آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، شہریوں کے انخلا کی کوششیں تیز

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملتان کے علاقے جلالپور پیروالا میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جہاں شہریوں کے انخلا کے لیے ہیلی کاپٹر سمیت تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نو ستمبر کو گڈو بیراج پر سیلابی پانی اپنے عروج پر ہو گا جس کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خلاصہ

  • پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج، چناب اور رودکوہیوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
  • وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 'ہم آٹھ لاکھ کیوسک کے ریلے کے حساب سے تیاری کررہے ہیں، سیلاب متاثرین کی امداد ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔'
  • اب تک اس سیلاب سے 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی صورتحال کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 56 ہے
  • ادھر یوکرین کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ کے دوران روسی حملوں میں پہلی بار یوکرینی حکومت کی مرکزی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. حالیہ سیلاب میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 50 تک جا پہنچی: پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 50 تک جا پہنچی ہے۔

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے سیلاب میں نقصانات کی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق دریائے راوی ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث 41 سو سے زائد موضع جات متاثر ہوئے۔

    یاد رہے کہ پی ڈی ایم اے نے سنیچر کی صبح آگاہ کیا تھا کہ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی آ رہی ہے اور دیارئے ستلج سے بھی پانی اب پنجند کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے پاکستان کے سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ صوبوں یعنی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں چھ سے نو ستمبر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔

    سیلاب کی رپورٹ میں مزید کیا بتایا گیا

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے اعلامیے کے مطابق دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 42 لاکھ 25 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق سیلاب میں پھنس جانے والے 20 لاکھ 14 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اورہ ریلیف سرگرمیوں میں 15 لاکھ 11 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعے کے روز پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سیلابی صورتحال سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 20 لاکھ افراد کی بروقت نقل مکانی کی گئی۔

    اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بجلی کے متاثرہ نظام میں سے 80 فیصد کو بحال کیا جا چکا ہے جبکہ متاثرہ پُلوں و شاہراہوں کو روابط کی بحالی کے لیے مرمت کرکے ٹریفک کے لیے کھولا جا چکا ہے۔

  2. اگلی بار سکور چھ صفر نہیں بلکہ ساٹھ صفر ہو گا: ایئر وائس مارشل شہریار خان

    پاکستانی فضائیہ کے ایئر وائس مارشل شہریار خان نے کہا ہے کہ آپریشن بنیان المرصوص نے چھ ستمبر کی یاد تازہ کی ہے، اگلی بار سکور اگلی بار سکور 0-6 نہیں بلکہ اللہ کی مدد سے ساٹھ صفر (0-60) ہو گا۔

    ایئر وائس مارشل شہریار خان نے یہ بات سنیچر کی صبح کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کے دوران اپنے خطاب کے دوران کہی۔

    یاد رہے کہ آج ملک بھر میں یوم دفاع قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے اور اس حوالے سے آج دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت سے 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں سے 21، 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوا۔

    ایئر وائس مارشل شہریار خان کا تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ’دفاع وطن کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہیں گے ہمارے دشمنوں کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی، آئندہ بھی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینے کےلیے تیار ہیں۔ چھ ستمبر اس دن کی یاد دلاتا ہے، جب مسلح افواج نے قوم کی حمایت سے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا تھا۔‘

    ایئر وائس مارشل نے بتایا کہ قدرتی آفات اور ریسکیو آپریشن کے دوران بھی پاک فضائیہ پیش پیش رہی۔ پاکستان کے ہر شہر اور ہر محاذ پر دفاع ہماری ذمہ داری ہے، پاک فضائیہ ہمہ وقت دفاع وطن کے لیے تیار رہتی ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی فضائی حدود کا دفاع پاک فضائیہ کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔‘

  3. حماس نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی ویڈیو جاری کردی

    حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں غزہ شہر میں دو اسرائیلی یرغمالیوں کو زندہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس ویڈیو کلپ میں حماس کی قید میں موجود ایک اسرائیلی یرغمالی گائے گلبوا تباہ شدہ عمارتوں سے گزر رہے ہیں اور وہ عبرانی زبان میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے غزہ میں فوجی کارروائی بند کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

    اطلاعات ہیں کہ یہ ویڈیوز 28 اگست کی ہے۔

    اس ویڈیو کلپ میں اسرائیلی مغوی حماس کی قید میں موجود دوسری مغوی سے ملاقات سے قبل اسرائیلیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مضبوط رہیں۔

