12 روزہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد ایران سے
افغان پناہ گزینوں کی گرفتاری اور ملک بدری میں تیزی آئی ہے۔
ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق
افغان باشندوں کی گرفتاری کا عمل جنگ کے دنوں میں بھی نہیں رکا۔ ایرانی حکومت نے ’غیر
قانونی‘ افغان باشندوں کی واپسی کے لیے گزشتہ مارچ میں ڈیڈ لائن کا اعلان کیا تھا
لیکن اسرائیل ایران جنگ کے بعد اس عمل میں غیر معمولی شدت آ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے
مہاجرین کے مطابق وطن واپس لوٹنے والوں میں سے 70 فیصد کو زبردستی ملک بدر کیا گیا
ہے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
افغانستان میں پناہ گزینوں کے لیے
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر عرفات جمال کا کہنا ہے کہ ’سرحدوں پر وطن واپس آنے والے
افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اب ان کے لیے انتظامات میں شدید مُشکلات
کا سامنا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بعض
اوقات ایران سے ایک ہی وقت میں پانچ بسیں آتی ہیں، جن میں مرد، خواتین اور بچے
ہوتے ہیں جو بھوک اور سفر کی تھکاوٹ اور مُلک بدری کے صدمے کی وجہ سے بے حال ہوتے
ہیں۔‘
ایران میں مقیم افغان باشندوں کا
کہنا ہے کہ ’ملک بدری کی نئی لہر کے ساتھ میڈیا میں پروپیگنڈا کی وجہ سے سڑکوں اور
بازاروں میں ان کی توہین کی جاتی ہے اور ان پر ’اسرائیلی جاسوس‘ جیسے لیبل لگائے
جاتے ہیں۔‘
افغانستان میں طالبان کے نائب
وزیر اعظم عبدالسلام حنفی، جنھوں نے حال ہی میں اسلام قلعہ کراسنگ کا دورہ کیا تھا،
نے زور دے کر کہا ہے کہ ’پناہ گزین پر ظلم نہیں ہونا چاہئے اور کسی کے حقوق کی
خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہئے۔ یہ ایک اسلامی مُلک اور ہمسائے کی ذمہ داری ہے۔‘
روزانہ ہزاروں افراد دوغرون اسلام
قلعہ کراسنگ عبور کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایرانی سرحدی محافظوں کی جانب سے
بدسلوکی کی شکایت کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قانونی دستاویزات ہونے کے
باوجود انھیں حراست میں لے لیا گیا اور ملک بدر کر دیا گیا۔
صرف گزشتہ ماہ جون میں دو لاکھ 30
ہزار سے زائد افغان پناہ گزین ایران سے افغانستان واپس آ چکے ہیں۔ اس سے قبل
ایرانی حکومت نے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کے لیے 6 جولائی کی ڈیڈ
لائن مقرر کی تھی۔
پولیس کی مختلف چوکیوں
پر افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا
جنگ کے دوران، ایران کے اندر سے
ڈرون اور مائیکرو ایئرکرافٹ حملوں نے شاید اسرائیلی فضائی اور میزائل حملوں سے
زیادہ افراتفری پیدا کی۔ لہذا ، مائیکرو ائیرکرافٹس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ
منتقلی کو روکنے کے لیے بڑے شہروں خاص طور پر تہران میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے
تھے۔
چیک پوسٹوں پر رہائشی دستاویزات
کے بغیر افغان باشندوں کو شدید مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ افغان باشندوں کی جانب
سے بی بی سی کو بھیجے گئے پیغامات میں یہ بتایا گیا کہ تہران میں کچھ چیک پوائنٹس
پر جانچ پڑتال کے لیے ان کے موبائل فون ضبط کر لیے جاتے اور خود انھیں ڈرایا
دھمکایا جاتا رہا۔
ایک افغان پناہ گزین کا کہنا ہے
کہ ’ایران میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد کا مستقبل واقعی تاریک دکھائی
دیتا ہے‘ اور ’پولیس کا رویہ سفاکانہ اور ذلت آمیز ہے اور اب انھوں نے بسیج (ایرانی
رضا کار فورس) کو افغان باشندوں کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری بھی سونپ دی ہے۔‘
ایک افغان شہری نے تہران سے اپنے
پیغام میں کہا ہے کہ ’تہران میں افغان باشندوں کی گرفتاری کی صورت حال بہت خراب
ہے۔ پولیس ایسی چھوٹی سے چھوٹی ورکشاپ پر بھی چھاپے مار رہی ہے کہ جہاں وہ افغانستان
سے تعلق رکھنے والے افراد کو کام کرتے ہوئے دیکھتی ہے۔‘
افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر
پابندی کے بعد بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ایران چلے
گئے لیکن ان میں سے کچھ کے ویزوں کی تجدید نہیں ہوئی اور انھیں حالیہ دنوں میں
جبری جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال
یونیسیف کا کہنا ہے کہ ملک بدری کے دوران پانچ ہزار سے زائد افغان بچوں کو ان کے
اہل خانہ سے الگ کر دیا گیا ہے۔
افغان اسرائیل کے
خلاف سکیورٹی ناکامیوں کا شکار
ایران میں افغان پناہ گزین تیسری
نسل تک پہنچ چکے ہیں لیکن ایران میں پیدا ہونے والے افغان افراد بھی حقوق سے محروم
ہیں اور انھیں ایرانی شہریت سے محروم رکھا جاتا ہے۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد
ایران جانے والے افغان پناہ گزینوں کو بینک اکاؤنٹ کھولنے اور سم کارڈ خریدنے میں
مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران میں افغان باشندوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی انتہائی
محدود ہیں اور وہ زیادہ تر یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس سال
دس لاکھ سے زائد افغانوں کو ایران اور پاکستان سے جبری طور پر واپس لایا گیا یا
ملک بدر کیا گیا۔
طالبان حکومت کے حکام کا کہنا ہے
کہ انھوں نے اس معاملے پر ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کی ہے۔
ہم ہمسایہ مُلک کے دشمن نہیں ہیں: ایرانی وزیر داخلہ
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے
حال ہی میں ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ’ان میں سے بہت سے افغان محنتی ہیں، وہ سخت
محنت کرتے ہیں اور ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ہم اپنے ہمسایہ مُلک کے دشمن
نہیں ہیں۔ ہماری ایک مشترکہ ثقافت ہے، ہماری ایک مشترکہ تاریخ ہے، لیکن ہمارا ملک
اتنے سارے شہریوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کچھ
افغان جو خاص طور پر گزشتہ دو یا تین سالوں میں ایران میں داخل ہوئے وہ کسی خاص مقصد
کے ساتھ آئے۔‘
کتنے افغان کن
دستاویزات کے ساتھ ایران میں موجود ہیں؟
حکام کے مطابق ایران میں تقریباً
60 لاکھ افغان باشندے رہتے ہیں۔ ایران میں رہائشی دستاویزات کے بغیر لوگوں کی صحیح
تعداد واضح نہیں ہے، لیکن اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے اندازوں کے
مطابق حالیہ برسوں میں تقریباً 20 لاکھ افغان باشندے بغیر دستاویزات کے ایران میں پناہ
لیے ہوئے ہیں۔
ایران میں رہنے والے افغان باشندوں
کے پاس کئی طرح کی رہائشی دستاویزات ہیں جن میں منصوبہ بندی اور مردم شماری کے
کاغذات بھی شامل ہیں۔
کچھ افغان تین ماہ کے سیاحتی ویزے
پر ایران کا سفر کرتے ہیں جس میں دو بار توسیع کی جاسکتی ہے۔ ان کے متعدد ویزوں کی
میعاد ختم ہو چکی ہے یا ان کی معیاد میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں، ایران میں بہت
سے افغان بچوں نے ’ایجوکیشنل سپورٹ پیپر‘ کے ساتھ سکولوں میں اندراج کرایا ہے لیکن
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، تہران کے محکمہ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ ’افغان
پناہ گزین طالب علم جن کے پاس مردم شماری کے کاغذات ہیں اور افغانستان واپس جانے
کے لیے ضروری کاغزات موجود ہیں وہ نئے تعلیمی سال کے لئے اندراج نہیں کرسکتے ہیں۔‘
جن لوگوں کے پاس ایرانی وزارت
محنت کی جانب سے ورکر کارڈ ہے انھیں ایران چھوڑنے کے خط کے علاوہ افغانستان میں
ایرانی سفارت خانے اور قونصل خانے کے لیے ایک اور خط دیا جاتا ہے تاکہ وہ ویزا
حاصل کرکے واپس آسکیں لیکن ان افراد کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ افغانستان سے ایرانی
ویزا حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔
ایرانی وزارت داخلہ نے ایران میں
تعلیم حاصل کرنے والے اور جن کی تعلیم اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، ان علما کو
بھی ملک چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