ناکامی پر منتج ہوگی۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’ہم دوبارہ انتخابات کرائیں گے، مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں مزید چار برس انتظار کرنا ہوگا۔‘

    تین سیاسی جماعتوں، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، فری ڈیموکریٹک پارٹی، اور گرینز کے درمیان طے پانے والا یہ اتحاد جرمنی کے اب تک کے بدترین معاشی اور حفاظتی چیلنجز اور آپسی نظریاتی اختلاف کے نتیجے میں ٹوٹ گیا تھا۔

    اولاف شولز نے اپنے لبرل خیال کیے جانے والے وزیر خزانہ اور ایف ڈی پی پارٹی کے کرسچن لنڈنر کو بجٹ پر اختلاف ہونے کی وجہ سے نکال دیا تھا۔

    شولز نے پھر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا مگر وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں 23 فروری کے لیے سنیپ الیکشن کا انعقاد کیا گیا۔

    یہ انتخابات دراصل گذشتہ برس ستمبر میں ہونے تھے مگر اتحادی جماعتوں میں اختلاف کے نتیجے میں ان الیکشن کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ برلِن یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ آبادی پر مشتمل ریاست بھی ہے۔ برلن کے سیاسی اور معاشی معاملات کا اثر پورے یورپی اتحاد پر پڑتا ہے۔

    ان انتخابات سے قبل قدامت پسند فریڈرک مرز نے ووٹرز سے یہ اپیل کی تھی کہ انھیں واضح برتری چاہیے تا کہ وہ ایک پارٹی کے اتحاد سے حکومت بنا سکیں۔ انھوں نے یہ کہا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ چیز اگلے چار برس میں انھیں جرمنی کو درپیش مسائل حل کرنے میں مدد دے گی۔

    ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ 83 فیصد رہا جو کہ 1990 میں دیوار برلن کے انہدام اور منقسم جرمنی کے اتحاد کے بعد سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے۔

    فریڈرک مرز کی جماعت کو اپنی اتحادی جماعت باوارین کے ساتھ مل کر 28.6 فیصد سے کہیں زیادہ ووٹوں کی توقع تھی مگر ایسا ہو نہ سکا۔ فریڈرک مرز نے اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

    جرمنی میں مرکزی دھارے کی جماعتوں کا انتہا پسند جماعتوں سے اتحاد کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

    فریڈرک مرز کے ممکنہ اتحادی سوشل ڈیموکریٹک کو صرف 16.4 فیصد ووٹ حاصل ہو سکے۔

    چانسلر اولف شیلز نے کہا ہے کہ ان انتخابات میں ان کی جماعت کو بدترین شکست ہوئی ہے اور اب وہ اتحادی حکومت بنانے سے متعلق مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    69 برس کے فریڈرک مرز کبھی کسی اہم حکومتی عہدے پر نہیں رہے مگر ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر وہ چانسلر بنے تو پھر وہ یورپ کی قیادت کریں گے اور یوکرین کے لیے بھرپور حمایت حاصل کریں گے۔

    اے ایف ڈی پارٹی کے امریکی ارب پتی ایلون مسک اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی کھلی حمایت دیکھ کر بہت سے جرمن شہری دنگ رہ گئے۔ امریکی نائب صدر پر تو میونخ میں ان کے دورے کے دوران جرمنی کے انتخابات میں مداخلت جیسے الزامات بھی عائد ہوئے۔

    اس سے اے ایف ڈی کو کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ گذشتہ چار برس کے مقابلے میں ایلس ویڈل کی جماعت کو دس پوائٹ زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ ان کی کامیابی کے پیچھے ٹک ٹاک والا عنصر بھی تھا جہاں سے انھیں زیادہ نوجوان ووٹر ملے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فریڈرک مرز پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان انتخابات کے نتائج سے واضح ہو گیا ہے کہ جرمن عوام بھی امریکی عوام کی طرح خصوصاً انرجی اور امیگریشن جیسی غیر واضح پالیسیوں سے تنگ تھے۔

  5. بلوچستان میں مسلح افراد نے رکن اسمبلی کے محافظوں سے اسلحہ چھین لیا، شاہراہ بھی بلاک کی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے بولان میں اتوار کی شب مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے ایک مرتبہ پھر ناکہ لگا کر کوئٹہ اور سبی کے درمیان شاہراہ کو کچھ دیر کے لیے بند کیا۔