    اپنی پہلی ویڈیو میں وہ التجا کر رہے تھے کہ انھیں حماس کی قید سے آزاد کروایا جائے۔

    نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہاسرائیلی وزیر اعظم نے یرغمالیوں کے اہل خانہ سے بات کی اور کہا کہ حماس کو تباہ کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ’کوئی بھی پروپیگینڈا ویڈیو ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔‘

    ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ان یرغمالیوں کے اہلخانہ نے جمعے کو یروشلم اور تل ابیب میں مظاہرے کیے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

  4. پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی، پنجند پر ’اونچے درجے‘ کا سیلاب

    پاکستان کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں دریائے چناب میں چنیوٹ اور دریائے ستلج میں پنجند پر اونچے درجے کا سیلاب ہے تاہم صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے چناب میں چنیوٹ پل کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ چار لاکھ پانچ ہزار کیوسک سے زیادہ ہے اور تریموں ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ چار لاکھ بارہ ہزار کیوسک ہے۔

    دریائے چناب پر قادر آباد ہیڈ ورکس پر ایک لاکھ 84 ہزار اور خانکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 60 ہزار کیوسک ہے۔ حکام کا کہنا ہے دونوں ہیڈورکس پر پانی کے بہاؤ میں کمی آ رہی ہے۔

    دوسری جانب دریائے روای میں شاہدرہ اور بلوکی اور سدہانی ہیڈوکس پر پانی کا بہاؤ اب تک ایک سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک کی سطح پر برقرار ہے۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس سے تین لاکھ تین ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جبکہ پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ بڑھ ہے۔

    اس وقت پنجند ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ تین لاکھ چھ ہزار کیوسک ہے۔

    پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ 12 سے 14 گھنٹوں ے دوران پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے لیکن بارش کا یہ سپیل بہت تیز نہیں ہو گا۔

    ادارے کے سربراہ عرفان علی کاٹھیا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گذشتہ 22 گھنٹوں کے دوران کسی بھی دریا میں سیلاب سے متعلق کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ پنچاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی آ رہی ہے اور دیارئے ستلج سے بھی پانی اب پنجند کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ پنجند پر سے اس وقت تین لاکھ کیوسک پانی گزر رہا ہے جو بڑھ کر چھ لاکھ تک جائے گا اور ایک دن کے بعد پانی دریائے سندھ پر قائم گدو بیراج پہنچے گا۔

  5. یوکرین میں مغربی افواج کی تعیناتی کی تجویز مسترد، غیر ملکی افواج جائز ہدف ہوں گی: پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں سکیورٹی کے لیے مغربی افواج کی تعیناتی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یوکرین میں اگر غیر ملکی افواج کو تعینات کیا گیا تو انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔

    صدر پوتن کا یہ بیان فرانس کے دارالحکومت پیرس میں یوکرین کے معاملے پر ہونے والے سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آیا جس کا مقصد یوکرین کی سلامتی کی لیے پیش کی گئی تجاویز کو حتمیٰ شکل دینا تھا۔

    فرانس کے صدر نے کہا تھا کہ یوکرین کے 26 اتحادیوں نے جنگ بند کروانے کے بعد سکیورٹی فراہمی کے لیے فوجی تعینات کرنے کا باضابطہ رضامندی ظاہر کی ہے

    ادھر روس کے صدر پوتن نے اتحادیوں کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ یوکرین میں تعینات ہونے والی افواج کو نشانہ بنانا روسی افواج کا ’جائز ہدف ہو گا۔

  6. ’سکیورٹی خدشات‘ پر کوئٹہ سمیت بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں ایک مرتبہ پھر موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی۔

    کوئٹہ میں جمعہ کی شام چھ بجے کے بعد سے انٹرنیٹ سروس معطل ہونا شروع ہوئی۔

    سرکاری حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے سبب موبائل فون انٹرنیٹ سروس چھ ستمبررات نو بجے تک معطل رہے گی ۔ موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس سے قبل سکیورٹی خدشات کے باعث بلوچستان بھرمیں موبائل فون سروس 6 اگست سے 31 اگست تک معطل کی گئی تھی۔ جس کے بعد ہائیکورٹ نے صوبے میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم دیا تھا

    بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر طویل عرصے تک موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش سے طلبا کے علاوہ آن لائن کاروبار کرنے والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

  7. ڈیوڈ لیمی کو برطانیہ کا نیا نائب وزیرِ اعظم اور شبانہ محمود کو سیکریٹری داخلہ مقرر کردیا گیا

