آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کرنا چاہتا، مستند جوہری امن معاہدے کو ترجیح دوں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ’ایران کو ٹکڑے ٹکڑے‘ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ تہران کے ساتھ ’مستند جوہری امن معاہدہ‘ کرنے کو ترجیح دیں گے۔

خلاصہ

  • ڈونلڈ ٹرمپ اور نتن یاہو کی ملاقات کے بعد امریکی صدر کی تجویز: امریکہ غزہ پر ’قبضہ‘ کر کے اس کی تعمیرِ نو کر سکتا ہے
  • مغربی کنارے میں فوجی چوکی پر ہوئے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں
  • فیس بُک اور واٹس ایپ پر جعلی خبریں پھیلانے کے الزامات کے بعد پنجاب میں نئے پیکا قانون کے تحت دو مقدمات درج
  • عمران خان کا جنرل عاصم منیر کو خط: ’اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے‘

لائیو کوریج

  1. لکی مروت میں امام مسجد کا قتل: ’نماز عشا کے دوران مسلح افراد نے انھیں مسجد سے باہر لے جا کر فائرنگ کی‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور

    خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک مسجد کے پیش امام کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

    یہ واقعہ سوموار کی شب لکی مروت کے علاقے پیزو میں پیش آیا ہے جس کی ایف آئی آر پیش امام ثنا اللہ خان کی اہلیہ کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

    تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    ایف آئی آر میں اہلیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ’میرے شوہر امام مسجد تھے۔ جب وہ سوموار کی شب عشا کی نماز پڑھانے کے لیے مسجد گئے تو تھوڑی دیر بعد فائرنگ کی آواز آئی۔ مجھے شک ہوا کہ ایسا نہ ہو میرے شوہر کوئی نقصان پہنچایا گیا ہو، میں گھر سے نکلی اور مسجد پہنچی جہاں دیکھا کہ میرے شوہر مسجد کے قریب خون میں لت پت پڑے ہیں۔‘

    پولیس کے مطابق جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت مسجد میں عشا کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔

    خاتون نے پولیس کو ایف آئی آر میں مزید بتایا کہ انھیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ مسلح افراد نماز کی ادائیگی کے دوران امام مسجد ثنا اللہ خان کو پکڑ کر مسجد سے باہر لائے، جہاں ان پر فائرنگ کر کے ان کا قتل کر دیا گیا۔ اہلیہ نے نامعلوم افراد کے خلاف اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق پہاڑ خیل پکہ کی ’مسجد سالار‘ میں عشا کی نماز ادا کی جا رہی تھی اور جب امام مسجد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو رہے تھے اسی دورانیے میں تین موٹر سائیکلوں پر سوار پانچ سے چھ مسلح افراد مسجد میں پہنچے اور امام مسجد کو مسجد سے باہر نکال لائے۔

    پولیس کے مطابق مسجد میں موجود افراد نے مسلح افراد کو روکنے کی کوشش کی جس میں ناکامی ہوئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ثنا اللہ خان مقامی مسجد میں امامت کے ساتھ ساتھ مقامی پرائیویٹ پبلک سکول میں انگریزی کے مضمون کے استاد بھی تھےاور اپنے گاؤں پہاڑخیل پکہ میں مقامی کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ثنا اللہ کی اہلیہ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امام مسجد کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ اُن کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی اور وہ ایک تعلیم یافتہ انسان تھے جنھوں نے سوگوران میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور کون تھے۔

    دوسری جانب مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں مسلح افراد موجود ہیں جو دوسرے علاقوں سے آئے ہیں اور علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔

    پیزو کہاں واقع ہے؟

    لکی مروت میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں جہاں لکی شہر اور اس کے قریب دیہاتوں کے علاوہ انڈس ہائی وے پر واقع علاقے غزنی خیل، تتر خیل اور اور پیزو میں آئے روز پولیس اہلکاروں پر فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    اس علاقے میں کچھ عرصے سے مخبروں اور سہولت کاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ سال تشدد کے ان بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف پہلی مرتبہ ضلع لکی مروت کی پولیس نے احتجاجی دھرنا دیا تھا اور انڈس ہائی وے کو مسلسل کئی روز تک بلاک کر دیا تھا۔

