آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کراچی میں رہائشی عمارت گرنے سے مرنے والوں کی تعداد 23 ہو گئی، امدادی سرگرمیاں تاحال جاری

کراچی میں ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ لیاری میں گرنے والی عمارت سے ریسکیو آپریشن 80 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق لگتا ہے کہ لوگ عمارت سے نکلنے کے لیے بھاگے، اس لیے قوی امکان ہے کہ وہ داخلی راستے میں ہی پھنس گئے ہوں، اس لیے وہاں سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • کراچی کے علاقے لیاری میں پانچ منزلہ عمارت گِرنے سے اب تک 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے
  • حکومت سندھ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ 50 سال پرانی عمارت گنجان آباد علاقے بغدادی میں واقع تھی جس میں 13 خاندان رہتے تھے۔
  • امریکی ریاست ٹیکساس میں سیلاب سے کم از کم 24 افراد کی ہلاکت کے بعد سرچ آپریشن جاری ہے جہاں ایک سمر کیمپ میں موجود 20 سے زائد لڑکیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔
  • امریکہ کی نیشنل ویدر سروس کا کہنا ہے کہ مغربی وسطی ٹیکساس کے کچھ حصوں میں مزید سیلاب کا امکان ہے۔
  • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میں افغانستان کی سرحد سے پاکستان میں دراندازی کرنے کی کوشش کرنے والے 30 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا

لائیو کوریج

  1. لاہور: پالتو شیر کی جانب سے گلی میں کھیلتے بچوں کو زخمی کرنے پر مالک گرفتار، مقدمہ درج

    صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں پولیس نے پالتو شیر کی جانب سے تین بچوں کو زخمی کرنے کے واقعے پر شیر کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    تھانہ جوہر ٹاؤن میں زخمی بچوں کے والد کی مدعیت میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں مدعی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تین جولائی (جمعرات) کو اُن کے تین بچے گلی میں کھیل رہے تھے جب ایک خونخوار شیر قریب واقع ڈیرے کی دیوار پھلانگ پر بچوں پر پنجوں اور دانتوں کی مدد سے حملہ آور ہوا۔

    والد نے الزام عائد کیا کہ جب ان کے بچے خوف اور درد کے مارے چیخ و پکار کر رہے تھے تو اس دوران شیر کے مالک (ملزمان) اس صورتحال سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ والد کے مطابق بچوں کو زخمی کر کے شیر چھلانگ لگا کر واپس ڈیرے میں داخل ہو گیا۔

    انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ملزمان اپنے پالتو شیر کو گاڑی پر لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔

    پولیس نے یہ مقدمہ اقدام قتل سمیت پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت درج کیا ہے۔

    پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی وائلڈ لائف رینجرز موقع پر پہنچ گئے اور بغیر لائسنس شیر رکھنے والے شخص کو گرفتار کر لیا جبکہ شیر کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔

    محکمہ جنگلی حیات کے مطابق بغیر لائسنس اور حفاظتی تقاضوں کے بغیر شیر کو رکھنا ناقابل ضمانت جرم ہے جس کی خلاف ورزی پر سات سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر ہے۔

    محکمے کے مطابق وائلڈ لائف کے نئے قوانین کے تحت شیر رکھنے کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ، مقررہ سائز کا پنجرہ اور ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی ہے۔

  2. ایرانی تیل کی تجارت میں ’ملوث‘ انڈین اور پاکستانی کمپنیوں پر امریکی پابندی

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی کمپنیوں اور بحری جہازوں پر پابندی عائد کی ہے جو ایرانی خام تیل، پیٹرولیئم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی تجارت میں ملوث ہیں۔

    ایک بیان میں امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ میں تنازعات اور عدم استحکام کو ہوا دے رہی ہے، تجارتی بہاؤ میں خلل ڈال رہی ہے اور دہشت گرد و پراکسی گروپوں کی مالی معاونت کر رہی ہے۔‘

    ’آج امریکہ نے اس آمدن کو روکنے کے لیے اقدام کیے ہیں جس سے (ایرانی) حکومت اپنی تباہ کن سرگرمیوں کی معاونت کرتی ہے اور اپنے عوام پر ظلم کرتی ہے۔‘

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا میں قائم سائی سبوری کنسلٹنگ سروسز اور پاکستانی کمپنی الائنس انرجی ایرانی تیل کی تجارت میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں قائم بریز مرین ایسٹ مینجمنٹ اور پانامہ کی آئل انویشن کے نام بھی دیے گئے ہیں۔