    برطانیہ کی نائب وزیرِ اعظم اینجلا رینر کے مستعفی ہونے کے بعد وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے ڈیوڈ لیمی کو ملک کا نیا نائب وزیرِ اعظم مقرر کر دیا ہے۔

    اس سے قبل ڈیوڈ لیمی برطانوی سیکریٹری خارجہ کا منصب سنبھالے ہوئے تھے۔ تاہم اب وہ نائب وزیرِ اعظم کے منصب کے ساتھ ساتھ سیکریٹری انصاف کا عہدہ بھی سنبھالیں گے۔

    خیال رہے اینجلا رینر نے کچھ گھنٹوں قبل مشرقی سسیکس میں خریدے جانے والے فلیٹ کی مد میں مطلوبہ ٹیکس نہ دینے پر استعفیٰ دیا تھا۔

    برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنی کابینہ میں مزید تبدیلیاں بھی کی ہیں جس کے بعد یویٹ کوپر کو سیکریٹری خارجہ اور شبانہ محمود کو سیکریٹری داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔

    شبانہ محمود کون ہیں؟

    کابینہ میں موجودہ تبدیلیوں سے قبل شبانہ محمود سیکریٹری انصاف تھیں۔ وہ سنہ 2010 سے برمنگھم لیڈیوڈ سے رُکن پارلیمنٹ منتخب ہو رہی ہیں۔ ماضی میں وہ شیڈو کابینہ میں بھی متعدد عہدوں پر فائر رہی ہیں۔

    شبانہ برمنگھم میں ہی پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے ابتدائی تعلیم بھی اسی علاقے میں واقع ایک سکول میں حاصل کی ہے۔

    بطور سیکریٹری انصاف اپنے وقت میں انھیں جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور عدالت میں زیرِ التوا مقدمات بڑھنے جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

    انھوں نے بطور سیکریٹری انصاف امیگریشن اور پناہ گزینوں کے معاملے پر کھل کر نہ صرف اپنا مؤقف بیان کیا تھا بلکہ اصرار کیا تھا کہ انسانی حقوق کے قوانین کو جرائم پیشہ افراد کو ملک بدر کرنے سے روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

    بی بی سی کی پولیٹیکل رپورٹر جینیفر مککیرنن کے مطابق شبانہ محمود کی بطور سیکریٹری داخلہ تقرری یہ ثابت کرتی ہے کہ برطانوی حکومت غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام کو اپنی اوّلین ترجیح سمجھتی ہیں۔

  8. انڈیا سے ’اونچے درجے کے سیلاب‘ کی وارننگ کے بعد دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع میں ہائی الرٹ جاری

    پنجاب میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹری جنرل عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ بارش کے نئے سلسلے کے سبب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو آپریشن اور ضلعی انتظامیہ کے کاموں میں خلل پڑ سکتا ہے۔

    جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے انھیں آج ایک اور مقام پر ’اونچے درجے کے سیلاب‘ سے متعلق وارننگ موصول ہوئی ہے جس کے بعد دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    عرفان علی کاٹھیا کے مطابق اس وقت بھی گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک سے زیادہ پانی موصول ہو رہا ہے۔

    ’پچھلے 72 گھنٹوں سے ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی چل رہا ہے۔ وہاڑی اور حاصل پور کے سنگم پر واقع ہیڈ اسلام کے مقام پر ایک لاکھ دو ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔‘

    پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق یہ پانی اب بہاولپور اور بہاولنگر سے ہوتا ہوا منجند کے مقام پر پہنچے گا۔

    ان کے مطابق سیلاب کے سبب سب سے زیادہ نقصان گوجرانوالہ ڈویژن کے اضلاع میں ہوا تاہم پہلے ریلے کے لیے کیے گئے انتطامات کے سبب یہ علاقہ بڑے نقصان سے بچا رہا۔

  9. پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 20 لاکھ افراد کی بروقت نقل مکانی کروائی گئی: وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سیلابی صورتحال سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 20 لاکھ افراد کی بروقت نقل مکانی کی گئی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بجلی کے متاثرہ نظام میں سے 80 فیصد کو بحال کیا جا چکا ہے جبکہ متاثرہ پُلوں و شاہراہوں کو روابط کی بحالی کے لیے مرمت کرکے ٹریفک کے لیے کھولا جا چکا ہے.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد اور مالی نقصانات کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی معاونت کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر نادرا کے ذدیعے مکمل کی جا رہی ہے.

    اجلاس کو متاثرہ علاقوں میں نقصانات اور ریسکیو و ریلیف کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیلابی ریلے کی موجودہ صورتحال پر آگاہ کیا گیا.

