کسی بھی امریکی صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ واشنگٹن کے اتحادیوں اور حریفوں کے لیے کچھ پیغامات رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس دورے کو تجارت کے لیے اہم موقع سمجھتے ہیں۔
اپنی پہلی مدت میں، ٹرمپ نے امریکی صدور کی دہائیوں پرانی روایت کو توڑا، جنھوں نے ’پرانے براعظم‘ میں واشنگٹن کے سٹریٹجک مفادات کی روشنی میں اپنے قریبی پڑوسیوں۔۔ کینیڈا، میکسیکو، یا یورپی ممالک سے ابتدائی دورے شروع کرنے کو ترجیح دی۔
وہ امریکہ کے صدر بننے کے بعد مئی 2017 میں اپنے پہلے دورے پر سعودی عرب پہنچے، انھوں نے مشرق وسطیٰ کے اہم اتحادیوں سے ملاقات کی۔
سینکڑوں ارب ڈالر کے معاہدوں کا جشن منایا، اور سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ روایتی ’ارد‘ تلوار کے ساتھ رقص میں حصہ لیا۔
اب ایک بار پھر ٹرمپ نے دوسری بار صدارت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے۔
ٹرمپ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے کو کیوں خاص اہمیت دیتے ہیں؟ کیا ان کا دورہ ان کی دوسری مدت کے دوران ان کی ترجیحات کی وضاحت کرتا ہے؟
خلیجی امور کے ماہر عمانی ماہر تعلیم عبداللہ بابود نے بی بی سی نیوز عربی کو بتایا کہ امریکی صدر خلیجی خطے کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی اثر و رسوخ اور اس کے ممالک کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اس کے اقتصادی اور سیاسی وزن سے آگاہ ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ خطے کا استحکام، تزویراتی محل وقوع اور خلیجی ریاستوں کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات انھیں ’ایک ایسا کردار دیتے ہیں جو ان کے حجم اور صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔‘
جب صدر ٹرمپ نے گذشتہ مارچ میں اس سفر کے لیے اپنے منصوبوں کے بارے میں بتایا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے خلیج کے امیر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو انجام دینے کے لیے خلیج کا دورہ کرنے کو ترجیح دی۔ انھوں نے کہا کہ ان کا پہلے غیرملکی دورے کا انتخاب ’سینکڑوں بلین ڈالرز‘ کے معاہدوں کے وعدوں کے بعد ہو رہا ہے جس سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا۔
عمانی ماہر تعلیم عبداللہ بابود کہتے ہیں کہ ’خلیجی خطے کی سرمایہ کاری، نقد ذخائر اور خودمختار دولت کے فنڈز اسے عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔‘
عمانی محقق کے مطابق امریکی معیشت کو درپیش چیلنجوں کی روشنی میں ٹرمپ کو احساس ہے کہ یہ خطہ ان کی مدد کر سکتا ہے۔
سنہ 2017 میں سعودی عرب کا دورہ کرنے کے بعد، ٹرمپ نے 450 بلین ڈالر سے زیادہ کے معاہدوں پر بہت خوشی کا اظہار کیا تھا جس میں 110 بلین ڈالر کی فوجی فروخت بھی شامل ہے۔
لیکن اس بار ٹرمپ سعودیوں کے ساتھ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے معاہدوں کی امید کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے امریکہ میں 10 سالہ ’سرمایہ کاری کے فریم ورک‘ کا وعدہ کر رکھا ہے، جس کی مالیت 1.4 ٹریلین ڈالر ہے۔
امریکی اور مشرق وسطیٰ کے امور میں ماہر واشنگٹن میں مقیم محقق حسن منیمنہ کے مطابق ٹرمپ اپنے خلیجی دورے سے ’فوری فوائد‘ حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
حسن منیمنہ نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ چین اور دیگر ممالک کے خلاف ٹرمپ کی ’تجارتی جنگ‘ کے تناظر میں انھیں اپنی پالیسیوں کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ معاہدے ہو رہے ہیں۔‘
اس وقت جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کا مستقبل اور ایران کا جوہری پروگرام امریکی خارجہ پالیسی کے سب سے نمایاں مسائل میں سے دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں معاملات میں خلیجی اتحادیوں کا نمایاں کردار ہے۔
اپنی دوسری مدت کے آغاز کے چند دن بعد ٹرمپ نے یہ کہہ کر دنیا کو چونکا دیا کہ امریکہ غزہ کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کے اس منصوبے کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور عرب ممالک نے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے متبادل نقطہ نظر پیش کیا، لیکن امریکہ اور اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا۔
عبداللہ بابود کو توقع ہے کہ ٹرمپ اپنے دورے کے دوران جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے مالی مدد حاصل کریں گے۔
ان کے مطابق حماس سے دیگر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے خلیجی ممالک سے کردار ادا کرنے کے لیے بات کریں گے۔