    جبکہ امریکی حکام کے مطابق ایرانی پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی تجارت میں ملوث کمپنیوں کی فہرست میں کاوه میتھانول کمپنی، اریا سینا کنٹرول انٹرنیشنل ٹیکنیکل انسپکشن اور ایشیا سی اینجل شپنگ کو شامل ہیں۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ نامزد کردہ افراد اور کمپنیوں کی امریکہ میں تمام جائیدادیں اور مفاد قبضے میں لیے جائیں گے۔

    امریکہ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول کی ویب سائٹ کے مطابق الائنس انرجی لاہور میں قائم نجی کمپنی ہے جو پریشیئن گلف پیٹرو کیمیکل انڈسٹری کمرشل کے ساتھ ملوث پائی گئی ہے۔

    امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق انڈین کمپنی سائی سبوری کے ایل پی جی ٹینکر بیٹلیور ستمبر 2022 کے دوران ایران سے پیٹرولیئم مصنوعات کی ٹرانسپورٹ میں ملوث تھی۔ ’اس نے الائنس انرجی کے لیے ایسا کیا جس پر پہلے سے پابندی عائد تھی۔‘

  3. افغانستان سرحد سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کرنے والے 30 شدت پسند ہلاک: ’افغان حکومت اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکے،‘ آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میں افغانستان کی سرحد سے پاکستان میں دراندازی کرنے کی کوشش کرنے والے 30 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    اس ضمن میں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دو اور تین جولائی کی درمیانی شب شدت پسندوں کے ایک بڑے گروہ کی افغانستان، پاکستان سرحد پر نقل و حرکت نوٹس کی گئی، یہ شدت پسند پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فوج نے مؤثر طریقے سے انڈین سپانسرڈ خوارج کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا اور انھیں ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔‘

    شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس کارروائی کے ذریعے سکیورٹی فورسز نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو کسی بڑی ممکنہ تباہی سے بچایا۔

    پاکستانی فوج نے أفغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ’غیر ملکی پراکسیز‘ کے ذریعے افغان سرزمین کے استعمال کو روکیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع اور ’پاکستان سے انڈین سپانسرڈ دہشت گردی کو ختم کرنے کے اپنے عزم میں غیر متزلزل ہیں۔‘

    افغانستان یا انڈیا نے فی الحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  4. تبریز اور اصفہان کے علاوہ ملک کے بیشتر ہوائی اڈے دوبارہ کھول دیے گئے: ایرانی سول ایوی ایشن

    ایران میں سول ایوی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ تہران کے مہرآباد اور امام خمینی ایئر پورٹ کے ساتھ ساتھ ملک کے شمال، مشرق، مغرب اور جنوب کے ہوائی اڈوں نے آج (جمعے ) سے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے تاہم تبریز اور اصفہان ہوائی اڈے ابھی بدستور بند رہیں گے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل ایران جنگ کے باعث تقریبا 20 دنوں سے زیادہ ایران کی اندرون ملک اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے ائیرپورٹس بند کر دیے گئے تھے۔

    ایرانی سول ایوی ایشن کے مطابق اصفہان اور تبریز کے اہم ہوائی اڈوں پر بنیادی انفرا سٹرکچر کی تعمیر کے فوراً بعد ان پر بھی فضائئ آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اسرائیل ایران جنگ کے تھمنے کے بعد مشرقی تہران میں کچھ پروازیں کھولی گئیں تاہم بین الاقوامی پروازوں کے ایک بڑے حصے کی گزرگاہ جانا جانے والا حصہ یعنی ملک کے مرکز اور مغرب میں فضائی آمد و رفت بند رہی تھی۔

    اس دوران آسٹریلیا کی قنطاس، جرمنی کی لفتھانسا، یونائیٹڈ ایئر لائنز اور ایئر انڈیا سمیت درجنوں ایئر لائنز کو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایرانی آسمانوں پر اپنے روٹس تبدیل کرنے پڑے۔

    جون کے وسط میں شروع ہونے والی ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ایران، اسرائیل، عراق حتیٰ کہ اردن اور قطر جیسے ممالک میں ہزاروں ملکی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کرنے کا سبب بنی تھیں۔

  5. ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکسز اور اخراجات سے متعلق ’بگ بیوٹی فل بل‘ کانگریس سے منظور

    امریکی کانگریس نے صدر ٹرمپ کے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق ’بگ بیوٹی فل بل‘ کی منظوری دے دی ہے۔ اس منظوری کو صدر ٹرمپ کے اپنے ملک سے متعلق ایجنڈے کے لیے ایک اہم اور سخت مقابلے والی فتح سے جوڑا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ قانون سازی، جسے ٹرمپ کی دوسری مدت کے ایجنڈے کا سنگ بنیاد سمجھا جاتا ہے، ٹیکسوں میں مستقل طور پر بڑی کٹوتی کرے گی جو عارضی طور پر اس وقت نافذ کی گئی تھیں جب وہ پہلی بار اقتدار میں تھے۔

