انڈیا کے شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہونے کا منظر چونکا دینے والا ہے۔ حادثے کے چند گھنٹے بعد بھی جائے حادثہ پر عمارتوں کے کھنڈرات سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویروں میں گلی میں پڑے ایک جلے ہوئے بیڈ کا فریم دکھایا گیا ہے۔
بی بی سی کی ٹیم جب جائے وقوعہ پر پہنچنی تو دیکھا کہ ہر کوئی بھاگ کر زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
فائر فائٹرز کو جلی ہوئی زمین پراپنا راستہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اپنے آگ بجانے والے آلات کے ساتھ وہ اس جگہ پر پڑے سلگتے ہوئے ملبے کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہر طرف ایمبولینسیں موجود ہیں جبکہ سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں۔
ان جگہوں کے قریب وہ لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں جن کے رشتہ دار لندن جا رہے تھے۔
لندن جانے والا یہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر جمعرات کی سہ پہر مقامی وقت کے مطابق ٹیک آف کے فوراً بعد نیچے گر گیا۔
اس جہاز میں 242 افراد سوار تھے- اس طیارے پر انڈین شہریوں کے علاوہ برطانوی، اور کچھ پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری سوار تھے۔
مغربی انڈین شہر میں لوگوں نے پہلے ایک دھماکے کی آواز سنی پھر آسمان میں سیاہ دھواں اُڑتے دیکھا۔
احمد آباد کے ایک رہائشی نے انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’میں گھر پر تھا جب ہم نے ایک بڑی زوردار آواز سنی۔‘
ان کے مطابق ’جب ہم یہ دیکھنے باہر گئے کہ کیا ہوا ہے تو ہوا میں دھوئیں کی ایک تہہ تھی، جب ہم یہاں پہنچے تو تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ اور لاشیں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔‘
طیارہ ایئرپورٹ سے کچھ فاصلے پر سول ہسپتال کے قریب ڈاکٹرز کے ہاسٹل پر گرا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ جہاں پر یہ طیارہ گراہ ہے وہاں اندر کتنے لوگ موجود تھے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق،لوگوں کو ’خود کو بچانے کے لیے‘ تیسرے منزل سے چھلانگ لگاتے دیکھا گیا۔
نامعلوم رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’طیارہ آگ کی لپیٹ میں تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے لوگوں کو عمارت سے باہر نکالنے میں مدد کی اور زخمیوں کو ہسپتال بھیج دیا۔‘
رمیلا نے انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ اس کا بیٹا جو ابھی دوپہر کے کھانے کے لیے ہاسٹل واپس آیا تھا چھلانگ لگانے والوں میں شامل تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ انھیں چوٹیں آئیں لیکن وہ محفوظ ہے۔
باہر لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ فائر سروس میں مقامی کمیونٹی کے رضاکاروں نے شرکت کی۔
تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ لوگوں کو سٹریچر پر لے جایا جا رہا ہے اور ایمبولینس میں رکھا جا رہا ہے۔
ہجوم میں وہ لوگ بھی تھے جن کے خاندان کے افراد فلائٹ میں سوار تھے۔
پونم پٹیل، جو احمد آباد کے سول ہسپتال میں ہیں نے اے این آئی کو بتایا کہ ان کی بھابھی لندن جانے والی فلائٹ میں تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’روانگی سے ایک گھنٹے کے اندر جب مجھے خبر ملی کہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس لیے میں یہاں آئی۔‘