آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

یحییٰ السنوار کے خلاف مشن پر امریکہ کی اسرائیل کو مبادکباد، ’مزاحمت جاری رہے گی‘ ایران

اسرائیل کے مطابق حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کو اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں ہلاک کر دیا ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے نتن یاہو سے رابطہ کر کے انھیں اس مشن پر مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب اسرائیل یرغمالیوں کی واپسی اور اسرائیل کی سلامتی یقینی بنا سکتا ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ جمعرات کو جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اُن کے پانچ فوجی ہلاک جبکہ نو شدید زخمی ہوئے ہیں۔
  • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کو ’ہولوکاسٹ کے بعد سے اپنے لوگوں کے بد ترین قتلِ عام میں ملوث فرد قرار دیا۔‘
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے غزہ میں ایک کارروائی کے دوران حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کو ہلاک کر دیا ہے، تاہم حماس کی جانب سے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے
  • اسرائیلی فوج کے مطابق یحییٰ السنوار بدھ کے روز ہونے والی کارروائی میں ہلاک ہوئے، اسرائیلی پولیس کے مطابق اُن کی ہلاکت کی تصدیق دانتوں کی جانچ اور فنگر پرنٹس کی مدد سے کی گئی
  • غزہ میں ایک سکول پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 29 فلسطینی ہلاک جبکہ 93 زخمی ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کا ’عمران خان کی قید اور غیر آئینی ترامیم کے خلاف‘ 18 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    پاکستان تحریکِ انصاف نے ’عمران خان کی قید اور غیر آئینی ترامیم کے خلاف‘ 18 اکتوبر بروز جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جماعت کی سیاسی کمیٹی نے دستور میں ترمیم کے حکومتی منصوبے کی بھرپور مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’آئین میں ترمیم اور عمران خان کو بدترین سلوک کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف جمعے کو ملک گیر سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’کمیٹی کی جانب سے سابق وزیراعظم کے ساتھ اڈیالہ میں روا رکھی جانے والی زیادتوں کی شدید مذمت کی گئی‘ عمران خان کے بنیادی حقوق کی اور ان کے اپلِ خانہ، وکلا اور تحریک کے دیگر قائدین تک رسائی کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

    سیاسی کمیٹی نے تمام ریجنل اور مقامی تنظیمات کو ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر نمازِ جمعہ کے بعد پرامن احتجاج کی ہدایت کی ہے۔

  2. بریکنگ, عدالتی اصلاحات کی حد تک اتفاق رائے ہو گیا ہے: مولانا فضل الرحمان

    لاہور میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ان کا حکومتی جماعت ن لیگ اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے عدلیہ میں اصلاحات کی حد تک اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے واضح کیا کہ ’پارلیمنٹ کی بالادستی جن ترامیم سے متاثر ہوں گی ایسی ترامیم کے قائل نہیں ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ آج تحریک انصاف کی قیادت سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جائیں گے۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ جاتی امرا پہنچے تھے جہاں ان سیاسی رہنماؤں کے درمیان مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم پر مشاوت کی گئی۔

    مجوزہ آئینی ترمیم پر مشاورت کے لیے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی کے مشاورتی اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اٹارنی جنرل منصور عثمان بھی اجلاس میں شریک تھے۔

    لاہور میں مولانا فضل الرحمٰن اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مشاورت کے بعد اتفاق رائے کی طرف بڑھتے جارہے ہیں، مناسب وقت پر آئینی ترمیم کو دونوں ایوانوں سے منظور کروالیں گے، کل جو اتفاق رائے دو جماعتوں میں تھا وہ آج تین جماعتوں کے درمیان ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو دوپہر ڈیڑھ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس اجلاس میں آئینی ترمیم سے متعلق بھی منظوری لی جائے گی یا نہیں۔ تاہم اس مشاورتی اجلاس سے قبل ہی آئینی ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس بھی جمعرات کو ساڑھے 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے۔