    ان کی حمایت میں بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس بھی پہنچ گئی تھی۔

    پیزو میں لکی سیمنٹ فیکٹری واقع ہے جس میں علاقے کی بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار مہیا کیا گیا ہے۔ پیزو دراصل ایک درہ ہے اور یہاں سے ایک راستہ ڈیرہ اسماعیل خان اور دوسرا راستہ ٹانک کی طرف جاتا ہے جبکہ درہ پیزو کے ساتھ واقع پہاڑ پر سیمنٹ فیکٹری ہے۔

    درہ پیزو کے قریب انگریز دور کا ایک سیاحتی مقام شیخ بدین واقع ہے جہاں وائلڈ لائف کا بڑا مرکز ہے۔

  2. 2023 کے یونان کشتی حادثے کے مرکزی ملزم لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار: ایف آئی اے

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 2023 کے دوران یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے اس واقعے میں مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس میں 250 سے زیادہ پاکستانیوں شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    ایک بیان میں ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل تھا اور انھیں لیبیا سے پاکستان آمد پر لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ملزم سال 2013 سے لیبیا میں مقیم تھا اور وہاں سے انسانی سمگلنگ کا نیٹ ورک چلا رہا تھا جس کے ذریعے وہ ’متعدد پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ بھیج چکا تھا۔‘

    ایف آئی اے نے ایک بیان میں کہا کہ ’ملزم شہریوں سے حاصل کردہ رقم سے منی لانڈرنگ کرتا تھا۔ ملزم کے بینک اکاؤنٹ سے آٹھ کروڑ روپے کی غیر قانونی ٹرانزکشن پکڑی گئی ہیں۔‘

    ادارے نے کہا کہ ملزم کے خلاف لاہور میں متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے اور اب ان سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز ورک نے کہا ہے کہ ’کشتی حادثات میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ معصوم جانوں سے کھیلنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایف آئی اے کی ٹیمیں لواحقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔۔۔ کشتی حادثات کے ذمہ دار انسانی سمگلروں کو سخت سزائیں دلوائی جائیں گی۔‘

    جون 2023 کے دوران یونان میں غیرقانونی تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 262 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں ایسے ایجنٹس کے خلاف بھرپور کارروائی کا وعدہ کیا گیا تھا جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

    اسی طرح دسمبر 2024 کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے پانچ پاکستانی شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں 13 سالہ محمد عابد بھی شامل تھے۔ عابد کے والد جاوید اقبال نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اُن کا بیٹا فیصل آباد ایئرپورٹ سے مصر اور پھر وہاں سے لیبیا پہنچا تھا۔ والد کے مطابق ان کے بیٹے نے لگ بھگ دو ماہ لیبیا میں قیام کیا جس کے بعد وہ اُس کشتی میں روانہ ہوا جو یونان میں ڈوب گئی۔

    ان کے مطابق ان کا بیٹا ضد کرتا تھا کہ ’اگر یورپ نہ بھجوایا تو گھر چھوڑ دوں گا۔‘

  3. عمران خان کا جنرل عاصم منیر کو خط: ’فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لکھے گئے ’کھلے خط‘ میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ’اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔‘

    پیر کو تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں کو بتایا تھا کہ عمران خان نے آرمی چیف کو خط لکھا ہے۔ اس خط کی تفصیلات رات گئے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق اس اکاؤنٹ پر جاری کردہ پیغامات جیل میں قید سابق وزیر اعظم کی ہدایت پر ہی جاری کیے جاتے ہیں۔

    اس خط میں عمران خان کا کہنا ہے کہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔‘

    آرمی چیف سے بطور سابق وزیر اعظم مخاطب ہو کر عمران خان نے کہا ہے کہ ’میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔‘

    ’ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ ’اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے: فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔‘

    یہ بھی پڑھیے

    سوشل میڈیا پر شیئر کردہ خط کی تفصیلات میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے دوران ’جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستانی فوج نے بارہا یہ بیان دیا ہے کہ اس کی جانب سے ملکی سیاست میں مداخلت نہیں کی جاتی۔ فوج اور موجودہ حکومت کی جانب سے متعدد بار تحریک انصاف کے الزامات کی تردید کی جا چکی ہے۔

    دریں اثنا عمران خان نے اپنے خط میں 26ویں آئینی ترمیم، پیکا قانون، تحریک انصاف کے رہنماؤں و کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن، معاشی عدم استحکام اور سیاسی انتقام کا ذکر کیا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔‘

    ’خط کا مقصد فوج کو کمزور کرنا ہے‘

    وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے عمران خان کے آرمی چیف کو لکھے گئے خط پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر عمران خان کو سیاسی جدوجہد کرنی ہے تو پارلیمنٹ میں کریں۔

    انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس خط کا مقصد ’فوج اور عوام میں فرق ڈالنا، فوج اور اُس کی کمان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور فوج کو کمزور کرنا ہے۔‘

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فوج کمزور ہوتی ہے تو کیا خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت رہے گی یا ان کی حکومت ہوگی جو سرحد پار بیٹھے ہیں۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ممکن ہے پی ٹی آئی کے بانی ’دانستہ طور پر پاکستان کو اس حادثے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ نے 26ویں آئینی ترمیم کا دفاع کیا اور عمران خان کی طرف سے عدالتی معاملات میں مداخلت جیسے الزامات کی تردید کی۔

    گذشتہ ماہ بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی تھی کہ ان کی عمران خان کی ہدایت پر پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  4. میکسیکو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے محصولات کا اطلاق ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیا

    میسکیو کی صدر کلاڈیا شینبام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر نے ان کے ملک کے لیے محصولات میں 25 فیصد اضافے کو ایک ماہ کے لیے موخر کر دیا ہے۔

    وہ اب س کچھ دیر بعد پریس کانفرنس بھی کریں گی۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ایکس پر انھوں نے لکھا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی اچھی گفتگو ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دونوں سربراہان کے درمیان ایک معاہدے کے بعد یہ طے پایا ہے۔

    اس معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میکسیکو اپنی سرحد پر 10 ہزار نیشنل گارڈ کے دستے فوری طور پر تعینات کرے گا۔

    ان گارڈز کو امریکہ میں اپنی سرحد سے منشیات کی سمگلنگ کو روکنا ہوگا۔ اس میں بطور خاص فینٹنل نامی نشہ آور دوا شامل ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    میکسیکو کی صدر کا کہنا ہے کہ امریکی ہم منصب نے بھی میکسیکو میں ہتھیاروں کی سمگلنگ کی روک تھام پر عزم کا اظہار کیا ہے۔

  5. ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی کے اطلاق کے پہلے روز امریکی مارکیٹس میں مندی

    امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا، میکسیکو اور چین پر محصولات کا اضافہ کرنے کے احکامات کے بعد کاروباری دن کے آغاز پر مارکیٹس میں مندی کا رحجان دیکھا جا رہا ہے۔

    امریکی وال سٹریٹ انڈیکسز مارکیٹ کے آغاز سے ہی مندی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔

    ڈو جانز کے پوائنس دو سو چھتر اعشاریہ پانچ پوائنٹ تک کم ہوئے، دی ایس اینڈ پی ستر اعشاریہ نو پوائنٹس تک گرے اور ناس ڈیک میں چار سو بارہ اعشاریہ ایک پوائنٹ کی کمی دیکھی گئی۔

    منگل کی صبح امریکہ کی کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو کی درآمدی اشیا پر 25 فیصد ٹیکس اور چین کی اشیا پر 10 فیصد ٹیکس لاگو ہو گیا۔