    کیپیٹل ہل میں ہونے والے اجلاس میں امریکی ایوان نمائندگان نے جمعرات کو 214 کے مقابلے میں 218 ووٹوں سے بل کو منظور کیا جبکہ اس سے قبل منگل کو سینیٹ میں اسے ایک ووٹ سے منظور کیا گیا تھا۔

    ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے زیر کنٹرول کانگریس کو چار جولائی تک کی ڈیڈ لائن دی تھی تاکہ وہ بل کا حتمی ورژن قانون کی شکل دے سکیں۔

    کانگریس کے بجٹ آفس نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس بل سے اگلے 10 سالوں میں وفاقی خسارے میں 3.3 ٹریلین ڈالر (2.4 ٹریلین پاؤنڈ) کا اضافہ ہوسکتا ہے اور لاکھوں افراد صحت کی کوریج سے محروم رہ جائیں گے۔

    یاد رہے کہ منگل کو امریکی سینیٹ میں کئی گھنٹوں کے تعطل کے بعد ریپبلکنز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق میگا بل کومنظور کیا تھا۔

    24 گھنٹے سے زیادہ کی بحث کے بعد ’دی ون بگ بیوٹیفل بل ایکٹ‘ نائب صدر جے ڈی وینس کے ووٹ کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔

    وینس نے منگل کی سہ پہر کہا کہ ’ترمیم شدہ بل منظور ہو گیا ہے۔‘ اُن کے ایسا کہنے پر سینیٹ میں موجود ریپبلکنز نے تالیاں بجائیں جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔

    ٹیکس، سماجی پروگراموں اور اخراجات کی سطح پر تنازعات نے ریپبلکنز کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے تھے۔ جس کی وجہ سے پیش رفت رک گئی تھی اور ٹرمپ کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ بل کی منظوری کے لیے ان کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنا ’بہت مشکل‘ ہوگا۔

    پارٹی کو متحرک کرنے کی کوششوں کے باوجود سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون کو تین ریپبلیکن ارکان سوسن کولنز، تھوم ٹیلس اور رینڈ پال کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کولنز، ٹیلس اور پال نے بل کے خلاف ووٹ دینے میں تمام ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔

  6. روس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا

    روس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہوئے نئے افغان سفیر کی سفارتی اسناد کو قبول کر لیا ہے۔ اس عمل کے بعد روس طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اقدام مختلف شعبوں میں ہمارے ممالک کے درمیان دو طرفہ تعمیری تعاون بڑھانے کے عمل کو تیز کرے گا۔‘

    یاد رہے کہ بعض ممالک کی جانب سے افغان سفارت خانے کے کچھ حصے طالبان نمائندگان کے حوالے کر دیے ہیں لیکن ابھی تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

    گزشتہ سال (2024) کے آخر میں روسی پارلیمنٹ نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے قانون کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے تحت طالبان کو روس کی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے بھی نکال دیا جائے گا۔

    روس کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی سفارت کاروں نے واضح کر رکھا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے کا راستہ اس وقت تک بند ہے جب تک ان کی حکومت خواتین کے حقوق کا احترام نہیں کرتی۔

    افغانستان میں خود کو دوبارہ قائم کرنے کے بعد طالبان نے خواتین پر بہت سی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں کو کام یا تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے اور وہ گھر سے باہر جانے کے لیے بھی کسی محرم کی محتاج ہیں۔

    واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کسی بھی ملک نے اس کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا تاہم اس دوران روس بتدریج طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرتا رہا ہے۔

  7. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم جن پڑھنے والوں نے ابھی ہمارا ساتھ دینا شروع کیا ہے ان کے لیے ہم گزشتہ 24 گھنٹوں کا خلاصہ یہاں شامل کر رہے ہیں۔

    • پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 26 اراکین کو نااہل قرار دینے کی غرض سے ان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا ہے۔
    • غزہ کے انڈونیشین ہسپتال کے ڈائریکٹر اپنے خاندان کے متعدد افراد کے ہمراہ ایک اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے گھر پر ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • 12 روزہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد ایران سے افغان پناہ گزینوں کی گرفتاری اور ملک بدری میں تیزی آئی ہے۔ افغانستان میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر عرفات جمال کا کہنا ہے کہ ’سرحدوں پر وطن واپس آنے والے افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اب ان کے لیے انتظامات میں شدید مُشکلات کا سامنا ہے۔
    • اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی جنگ میں جنگ بندی کے لیے دباؤ کے باوجود فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو بینک کے سربراہ جیروم پاول سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’اب بس اور نہیں، انھیں فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘
    • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں۔
    • امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بدھ کے روز کہا کہ امریکی فوج کے حملوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو صرف دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے ملک کے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی دہائیوں تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔
  8. پی ٹی آئی: پنجاب اسمبلی کے 26 اراکین کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 26 اراکین کو نااہل قرار دینے کی غرض سے ان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا ہے۔

    سپیکر ملک محمد احمد خان جمعرات کی صبح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفتر پہنچے، جہاں انھوں نے یہ ریفرنس جمع کروایا۔

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کا وجود سنی اتحاد کونسل کی صورت میں موجود ہے۔

    27 جون کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز کی تقریر کے دوران شور شرابہ اور ہنگامی آرائی کے علاوہ توڑ پھوڑ کرنے پر اپوزیشن کے 26 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی تھی۔

    پی ٹی آئی کے 26 ارکان کو ہنگامہ آرائی کرنے پر 15 اجلاسوں کے لیے اسمبلی کی کارروائی سے معطل کر دیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق 26 اپوزیشن اراکین کے خلاف قواعد کی سنگین خلاف ورزی، ایوان میں ہلڑ بازی، ایجنڈا پیپرز پھاڑنے اور نعرے بازی کے تحت کارروائی کی گئی۔

    28 جون کو سپیکر پنجاب اسمبلی نے ان اراکین کی نااہلی کے لیے ریفرنسز الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن میں دائر کیے گئے ریفرنس میں سپیکر نے ایوان کے قواعد کی شق 15 اور 210 کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’اراکین نے ضابطے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر بدنظمی پیدا کی۔‘

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رہنما ملک احمد بھچر نے کہا ہے کہ وہ سپیکر اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین پر عائد جرمانے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

    28 جون کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد بھچر نے کہا تھا کہ وہ کسی ریفرنس یا جرمانے سے نہیں ڈرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں کوئی (ایوان سے) ایک گھنٹے کے لیے نکال کر تو دیکھیں، انھیں سمجھ لگ جائے گی۔‘

    پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پی ٹی آئی اراکین پر جو جرمانہ عائد کیا گیا، وہ اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔

    ’باقی آپ ہمیں ایک سال کے لیے معطل کر دں، 150 کارروائیوں کے لیے کر دیں، آپ اندر بیٹھیں، عمران خان کے ایم پی ایز کو کسی بھی ایوان کی ضرورت نہیں۔‘

    ملک احمد بھچر نے یہ بھی کہا کہ اس سے آگے کا لائحہ عمل ہم پارلیمانی کمیٹی سے مشاورت کے بعد طے کریں گے۔

  9. اپنی رہائشگاہ پر منعقدہ محرم کی تقریب میں آیت اللہ خامنہ ای کی عدم شرکت، کیا رہبر اعلیٰ ابھی بھی خطرے میں ہیں؟

    ایران میں بدھ کی شب محرم کے سلسلے میں ہونے والی ایک اعلی سطح کی تقریب میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موجودگی کے بغیر ان کی رہائش گاہ امام خمینی حسینیہ میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ہر سال رہبر اعلیٰ کی موجودگی میں منعقد ہوتی تھی۔

    ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد سے علی خامنہ ای کی عوام کی نظروں سے غیر موجودگی نے عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔

    صرف کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران صحت کے ضوابط کی وجہ سے تقریب ہجوم کے ساتھ منعقد نہیں کی گئی تھی اور آیت اللہ خامنہ ای امام خمینی کے روضہ حسینیہ میں اکیلے نمودار ہوئے۔

    آیت اللہ خامنہ ای اسرائیل اور ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً 22 دن سے روپوش ہیں اور معمول کے برعکس انھوں نے ہلاک ہونے والے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈروں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کی۔

    یہ تقریب جو گذشتہ کئی برس سے مختلف انداز میں منعقد ہوتی تھی اس میں کئی فوجی کمانڈروں کے ساتھ انتظامیہ اور عدلیہ کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں کئی بچوں کو بھی لایا گیا جنھوں نے مقتول کمانڈروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

    ایران کے سرکاری میڈیا نے خامنہ ای کی غیر موجودگی کا ذکر نہیں کیا ہے اور جس طرح سے ملکی میڈیا میں خبریں شائع ہوئی ہیں اس سے ان کی غیر موجودگی کو معمول پر لانے کی کوشش کی عکاسی ہوتی ہے۔

    لبنان میں ایران کے ثقافتی مشیر اور آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی کامل باقر زادہ نے تقریب میں ایران کے رہبر اعلیٰ کی غیر موجودگی کو ’تحفظ پسندانہ نظریہ‘ کی پاسداری قرار دیا ہے۔

    انھوں نے مشرق نیوز کے ایک نوٹ میں لکھا کہ اس ’تقریب سے غیر حاضری کوئی نادر، بے مثال یا عجیب واقعہ نہیں ہے، درحقیقت یہ ان کے معمول کے کردار اور روایت سے وابستگی ہے، جو اپنے ذاتی مفادات پر محافظ ٹیم کی ماہرانہ رائے کو ترجیح دینا ہے۔‘

    13 جون کو اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے جو 12 دن تک جاری رہے جس کے بعد جنگ بندی ہو گئی لیکن علی خامنہ ای کا عوام کے سامنے نہ آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کی زندگی اب بھی خوف میں گزر رہی ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسرائیل کے چینل 13 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم خامنہ ای کو ختم کرنا چاہتے تھے، لیکن ایسا کرنے کا آپریشنل موقع پیدا نہیں ہوا۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اپنی تقاریر میں بھی کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو ’قتل‘ کرنے سے جنگ کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل ایران جنگ کے درمیان کہا تھا کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں چھپے ہوئے ہیں لیکن ان کا ’ابھی‘ انھیں قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی رہنما کے قتل کے اسرائیل کے منصوبے کو ویٹو کر دیا تھا۔

  10. اسرائیلی حملے میں انڈونیشین ہسپتال کے ڈائریکٹر خاندان کے متعدد افراد سمیت ہلاک: غزہ وزارتِ صحت, میلوری موئنچ، بی بی سی نیوز

    غزہ کے انڈونیشین ہسپتال کے ڈائریکٹر اپنے خاندان کے متعدد افراد کے ہمراہ ایک اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے گھر پر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے ’میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کے خلاف اس سنگین جرم‘ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر مروان سلطان طویل عرصے سے اس شعبے کے ساتھ وابستہ تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے حماس کے ایک ’اہم دہشتگرد‘ کو غزہ میں نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ کہ اس حملے میں عام شہریوں کو ہونے والے نقصان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    نیوز ایجنسیوں کے مطابق المواصی کے ’محفوظ زون‘ میں ایک حملے میں پانچ افراد ہلاک اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر سلطان انڈونیشین ہسپتال کے ڈائریکٹر تھے جسے حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے بند کر دیا تھا اور بعد میں اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اس ہسپتال پر ’متعدد اسرائیلی حملوں کے سبب اس کے ڈھانچے کو نقصان‘ پہنچا ہے۔

    اس موقع پر اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ وہ اس علاقے میں ’دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف‘ جنگ کر رہے ہیں۔

  11. اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران میں ’افغان مخالف‘ رویے میں اضافہ: ہزاروں افغان شہریوں کی ایران بدری

    12 روزہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد ایران سے افغان پناہ گزینوں کی گرفتاری اور ملک بدری میں تیزی آئی ہے۔

    ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق افغان باشندوں کی گرفتاری کا عمل جنگ کے دنوں میں بھی نہیں رکا۔ ایرانی حکومت نے ’غیر قانونی‘ افغان باشندوں کی واپسی کے لیے گزشتہ مارچ میں ڈیڈ لائن کا اعلان کیا تھا لیکن اسرائیل ایران جنگ کے بعد اس عمل میں غیر معمولی شدت آ گئی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق وطن واپس لوٹنے والوں میں سے 70 فیصد کو زبردستی ملک بدر کیا گیا ہے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

    افغانستان میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر عرفات جمال کا کہنا ہے کہ ’سرحدوں پر وطن واپس آنے والے افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اب ان کے لیے انتظامات میں شدید مُشکلات کا سامنا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بعض اوقات ایران سے ایک ہی وقت میں پانچ بسیں آتی ہیں، جن میں مرد، خواتین اور بچے ہوتے ہیں جو بھوک اور سفر کی تھکاوٹ اور مُلک بدری کے صدمے کی وجہ سے بے حال ہوتے ہیں۔‘

    ایران میں مقیم افغان باشندوں کا کہنا ہے کہ ’ملک بدری کی نئی لہر کے ساتھ میڈیا میں پروپیگنڈا کی وجہ سے سڑکوں اور بازاروں میں ان کی توہین کی جاتی ہے اور ان پر ’اسرائیلی جاسوس‘ جیسے لیبل لگائے جاتے ہیں۔‘

    افغانستان میں طالبان کے نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی، جنھوں نے حال ہی میں اسلام قلعہ کراسنگ کا دورہ کیا تھا، نے زور دے کر کہا ہے کہ ’پناہ گزین پر ظلم نہیں ہونا چاہئے اور کسی کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہئے۔ یہ ایک اسلامی مُلک اور ہمسائے کی ذمہ داری ہے۔‘

    روزانہ ہزاروں افراد دوغرون اسلام قلعہ کراسنگ عبور کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایرانی سرحدی محافظوں کی جانب سے بدسلوکی کی شکایت کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قانونی دستاویزات ہونے کے باوجود انھیں حراست میں لے لیا گیا اور ملک بدر کر دیا گیا۔

    صرف گزشتہ ماہ جون میں دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افغان پناہ گزین ایران سے افغانستان واپس آ چکے ہیں۔ اس سے قبل ایرانی حکومت نے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کے لیے 6 جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔

    پولیس کی مختلف چوکیوں پر افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا

    جنگ کے دوران، ایران کے اندر سے ڈرون اور مائیکرو ایئرکرافٹ حملوں نے شاید اسرائیلی فضائی اور میزائل حملوں سے زیادہ افراتفری پیدا کی۔ لہذا ، مائیکرو ائیرکرافٹس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کو روکنے کے لیے بڑے شہروں خاص طور پر تہران میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے تھے۔

    چیک پوسٹوں پر رہائشی دستاویزات کے بغیر افغان باشندوں کو شدید مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ افغان باشندوں کی جانب سے بی بی سی کو بھیجے گئے پیغامات میں یہ بتایا گیا کہ تہران میں کچھ چیک پوائنٹس پر جانچ پڑتال کے لیے ان کے موبائل فون ضبط کر لیے جاتے اور خود انھیں ڈرایا دھمکایا جاتا رہا۔

    ایک افغان پناہ گزین کا کہنا ہے کہ ’ایران میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد کا مستقبل واقعی تاریک دکھائی دیتا ہے‘ اور ’پولیس کا رویہ سفاکانہ اور ذلت آمیز ہے اور اب انھوں نے بسیج (ایرانی رضا کار فورس) کو افغان باشندوں کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری بھی سونپ دی ہے۔‘

    ایک افغان شہری نے تہران سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’تہران میں افغان باشندوں کی گرفتاری کی صورت حال بہت خراب ہے۔ پولیس ایسی چھوٹی سے چھوٹی ورکشاپ پر بھی چھاپے مار رہی ہے کہ جہاں وہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد کو کام کرتے ہوئے دیکھتی ہے۔‘

    افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ایران چلے گئے لیکن ان میں سے کچھ کے ویزوں کی تجدید نہیں ہوئی اور انھیں حالیہ دنوں میں جبری جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کا کہنا ہے کہ ملک بدری کے دوران پانچ ہزار سے زائد افغان بچوں کو ان کے اہل خانہ سے الگ کر دیا گیا ہے۔

    افغان اسرائیل کے خلاف سکیورٹی ناکامیوں کا شکار

    ایران میں افغان پناہ گزین تیسری نسل تک پہنچ چکے ہیں لیکن ایران میں پیدا ہونے والے افغان افراد بھی حقوق سے محروم ہیں اور انھیں ایرانی شہریت سے محروم رکھا جاتا ہے۔

    طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ایران جانے والے افغان پناہ گزینوں کو بینک اکاؤنٹ کھولنے اور سم کارڈ خریدنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران میں افغان باشندوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی انتہائی محدود ہیں اور وہ زیادہ تر یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس سال دس لاکھ سے زائد افغانوں کو ایران اور پاکستان سے جبری طور پر واپس لایا گیا یا ملک بدر کیا گیا۔

    طالبان حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس معاملے پر ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کی ہے۔

    ہم ہمسایہ مُلک کے دشمن نہیں ہیں: ایرانی وزیر داخلہ

    ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے حال ہی میں ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ’ان میں سے بہت سے افغان محنتی ہیں، وہ سخت محنت کرتے ہیں اور ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ہم اپنے ہمسایہ مُلک کے دشمن نہیں ہیں۔ ہماری ایک مشترکہ ثقافت ہے، ہماری ایک مشترکہ تاریخ ہے، لیکن ہمارا ملک اتنے سارے شہریوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

    تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کچھ افغان جو خاص طور پر گزشتہ دو یا تین سالوں میں ایران میں داخل ہوئے وہ کسی خاص مقصد کے ساتھ آئے۔‘