    اسحٰق ڈار نے کہا کہ جوڈیشل ریفارمز پر تینوں جماعتوں کا اتفاق ہو چکا ہے، کچھ نکات پر مزید مشاورت ہوگی، ایک دو روز میں پیش رفت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ فوجداری قوانین میں ترامیم کے ذریعے انصاف کے حصول کو جلد ممکن بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کو از خود نوٹسز اور آئینی مقدمات سے آزاد کروا کر عوام کے مقدمات پر توجہ مرکوز کروانا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’یہ تاریخی کامیابی ہے کہ ہم اتفاق رائے کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ مناسب وقت پر اس ترمیمی مسودے کو دونوں ایوانوں سے پاس کروائیں گے۔‘

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انتہائی حوصلہ افزا اجلاس رہا ہے۔‘ ان کے مطابق ’ایسی ترامیم لائی جائیں جو ہر شعبے میں اصلاحات کا سبب بنیں۔ تمام اداروں کو اپنے فرائض تک محدود رکھا جائے۔ آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ اس وجہ سے ابتدائی مسودے کو مسترد کیا تھا۔ آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مشاورت کے بعد اتفاق رائے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما اور وکیل سلمان اکرم راجہ نے بدھ کو جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن آئینی ترمیم کے مسودے پر سیاسی جماعتوں کو اس جگہ پر لے آئے ہیں جو تحریک انصاف چاہتی تھی۔

  3. شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کا راکٹ حملہ، دو افراد زخمی

    بدھ کے روز حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے شمالی اسرائیل کے علاقے کارمائیل پر راکٹ داغے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان سے اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے والے 30 میزائلوں کا سراغ لگایا ہے اور ان میں سے زیادہ تر کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

    اسرائیل کی ایمرجینسی سروس کا کہنا ہے کہ پیرا میڈکس نے گلیل کے علاقے میں چھروں سے متاثر ہونے والے دو افراد کا طبی امداد فراہم کی ہے۔

    دوسری جانب آئی ڈی ایف نے اپنے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز اسرائیل پر 90 راکٹ داغے گئے۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 90 میزائل داخل ہوئے ہیں۔

  4. ’غزہ کے ہسپتال تباہی کے دہانے پر پہنچ چُکے ہیں‘

    غزہ میں جبالیہ کے العودہ ہسپتال کے قائم مقام ڈائریکٹر محمد صالح کا کہنا ہے کہ ان کا ہسپتال ہلاکتوں سے ہر وقت ہی بھرا رہتا ہے کیونکہ اسرائیل کی جانب سے جبالیہ پر زمینی کے ساتھ ساتھ فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    انھوں نے متنبہ کیا کہ مقامی پناہ گزین کیمپ پر حملے صحت کے نظام کو ’تباہی کے دہانے‘ پر پہنچا چُکے ہیں۔

    محمد صالح نے فلسطینی پریس ایجنسی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ہسپتال میں مریضوں اور طبی عملے کے لیے خوراک کی کمی کے علاوہ ادویات، طبی سامان اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے باعث آپریشن تھیٹرز میں شدید مُشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    جبالیہ میں اسرائیل کے حالیہ حملے کے باوجود کمال اڈوان، العودہ اور انڈونیشیا کے ہسپتالوں کے بہت سے ڈاکٹروں نے اپنے مریضوں کی دیکھ بھال کو ترک کرنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم کمال ادواں ہسپتال میں کام کرنے والے اُن 300 سے زائد طبی عملے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں مگر اس سب کے باوجود اُن کے پاس ایک وقت کا کھانا بھی نہیں۔‘

    تاہم اس کے برعکس اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جبالیہ میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اس سے قبل آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں اور فضائی حملوں میں 50 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

  5. غزہ کے لوگوں کے لیے اپنی ہی سرزمین پر اب کوئی محفوظ مقام نہیں: ریڈ کراس

    ایک جانب تو لبنان کے متعدد مقامات پر اسرائیل افواج کے حملوں میں متعدد افراد کی ہلاکت ہوئی ہے، تاہم دوسری جانب اسرائیل کی غزہ میں جاری کارروائیوں کی وجہ سے حالات انتہائی حد تک خطرناک شکل اختیار کر چُکے ہیں۔