    جمعے سے کاروبار میں مندی کا رحجان دیکھنے میں آیا۔

    ڈوئچے بینک سے منسلک ماہرین نے عالمی فروخت کے بارے میں لکھا کہ ’ٹرمپ نے جو بھی کیا یہ وہی ہے جس کا وہ نومبر سے کرنے کو کہہ رہے تھے۔‘

  6. اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوسرے صوبوں سے تین ججز کے مزید آنے کے بعد تبدیلیاں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوسرے صوبوں سے تین ججز کے مزید آنے کے بعد اہم تبدیلیاں کی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی تبدیل کردی گئی ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین مقرر ہو گئے ہیں۔

    سینئیر پیونی جج جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو انتظامی کمیٹی کے ممبران مقرر ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس کی منظوری سے ایڈیشنل رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی بھی تبدیل کردی ہے۔

    نئی ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی سینئیر پیونی جج جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ہوگی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری سے ایڈیشنل رجسٹرار اعجاز احمد نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

  7. محصولات کی جنگ نے یورپی یونین کو اکھٹا کر دیا ہے، یورپی سربراہان کے پیغامات

    فرانسیسی صدر ایمانویل میخوان نے امریکی صدر کی جانب سے محصولات کے حوالے سے دی جانے والی دھمکیوں پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر یورپی یونین کے کمرشل مفادات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اسے اپنا احترام خود کرتے ہوئے اس پر ردعمل دینا ہو گا۔

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے حالیہ بیانات یورپ کو مزید مضبوط ہونے اور مزید یکجا ہونے کی جانب ابھار رہے ہیں۔

    پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو اس مکمل طور پر فضول محصولات کی جنگ سے بچنے کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے۔ انھوں نے یورپی یونین کے آگے بڑھنے کے لیے اتحاد پر بھی زور دیا۔

    یہ غالباً ایک غیر معمولی صورتحال میں جب ہم اپنے سب سے قریبی اتحادی کی جانب سے پے درپے سپرائزز سے نمٹ رہے ہیں یورپی یونین کے اتحاد اور یگانگت کے لیے اس قسم کا پہلا ٹیسٹ ہے۔

  8. ٹرمپ کی تجارتی دھمکیاں: ایک طرف کھڑا اگر کوئی ہنس رہا ہے تو وہ چین ہے: یورپی یونین فارن پالیسی چیف

    یورپی ممالک کے حکام کا ٹرمپ کی جانب سے محصولات کے بارے میں دی گئی دھمکیوں پر تیزی سے رد عمل سامنے آرہا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس میں کسی کی جیت نہیں ہے۔

    جرمن سربراہ اولاف شولز کا کہنا ہے کہ اس کا جواب یورپی یونین اپنے ٹیرف کی صورت میں دے سکتی ہے لیکن دونوں جانب کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ تجارتی معاہدے پر راضی ہو جائیں۔

    فرانس کے مرکزی بینک کے گورنر فرانسسکو ویلیروئے ڈی گل ہاؤ نے محصولات کو ظالمانہ کہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے معاشی عدم استحکام بڑھے گا۔

    سپین کے وزیر معیشت کارلوس کیورپو نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کو اتنا سادہ لوح نہ سمجھا جائے۔

    سپین کے ریڈیو آر این ای سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ عالمی مارکیٹ کی سپورٹ کرتا ہے لیکن یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ اس کا کاروبار بیرونی فریقوں کے ساتھ مساوی شرائط پر مقابلہ کر سکے۔

    برسلز میں یورپی رہنماؤں کی ایک میٹنگ کے بعد یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف کاجا کالاس نے رپوٹرز سے کہا کہ تجارتی جنگوں میں جیتنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ ہے تو پھر ایک طرف کھڑا اگر کوئی ہنس رہا ہے تو وہ چین ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ہمیں امریکہ کی ضرورت ہے اور امریکہ کو بھی ہماری ضرورت ہے۔