    سیلابی ریلے کے حوالے سے بتایا گیا کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی ریلا اس وقت وسطی اور جنوبی پنجاب میں پہنچ چکا ہے جو جلد پنجند سے گزرے گا۔

    پنجند پر 10 سے 12 لاکھ کیوسک ریلے سے بچاؤ کی تیاری مکمل کی گئی جبکہ سیلابی ریلے کی اصل مقدار 6 لاکھ کیوسک کے لگ بھگ ہوگی جو توقع سے کم ہے۔

  10. سندھ کے متعدد اضلاع میں بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ

    پاکستان میں نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ سندھ کے متعدد اضلاع میں چھ سے نو ستمبر کے دوران بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا جو وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق بارشوں کے باعث میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، تھرپارکر، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، ٹھٹہ، بدین، سجاول، حیدرآباد اور کراچی کے نشیبی علاقوں میں سات سے نو ستمبر کے درمیان اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    ’تھرپارکر میں مٹھی، اسلام کوٹ، نگرپارکر، چھاچھرو، ڈھلی، ڈیپلو، کلوئی، عمرکوٹ، سانگھڑ، ٹھٹہ، بدین، سجاول، جامشورو، دادو، گھوٹکی، کشمور اور ملحقہ پہاڑی ندی نالوں میں اچانک سیلاب کا خطرہ ہے۔‘

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ شہری نشیبی علاقوں میں غیرضروری سفر سے گریز کریں۔

  11. 14 پاکستانی ’دہشت گردوں‘ کے داخلے اور 34 ’انسانی بموں‘ کی شہر میں موجودگی کی دھمکی پر ممبئی پولیس الرٹ

    انڈیا کے شہر ممبئی کی ٹریفک پولیس کے وٹس ایپ نمبر پر ملنے والی ایک دھمکی کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    ممبئی پولیس کے مطابق ’لشکر جہادی‘ نامی تنظیم کے نام سے ملنے والی اس دھمکی میں کہا گیا ہے کہ 14 پاکستانی ’دہشت گرد‘ ممبئی میں داخل ہو گئے ہیں۔ جبکہ 34 ’انسانی بموں‘ سے لیس 34 گاڑیاں ممبئی میں موجود ہیں اور شہر میں ایسے دھماکے ہوں گے جو اسے ہلا کر رکھ دیں گے۔

    ممبئی ٹریفک پولیس کو ملنے والے اس پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 400 کلو گرام آر ڈی ایکس استعمال کیا جائے گا۔

    ممبئی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور اس دھمکی کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ 26 نومبر 2008 کو ممبئی کے مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے حملے اور بم دھماکوں میں 150 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ انڈیا نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، تاہم اسلام آباد ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

  12. برطانیہ کی نائب وزیر اعظم اینجلا رائنر مستعفی, ہنری زیف مین, بی بی سی

    برطانیہ کی نائب وزیر اعظم اینجلا رائنر نے اپنے عہدے سے استعفیِ دے دیا ہے۔ رائنر نے ایسٹ سسیکس میں خریدے جانے والے فلیٹ کی مد میں مطلوبہ ٹیکس نہ دینے پر استعفی دیا ہے۔

    برطانوی نائب وزیر اعظم نے ہاؤسنگ سکریٹری کا عہدہ بھی چھوڑ دیا ہے۔

    رائنر کا اپنے استعفے میں کہنا تھا کہ انھیں حکومت میں ان کے عہدے اور اس کی ’پیچیدہ‘ ذاتی صورتحال کے پیش نظر ایک اور ٹیکس ماہر سے مشورہ لینا چاہیے تھا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اپنے متعلق رپورٹ کے نتائج اور اس کے خاندان پر پڑنے والے اثرات دونوں کی بنیاد پر استعفی دیا ہے۔

    رائنر نے لیبر پارٹی میں اپنی جگہ بنانے کے لیے طویل جدوجہد کی تھی، لیکن وہ صرف 14 ماہ تک اپنے منصب پر فائز رہ سکیں۔

    وزیر اعظم کیر سٹارمر کے لیے بھی اس معاملے پر کئی مضمرات ہیں۔ ابھی لاتعداد سوالات کی ایک لمبی فہرست ہے۔

    ڈپٹی لیڈر شپ کا انتخاب کب ہوگا؟ کون کھڑا ہوگا؟ کیا کوئی امیدوار جو حکومت کو زیادہ بائیں بازو کی پوزیشن پر مجبور کرنا چاہتا ہے اسے بیلٹ پیپر پر لے آئے گا؟

