اسرائیلی فوج کا دمشق میں صدارتی محل کے قریب حملہ: ’یہ کارروائی دروز برادری کی حمایت میں کی گئی ہے‘ اسرائیل
اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے دارالحکومت دمشق میں صدارتی محل سے متصل علاقے پر بمباری کی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملہ دروز اقلیت کی حمایت کے لیے کیا گیا ہے۔‘
دمشق کے علاقے دروز میں کئی دنوں سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔
بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ یہ حملہ شامی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اسرائیل ’جنوبی دمشق میں فوج کی تعیناتی یا دروز برادری کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کی اجازت نہیں دے گا۔‘
تاہم شام کی حکومت نے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ لیکن اس سے قبل شامی حکومت کی جانب سے مُلک میں ’غیر ملکی مداخلت‘ کی تردید کی تھی جب بدھ کے روز دمشق کے جنوب میں یہ حملہ ہوا تھا۔
شامی دروز کے روحانی پیشوا شیخ حکمت الحری نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی برادری کے خلاف ’غیر منصفانہ نسل کشی کی مہم‘ قرار دیا ہے اور ’امن برقرار رکھنے کے لئے بین الاقوامی قوتوں‘ کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
شام کی حکومت نے کہا ہے کہ ’اس نے دروز کے علاقوں میں ’غیر قانونی گروہوں‘ سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا ہے جن پر ان پرتشدد کارروائیوں کو بھڑکانے کا الزام ہے۔‘
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق دمشق کے جنوبی مضافات میں واقع قصبے اشرفیہ ساہنیا اور دروز کی آبادی والے جمنا اور جنوبی دروز اکثریتی صوبے سویدا میں اس ہفتے کم از کم 102 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 65 دروز برادری کے لوگ شامل ہیں جو بدھ کے روز سویدا سے دمشق جاتے ہوئے شامی حکومت کی سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے۔