    سرکاری حکام کے مطابق مسلح افراد پیپلز پارٹی کے ایک رکن بلوچستان اسمبلی کے محافظوں سے اسلحہ بھی لے گئے جبکہ ان کی مبینہ فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔ مسلح افراد نے بولان کے جس علاقے میں ناکہ بندی کی وہ انتظامی لحاظ سے پولیس کا علاقہ ہے۔

    ضلع کچھی پولیس کے ایس ایس پی رانا محمد دلاور نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد نے بی بی نانی اور پیر غیب کے درمیان شاہراہ کو بند کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اطلاع ملنے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس پر مسلح افراد فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس موقع پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ ہلاک اور زخمی افراد راہگیر تھے۔‘

    زخمی فرد کی لاش اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے مچھ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی کچھی نے بتایا کہ مسلح افراد شاہراہ پر آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں رہے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد وہ پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے۔

    سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں ایف سی اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اہلکار کے مطابق فورسز کی کارروائی میں تین مسلح افراد مارے گئے جبکہ ایف سی کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ تاہم آزاد ذرائع سے تاحال مسلح افراد کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی کے محافظوں سے اسلحہ بھی لے گئے ہیں۔ میر لیاقت لہڑی نے بتایا کہ وہ سبی سے کوئٹہ کی جانب آرہے تھے جہاں مسلح افراد نے بڑی تعداد میں گاڑیوں کو روکا ہوا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے ذاتی محافظوں نے اپنا اسلحہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلحہ حوالے نہیں کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ چونکہ شاہراہ پر سفر کرنے والے عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور ان کے تحفظ کے پیش نظر انھوں نے اپنے محافظوں کو لڑنے کی بجائے اسلحہ حوالے کرنے کو کہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کسی جھڑپ کی صورت میں عام لوگوں کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا اس لیے ان کو کسی نقصان سے بچانے کے لیے اپنے لوگوں کو کہا کہ وہ اسلحہ حوالہ کریں‘۔ اس ناکہ بندی کے حوالے سے جو ویڈیوز سماجی رابطوں کی میڈیا پر گردش کرنے لگیں ان میں شاہراہ پر مسلح افراد دن کی روشنی میں موجود ہیں۔

    ویڈیوز میں مسلح افراد شاہراہ پر چلنے والی گاڑیوں کو روک رہے ہیں جبکہ شاہراہ پر مسافروں کی بڑی تعداد کے علاوہ گاڑیاں بھی موجود ہیں۔ درہ بولان بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مشرق میں واقع ہے۔

    بولان ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے اور اس طویل درہ کے درمیان شاہراہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو بلوچستان کے جنوب مشرقی علاقوں کے علاوہ سندھ سے منسلک کرتی ہے۔ درہ بولان کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثرہ ہیں۔

    اس علاقے میں ماضی میں بھی مسلح افراد کی جانب سے شاہراہ کی ناکہ بندی کے علاوہ سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے علاوہ سنگین بد امنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

  6. برطانوی معمر جوڑا طالبان کے ہاتھوں گرفتار، افغانستان میں 18 برس سے تربیتی منصوبے چلا رہے تھے

    افغانستان میں طالبان نے ستر سال کی عمر کے ایک برطانوی جوڑے کو گرفتار کر لیا ہے۔

    79 سالہ پیٹر رینالڈز اور ان کی 75 سالہ اہلیہ باربی کو یکم فروری کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ بامیان میں واقع اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔

    یہ جوڑا 18 سال سے افغانستان میں تربیتی منصوبے چلا رہا ہے اور ان کی بیٹی سارہ اینٹوسٹل نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے اپنے والدین کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ جوڑے کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے چلائے جانے والے منصوبوں میں ایک ماؤں اور بچوں کے لیے تربیتی منصوبہ ہے۔

    اس منصوبے کو طالبان کی جانب سے خواتین کے کام کرنے اور 12 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے باوجود مقامی حکام نے منظوری دی تھی۔

    اس جوڑے کی ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی تھی اور انھوں نے 1970 میں کابل میں شادی کی تھی۔