  13. اگر ضرورت پڑی تو دوسرے ممالک میں جرائم پیشہ گروپس کو ’تباہ‘ کر دیں گے: امریکی وزیر خارجہ, آئون ویلز, بی بی سی

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو دوسرے ممالک میں موجود جرائم پیشہ گروپس کو ’تباہ‘ کر دیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس کے لیے دیگر ممالک کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔

    ایکواڈور کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ دیگر ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ امریکہ کی معاونت کریں تاکہ ایسے گروپس کو ’تباہ‘ کیا جا سکے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے ایکواڈور کے دو بڑے جرائم پیشہ گینگز پر پابندیاں لگانے کا بھی اعلان کیا۔

    امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فورسز نے منگل کو بحیرہ کیربیئن میں ایک کشتی کو نشانہ بنایا تھا۔ وائٹ ہاوس نے کہا تھا کہ کشتی میں منشیات سمگل کرنے والے 11 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔ تاہم ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

    قانونی ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس امریکی کارروائی سے بین الاقوامی انسانی حقوق اور سمندری قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

    جمعرات کو رات گئے امریکی محکمہ دفاع نے وینزویلا کے دو فوجی طیاروں پر الزام لگایا کہ وہ ایک امریکی جہاز کے قریب پرواز کر رہے تھے۔

    پینٹاگون کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتہائی اشتعال انگیز اقدام ہمارے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مداخلت کے لیے تھا۔ وینزویلا نے ابھی تک اس دعوے کا جواب نہیں دیا ہے۔

  14. ٹرمپ کی ’پینٹاگون‘ کو ’محکمہ جنگ‘ کا نام دینے کی کوشش

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کے روز ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کریں گے جس کے تحت محکمہ دفاع یعنی ’پینٹاگون‘ کے نام کو تبدیل کر کے ’محکمہِ جنگ‘ رکھا جائے گا۔

    اس اقدام سے سنہ 1940 کی دہائی میں اس ادارے کا رکھا جانے والا نام بحال ہوجائے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے کا جو متن بی بی سی نے دیکھا ہے اُس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ’طاقت اور عزم کو ظاہر کرنا‘ ہے۔

    ایگزیکٹو محکموں کی تشکیل کی ذمہ داری امریکی کانگریس پر عائد ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ محکمہ کا نام قانونی طور پر تبدیل کرنے کے لئے ان کی شمولیت ضروری ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ مستقل طور پر نام کی تبدیلی کے اس عمل پر کتنا خرچ آئے گا، لیکن امریکی میڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر سیکڑوں ایجنسیوں، علامتوں، ای میل ایڈریسز اور یونیفارمز کی کی تبدیلی کے اس عمل پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’محکمہ جنگ‘ کا یہ نیا نام ’محکمہ دفاع‘ کے مقابلے میں ایک مضبوط پیغام دیتا ہے۔

  15. سیلابی صورتحال کے تیاری سے متعلق سندھ حکومت کا اہم اجلاس: ’جو لوگ گھر چھوڑ کر آ رہے ہیں ان کا بھرپور خیال رکھا جائے‘ وزیراعلیٰ سندھ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سیلابی صورتحال پر جمعے کے روز ایک اہم اجلاس ہوا۔

    اس اجلاس میں صوبائی وزراء، شرجیل میمن، ناصر شاہ، محمد علی ملکانی، جام اکرام اللہ دھاریجو، مخدوم محبوب الزمان، سیکریٹری ٹو سی ایم عبدالرحیم شیخ، سیکریٹری لائیوسٹاک کاظم جتوئی، سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ، سیکریٹری ریہیبلی ٹیشن اختر بگٹی، ڈی جی (پی ڈی ایم اے سندھ) سلمان شاہ اور دیگر شریک ہوئے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس کے دوران کہا کہ ’صوبے کو آنے والے دنوں میں سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یعنی صوبے کو سات سے نو لاکھ کیوسک سیلابی صورتحال کی تیاری کرنی ہے۔ آٹھ ستمبر کو گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ اپنے عروج پر ہوگا۔‘

    اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہا تھا کہ ’سیلابی صورتحال کی تیاری، ریلیف کیمپس کا قیام اور سیلاب کی وجہ سے خطرناک قرار دیے جانے والے علاقوں سے لوگوں کے محفوظ مقام پر منتقلی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔‘

    وزیراعلیٰ سندھ کو وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو کی جانب سے سندھ میں دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

    تاہم اجلاس کے دوران امدادی اقدامات سے متعلق وزیر ری ہیبلیٹیشن مخدوم محبوب اور ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ سلمان شاہ کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔

    بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سندھ کے مختلف مقامات پر اب تک 528 ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ سندھ حکومت نے ایک لاکھ نو ہزار سے زیادہ لوگوں کو کچے سے پکے کے علاقے کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ کو یہ بھی بتایا گے کہ قائم کیے جانے والے 528 ریلیف کیمپس میں لوگ کی آمد تاحال شروع نہیں ہوئی ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں 169 میڈیکل کیپمس پر اب تک 27 ہزار سے زیادہ مریضوں کا طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔

    سندھ انتظامیہ کی جانب سے وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مویشیوں کی ویکسین کے لیے 110 کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں سات لاکھ 54 ہزار سے زیادہ جانوروں کو ویکسین لگائی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈویژنل کمشنرز کو عوام کا ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ گھر چھوڑ کر آ رہے ہیں ان کا بھرپور خیال رکھا جائے۔‘

  16. کُرم میں گزشتہ چند روز کے دوران مسافر گاڑی پر فائرنگ کا دوسرا واقعہ: گاڑی میں سوار والد اور بیٹی ہلاک، ایک زخمی, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں پاڑا چنار جانے والی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے والد اور بیٹی ہلاک جبکہ ایک بیٹی زخمی ہو گئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز کو قبائلی ضلع کرم کے علاقے ’شمع دار بابا‘ میں پاڑا چنار جانے والی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں گاڑی میں سوار زاہد حسین نامی فرد ہلاک جبکہ ان کی دو بیٹیاں اس حملے میں شدید زخمی ہوئیں جن میں سے ایک بیٹی ہسپتال میں چل بسی جب کہ ایک شدید زخمی ہے۔

    پولیس کی جانب سے اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل بھی کرم میں ہی ایک ایک مسافر گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا کہ جس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ واقع ’مہورہ احمد خان کلی‘ نامی علاقے میں پیش آیا تھا۔ اس کے بعد حکومت اور قبائلی مشران نے ایک شخص کے گھر کو بارودی مواد سے اڑا دیا تھا۔

    فائرنگ کے ان واقعات کے بعد ایک مرتبہ پھر سے پاڑا چنار جانے والی اہم شاہراہ آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

    افغانستان کی سرحد ملحقہ قبائلی ضلع کرم مذہبی کشیدگی اور تناؤ کی زد میں ہے۔ اس سے پہلے بھی مختلف شیعہ اور سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے قبائل کے درمیان دشمنی کے سبب ایک دوسرے پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    تاہم اس واقعے کے بعد انجمن حسینیہ پاڑاچنار کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں لوئر کرم مینگک میں فائرنگ کے دوران ہلاکت پر مذمتی بیان جاری کیا گیا ہے۔

    انجمن حسینیہ پاڑاچنار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دن دیہاڑے معصوم اور بے گناہ شہریوں پر ہونے والی فائرنگ ناقابلِ قبول ہے اور اس کی شدید الفاظ میں مزمت کی جاتی ہے۔ ایسے دہشتگردانہ واقعات نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ بے قصور قیمتی انسانی جانیں بھی جا رہی ہیں۔

    انجمن حسینیہ پاڑاچنار کی جانب سے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’اس سانحے میں ملوث دہشتگردوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے تاکہ انصاف یقینی بنایا جا سکے۔‘

    تاہم اسی بیان کے آخر میں قبائل کو پرامن رہنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

  17. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سیلابی صورتحال برقرار، ہماچل پردیش میں سات کشمیری مزدوروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے دریائے جہلم میں آئی طغیانی سے سینکڑوں بستیاں زیرآب آنے کے بعد ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبوری ہوئے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جہلم میں جمعرات سے پانی کی سطح کم ہورہی ہے تاہم مزید بارشوں کے امکان کو دیکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کو آئندہ ہفتے پیر تک کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    دریں اثنا کشمیر کے پڑوسی صوبہ ہماچل پردیش میں مزدوری کے لئے جانے والے سات مزدور مٹی کے تودے کے نیچے دب جانے کے بعد سے لاپتا ہیں۔ انھیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    مزدوروں کو بچانے کے لیے جاری امدادی کارروائی میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان سب کے زندہ بچ جانے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ واضح رہے ہماچل کے ’کُلّو‘ علاقے میں اکھاڑہ بازار میں جمعرات کے روز تیز بارشوں کے بعد پہاڑوں سے مٹی کے تودے گرنے سے کئی حادثات رپورٹ ہوئے۔

