آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پہلگام واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات میں ترکی شامل ہوا تو پاکستان خیرمقدم کرے گا: شہباز شریف

شہباز شریف سنیچر کے روز ترکی کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے غیر جانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات میں پاکستان مکمل تعاون کرے گا اور اگر ترکی اس میں شامل ہوتا ہے تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات میں ترکی شامل ہوا تو پاکستان خیرمقدم کرے گا
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے ایل او سی کے قریب مقیم آبادی کے لیے دو ماہ کی اضافی خوراک ذخیرہ کرنا شروع کر دی
  • انڈیا نے پاکستان سے درآمدات پر مکمل پابندی عائد کر دی جبکہ پاکستان سے ہر قسم کی ڈاک، پارسلزکی ترسیل معطل کرنے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا
  • پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل ابدالی ویپن سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے جو 450 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے
  • امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انڈیا نے متنازع کشمیر کے علاقے میں حالیہ حملے کے جواب کسی قسم کی عسکری کارروائی کی تو اس کے ممکنہ طور پر تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی فوج کا دمشق میں صدارتی محل کے قریب حملہ: ’یہ کارروائی دروز برادری کی حمایت میں کی گئی ہے‘ اسرائیل

    اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے دارالحکومت دمشق میں صدارتی محل سے متصل علاقے پر بمباری کی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملہ دروز اقلیت کی حمایت کے لیے کیا گیا ہے۔‘

    دمشق کے علاقے دروز میں کئی دنوں سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔

    بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ یہ حملہ شامی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اسرائیل ’جنوبی دمشق میں فوج کی تعیناتی یا دروز برادری کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کی اجازت نہیں دے گا۔‘

    تاہم شام کی حکومت نے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ لیکن اس سے قبل شامی حکومت کی جانب سے مُلک میں ’غیر ملکی مداخلت‘ کی تردید کی تھی جب بدھ کے روز دمشق کے جنوب میں یہ حملہ ہوا تھا۔

    شامی دروز کے روحانی پیشوا شیخ حکمت الحری نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی برادری کے خلاف ’غیر منصفانہ نسل کشی کی مہم‘ قرار دیا ہے اور ’امن برقرار رکھنے کے لئے بین الاقوامی قوتوں‘ کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

    شام کی حکومت نے کہا ہے کہ ’اس نے دروز کے علاقوں میں ’غیر قانونی گروہوں‘ سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا ہے جن پر ان پرتشدد کارروائیوں کو بھڑکانے کا الزام ہے۔‘

    سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق دمشق کے جنوبی مضافات میں واقع قصبے اشرفیہ ساہنیا اور دروز کی آبادی والے جمنا اور جنوبی دروز اکثریتی صوبے سویدا میں اس ہفتے کم از کم 102 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 65 دروز برادری کے لوگ شامل ہیں جو بدھ کے روز سویدا سے دمشق جاتے ہوئے شامی حکومت کی سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے۔

  2. پاکستانی فوج کی سپیشل کور کمانڈرز کانفرنس: ’جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا‘

    پاکستانی فوج کی سپیشل کور کمانڈرز کانفرنس میں شرکا کی جانب سے اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت منعقد ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس میں خطے کی موجودہ صورتحال بالخصوص پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی اور علاقائی سلامتی کا جائزہ لیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس میں پاکستان کی مسلح افواج کی کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کے خلاف ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کے لیے اپنی عوام کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے تمام محاذوں پر چوکنا رہنے اور فعال تیاریوں کی اہمیت پر زور دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے دوران اس بارے میں بھی بات ہوئی کہ انڈین فوج کی ایل او سی پر بلا اشتعال کارروائیاں علاقائی کشیدگی کو بڑھاتی ہیں، جس کا مؤثر اور مناسب جواب دیا جائے گا۔

  3. فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے والے سماجی کارکُنان کے بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    غزہ جانے کی کوشش کرنے والے سماجی کارکُنان کا کہنا ہے کہ مالٹا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اُن کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے سے متعلق اُن کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر اس حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