  9. عمران خان کا آرمی چیف کو خط پی ٹی آئی کا پالیسی شفٹ نہیں: بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آرمی چیف کو عمران خان کا خط ان کی جماعت کا پالیسی شفٹ نہیں ہے۔

    انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان نے آرمی چیف کو بطور سابق وزیر اعظم خط لکھا ہے۔

    ’عمران خان نے خط میں فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کی وجوہات بیان کی ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے کہ’ فوج اور عوام میں خلیج نہیں بڑھنی چاہیے۔ بانی نے سپہ سالار سے پالیسیز پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کا خط آج میڈیا کے سامنے آجائے گا۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’عمران خان نے کہا کہ کمرہ عدالت میں نو صحافیوں کو خط کی تفصیل بتائی ہے۔ افواج پاکستان بہت قربانیاں دے رہی ہیں۔ ‘

    بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ ’فراڈ الیکشن اور چھبیسویں آئینی ترمیم فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کی وجوہات ہیں۔‘

    ’عمران خان نے کہا ہے ساری چیزوں کا نزلہ فوج پر گررہا ہے، ہم انتشار نہیں چاہتے فوج ہماری ہے۔‘

    خیال رہے کہ عمران خان نے جمعے کو چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل خط لکھا تھا۔

  10. اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی ٹرانسفر اور سینیارٹی کے معاملے کو مکس نہ کریں: چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ججز کی ٹرانسفر آئین کے تحت ہوئی، اور آرٹیکل 200 کے تحت اچھا اقدام ہے تاہم انھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی ٹرانسفر اور سینیارٹی کے معاملے کو مکس نہ کریں۔

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے یہ بات پریس ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز ٹرانسفر پر بات کرنا چاہتا ہوں، اسلام آباد وفاق کی علامت ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ججز ٹرانسفر کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ مزید ججز بھی دیگر صوبوں سے آنے چاہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایک بلوچی بولنے والا جج آیا، سندھی بولنے والاجج آیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئے ججز کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سینیارٹی کا معاملہ جہاں تک ہے یہ معاملہ میرے پاس آئے گا میں اسے دیکھ لوں گا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے ٹرانسفر کے معاملے کو مکس نہ کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ ججز کی تعیناتی اور ٹرانسفر دونوں الگ معاملے ہیں، دوسرے صوبوں کے ججز کو بھی فیٸر چانس ملنا چاہیے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کسی ایک خاص کی نہیں پورے پاکستان کی ہے، اس اقدام کو ججز کو سراہنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں روزانہ 30 سے 40 کیسز سن رہا ہوں۔

    ’سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز کا بیک لاگ ختم کرنا ہے، ہمیں سپریم کورٹ میں مزید ججز کی ضرورت ہے۔

  11. ماضی کی بعض فاش غلطیوں کا ازالہ قوم کے بہادر جوان اور سپوت اپنے خون کا نذرانہ دے کے کر رہے ہیں: شہباز شریف, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بدقسمتی یہ ہے کہ ماضی کی بعض فاش غلطیوں کا ازالہ قوم کے بہادر جوان اور سپوت اپنے خون کا نذرانہ دے کر کر رہے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں امن و امان سے متعلق ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    اگرچہ وزیر اعظم نے ماضی کی غلطیوں کا ذکر تو کیا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ غلطیاں کونسی تھیں اور یہ کن لوگوں نے کیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ماضی میں نہیں جانا چاہتے ہیں لیکن قوم کو 78 سال میں جتنی اتحاد و اتفاق کی ضرورت آج ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ پوری قوم اور سیاسی قیادت سے درخواست کرتے ہیں وہ متحد ہوکر اپنی توانائی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف کریں۔