قطر، جہاں مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ بھی ہے، حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور مغویوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوششوں میں حصہ لے رہا ہے۔
غزہ جنگ سے جڑے علاقائی اثرات کے تناظر میں امریکہ نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی کو کو مزید یقینی بنایا ہے۔
یمن میں حوثی انصار اللہ تحریک کے خلاف شدید فضائی حملے شروع کیے جب حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، اس کا جواز فلسطینیوں کے لیے ان کی حمایت کا ہے۔
ٹرمپ کے دورے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل سلطنت عمان نے واشنگٹن اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی کی ثالثی کی۔
محقق حسن منیمنہ کا خیال ہے کہ امریکی صدر کی خطے میں آمد سے قبل ریاض نے ممکنہ طور پر واشنگٹن سے یمن پر اپنے فضائی حملے بند کرنے کو کہا تھا۔
تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بمباری کر دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ نمٹنے کے دو طریقے ہیں: یا تو عسکری طور پر، یا معاہدہ کر کے۔‘
ٹرمپ نے گزشتہ مارچ میں فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ’معاہدہ کرنے‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے 30 اپریل کو ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو ہوا دے رہی ہے، اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے، اور اپنے دہشت گرد پراکسیوں اور شراکت داروں کی حمایت کر رہی ہے۔‘
تاہم، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران براہ راست جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ سلطنت عمان نے ان کے درمیان تصفیہ تک پہنچنے کے لیے ثالثی کی ہے۔
عالمی سطح پر خلیج کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
سعودی عرب امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ گزشتہ فروری میں ریاض نے یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے طریقوں پر امریکی اور روسی حکام کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی تھی۔
یہ ملاقات، 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔
مارچ میں سعودی عرب نے امریکہ، روس اور یوکرین کے وفود کی بات چیت کے الگ الگ دور کی میزبانی کی۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے بھی کامیاب ثالثی کی۔
عبداللہ بابود کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستوں نے اپنی مالی صلاحیتوں اور تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کے علاوہ علاقائی اور عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اپنے کردار کی بدولت سیاسی اور اقتصادی اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ چین سمیت امریکی حریف اس خطے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اسی لیے واشنگٹن خلیجی رہنماؤں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معمول پر آنے کے مواقع
اپنی پہلی مدت کے دوران، ٹرمپ نے اسرائیل اور چار عرب ممالک، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے درمیان معمول پر آنے والے معاہدوں کی ثالثی کرکے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔
جہاں سوڈان میں جاری جنگ نے اس کے معمول پر لانے کی بات چیت کو متاثر کیا ہے وہیں دیگر تین ممالک مصر اور اردن کے ساتھ مل کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔
سعودی عرب، عرب اور اسلامی دنیا میں نمایاں اثر و رسوخ رکھنے والا ملک، ابھی تک اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔
ایک سینیئر سعودی اہلکار نے گذشتہ سال بی بی سی کو بتایا تھا کہ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرنے سے قبل دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدہ ’آسان‘ تھا۔
ٹرمپ کی طرف سے یہ اشارہ دینے کے بعد کہ ریاض کو کسی معاہدے تک پہنچنے کی شرط کے طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت نہیں ہو سکتی، سعودی عرب نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہوں گے۔‘
مبصرین کا خیال ہے کہ تعلقات معمول پر آنے کا یہ معاملہ اس وقت سعودی عرب کے لیے کسی حد تک حساس ہے۔
عبداللہ بابود کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ جاری رہنے کی وجہ سے سعودی عرب ٹرمپ کے دورے کے دوران اس معاملے پر بات کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔
عبداللہ بابود کو یہ توقع ہے کہ امریکی صدر اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران اسرائیل اور دیگر خلیجی ریاستوں کے درمیان معاہدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ خطے میں ایک بڑی تبدیلی کا عکاس ہوگا اور اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔‘