لائیو, اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے لیے متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو نامزد کرنا ’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کا حصہ ہے: ایران کا الزام
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اماراتی سفارتکار لانا نسیبہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سربراہی کے لیے اپنی امیدواری کے ذریعے مبینہ طور پر ’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ تین روز قبل متحدہ عرب امارات نے لانا نسیبہ کو موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے جانشین کے طور پر اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔
خلاصہ
ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے: انٹیلی جنس چیف کا انتباہ
اسرائیل میں الیکشن کے دوران مغربی کنارے کے تمام زمینی سرحدی راستے بند رہیں گے: اسرائیلی فوج
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: سعودی فوجی اتحاد
اسرائیل نے انتخابات سے قبل مغربی کنارے کی گزرگاہیں بند کر دیں، ہیبرون میں فوجی کارروائی جاری
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج نے منگل کو ہونے والے انتخابات کے موقع پر مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام زمینی گزرگاہیں بند کرنے اور فلسطینی کارکنوں کی نقل و حرکت پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فوج کے مطابق بیشتر فلسطینی کارکنوں کو اتوار سے اسرائیلی بستیوں اور صنعتی علاقوں میں داخلے سے روک دیا جائے گا، جبکہ چند محدود استثنا برقرار رہیں گے۔
یہ اقدامات جمعے کو دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد شروع کیے گئے وسیع سکیورٹی آپریشن کا حصہ ہیں۔ حملے میں دو فلسطینی مسلح افراد بھی مارے گئے تھے۔
اسی دوران مغربی کنارے کے بڑے شہر ہیبرون میں اسرائیلی فوج کی کارروائی جاری ہے۔ مقامی حکام کے مطابق تقریباً 2,200 فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد گھروں اور تجارتی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ہیبرون کے میئر یوسف الجعبری نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ہنگامی امدادی اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم بیشتر افراد نے رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں پناہ لی ہے۔
مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں نقل و حمل پر پابندیوں اور کاروباری سرگرمیوں کی معطلی سے وسیع معاشی نقصان کا خدشہ ہے، جبکہ تعلیمی اداروں نے بھی عارضی طور پر آن لائن تعلیم اختیار کر لی ہے۔
یہ پیش رفت اسرائیل میں انتخابات سے چند روز قبل سامنے آئی ہے، جب تل ابیب میں ہزاروں افراد نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔
دوحہ کا ثالثی وفد تہران پہنچ گیا، قطری میڈیا کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دوحہ سے ایک وفد آج تہران پہنچا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ یہ دورہ ایران اور قطر کے درمیان معمول کے سفارتی روابط اور تبادلوں کا حصہ ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز اور قطری اخبار نیو عرب بھی اسی نوعیت کی اطلاعات شائع کر چکے تھے۔ تاہم ایران اور قطر کے حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ منصب کے لیے متحدہ عرب امارات کے امیدوار پر ایران کے اعتراضات
،تصویر کا ذریعہIRNA/Reuters
،تصویر کا کیپشنتین روز قبل متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر وزارتِ خارجہ میں سیاسی امور کی انڈر سیکریٹری لانا نسیبہ کو موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے جانشین کے طور پر نامزد کیا
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے متحدہ عرب امارات کی سفارتکار لانا نسیبہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل بننے کی کوشش کے ذریعے مبینہ طور پر ’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر انگریزی زبان میں جاری ایک پیغام میں باقر قالیباف نے لانا نسیبہ کی امیدواری کو ’اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ ترین منصب پر قبضہ کرنے کی کوشش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کے لیے سفارتی راہ ہموار کرنا اور ایک منظم نسل کشی پر پردہ ڈالنا ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ان کے پیشہ ورانہ ریکارڈ میں غزہ کی تباہی کا دفاع کرنے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے لومڑی مرغیوں کے باڑے کی نگہبان بننے کے لیے درخواست دے رہی ہو۔‘
باقر قالیباف کی پوسٹ کے ساتھ 2024 کی ایک خبر کا سکرین شاٹ بھی شامل تھا، جس میں لانا نسیبہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات کا دفاع کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
تین روز قبل متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر وزارتِ خارجہ میں سیاسی امور کی انڈر سیکریٹری لانا نسیبہ کو موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے جانشین کے طور پر نامزد کیا تھا۔
48 سالہ لانا نسیبہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقوامِ متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل مندوب رہ چکی ہیں۔ وہ اپنے ملک کی سلامتی کونسل کی رکنیت کے دوران دو مرتبہ کونسل کی صدر بھی رہیں۔
این سی سی آئی اے کا چائلڈ پورنوگرافی نیٹ ورک بے نقاب کرنے اور سکردو سے مبینہ گینگ لیڈر گرفتار کرنے کا دعویٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے چائلڈ پورنوگرافی میں مبینہ طور پر ملوث ایک ’بین الاقوامی نیٹ ورک‘ کو بے نقاب کرنے اور اس کے مبینہ گینگ لیڈر کو سکردو سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
این سی سی آئی اے اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کے دوران یہ سامنے آیا کہ ایک شخص اپنے کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے فروخت کرنے میں ملوث تھا۔
انھوں نے کہا کہ سورس رپورٹ اور بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے یہ معلومات موصول ہوئی تھیں کہ ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز کرپٹو کرنسی کے ذریعے فروخت کی جا رہی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
شعیب خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ مبینہ طور پر ایک والد اپنے چار سے پانچ سال عمر کے بچوں کی نازیبا ویڈیوز خود بنا کر فروخت کر رہا تھا۔
ان کے بقول قابلِ اعتماد اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے سکردو سے تعلق رکھنے والے مبینہ گینگ لیڈر کو گرفتار کر لیا۔
’ڈیجیٹل شواہد برآمد‘
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم کے قبضے سے حاصل کیے گئے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کی ابتدائی جانچ کے دوران بچوں کی نازیبا ویڈیوز، جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز اور کرپٹو کرنسی لین دین سے متعلق شواہد ملے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے بھی اہم روابط اور شواہد سامنے آئے ہیں۔
ادارے کے مطابق برآمد شدہ ڈیجیٹل آلات کو مزید فرانزک تجزیے کے لیے سیل کر دیا گیا ہے جبکہ نیٹ ورک سے مبینہ طور پر منسلک دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
کراچی میں مبینہ ہراسانی کے مقدمے میں گرفتاری
اسی پریس کانفرنس میں این سی سی آئی اے نے کراچی کی ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے مقدمے میں بھی کارروائی کی تفصیلات فراہم کیں۔
ادارے کے مطابق متاثرہ لڑکی ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کے بعد ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
شعیب خان نے کہا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم گذشتہ دو سے تین برس کے دوران متاثرہ لڑکی کو مسلسل ہراساں اور بلیک میل کرتا رہا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ این سی سی آئی اے نے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد 13 گھنٹوں کے اندر مرکزی ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا۔
مزید تفتیش جاری
این سی سی آئی اے کے مطابق دونوں مقدمات میں ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان کا کہنا تھا کہ ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے اور خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف "زیرو ٹالرنس" پالیسی کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
شعیب خان کے مطابق سوشل میڈیا پر نازیبا مواد اپ لوڈ کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ایسے عناصر قانون سے نہیں بچ سکیں گے۔
ایرانی فوج کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: ایرانی میڈیا کے مطابق ڈرون بندر عباس میں گرایا گیا ہے
ایران کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس کے اوپر ایک امریکی لوکاس ڈرون کو مار گرایا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ڈرون کو ایران کے فضائی دفاعی نظام کے تحت کام کرنے والے فضائی دفاعی یونٹ نے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا یا اس ڈرون کا مشن کیا تھا۔
فوج سے وابستہ دیفا پریس نیوز ایجنسی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون بندر عباس کے اوپر گرایا گیا۔ تاہم مہر نیوز ایجنسی نے فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایک لوکاس ڈرون 25 اکتوبر کی صبح جاسک کے علاقے میں مار گرایا گیا۔ دونوں شہر صوبہ ہرمزگان میں واقع ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دسمبر 2025 میں اعلان کیا تھا کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کا پہلا یک طرفہ حملہ آور ڈرون سکواڈرن قائم کیا ہے، جو لوکاس ڈرونز سے لیس ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لوکاس ڈرون کو ایران کے شاہد ڈرونز کی طرز پر تیار کیا گیا ہے اور اس کی فی یونٹ لاگت تقریباً 35,000 ڈالر ہے۔
اس کی تیز رفتار تعیناتی یوکرین میں ڈرون جنگ سے حاصل کیے گئے تجربات اور کم لاگت والے، قابلِ استعمال ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے پینٹاگون کی کوششوں کا حصہ تھی۔
ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے: انٹیلی جنس چیف کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جے کلیٹن نے ایک میمو میں خبردار کیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں ’نمایاں اضافہ‘ کیا ہے۔
بی بی سی نیوز نے امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جے کلیٹن کی جانب سے لکھا گیا میمو دیکھا ہے۔
کلیٹن کی جانب سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمۂ خارجہ خطے میں اپنے سفارتی مشنز کے عملے کے حوالے سے تبدیلیاں کر رہا ہے، جن میں اس ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے عملے کے اراکین کو ملک چھوڑنے کا حکم دینا بھی شامل ہے۔
یہ فیصلہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
کلیٹن کا یہ میمو جمعے کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھی بھیجا گیا تھا۔
اس میمو میں میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی شہریوں کے خلاف ایرانی منصوبہ بندی کی مہلک کوششیں مشرقِ وسطیٰ اور بعض دیگر ممالک میں عملدر آمد کے مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔‘
کلیٹن نے کہا کہ وہ انٹیلی جنس معلومات کو زیادہ سے زیادہ حد تک غیر خفیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ روبیو انھیں امریکی محکمۂ خارجہ کے اہلکاروں کے ساتھ شیئر کر سکیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ’جب ہمارے سفارت خانوں کے عملے کی بات آتی ہے تو ہم سکیورٹی ماحول سے متعلق نئی معلومات کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’حوثیوں کے حملوں کے خطرات اور امریکی حکام کو نشانہ بنانے کی ایرانی دہشت گردانہ سازشوں کے خدشات خطے میں محدود آپریشنل حیثیت رکھنے والے سفارت خانوں کے عملے سے متعلق ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔‘
سعودی حکام کے مطابق اکتوبر کے آغاز سے اب تک سعودی ہوائی اڈوں پر حوثی حملوں میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے تھے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر ان کے حملے، ان کے بقول، ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سعودی پابندیوں اور صنعاء ہوائی اڈے پر ہونے والے فضائی حملے کے جواب میں کیے جا رہے ہیں، جس کا ذمہ دار وہ سعودی عرب کو ٹھہراتے ہیں۔
اسرائیل میں الیکشن کے دوران مغربی کنارے کے تمام زمینی سرحدی راستے بند رہیں گے: اسرائیلی فوج
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات کے دوران مغربی کنارے کے تمام زمینی سرحدی راستے بند رہیں گے اور فلسطینی کارکنوں کو تمام اسرائیلی بستیوں میں داخلے سے بھی روکا جائے گا۔
یہ پابندیاں مقبوضہ مغربی کنارے میں سکیورٹی کریک ڈاؤن کے دوران عائد کی گئی ہیں، جہاں فلسطینی مسلح افراد کے ایک حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے اعلان کیا کہ منگل کے روز "یہودیہ و سامریہ اور وادیِ اردن میں فلسطینی کارکنوں کے داخلے اور خروج پر پابندی عائد رہے گی، جس میں صنعتی زون بھی شامل ہیں، جبکہ تمام زمینی گزرگاہیں بند رہیں گی۔‘
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ اتوار سے بیشتر فلسطینی کارکنوں کو اسرائیلی بستیوں میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہوگی، البتہ صنعتی زونز اور چند محدود علاقوں کے لیے استثنا دیا جائے گا۔
حماس کی قیادت میں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے سے قبل ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی کارکنوں کو اسرائیل میں داخلے کی اجازت تھی، تاہم اس کے بعد ان میں سے صرف ایک محدود تعداد کے ورک پرمٹ بحال کیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعے کے روز ایک بڑی سکیورٹی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان اس واقعے کے بعد کیا گیا جس میں دو فلسطینی حملہ آوروں نے ایک چیک پوسٹ پر حملے کے دوران دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے میں تین دیگر اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے جبکہ دونوں حملہ آور بھی مارے گئے۔
اسرائیلی فوج الخلیل (ہیبرون) شہر میں گھروں اور کاروباری عمارتوں کو مسمار کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 2,000 رہائشی بے گھر ہوئے ہیں۔ آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز کے مطابق کم از کم ایک پوری گلی مکمل طور پر تباہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
اتوار کو اسرائیلی فوج کی جانب سے کارکنوں کے داخلے اور خروج پر پابندیوں کے اعلان سے پہلے ہی فوج نے شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا، جس کے باعث وہاں کے تقریباً 2 لاکھ رہائشیوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی تھی۔
اسرائیلی فورسز کی جانب سے مغربی کنارے میں ایسے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنا ایک عام عمل ہے، جن پر اسرائیلیوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔ تاہم اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پالیسی کو اجتماعی سزا قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جمعے کو حملہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جا رہی تھی اور اسرائیل میں منگل کو انتخابات ہونے والے تھے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل i24 کو ہفتے کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی، جو مقبوضہ علاقے کے بعض حصوں کا انتظام چلاتی ہے، کے لیے ’بہت بڑا سرپرائز‘ دینے کی دھمکی دی۔
اس معاملے پر الخلیل (ہیبرون) کے میئر یوسف الجعبری نے کہا کہ یہ کارروائی ’انتخابات کے محرکات کے تحت‘ کی جا رہی ہے اور نیتن یاہو اور ان کے وزرا انتہائی دائیں بازو اور آبادکار ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: سعودی فوجی اتحاد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن کے حوثی گروہ کے خلاف لڑنے والے سعودی فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے 10 بیلسٹک میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے 10 بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔‘
حوثیوں کی جانب سے ریاض پر داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا: سعودی فوجی اتحاد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا گیا ہے۔
ترجمان نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’فضائی دفاعی نظام نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو راستے میں روک کر تباہ کر دیا۔‘
فوجی اتحاد کے ترجمان کے بیان سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے اطلاع دی تھی کہ ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب مقامی رہائشیوں کو ’فضائی خطرے‘ سے متعلق انتباہی پیغامات موصول ہوئے تھے، جن میں انھیں محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
علاقائی سالمیت کے خلاف جارحانہ اقدام کا ’ناقابل تصور جواب‘ دیں گے: قالیباف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایران پر ایک اور ممکنہ فوجی حملے سے متعلق امریکی سینیئر حکام کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ’ایران کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا ہم ناقابلِ تصور جواب دیں گے۔‘
ملک کے اعلیٰ مذاکرات کار نے یہ بات اتوار کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل اپنے خطاب میں کہی۔
بریکنگ, امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی مکمل طور پر بند ہونا ضروری ہے: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ تنازع شروع ہونے کے امکان سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب تمام محاذوں پر لڑائی مکمل طور پر بند ہو۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بات ’کمال خرازی دستاویزی مرکز اور میوزیم‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات میں یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
کمال خرازی ایران کے سابق وزیر خارجہ اور ملک کے سابق رہبر کے بین الاقوامی امور کے مشیر تھے۔ وہ امریکہ کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد وفات پا گئے تھے۔
عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں ’جنگ کے ترجمانوں کی معاندانہ سرگوشیوں‘ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایرانی میزائلوں نے زمین پر موجود درجنوں امریکی لڑاکا طیارے تباہ کر دیے۔‘
عراقچی کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان کا دوبارہ اظہار کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’شاید مجھے یہ کام مکمل کرنا پڑے، یا شاید وہ راضی ہو جائیں۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ انھیں ابھی نتیجے کے بارے میں یقین نہیں ہے۔
بریکنگ, ایرانی فوج کا بندر عباس کی فضائی حدود میں امریکی ’لوکاس‘ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہFarsnews
،تصویر کا کیپشنبعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان ڈرونز کا ڈیزائن ایران کے اسی نوعیت کے ایک ڈرون کی ٹیکنالوجی سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایک امریکی ’لوکاس‘ ڈرون کو روک کر مار گرایا ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق اس ڈرون کو بندر عباس کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دسمبر سنہ 2015 میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے پہلے یک طرفہ حملہ آور، یعنی خودکش ڈرونز کے سکواڈرن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان ڈرونز کا ڈیزائن ایران کے اسی نوعیت کے ایک ڈرون کی ٹیکنالوجی سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔
عراق کے کردستان ریجن میں کوملہ کے اڈے پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ڈرون حملے کی اطلاعات
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے عراق کے کردستان ریجن میں ایرانی حکومت کی مخالف کرد جماعت کوملہ کے ایک اڈے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں ادارے مہر کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے گذشتہ رات بالیسان کے علاقے میں کوملہ کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو ’پیشگی اقدامات‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں سے اس گروہ کی عسکری صلاحیتوں کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔
ایران کی کردستان ورکرز پارٹی کے پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے، دو نومبر کو اعلان کیا تھا کہ عراق کے کردستان ریجن اور ایران کی سرحد کے قریب واقع گروہ کے ایک اڈے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
کوملہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے اہلکار علی رنجبر کے مطابق حملہ رات تقریباً 10 بجے ہوا اور ڈرون حاجی عمران سرحدی گزرگاہ کی جانب سے علاقے میں داخل ہوا۔
عراق کا نیم خودمختار کردستان ریجن ایرانی کرد جماعتوں کے کیمپوں اور اڈوں کی میزبانی کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان تمام جماعتوں کو غیر مسلح کر دیا گیا ہے۔
ایرانی حکومت ان گروہوں پر الزام عائد کرتی ہے کہ انھیں اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔
گذشتہ روز بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاسدارانِ انقلاب نے کرد مسلح تنظیم پجاک کے مسلح ونگ کو نشانہ بنایا ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاسدارانِ انقلاب اور پجاک کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔
گندم کی قیمت میں گذشتہ برس کے مقابلے 36 فیصد اضافہ، حکومت کا رسد بڑھانے کا حکم, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی حکومت نے گندم اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گندم کی فراہمی بڑھانے سمیت ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایت آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد دی گئی ہے۔ پاکستان ادارۂ شماریات کے مطابق گذشتہ سال اکتوبر کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں ہفتے آٹے کی قیمت میں 36.49 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی اوسط قیمت 2,976 روپے ہو گئی ہے، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ قیمت 2,180 روپے تھی۔ گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی آٹے کی قیمت ایک فیصد بڑھی ہے۔
اس وقت کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3,412 روپے، اسلام آباد میں 3,333 روپے اور لاہور میں زیادہ سے زیادہ 3,133 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں اشیائے ضروریہ کے ذخائر، قیمتوں اور فراہمی کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کے ذخائر ضرورت کے مطابق موجود ہیں۔ مقامی اور درآمد شدہ گندم اگلی فصل آنے تک ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
اس کے باوجود اسحاق ڈار نے گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے گندم کی فراہمی بڑھانے سمیت ضروری اقدامات کیے جائیں۔
دو ہفتے بعد ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں بحال، حوثیوں کی دوبارہ حملوں کی دھمکی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ اتوار 25 اکتوبر سے اس کے دونوں ٹرمینلز سے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق، ٹرمینل ون اندرونِ ملک پروازوں جبکہ ٹرمینل ٹو سعودی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص ہو گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ اتوار کی صبح ریاض ایئرپورٹ سے ایک طیارہ جدہ کے لیے روانہ ہوا۔
اکتوبر میں یمن کے حوثی جنگجوؤں کے حملوں کے باعث ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا تھا۔ حوثیوں نے 10 اکتوبر کو ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
پروازیں بحال کرنے کے اعلان کے باوجود حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایئرلائنز، ایئرپورٹ کے عملے اور مسافروں کو ایک بار پھر ریاض ایئرپورٹ استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایئرپورٹ بدستور ’غیر محفوظ‘ ہے اور ’فوجی ہدف‘ ہے، جبکہ اس پر حوثیوں کے حملے جاری رہیں گے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح قومی ہنگامی نظام کے ذریعے ریاض کے رہائشیوں کو ’ممکنہ خطرے‘ سے آگاہ کرنے کے لیے انتباہ جاری کیا گیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
’اوباما انتہائی نااہل صدر تھے:‘ ٹرمپ کی ایران پالیسی اور سابق امریکی صدر پر کڑی تنقید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشندائیں جانب سابق امریکی صدر براک اوباما اور بائیں جانب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کی تنقید کا سخت الفاظ میں جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ ’اوباما نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کو اربوں ڈالر دیے اور اس کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔‘
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’اوباما انتہائی نااہل صدر تھے۔ انھوں نے ایران کو اربوں ڈالر دیے اور اس ملک کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔‘
امریکی صدر نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں ہیلری کلنٹن اور سنہ 2024 کے انتخاب میں کملا ہیرس کی حمایت کرنے پر بھی اوباما کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دونوں امیدواروں کو شکست ہوئی تھی۔
اس کے بعد ٹرمپ نے ریاست مشیگن سے امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل الصیّد پر زبانی حملہ کرتے ہوئے انھیں ’اخوان المسلمون سے وابستہ جہادی‘ اور ’جعلی ڈاکٹر‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ عبدل الصیّد یہودیوں، سیاہ فام افراد اور امریکیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ انھوں نے مشیگن کے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو ووٹ دیں۔
عبدالصیّد اس سے قبل اخوان المسلمون سے تعلقات کے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ براک اوباما نے سنیچر کو اپنی انتخابی مہم سے متعلق تقاریر میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، بشمول ایران کے ساتھ جنگ، پر تنقید کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے نے ایک بھی میزائل داغے بغیر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا تھا۔
بریکنگ, ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں، سعودی عرب کا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اتوار 25 اکتوبر کی صبح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ریاض میں اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق دھماکوں سے قبل شہر کے رہائشیوں کو موبائل فون پر ’فضائی خطرے‘ سے متعلق انتباہی پیغامات موصول ہوئے، جن میں انھیں محفوظ مقام پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ ریاض میں سنے جانے والے دھماکے میزائل کو روکنے کے نتیجے میں ہوئے یا نہیں۔ کسی ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثی جنگجوؤں نے حالیہ دنوں میں سعودی ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ یہ حملے جاری رکھیں گے۔
حوثیوں کی سعودی ایئرپورٹس اور تیل تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ کو ’فوجی ہدف‘ قرار دے دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ نے ایک مرتبہ پھر سے ایئرلائنز، ایئرپورٹ کے ملازمین اور مسافروں کو سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انصار اللہ کے ترجمان نے اتوار کی صبح کہا کہ ایئرپورٹ محفوظ نہیں اور بدستور ’فوجی ہدف‘ ہے۔ اس سے قبل ایئرپورٹ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ رواں ماہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملے رکنے کے بعد اتوار، 25 اکتوبر سے پروازیں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے سنیچر کی شام بتایا تھا کہ اتوار سے پہلا ٹرمینل اندرونِ ملک پروازوں جبکہ دوسرا ٹرمینل قومی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص ہو گا۔
یہ اعلان حوثی گروپ کی جانب سے سنیچر کو سعودی عرب میں ایئرپورٹس، تیل کی تنصیبات اور ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد سامنے آیا۔ گروپ نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے مرکز عدن میں بھی مختلف مقامات پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعدن ائیرپورٹ
عدن اور سعودی تنصیبات پر حملے
سنیچر کو اس سے قبل حوثی جنگجوؤں نے عدن میں النصر کیمپ اور ایک بحری اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا۔
انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان حملوں میں دونوں مقامات پر موجود سعودی فوجی دستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول، سعودی افسران ان دستوں کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سات کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق، ان کارروائیوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دو مرحلوں میں، دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، نجران ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں میں ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب، رابغ آئل ریفائنری، خام تیل پمپ کرنے والے اسٹیشنز اور سعودی عرب کے مشرقی حصے سے مغربی حصے تک جانے والی تیل کی پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ہیبرون میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں، فلسطینی خاندان بے گھر، مکانات اور کاروباری مراکز مسمار
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے مکانات اور کاروباری مراکز مسمار کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی حکام کے مطابق سینکڑوں فلسطینی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
آن لائن شیئر کی گئی ویڈیوز میں اسرائیلی بلڈوزروں سے ہونے والی تباہی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں کم از کم ایک پوری گلی ملبے کا ڈھیر دکھائی دیتی ہے۔ فوج نے شہر کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے، جس کے باعث وہاں کے دو لاکھ رہائشیوں کی نقل و حرکت بری طرح محدود ہو گئی ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعے کو ان کارروائیوں کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام ایک چوکی پر حملے کے بعد کیا گیا، جس میں دو فلسطینی مسلح افراد نے دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔
نیتن یاہو نے کہا تھا کہ حملے کے مقام کے آس پاس موجود عمارتوں اور دونوں حملہ آوروں کے آبائی محلوں کو ’تباہ‘ کر دیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق ان کارروائیوں کے باعث تقریباً دو ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ کارروائیوں کا مرکز عین دیر بہا اور فرش الہوا کے محلے ہیں، جہاں مکانات، کاروباری مراکز، صنعتی مقامات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ درجنوں خاندانوں کو رات کھلے آسمان تلے گزارنا پڑی، جبکہ بعض لوگوں کو اپنی گاڑیاں چھوڑ کر گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ مسمار کیے جانے والے گھروں پر سپرے پینٹ سے نشانات بھی لگائے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیلی وزیرِ دفاع کے مطابق فوج تقریباً 0.35 مربع کلومیٹر شہری علاقے سے مجموعی طور پر ڈھائی ہزار افراد کو بے گھر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم شہر کے گورنر اور نائب میئر کا کہنا ہے کہ کم از کم 200 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر اسرائیلی فوج نے فوری جواب نہیں دیا۔ تاہم اس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں اس کے اہداف کی تعداد درجنوں میں ہے اور کارروائیاں کئی روز تک جاری رہیں گی۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ان فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنا عام ہے جن پر اسرائیلیوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پالیسی کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے تنقید کرتی رہی ہیں۔
نیتن یاہو نے ان کارروائیوں کا موازنہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے شمال میں واقع پناہ گزین کیمپوں میں اسرائیلی فوج کی سابقہ کارروائیوں سے کیا، جہاں 2025 میں فوج نے سینکڑوں مکانات مسمار اور دسیوں ہزار افراد کو بے گھر کیا تھا۔
چین کے دورے کے بعد کم جونگ اُن کا دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے پر زور
،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن چین کا مختصر دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
دورے کے دوران انھوں نے سرحدی شہر ڈانڈونگ میں کوریائی جنگ کی یادگار کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کو ملانے والے نئے کھولے گئے پل کو عبور کیا۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ اُن نے کہا کہ ان کے ملک کے عوام کوریائی جنگ کے دوران چینی عوام کے شانہ بشانہ لڑنے کے شاندار برسوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ انھوں نے جنگ میں شمالی کوریا کی مدد کرنے والے چینی شہریوں کے لیے اظہارِ تشکر کا جذبہ آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے پر بھی زور دیا۔
کئی برس کی تاخیر کے بعد نئے پل کا کھلنا چین اور شمالی کوریا کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعلقات بڑھانے کی کوششوں کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ماہ خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ شمالی کوریا نے گذشتہ دو برس کے دوران روس کے ساتھ بھی فوجی تعلقات مضبوط کیے ہیں اور ماسکو و بیجنگ دونوں کے ساتھ روابط میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
کم جونگ اُن نے ستمبر 2025 میں بیجنگ میں فوجی پریڈ میں شرکت کی تھی، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے رواں سال جون میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا۔
کوریائی جنگ 1953 میں جنگ بندی کے معاہدے پر ختم ہوئی تھی، تاہم دونوں کوریاؤں نے امن معاہدے پر دستخط نہیں کیے، اس لیے تکنیکی طور پر وہ اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنچین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ کے شہر ڈانڈونگ کا عمومی منظر، جہاں چین اور شمالی کوریا کو ملانے والا نیا سرحدی پل دکھائی دے رہا ہے۔