    حماس کے زیر انتظام غزہ میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 65 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کی صورتحال ’تباہ کن ہے۔‘ جہاں اسرائیلی فضائی حملوں کے مسلسل خطرے کا مطلب ہے کہ فلسطینیوں کے لیے پناہ کے لیے ’کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔‘

    غزہ میں ریڈ کراس کے ترجمان نیبل فرسخ نے بی بی سی کو بتایا کہ امداد کی فراہمی میں تاخیر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو ہفتوں میں پہلی امداد پیر کے روز متاثرہ علاقوں میں پہنچی۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ امداد کی ترسیل میں یہ تاخیر غزہ کے لوگوں کی تکالیف اور مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔

    اُن کے مطابق ’بچوں اور خواتین پر حملے ہو رہے ہیں، جن میں بہت سے اپنی جانیں گنوا چُکے ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’بہت سے زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے تاہم امدادی سامان کی متاثرہ علاقوں میں رسد پر پابندی کی وجہ سے اُن کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

  6. جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہی کے مناظر

    جنوبی لبنان کہ چند اہم شہروں میں سے ایک ٹائر کے قریب قنا پر اسرائیلی حملوں کے بعد کے مناظر، جہاں امدادی اداروں کے کارکن ملبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  7. لبنانی شہر نباتیح پر اسرائیلی فوج کا حملہ، ہلاک ہونے والے چھ افراد میں شہر کے میئر بھی شامل

    لبنان کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کی صبح نباتیح شہر پر اسرائیلی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی کو مقامی افراد کی جانب سے بتایا کہ جنوبی لبنان کے شہر نباتیح پر اسرائیلی حملوں میں آج ہلاک ہونے والے پانچ افراد میں شہر کے میئر بھی شامل ہیں۔

    ایک عینی شاہد نے اس صورت حال کو ’خوفناک دہشت گردی‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔ عینی شاہد کے مطابق صرف 30 منٹ کے وقفے سے شہر پر نو حملے کیے گئے اور متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

    شہر کے ایک مقامی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک فضائی حملہ نباتیح کی میونسپلٹی کی عمارت کو نشانہ بنایا جہاں میئر شہر میں درپیش مسائل اور انسانی بحران کے پیدا ہونے اور اس پر قابو پانے سے متعلق کرائسز سیل میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شریک تھے۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کی جانب سے نباتیح پر اسرائیلی فضائی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

  8. ایس سی او کا مشترکہ اعلامیہ جاری: اختلافات کو مذکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی 23ویں سربراہی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شامل رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت نے تنظیم کے پاکستان میں ہونے والے اجلاس کے تعمیری اور دوستانہ ماحول میں کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ایس سی او کی رپورٹ اور سنہ 2025 کے بجٹ کی منظوری دی گئی، ایس سی او رکن ممالک کے سربراہان حکومت کا اگلا اجلاس 2025 میں روس میں ہو گا۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برابری، باہمی فائدے اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں، طاقت کے استعمال کی دھمکی نہ دینے کے اصول عالمی تعلقات کی پائیدار ترقی کے لیے بنیاد ہیں، عالمی اتحاد برائے منصفانہ امن، ہم آہنگی اور ترقی کے لیے یو این جنرل اسمبلی سے قرارداد کی منظوری کی تجویز کو فروغ دیں گے۔

    ایس سی او کے اعلامیے کے مطابق عوام کو سیاسی، سماجی اور معاشی ترقی کے راستے کے آزادانہ اور جمہوری طور پر انتخاب کا حق حاصل ہے، ریاستوں کی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا باہمی احترام پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔ مزید یہ کہ ممالک کے درمیان اختلافات و تنازعات بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    ایس سی او کے اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاست، سلامتی، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے، بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹیں، سرمایہ کاری کے تسلسل میں کمی غیریقینی صورتِ حال کا باعث بن رہی ہے، سپلائی چینز میں مُشکلات عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتِ حال کا باعث بن رہی ہیں، تجارتی اقدامات کو بہتر بنانے اور مُشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔

    اجلاس میں زرعی تعاون کے فروغ کے پروگرام کی منظوری اور زرعی تجارت میں اضافہ ضروری قرار دیا گیا جبکہ عالمی غذائی تحفظ، غذائیت میں بہتری اور تحقیقاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق تعلیم، ثقافت، سیاحت اور کھیل میں تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔ دوسری جانب نوجوانوں کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی میں مزید کام کرنے اور اُن کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے کے پروگرامز کی ترجیح پر زور دیا گیا۔

    اجلاس میں عالمی دُنیا کا مقابلہ کرنے اور مصنوعی ذہانت کے لیے نئے تحقیقاتی منصوبوں پر کام کرنے پر زور دیا گیا۔

    ایس سی او کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ یک طرفہ پابندیوں کا نفاذ بین الاقوامی قانون کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا، یک طرفہ پابندیوں کے نفاذ کا تیسرے ممالک اور عالمی اقتصادی تعلقات پر منفی اثر پڑتا ہے۔

    روس، تاجکستان، ازبکستان، بیلا روس، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان نے چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ اقدام کی حمایت کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سربراہان نے قومی صنعتی پالیسی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تجربات کے تبادلے، پروڈکشن ٹیکنالوجی، آئی ٹی سلوشن کے اقدامات پر عملدرآمد کے تجربات کی تجاویز کا جائزہ لینے پر بھی زور دیا۔

    ایس سی او اجلاس میں ایس سی او کی معاشی اور تنظیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور کئی فیصلے کیے گئے۔ سربراہان نے ملٹی لیٹرل ٹریڈ، معاشی تعاون سے متعلق رپورٹ کی منظوری دی۔ انفارمیشن سیکورٹی کی فیلڈ میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا اور شرکا نے معاشی ترجیحات، تجارتی تعاون کے فروغ کیلیے اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایات دیں۔

    اجلاس میں شریک ممبر ممالک کے سربراہان نے ایس سی او کے کامیاب اجلاس پر پاکستان کو خراج تحسین اور مبارکباد پیش کی اور اگلا ایس سی او سربراہی اجلاس 2025 میں روس میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ شرکا نے تنظیم کی 25-2024 کی سربراہی چین کو دیے جانے کی حمایت کی۔

  9. دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے ساتھ تجارت نہیں ہو سکتی، انڈین وزیر خارجہ کا ایس سی او اجلاس سے خطاب

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 23واں اجلاس کے تیسرے روز انڈیا کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جے شنکر کی تقریر کے دوران پاکستان میں ٹی وی چینلز پر آڈیو تو سنائی نہیں دی تاہم ایکس پر شئیر کیے گئے اپنے بیان میں انھوں نے انڈیا کے بیانیے کے چند نکات شئیر کیے ہیں۔

    ڈاکٹر جے شکر کا کہنا ہے کہ ہم مشکل وقت میں مل رہے ہیں جب دنیا میں دو بڑے تنازعات جاری ہیں اور کووڈ جیسی وبا نے ترقی یافتہ ممالک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ شدید موسمی حالات، سپلائی چین کی غیر یقینی صورتِ حال اور مالیاتی عدم استحکام ترقی کی راہ میں حائل ہیں اور قرض کا بوجھ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آج کی تیزی سے بدلتی ہنگامہ خیز دنیا میں شنگھائی تعاون تنظیم کو اس قابل ہونا چاہیے کہ ہمیں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے۔

    جے شنکر کا کہنا ہے کہ اس کا جواب ہماری تنظیم کے چارٹر میں موجود ہے۔ ایس سی اور کا مقصد باہمی اعتماد، دوستی اور اچھی ہمسائیگی کو مضبوط بنانا ہے۔ جے شنکر کا کہنا ہے چارٹرمیں چیلنجز واضح ہیں اور وہ تین ہیں: دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں ہمیں ایماندارانہ گفتگو کی ضرورت ہے، اگر اعتماد کی کمی ہے یا تعاون ناکافی ہے، اگر دوستی میں کمی ہے اور اچھی ہمسائیگی کہیں ناپید ہو چکی ہے تو یقیناً خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

    انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کا کہنا ہے کہ اگر سرحد پار دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسی سرگرمیاں جاری رہیں گی تو ایسے ماحول میں تجارت، توانائی اور باہمی رابطے کا فروغ ناممکن ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عالمگیریت اور ری بیلینسنگ ایسی حقیقتیں ہیں جن سے فرار ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایس سی او ممالک کو اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    جے شنکر کا کہنا ہے کہ ہمارے بیچ تعاون، باہمی احترام اور خود مختاری کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے، یہ تعاون حقیقی شراکت داری پر مبنی ہو نہ کہ یک طرفہ ایجنڈوں پر۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم تجارت اور ٹرانزٹ کے متعلق اپنی اپنی مرضی کے فیصلے لیں گے تو ایس سی او ترقی نہیں کر سکتی۔

    جے شنکر کا کہنا ہے کہ صنعتی تعاون سے مسابقت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

  10. پائیدار ترقی کے لیے علاقائی تعاون اور روابط کا فروغ ضروری ہے، مل کر شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں: شہباز شریف

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کا 23واں اجلاس جاری ہے ۔

    تیسرے روز اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے علاقائی تعاون اور روابط کا فروغ ضروری ہے اور آج کا اجلاس علاقائی تعاون بڑھانے کا اہم موقع فراہم کر رہا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا انعقاد ہمارے لیے اعزاز ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایس سی او ممالک دنیا کی آبادی کا 40 فیصد ہیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب گذشتہ برس پاکستان نے اس فورم کی صدارت سنبھالی تو ہم نے علاقائی امن، استحکام، بہتر رابطے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اصول ایس سی او کی ترقی اور ہمارے اجتماعی وژن کی پیشرفت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے لوگوں کو بہتر معیارِ زندگی اور سہولتیں فراہم کرنی ہیں اور معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر آگے بڑھنا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو کے نتائج خطے کے عوام کے لیے دورس ہوں گے اور ہم مل کر اپنے شہریوں معیار زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

  11. لاہور میں نجی کالج کی طالبہ کے مبینہ ریپ کے دعوے اور احتجاج: اب تک کیا حقائق سامنے آئے ہیں؟, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو

    پاکستان کے شہر لاہور میں ایک نجی کالج کی طالبہ کے مبینہ ریپ کی خبر گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شروع ہونے والا طلبا کا احتجاج، حکومت پنجاب کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کے بعد بھی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا اور منگل کو بھی لاہور شہر میں مختلف کالجوں کے طلبا و طالبات نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس مبینہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

  12. جے شنکر کی پاکستان آمد مگر دوطرفہ بات چیت سے گریز: آخر انڈیا پاکستان سے بات کرنا کیوں نہیں چاہتا؟, روحان احمد، بی بی سی اردو

    انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر انڈین شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو اسلام آباد پہنچے۔ گذشتہ تقریباً ایک عشرے میں یہ کسی بھی انڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ پاکستان ہے اور توقع تھی کہ شاید اس دورے کے سبب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری میں کمی واقع ہو گی تاہم پاکستان آمد سے قبل ہی جے شنکر نے کہہ دیا کہ ’میں وہاں انڈیا، پاکستان تعلقات پر بات چیت کرنے نہیں جا رہا بلکہ ایس سی او کے اچھے رکن کے طور پر جا رہا ہوں۔‘

  13. امریکہ کا اسرائیل کو غزہ میں امداد کی رسائی بڑھانے کے لیے 30 دن کا وقت بصورت دیگر فوجی امداد میں کمی کا خدشہ

    امریکہ نے اسرائیل کو لکھے گئے خط میں اسے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی بڑھانے کے لیے 30 دن کی مہلت دی ہے بصورتِ دیگر اسے ملنے والی امریکی فوجی امداد میں کمی کا خدشہ ہے۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ اتوار کو بھیجا جانے والا یہ خط امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادی کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ بڑا انتباہ ہے اور یہ خط ایک ایسے وقت میں بھیجا گیا ہے جب شمالی غزہ میں اسرائیل کے نئے حملے جاری ہیں جن میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