    انڈیا کے نیشنل ڈِزاسٹر ریسپانس فورس کے ترجمان کے مطابق اکھاڑہ بازار میں دو مکان مکمل طور پر مٹی کے تودے کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان ہی مکانوں میں کشمیر کے بانڈی پورہ اور گاندربل اضلاع سے تعلق رکھنے والے یہ سات مزدور بھی تھے۔

    گزشتہ روز بھی تیز بارش کی وجہ سے راجوری کے کانگری گاؤں میں ایک گھر مٹی میں دھنس جانے سے وہاں مقیم رتن لال کی بیوی سیتا دیوی اور اُن کی 23 سالہ بیٹی سونیا ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہوگئے تھے۔

    کشمیر کے متعدد علاقوں میں منگل سے تیز بارشوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا جس کے بعد جہلم، چناب اور توی دریاؤں میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر بہنے لگی ہے۔ تاہم جمعہ کے روز موسم میں بہتری کے بعد حکام نے بتایا کہ جہلم کی سطح اب خطرے کے نشان سے ذرا نیچے ہے۔ لیکن بارشوں کی مزید پیش گوئی کے بعد لوگوں سے احتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔

    تاہم جمعرات تک وادی سیلاب سے متاثر نہیں ہوئی تھی، تاہم جہلم میں سطح میں اضافہ کے بعد جمعرات کی صبح جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، کولگام، پلوامہ اور سرینگر کے مضافات میں کئی مقامات پر جہلم کے کنارے ڈہہ گئے اور بستیوں میں پانی داخل ہوگیا۔

    یاد رہے 26 اگست سے ہی جموں اور کشمیر کے بیشتر علاقوں میں تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے چناب میں جو طغیانی آئی تھی اُس میں ابھی تک حکومت نے 65 افراد کی ہلاکت اور 100 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ اس کے بعد کٹھوعہ کے ویشنو دیوی مندر کے قریب بھی بادل پھٹنے سے 40 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    حکام نے کشمیر اور جموں میں سبھی تعلیمی اداروں کو 6ستمبر تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کالج و یونیورسٹی امتحانات کوملتوی کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو مُلک سے ملانے والی واحد شاہراہ ’نیشنل ہائی وے 44‘ ایک ہفتے سے بند ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہائی وے پر کئی مقامات ایسے ہیں جہاں بارش کے بعد پہاڑوں سے لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے سڑک متاثر ہوئی ہے۔

  18. پنجاب کے ضلع گجرات میں سیلابی صورتحال برقرار، شہریوں کی بڑی تعداد گھروں میں محصور, احتشام شامی، صحافی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات میں آج دوسرے روز بھی متعدد علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ روز ہونے والی ریکارڈ بارش کے باعث گجرات شہر کے مختلف مقامات پر چار سے پانچ فٹ تک پانی جمع ہو گیا تھا جس سے باعث لوگوں کے ذرائع آمدورفت معطل ہوکر رہ گئے اور معاملاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

    ضلع گجرات میں تمام سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی ادارے آج جمعہ کو بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ اربن فلڈنگ اور شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    تاہم سرکاری اداروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک شہر کے متعدد علاقوں سے پانی کی سطح میں کوئی کمی نہیں کی جا سکی ہے۔

    ریسکیو 1122 اور دیگر سرکاری اداروں اور کچھ نجی تنظیموں کے کارکنوں نے گجرات کے زیادہ نشیبی رہائشی علاقوں سے کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو گھروں سے نکالا۔ زیرآب آنے والے علاقوں میں سیالوی روڈ، محلہ شاہ حسین اور غریب پوہ کی بستیاں شامل ہیں۔ شہر کی اہم شاہراہوں ڈکی چوک، جناح روڈ، رحمان شہید روڈ، جیل چوک، کچہری روڈ، ظہور الہٰی سٹیڈیم، فوارہ چوک اور سر کلر روڈ ابھی بھی زیرآب ہیں جہاں تین سے پانچ فٹ تک پانی کھڑا ہے۔

    حالیہ ہنگامی صورتحال میں گجرات شہر سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے اور دوسرے شہروں میں موجود اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں چلے گئے ہیں۔