    اسرائیل کے فلسطین کے خلاف اقدامات سے متعلق آواز اُٹھانے والی بین الاقوامی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز دی کانسینٹ کو جمعے کی صبح ڈرون طیاروں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔

    بی بی سی کو فلوٹیلا کے بحری جہاز سے ہنگامی کال کی ریکارڈنگ بھیجی گئی تھی، جسے قریبی آئل ٹینکر کے عملے کے ایک رکن نے ریکارڈ کیا تھا۔ اس ہنگامی کال میں فلوٹیلا جہاز کے کپتان کو ڈرون حملوں اور جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع دیتے ہوئے واضح طور پر سنا جا سکتا ہے۔

    مالٹا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بحری جہاز پر سوار تمام افراد اس حملے میں محفوظ رہے ہیں اور بحری جہاز پر لگ جانے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔

    فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا کہنا ہے کہ ’فلوٹیلا ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق آواز بلند کرنے والی سماجی کارکُن گریٹا تھنبرگ سمیت دیگر افراد کو لے کر غزہ جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے اور ناکہ بندی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو اُجاگر کرنا چاہتے ہیں۔‘

    فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بشمول ناکہ بندی اور ہمارے سویلین بحری جہاز پر بمباری پر جواب دیں۔‘

    تاہم ادارے کے اس بیان کے بعد اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حملے کی اطلاعات اور نوعیت کا جائزہ لے رہی ہے۔

    ویلیٹا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سماجی کارکُن گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ ’میں اس گروپ کا حصہ تھی جو آج غزہ جانے کے لیے اس بحری جہاز پر سوار ہوا۔ یہ وہ گروپ ہے کہ جو عزہ تک رسائی کے لیے راہداری کی بحالی اور غزہ پر اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے کو ختم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

    تھنبرگ نے مزید کہا کہ ’جہاں تک انھیں معلوم ہے جہاز ابھی بھی حملے کے مقام پر موجود ہے کیونکہ اسے وہاں سے منتقل کرنا ایک مُشکل کام ہے کیونکہ اس میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔‘

    مالٹا کی حکومت کا کہنا ہے کہ کشتی پر عملے کے 12 افراد اور چار کارکن سوار تھے جبکہ این جی او کا کہنا ہے کہ کشتی میں 30 کارکن سوار تھے۔

  4. انڈین حکومت کی جانب سے دی جانے والی مہلت کے بعد مزید 21 پاکستانیوں کی وطن واپسی، 50 دیگر پاکستانیوں کی آمد متوقع

    انڈین حکومت کی جانب سے ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اٹاری واہگہ بارڈر پر پھنسے تقریباً 21 پاکستانی شہری جمعہ کے روز زمینی راستے سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

    22 اپریل کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں عسکریت پسندوں کے ہونے والے حملے کے بعد انڈین حکومت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو دیے گئے تمام قسم کے ویزے منسوخ کر دیے گئے تھے اور انھیں 30 اپریل تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

    انڈیا کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈیا میں امرتسر اور پاکستان میں لاہور کے قریب واقع اٹاری واہگہ سرحد کو 30 اپریل تک کھلا رکھنے کے بعد جمعرات کو بند کردیا گیا تھا۔

    پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق تقریباً 70 پاکستانی شہری جمعرات کو سرحد پر پھنس گئے تھے کیونکہ ان کے لئے انڈیا چھوڑنے کی ڈیڈ لائن ایک دن پہلے ختم ہوگئی تھی۔

    بتایا جا رہا ہے کہ جمعہ کی دوپہر 12 بجے تک پاکستان میں داخل ہونے والے 21 پاکستانی شہری انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کے باہر سڑکوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔

    مزید یہ کہ جمعے کے روز 50 پاکستانی شہری انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کے باہر موجود ہیں کہ جنھیں کسٹمز اور امیگریشن حکام کی کلیئرنس کے بعد پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

    پاکستان کی جانب سے جمعہ کے روز یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ انڈیا میں پھنسے اپنے شہریوں کے لئے وطن واپس آنے کے لیے واہگہ بارڈر کے استعمال کی اجازت دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق بچوں سمیت پاکستانی شہریوں کے انڈیا کی طرف اٹاری سرحد پر پھنسے ہونے کی خبروں کا علم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ جانتے ہیں کہ کچھ پاکستانی شہری اٹاری میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر انڈین حکام انھیں اپنی طرف سے سرحد پار کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ہم اپنے شہریوں کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ واہگہ بارڈر مستقبل میں بھی پاکستانی شہریوں کے لیے کھلا رہے گا۔

  5. انڈین ایئرفورس کی ’لینڈ اینڈ گو‘ مشق: طیاروں کی گنگا ایکسپریس وے پر ٹیک آف اور لینڈنگ

    انڈین فضائیہ نے ریاست اُترپردیش کے اہم ضلع شاہجہاں پور میں ’لینڈ اینڈ گو‘ کے نام سے اپنی فضائی مشقوں کے دوران انڈین ائیر فورس نے اپنے طیاروں کو گنگا ایکسپریس وے پر ٹیک آف اور لینڈنگ کی مشقیں کیں۔

    انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق انڈین فضائیہ کی جانب سے ان مشقوں کے دوران جن طیاروں کا استعمال کیا گیا اُن میں رافیل، جیگوار، میراج اور دیگر طیاروں نے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔

    شاہجہاں پور میں گنگا ایکسپریس وے کے جس حصے پر انڈین فضائیہ کی جانب سے لینڈنگ اور ٹیک آف کی مشقیں کیں وہ ابھی زیرِ تعمیر ہے۔

    گنگا ایکسپریس وے پر فضائیہ کی ان مشقوں کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یہ جاننے کی کوشش کی جا سکے کہ آیا یہ ایکسپریس وے جنگی طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

    انڈین ائیر فورس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان گنگا ایکسپریس وے مُلک میں ایسی پہلی فضائی پٹی یا رن وے ہے کہ جسے رات اور دن کے اوقات میں ہنگامی صورتحال کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    تاہم دوسری جانب گزشتہ روز پاکستان بری فوج نے بھی ٹِلا فیلڈ فائرنگ رینج میں ’ہیمر سٹرائیک‘ کے نام سے فوجی مشقوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔

    پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ٹِلا فیلڈ فائرنگ رینج میں اس مشق کو جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور اسی دوران لڑاکا طیارے، فضا میں نشانہ بنانے والے فوجی آلات، طویل فاصلے تک مارکرنے والے توپ خانے سمیت دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا تھا۔

  6. گزشتہ روز سے اب تک کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    آئیے گزشتہ روز سے اب تک کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں حکومت کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق سکول و کالج کھلے ہیں تاہم کچھ مدرسے انڈیا کی جانب سے کسی ممکنہ حملے کے پیش نظر بند کردیے گئے ہیں جبکہ دیگر کے بارے میں مشاورت چل رہی ہے۔ حکومتی ترجمان پیر مظہر سعید شاہ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ لوگ اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہیں۔ کسی کو بھی انڈیا کی جارحیت کا کوئی خوف نہیں ہے تاہم لوگ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور تیار بھی ہیں۔
    • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر ایون گیلاس سکیرس کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی صورتحال کے حوالے سے پندرہ رکنی کونسل کا اجلاس جلد ہی بلوایا جائے گا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب میں سلامتی کونسل کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہمیں امید ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں مددگار ثابت ہوں گی۔
    • امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ حملے کے بعد انڈیا کے ردعمل سے بڑے پیمانے پر کوئی علاقائی تنازعہ پیدا نہی ہو گا۔ انھوں نے یہ بات جمعرات کو فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ انڈیا اس دہشت گرد حملے کا جواب اس طرح دے گا جس سے وسیع تر علاقائی تنازعہ پیدا نہ ہو۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مائیک والٹز کو قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے ہٹا کر اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے مائیک والٹز کی خدمات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اُن کی جگہ عارضی طور پر وزیرِ خارجہ مارکو روبیو قومی سلامتی کے مشیر کا اضافی چارج سنبھالیں گے جبکہ وہ بطور اعلیٰ سفارتکار اپنا کام جاری رکھیں گے۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