    خط میں امریکہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ ماہ شمالی غزہ سے جنوبی علاقے کی جانب جانے والی 90 فیصد انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالی یا تاخیر کے اسباب بنائے اور یہ کہ امریکہ کو غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔

    ایک اسرائیلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیل اس خط کا جائزہ لے رہا ہے اور ان کا ملک اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتا ہے اور امریکہ کی جانب سے ٌظاہر کیے گئے خدشات دور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ شمال میں انسانی امداد کے داخلے میں رکاوٹ نہیں ڈال رہا بلکہ حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    پیر کے روز غزہ کراسنگ کے انتظام کے ذمہ دار اسرائیلی فوجی ادارے کوگٹ نے کہا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی امداد لے جانے والی 30 گاڑیاں ایریز کراسنگ کے ذریعے شمالی غزہ میں داخل ہوئیں ہیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق دو ہفتے بعد یہ امداد شمالی غزہ میں داخل ہو پائی ہے اور وہاں مقیم چار لاکھ فلسطینیوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا ختم ہو رہی ہیں۔

    امریکہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اسرائیلی فوج نے گذشتہ ایک سال کے دوران غزہ میں حماس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ طیاروں، گائیڈڈ بموں، میزائلوں اور گولوں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔

  14. ’پیپلز پارٹی سے نئی آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق ہو گیا‘ مولانا فضل الرحمن کا آج نواز شریف سے ملاقات کا عندیہ

    گذشتہ رات جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کا آئینی ترمیم کے مسودے پر پاکستان پیپلز پارٹی سے اتفاق ہو گیا ہے اور اب ہماری کوشش ہو گی کہ حکومتی جماعت سمیت دیگر جماعتیں بھی ہم سے متفق ہو جائیں گی۔

    کراچی میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ملک کا مفاد ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ اس بل پر ایسا اتفاق رائے پیدا کیا جائے جس سے یہ آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور ہو، آئینی ترمیم پر اتفاق تک پہنچنے کے لیے بلاول بھٹو نے بڑا کردار ادا کیا ہے جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں جب بھی کامیاب آئین سازی ہوئی ہے اس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کل ہمیں رائیونڈ میں کھانے کی دعوت دی گئی ہے، ہماری کوشش ہوگی آج جو اتفاق رائے ہوا ہے وہ کل مسلم لیگ ن، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی تینوں جماعتوں کے درمیان ہو جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی خواہش ہے کہ تمام جماعتوں کے درمیان آئینی ترمیم سے متعلق اتفاق رائے پیدا ہو اور اگر یہ ہوتا ہے تو یہ ہمارے ملک کے حق میں بہتر ہوگا، ہم سب کا آئینی ترمیم کا مقصد عوامی مسائل کا حل نکالنا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ انھیں امید ہے اسمبلی سے پاس ہونے والا آخری بل اتفاق رائے سے منظور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کل نواز شریف کے مزید اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئینی ترمیم سے متعلق انھوں نے پہلے مسودے کو مسترد کیا تھا اور وہ اب بھی اسے مسترد کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جو تجاویز جے یو آئی نے مرتب کی ہیں ان پر بات چیت ہوئی ہے، پیپلز پارٹی نے بھی ہمارے تجویز سے ملتا جلتا مسودہ تیار کیا ہے اور آج اتفاق رائے سے اس فرق کو بھی کم کردیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ مسلم لیگ ن سے بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ اس آئین کو محفوظ رکھیں گے اور ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا وہ پہلے بھی پاکستان، ملک کے آئین کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی نےکہا کہ جو تجاویز انھوں نے پی ٹی آئی کے سامنے پیش کی تھیں، آج اتفاق رائے میں طے کی گئی تجاویز اس سے مختلف نہیں ہیں، وہ پی ٹی آئی کے سامنے یہ چیزیں رکھیں گے اور انھیں امید ہے کہ آئینی ترمیم پر پورے ایوان کا اتفاق رائے ہوگا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی آئینی ترمیم میں دلچسپی لینا چاہتی ہے تو وہ بھی چاہیں گے مولانا فضل الرحمٰن ان کو قائل کریں۔