    سنہ 2009 سے وہ کابل کے پانچ سکولوں میں تربیتی منصوبے چلا رہے ہیں اور بامیان میں ماؤں اور بچوں کی تربیت کا ایک منصوبہ چلا رہے ہیں۔

    اگرچہ اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد ان کے عملے کے زیادہ تر ارکان نے زیادہ تر مغربی باشندوں کے ساتھ ملک چھوڑ دیا تھا لیکن ان دونوں میاں بیوی نے وہاں رہنے پر اصرار کیا تھا۔

    گرفتاری کے بعد یہ جوڑا ابتدائی طور پر ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اپنے چار بچوں سے رابطے میں رہنے میں کامیاب رہا۔

    انھیں معلوم تھا کہ ان کے والدین کو وزارت داخلہ نے حراست میں رکھا ہوا ہے اور انھیں یقین دلایا گیا تھا کہ وہ ’ٹھیک‘ ہیں۔ تاہم، تین دن بعد میسج آنا بند ہو گئے اس کے بعد سے ان کی کوئی اطلاع نہیں۔

    نارتھمپٹن شائر کے شہر ڈیوینٹری میں رہنے والی اینٹوسٹل نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ان پیغامات کو بند ہوئے دو ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ '

    انھوں نے سنڈے ٹائمز کو بتایا 'ہم چاہتے ہیں کہ طالبان انھیں رہا کر یں تاکہ وہ اپنے گھر واپس چلے جائیں اور اپنا کام جاری رکھیں وہ افغانوں کو ضرورت کی گھڑی میں چھوڑ کر وہاں سے نہیں جا سکتے۔'

    ان کی بیٹی نے ٹائمز کو بتایا کہ 'وہ قوانین کی پاسداری میں محتاط تھے حالانکہ قوانین بدلتے رہتے تھے۔'

    'میری والدہ کی عمر 75 سال اور میرے والد کی عمر تقریبا 80 سال ہے اور انھیں منی سٹروک کے بعد دل کی دوا کی ضرورت ہے۔ وہ صرف اس ملک کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس سے وہ محبت کرتے تھے۔ یہ خیال ہی شرمناک ہے کہ انھیں اس لیے پکڑا ہے کیونکہ وہ بچوں والی ماؤں کو تعلیم دے رہے تھے۔'

    انٹوسٹل اور ان کے تین بہن بھائیوں نے طالبان کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے اپنے والدین کی رہائی کی درخواست کی گئی ہے۔

    انھوں نے لکھا ’ہم ان کی گرفتاری کی وجوہات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انھوں نے آپ پر اعتماد کیا ہے اور کہا ہے کہ افغان شہری کی حیثیت سے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے گا۔‘

    'ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں تبادلے آپ کی حکومت اور مغربی ممالک کے لیے فائدہ مند رہے ہیں۔ تاہم، ہمارے والدین نے مسلسل افغانستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تاوان کے مذاکرات کا حصہ بننے یا تجارت کا حصہ بننے کے بجائے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں گے۔'

    دفتر خارجہ کو معلوم ہے کہ دو برطانوی شہریوں کو افغانستان میں حراست میں لیا گیا ہے۔ لیکن ان کی مدد کے آپشنز اس لیے محدود ہیں کہ برطانیہ طالبان کو تسلیم نہیں کرتا اور کابل میں اس کا کوئی سفارت خانہ نہیں ہے۔

    طالبان کے سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے برطانوی شہریوں کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ صوبہ بامیان میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے۔

    ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ انھیں تقریبا 20 دن پہلے بامیان پولیس ہیڈ کوارٹر یا سرحدی سکیورٹی فورسز کو مطلع کیے بغیر ایک ہوائی جہاز کا استعمال کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

    طالبان نے اعلان کیا تھا کہ 2022 میں خواتین پر این جی اوز کے لیے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور گذشتہ سال دسمبر میں الجزیرہ نے خبر دی تھی کہ حکومت نے کہا تھا کہ وہ خواتین کو ملازمت دینے والی کسی بھی این جی او کو بند کر دے گی۔

  7. یرغمالی ’جہنم کی گہرایئوں سے واپس لوٹے ہیں: اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ

    اسرائیل کے صدر نے یرغمالیوں کی واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں یرغمالیوں کی رہائی کا عمل دیکھ کر سکون ملا ہے۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسرائیلی صدر نے کہا کہ ’وہ جہنم کی گہرائیوں سے واپس لوٹے ہیں۔ ان کے پیاروں نے ان (یرغمالیوں) کی واپسی کے لیے اپنی پوری قوت سے جنگ لڑی اور اب امید ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ساتھ شفا یابی اور بحالی کا عمل بخوشی شروع کر سکیں گے۔‘

    اسرائیلی صدر نے مزید کہا کہ تمام یرغمالیوں کی ’فوری واپسی‘ بہت ضروری ہے۔

    ’ہمیں غزہ کی قید سے تمام یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے آخری حد تک جا کر ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘

  8. اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی ملتوی کر دی، ’یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے‘

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یہ حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    سنیچر کو حماس نے چھ اسرائیلی یرغمالی رہا کیے تھے۔ ان میں چار وہ اسرائیلی بھی تھے جنھیں حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے میں اغوا کر لیا تھا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک دیگر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی ضمانت نہیں دی جاتی اور حماس کی طرف سے ہر ہفتے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی ’توہین آمیز‘ تقریبات کے بغیر انھیں رہا نہیں کیا جاتا تب تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔

    امن معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت حماس کی طرف سے چار ان اسرائیلی مغویوں کی لاشیں واپس کرنے کا عمل باقی رہ گیا ہے جو دوران قید مر گئے تھے۔

    اس معاہدے کے دوسرے مرحلے میں باقی جو زندہ مغوی ہیں ان کی رہائی کے لیے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں لیے گئے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے حماس پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے جیسے الزامات عائد کیے ہیں جس میں ان قیدیوں کا ’مذموم پروپیگنڈے کے لیے استعمال‘ کا الزام بھی شامل ہے۔

    فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے: حماس

    حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کر کے جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کر رہا ہے۔

    فلسطینی میڈیا سینٹر کے مطابق حماس کے ترجمان عبدالطیف کا کہنا تھا کہ ’قابضین کی جانب سے (قیدیوں کے) تبادلے کے عمل کے تحت طے شدہ تاریخ پر قیدیوں کی ساتویں کھیپ کی رہائی میں تاخیر معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

    خیال رہے سنیچر کے روز حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے چھ افراد کو رہا کیا گیا تھا جو کہ اسرائیلی فوج کے مطابق اپنے خاندانوں کے پاس بحفاظت پہنچ گئے ہیں۔

    اس سے قبل فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے امور پر بات کرنے کے لیے قائم کیے گئے میڈیا آفس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مغویوں کی رہائی کے بدلے میں 602 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں طے پایا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید کُل ایک ہزار 900 فلسطینی قیدیوں کو 33 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے میں رہا کیا جائے گا۔

    19 جنوری سے سے اب تک اسرائیل کی جانب سے ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

  9. ٹرمپ سے ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کروں گا: برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم سر کئیر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کریں گے۔

    سنیچر کو صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یوکرین کے لیے برطانیہ کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔

    ٹرمپ کی طرف سے روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور یوکرین میں جنگ بندی کے لیے شروع کیے گئے مذاکرات کے بعد گذشتہ چار دنوں میں یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری بار فون پر بات ہوئی ہے۔

    پیر کو یوکرین میں روس کی طرف سے جاری کی گئی جنگ کے تین برس مکمل ہو جائیں گے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس پر مزید پابندیاں عائد کرے گا۔

    سنیچر کو یوکرین کی حمایت میں مغربی لندن میں روس کے سفارتخانے کی طرف سے تقریباً 2000 لوگوں نے مارچ کیا۔

    ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق کیے جانے والے مذاکرات میں یوکرین کی کلیدی حیثیت ہونی چاہیے۔ انھوں نے روس کی ’غیرقانونی‘ جنگ کے خاتمے کے ذریعے دیرپا امن کی بحالی کے لیے برطانیہ پرعزم ہے۔

    ترجمان کے مطابق اس فون کال پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ یوکرین اور یورپ کی سلامتی کے لیے بہت فیصلہ کن لمحہ ہے۔