    گجرات میں اس سیلابی صورتحال کی وجہ بھمبھر نالہ اور ہیلسی نالے بنے

    اگر ہم گجرات شہر کی جغرافیائی پوزیشن دیکھیں تو اس کے ایک طرف ہیلسی اور بھمبھر دو بڑے نالے ہیں جوکہ آزاد کشمیر سے آتے ہیں جبکہ دوسری طرف دریائے چناب ہے۔ شہر میں دو روز سے شدید تباہی مچانے والا پانی دریائے چناب کا نہیں بلکہ دونوں نالوں کا ہے۔ اس کے علاوہ چار چھوٹے نالے ہیں جوکہ اس قدر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ نظر ہی نہیں آتے ان میں دواڑا نالہ، نالہ بھنڈر، نالہ جلالپورجٹاں اور برساتی نالہ شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب موسلادھار بارش اور پہاڑوں سے انتہائی تیزی سے نیچے کی طرف آنے والے پانی سے ہیلسی اور بھمبھر نالے بپھر گئے اور پانی کی شدت سے مدینہ سیداں میں ڈی سی بند بھی ٹوٹ گیا جس سے لگ بھگ چالیس دیہات زیرآب آگئے اور سیلابی پانی کے سامنے کوئی نہ ٹھہر سکی اور وہ سب کو روندتا ہوا گجرات شہر میں داخل ہوگیا۔

    سرکاری ادارے دو روز سے مسلسل مدینہ سیداں کے قریب پانی سے بپھرے بھمبھر نالے اور ہیلسی نالے کو موڑنے کی کوششیں کررہے ہیں اور ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ آج کوششیں بارآور ثابت ہو جائیں گی اور برساتی نالے کا رخ موڑا جائے گا۔

    سنہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق گجرات ضلع کی آبادی 32 لاکھ 19 ہزار 375 نفوس پر مشتمل ہے۔

  19. دیوسائی نیشنل پارک میں کیمپنگ کے دوران گلوکارہ قرۃ العین بلوچ ریچھ کے حملے میں زخمی, محمد زبیر خان، صحافی

    پاکستانی گلوگارہ قرۃ العین بلوچ کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ رات دیوسائی نیشنل پارک میں کیمپنگ کے دوران ایک بھورے ریچھ کے حملے میں زخمی ہوگئیں تھیں۔ جس کے بعد انھیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    بتایا جا رہا ہے کہ قرۃ العین بلوچ کو بازو پر کچھ زخم آئے ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کو ہسپتال سے ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے اور وہ اس وقت سکردو میں ہی ہیں۔

    گگلت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق یہ واقعہ دیوسائی نیشنل پارک میں بڑا پانی کے قریب پیش آیا۔ گلوکارہ کو زخمی حالت میں ریسکیو کر کے سکردو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھیں طبی امداد دی گئی۔

    فیض اللہ فراق کے مطابق حکومت نے اس واقعے کے بعد دیوسائی میں رات کے وقت کیمپنگ پر پابندی عائد کردی ہے۔ آئندہ کوئی سیاح رات کے وقت دیوسائی میں کیمپنگ نہیں کرسکے گا۔ ایسا حفاظتی اقدامات کے تحت کیا گیا ہے۔

    نانگاپربت اور پہاڑی سلسلے ہمالیہ کے درمیان دیوسائی نیشنل پارک تین ہزار کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ پارک کئی نایاب جانوروں کی آماجگاہ ہے جن میں بھورے ریچھ بھی شامل ہے۔

    گذشتہ کچھ عرصے میں گللگت بلتستان میں سیاحت اور کیمپنگ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ سنگر قرۃ العین بلوچ نے بھی دو روز قبل اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر سکردو میں قیام سے متعلق ایک پوسٹ شئیر کی تھی۔

  20. ایبٹ آباد میں ڈمپر کی ٹکر سے سکول جانے والے تین بچے ہلاک، پانچ زخمی, محمد زبیر خان، صحافی

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کہ شہر ایبٹ آباد کی پولیس کے مطابق جمعے کی صبح سکول جانے والے بچوں کو روڈ کراس کرتے ہوئے ایک ڈمپر نے کچل دیا۔ اس افسوسناک حادثے کی صورت میں تین بچے موقع پر ہلاک ہوگے، جبکہ پانچ بچے زخمی ہیں جنھیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور ایک بچی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق ڈمپر ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا ہے جبکہ ڈمپر پولیس کے قبضے میں ہے اور ڈرائیور کی گرفتاری کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق بچوں کا تعلق قریبی گاون بانڈہ پھگواڑیاں سے تھا۔ بتایا گیا ہے کہ بچے جس گاڑی پر سکول آئے تھے اُس گاڑی کے ڈرائیور نے بچوں کو سڑکی کی دوسری جانب اُتارا جس کے بعد سڑک پار کرتے ہوئے بچوں کو یہ حادثہ پیش آیا۔

    ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ہلاک ہو جانے والے بچوں کی لاشین ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