  15. ڈاکٹرز کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

    گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ڈاکٹرز کی ٹیم کی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے لکھا ہے کہ ’آج شام تقریباً چار بجے ایک ای این ٹی اور ایک میڈیکل سپیشلسٹ پر مبنی دو ڈاکٹرز کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر 15 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کر اعلان کر رکھا تھا۔

    تاہم عمران خان تک رسائی دینے کے حوالے سے ’حکومت کی یقین دہانی پر‘ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    تحریکِ انصاف کا مطالبہ رہا ہے کہ عمران خان کی اُن کے وکلا، ڈاکٹرز، اہلِخانہ اور پارٹی قائدین تک رسائی بحال کی جائے۔

    بیرسٹر گوہر نے ڈاکٹرز کی ٹیم کی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ ’ہمیں کچھ دیر پہلے اطلاع ملی تھی کہ الحمدللہ خان صاحب خیریت سے ہیں اور آج ایک گھنٹہ ورزش کر چکے ہیں۔ ہم جلد ہی ان سے میڈیکل رپورٹس حاصل کریں گے جس کو شیئر کیا جائے گا۔‘

    اس کے کچھ دیر بعد انھوں نے ایکس پر سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹ بھی شئیر کی جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم مکمل طور پر صحت مند ہیں، انھیں بخار نہیں اور ان کا بلڈ پریشر بھی نارمل ہے۔

    میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے پانچ روز قبل سانس کی تکلیف کی شکایت کی تھی اور وہ پہلے سے ہی پی پی آئیز پر ہیں۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو کان میں شور سنائی دینے کے مسائل کئی ماہ سے ہیں جن کی وہ پہلے سے ادویات لے رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کان کے حوالے سے کوئی تازہ شکایات نہیں ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان تندرست اور توانا ہیں اور ان کو مزید دوائی کی ضرورت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز پی ٹی آئی نے آج اسلام آباد میں ہونے والا اپنا احتجاج موخر کرنے کا فیصلہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد کیا تھا۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے ہم سے باضابطہ رابطہ کر کے یقین دہانی کروائی ہے۔

    ویڈیو پیغام میںبیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ منگل کو پمز ہسپتال کے ڈاکٹر اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کا معائنہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور سیاسی کمیٹی نے ’متفقہ طور پر اس بات کو قبول کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ایس سی او کا اجلاس ہونے جا رہا ہے اور ’ہمارے اتحادیوں نے احتجاج کی کال موخر کرنے کی درخواست کی تھی۔‘

    اس سے قبل انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ شیئر کرے گی۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات تھے جس کی بنا پر 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال دی گئی تھی۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    پاکستان کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا 23 واں سربراہی اجلاس جاری ہے جس میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے وزرائے اعظم شرکت کر رہے ہیں۔

    لبنان کے شمالی علاقے میں اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ یہ حملہ مسیحی اکثریتی علاقے ایطو میں ہوا جہاں اسرائیلی فضائیہ نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

    اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ان کے امن دستے اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیل کی جانب سے بارہا اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ اپنی امن افواج سے کہیں کہ وہ جنگ زدہ علاقوں سے دور رہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے پیر کو جنوبی لبنان اور غزہ میں 230 سے ​​زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ پر ’بغیر رحم کھائے‘ حملے جاری رکھے گا اور اس میں دارالحکومت بیروت کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بائیڈن انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایران میں ایک محدود فوجی کارروائی میں اُن کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسداران انقلاب کے آپریشن کمانڈر عباس نیلفروشن کی نمازجنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اسرائیل پر مغربی کنارے اور لبنان میں ’تشدد‘ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس کی آڑ میں اپنے پہلے سے تیار کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔

  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان سے لے کر مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