    کتنے افغان کن دستاویزات کے ساتھ ایران میں موجود ہیں؟

    حکام کے مطابق ایران میں تقریباً 60 لاکھ افغان باشندے رہتے ہیں۔ ایران میں رہائشی دستاویزات کے بغیر لوگوں کی صحیح تعداد واضح نہیں ہے، لیکن اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے اندازوں کے مطابق حالیہ برسوں میں تقریباً 20 لاکھ افغان باشندے بغیر دستاویزات کے ایران میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    ایران میں رہنے والے افغان باشندوں کے پاس کئی طرح کی رہائشی دستاویزات ہیں جن میں منصوبہ بندی اور مردم شماری کے کاغذات بھی شامل ہیں۔

    کچھ افغان تین ماہ کے سیاحتی ویزے پر ایران کا سفر کرتے ہیں جس میں دو بار توسیع کی جاسکتی ہے۔ ان کے متعدد ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے یا ان کی معیاد میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

    حالیہ برسوں میں، ایران میں بہت سے افغان بچوں نے ’ایجوکیشنل سپورٹ پیپر‘ کے ساتھ سکولوں میں اندراج کرایا ہے لیکن ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، تہران کے محکمہ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ ’افغان پناہ گزین طالب علم جن کے پاس مردم شماری کے کاغذات ہیں اور افغانستان واپس جانے کے لیے ضروری کاغزات موجود ہیں وہ نئے تعلیمی سال کے لئے اندراج نہیں کرسکتے ہیں۔‘

    جن لوگوں کے پاس ایرانی وزارت محنت کی جانب سے ورکر کارڈ ہے انھیں ایران چھوڑنے کے خط کے علاوہ افغانستان میں ایرانی سفارت خانے اور قونصل خانے کے لیے ایک اور خط دیا جاتا ہے تاکہ وہ ویزا حاصل کرکے واپس آسکیں لیکن ان افراد کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ افغانستان سے ایرانی ویزا حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔

    ایرانی وزارت داخلہ نے ایران میں تعلیم حاصل کرنے والے اور جن کی تعلیم اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، ان علما کو بھی ملک چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔

  12. ہم حماس کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے: اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی جنگ میں جنگ بندی کے لیے دباؤ کے باوجود فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نے غزہ کی شمالی سرحد کے قریب اشکلون شہر میں پائپ لائن تنصیب کے دورے کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو ہر حال میں رہا کروائیں گے اور حماس کو ختم کر دیں گے اور اس کا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔‘

    انھوں نے بڑے واضح انداز میں اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’ہم انھیں مکمل طور پر تباہ کر دیں گے، انھیں جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں گے۔‘

    واضح رہے کہ رواں ماہ دو مئی کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لئے ’ضروری شرائط‘ پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔‘

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے دوران ’ہم جنگ کے خاتمے کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘

    اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ میں فوجی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ حماس کے اسرائیل پر حملے کے نتیجے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اس کے بعد سے جاری اسرائیلی افواج کے حملوں سے متعلق حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت تک غزہ میں کم از کم 56,647 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. ٹرمپ کا امریکی مرکزی بینک کے سربراہ سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو بینک کے سربراہ جیروم پاول سے فوری طور پر مستعفی ہونے کو کہا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’اب بس اور نہیں، انھیں فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘

    ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران پاول کو فیڈرل ریزرو بینک کا چیئرمین نامزد کیا تھا۔ ٹرمپ بارہا پاول پر شرح سود میں کمی نہ کرنے پر تنقید کر چکے ہیں۔

    پاول پر ان کی مسلسل تنقید کے باوجود، صدر نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ ان کا ’پاول کو برطرف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

    ٹرمپ چاہتے ہیں کہ وفاقی ریزرو بینک اقتصادی ترقی کو بڑھانے کے لیے شرح سود کو کم کرے۔ دریں اثنا، پاول نے منگل کو کہا کہ اگر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں سے معیشت متاثر نہ ہوتی تو مرکزی بینک پہلے ہی شرح سود میں کمی کر چکا ہوتا۔

    1935 میں امریکی سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کے مطابق فیڈرل ریزرو جیسی آزاد وفاقی ایجنسیوں کے بورڈ ممبران کو ان کی مدت ختم ہونے سے پہلے بغیر کسی جواز کے برطرف نہیں کایا جا سکتا۔

    تاہم، ٹرمپ اکثر سیاسی اصولوں کو چیلنج کرتے رہے ہیں، جن میں کچھ آزاد ریگولیٹرز کو برطرف کرنا بھی شامل ہے، ایسے اقدامات جن کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔

  14. تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں: رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت گرانے کے بارے میں قطعی طور پر غور نہیں ہورہا۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے آنے والے دنوں میں احتجاج کی کال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’اگر پی ٹی آئی پرامن احتجاج کرے گی تو احتجاج ان کا جمہوری حق ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’حکومت نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی متعدد بار پیشکش کی ہے۔ وزیراعظم نے ایک ماہ میں 3 مرتبہ پی ٹی آئی کو کہا کہ ہمیں بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، تاہم پی ٹی آئی مسلسل مذاکرات سے انکاری رہی ہے۔‘

    رانا ثنا اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو کہا کہ سیاسی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مذاکرات جب بھی ہونے ہیں، وہ سیاسی حکومت، سیاسی جماعت اور قیادت کے درمیان ہونے ہیں، اگر سیاسی مسائل کا حل نکلنا ہے تو وہ سیاسی قیادت سے بات چیت کے ذریعے ہی نکلنا ہے۔‘

    انھوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی سنہ 2018 میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئی تھی، پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کو دوبارہ کندھوں پر اٹھا کر اقتدار دے، پی ٹی آئی کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔‘

    نو مئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی اپنی صوبائی حکومتیں نہ توڑتی تو شاید 9 مئی بھی نہ ہوتا، ان کا رویہ جمہوری نہیں، پی ٹی آئی جمہوریت کو ڈائیلاگ سے نہیں ڈیڈلاک سے چلانا چاہتے ہیں۔‘

    وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ ’حزب اقتدار اور حزب اختلاف گاڑی کے دو پہیے ہیں، پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ایک ہی پہیے پر گاڑی چلانے کی کوشش کی، وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو کہا کہ آپ بھلے میرے پاس نہ آئیں، سپیکر چیمبر میں بات کرلیں میں وہاں آجاؤں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات میں موجود تھا، اس میں خیبر پختونخوا کی حکومت گرانے کی کسی نے بات نہیں کی۔‘

  15. امریکی حملے نے ایران کا جوہری پروگرام ایک سے دو سال پیچھے دھکیلا ہے: پینٹاگون

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ ان کے ملک کے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی دہائیوں تک پیچھے دھکیل دیا ہے، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بدھ کے روز کہا کہ امریکی فوج کے حملوں نے اس پروگرام کو صرف دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے کم از کم ایک سے دو سال تک ان کے پروگرام کو بڑھنے سے روکا ہے۔

    تاہم پارنیل کا کہنا تھا کہ ’ہماری خفیہ اطلاعات کے مطابق ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ایران کی تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔‘

    22 جون کو امریکہ کے بی ٹو بمبار طیاروں نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملے کیے جن میں بنکر بسٹر بم اور 20 سے زائد ٹاما ہاک کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

    تاہم ابتدائی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے لیک ہونے والے خلاصے نے اس وقت شکوک و شبہات کو جنم دیا جب اس میں کہا گیا تھا کہ حملوں نے پروگرام کو صرف مہینوں پیچھے دھکیلا ہے اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کیا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انھیں ایسی کسی انٹیلی جنس معلومات کا علم نہیں ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہو کہ ایران نے امریکی حملوں سے بچانے کے لیے افزودہ یورینیم کو حملے کا نشانہ بننے والی تنصیبات سے کسی اور مقام پر منتقل کیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا تھا کہ ’امریکی حملے تباہ کن تھے۔‘

  16. گزشتہ روز کی خبروں پر ایک نظر

    • پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک دہائی سے زائد عرصے میں ’پاکستان فضائیہ کے کسی حاضر سروس سربراہ کا یہ امریکہ کا پہلا دورہ ہے جس کا مقصد دو طرفہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور باہمی مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔‘
    • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی کا پروگرام جاری رکھے گا لیکن اس کی جوہری ہتھیار بنانے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔
    • انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نو مئی کی رات جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم نریندر مودی کو فون کیا تو اُس وقت وہ اُس کمرے میں موجود تھے جہاں یہ بات ہوئی۔
    • وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان خیبر پختونخوا حکومت گرانے کے حق میں نہیں ہیں اور کسی طرف سے ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ تمام اداروں اور ریاست کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ ان کی حکومت نہیں گرا سکتے۔
    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے حاضر سروس سیشن جج راجہ امتیاز احمد کو توہین عدالت کے جرم میں تین دن قید کی سزا سناتے ہوئے کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فل بینچ نے، چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں بدھ کے روز یہ فیصلہ سنایا۔
    • باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ باجوڑ کے پولیس افسر وقاص رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے میں گاڑی پر بم دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