لکی مروت میں امام مسجد کا قتل: ’نماز عشا کے دوران مسلح افراد نے انھیں مسجد سے باہر لے جا کر فائرنگ کی‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک مسجد کے پیش امام کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
یہ واقعہ سوموار کی شب لکی مروت کے علاقے پیزو میں پیش آیا ہے جس کی ایف آئی آر پیش امام ثنا اللہ خان کی اہلیہ کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔
تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
ایف آئی آر میں اہلیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ’میرے شوہر امام مسجد تھے۔ جب وہ سوموار کی شب عشا کی نماز پڑھانے کے لیے مسجد گئے تو تھوڑی دیر بعد فائرنگ کی آواز آئی۔ مجھے شک ہوا کہ ایسا نہ ہو میرے شوہر کوئی نقصان پہنچایا گیا ہو، میں گھر سے نکلی اور مسجد پہنچی جہاں دیکھا کہ میرے شوہر مسجد کے قریب خون میں لت پت پڑے ہیں۔‘
پولیس کے مطابق جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت مسجد میں عشا کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔
خاتون نے پولیس کو ایف آئی آر میں مزید بتایا کہ انھیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ مسلح افراد نماز کی ادائیگی کے دوران امام مسجد ثنا اللہ خان کو پکڑ کر مسجد سے باہر لائے، جہاں ان پر فائرنگ کر کے ان کا قتل کر دیا گیا۔ اہلیہ نے نامعلوم افراد کے خلاف اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق پہاڑ خیل پکہ کی ’مسجد سالار‘ میں عشا کی نماز ادا کی جا رہی تھی اور جب امام مسجد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو رہے تھے اسی دورانیے میں تین موٹر سائیکلوں پر سوار پانچ سے چھ مسلح افراد مسجد میں پہنچے اور امام مسجد کو مسجد سے باہر نکال لائے۔
پولیس کے مطابق مسجد میں موجود افراد نے مسلح افراد کو روکنے کی کوشش کی جس میں ناکامی ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ثنا اللہ خان مقامی مسجد میں امامت کے ساتھ ساتھ مقامی پرائیویٹ پبلک سکول میں انگریزی کے مضمون کے استاد بھی تھےاور اپنے گاؤں پہاڑخیل پکہ میں مقامی کمیٹی کے رکن بھی تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ثنا اللہ کی اہلیہ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امام مسجد کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ اُن کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی اور وہ ایک تعلیم یافتہ انسان تھے جنھوں نے سوگوران میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور کون تھے۔
دوسری جانب مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں مسلح افراد موجود ہیں جو دوسرے علاقوں سے آئے ہیں اور علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔
پیزو کہاں واقع ہے؟
لکی مروت میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں جہاں لکی شہر اور اس کے قریب دیہاتوں کے علاوہ انڈس ہائی وے پر واقع علاقے غزنی خیل، تتر خیل اور اور پیزو میں آئے روز پولیس اہلکاروں پر فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
اس علاقے میں کچھ عرصے سے مخبروں اور سہولت کاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ سال تشدد کے ان بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف پہلی مرتبہ ضلع لکی مروت کی پولیس نے احتجاجی دھرنا دیا تھا اور انڈس ہائی وے کو مسلسل کئی روز تک بلاک کر دیا تھا۔
ان کی حمایت میں بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس بھی پہنچ گئی تھی۔
پیزو میں لکی سیمنٹ فیکٹری واقع ہے جس میں علاقے کی بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار مہیا کیا گیا ہے۔ پیزو دراصل ایک درہ ہے اور یہاں سے ایک راستہ ڈیرہ اسماعیل خان اور دوسرا راستہ ٹانک کی طرف جاتا ہے جبکہ درہ پیزو کے ساتھ واقع پہاڑ پر سیمنٹ فیکٹری ہے۔
درہ پیزو کے قریب انگریز دور کا ایک سیاحتی مقام شیخ بدین واقع ہے جہاں وائلڈ لائف کا بڑا مرکز ہے۔