    اجلاس میں چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، حکومتی اقدامات اور درویش مسائل و چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے قلات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    انھوں نے بلوچستان میں جاری امن و استحکام کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکتا ہے، لیکن اگر کوئی بات چیت کے لیے تیار نہیں اور ریاستی قوانین کو چیلنج کر رہا ہے تو کسی بھی صورت تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    وزیر اعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست کی رٹ ہر حال میں برقرار رکھی جائے گی اور کسی کو بھی بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ’دشمن قوتیں جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کر رہی ہیں‘

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان کے خلاف منظم سازشیں ہو رہی ہیں، اور ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن تین مختلف محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے، اور اس کا ہر صورت مقابلہ کرنا ہوگا۔

    'بعض عناصر بندوق کے ذریعے تشدد کا راستہ اختیار کر رہے ہیں جبکہ ریاست کے خلاف نفرتیں پھیلانے کی سازشیں جاری ہیں'

    وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کے مسئلے کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتیں جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکومت اور ریاستی ادارے ان چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا بھرپور مقابلہ کریں گے ۔

    قبل ازیں وزیر اعظم سی ایم ایچ کوئٹہ گئے جہاں انھوں نے 31جنوری اور یکم فروری کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع قلات میں زخمی ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کی عیادت کی جو لہ پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی میں زخمی ہوئے تھے ۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم بلوچستان کے ضلع قلات میں 31جنوری اور یکم جنوری کی درمیانی شب عسکریت پسندوں کے بڑے حملے کے بعد کوئٹہ کا ایک روزہ مختصر دورہ کیا ۔

    اس حملے میں سیکورٹی فورسز کے 18اہلکار مارے گئے تھے جبکہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں 12 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے ۔

    عسکریت پسندوں نے ضلع قلات کی تحصیل منگیچر کے علاوہ منگیچر اور قلات کے درمیان کوئٹہ کراچی ہائی وے پر کئی گھنٹے تک کاروائی کی تھی ۔

    تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے کاروائی کرکے عسکریت پسندوں کے حملے کو ناکام بنایا تھا۔

  12. ڈالر کی قدر میں اضافہ مگر یورپی اور ایشیائی مارکیٹوں میں گراوٹ

    ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات سے متعلق منصوبے کے ردعمل میں ایشیا اور یورپی ممالک کی سٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے۔

    جاپانی کار کمپنیوں کے حصص کی قدر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ فرانس اور جرمنی کے مرکزی شیئر انڈیکسز میں قریب دو فیصد کی تنزلی ہوئی جبکہ لندن میں ایف ٹی ایس ای 100 شیئر انڈیکس 1.2 فیصد تک گِرا ہے۔

    جرمن کار کمپنی وولکس ویگن کے شیئرز کی قدر پانچ فیصد تک کم ہوئی ہے۔ کمپنی کے میکسیکو میں بھی آپریشنز ہیں جس کے باعث یہ محصولات سے متاثر ہوئی ہے۔

    یورپی یونین کے لیے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ وسیع پیمانے پر محصولات نافذ کریں گے یا چند اشیا پر۔ اگر وہ صرف کچھ مصنوعات پر محصولات لگاتے ہیں تو اس سے کم برآمدات متاثر ہوں گی مگر اس سے الگ قسم کے مسائل جڑے ہیں۔

    جرمن کار مارکیٹ اس اقدام سے متاثر ہو سکتی ہے حالانکہ بڑی کمپنیوں کی امریکہ میں پیداواری تنصیبات ہیں۔

    یورپی یونین کی معیشت کو پہلے ہی کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ گذشتہ ہفتے جرمنی کے وزیر معیشت کا کہنا تھا کہ ملک کی پیداوار سست روی کا شکار ہے۔

    خیال رہے کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ’لازمی‘ یورپی یونین پر محصولات عائد کرے گا۔

    چینی کرنسی یوآن کے مقابلے امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ کینیڈین ڈالر کی قدر 2003 کے بعد سے سب کے کم سطح پر پہنچ چکی ہے۔

  13. ٹرمپ کے محصولات کے اعلان کے بعد ایشیائی حصص کی قیمتوں میں کمی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات کے منصوبوں کے بعد پیر کو ایشیائی حصص میں گراوٹ آئی۔

    ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد، جاپان کا نکی 225 انڈیکس 2.6 فیصد، جنوبی کوریا کا کوسپی 2.5 فیصد اور آسٹریلیا کا اے ایس ایکس 200 انڈیکس 1.8 فیصد گر گیا۔

    نئے قمری سال کی تعطیلات کے موقع پر چین میں مارکیٹیں بند رہیں۔

    دریں اثنا، امریکی ڈالر مضبوط ہو رہا تھا، چین کے یوآن کے مقابلے میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گیا، جبکہ کینیڈین ڈالر 2003 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر گر گیا۔

    انویسٹمنٹ بینک سیکسو کے چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ چارو چنانا کا کہنا ہے کہ ’اگر ٹیرف قلیل مدتی ہتھیار کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی بن جاتے ہیں تو خطرات بڑھ جائیں گے۔‘

    ’کمپنیاں آپریٹنگ مارجن میں کٹوتی کرتے ہوئے زیادہ لاگت برداشت کرنے پر مجبور ہوں گی۔‘

  14. آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے پر ہو گا یا پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے پر بھی؟ سپریم کورٹ

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے کے خلاف جاری کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ کر رہا ہے۔

    جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلنز کا کورٹ مارشل کسی صورت نہیں ہو سکتا۔

    ان کا کہنا تھا ’خصوصی عدالتوں کا طریقہ کار شفاف ٹرائل کے تقاضوں کے برخلاف ہے۔ سپریم کورٹ کے تمام پانچ ججز نے خصوصی عدالتوں میں ٹرائل کے طریقہ کار کے شفاف ہونے سے اتفاق نہیں کیا۔‘

    اس موقعے پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ’کیا دھماکہ کرنے والے اور عام سویلنز میں کوئی فرق نہیں ہے؟‘

    اس پر خواجہ احمد حسین کا کہنا تھا ’میں کسی دہشتگرد یا ملزم کے دفاع میں دلائل نہیں دے رہا، سویلنز کا کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو اکیسویں ترمیم نہ کرنا پڑتی۔اس طرح کورٹ مارشل ممکن ہے تو عدالت کو قرار دینا پڑے گا کہ اکسیویں ترمیم بلاوجہ کی گئی۔اکسیویں ترمیم میں آرٹیکل 175 میں بھی ترمیم کی گئی‘۔

    انھوں نے مزید کہا ’خصوصی عدالتوں میں فیصلے تک ضمانت کا کوئی تصور نہیں۔خصوصی عدالتوں میں اپیل کسی آزاد فورم پر جاتی ہے نہ مرضی کا وکیل ملتا ہے۔‘

    سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ’ہمارے سامنے سوال صرف یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق کس پر ہوگا، خدانخواستہ دہشتگردی کا ایک حملہ پارلیمنٹ، ایک حملہ سپریم کورٹ اور ایک حملہ جی ایچ کیو پر ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر حملے کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت میں چلے گا۔ جی ایچ کیو پر حملہ ملٹری کورٹ میں چلے گا۔ میری نظر میں تینوں حملے ایک جیسے ہی ہیں تو تفریق کیوں اور کیسے کی جاتی ہے؟‘

    ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین کا کہنا تھا ’ عدالت ایسا دروازہ نہ کھولے جس سے سویلین کا خصوصی عدالتوں میں ٹرائل ہو۔‘

    ان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’عدالت کے سامنے ایک مسئلہ بنیادی حقوق اور دوسرا قومی سلامتی ہے۔ عدالت نے دونوں میں توازن پیدا کرنا ہو تو بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے، عدالتی فیصلہ برقرار رہا تو کسی ملزم یا دہشتگرد کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔ انسداد دہشتگری کا قانون موجود ہے جس میں گواہان کے تحفظ سمیت تمام شقیں ہیں۔ عدالت کسی بھی صورت سویلنز کو شفاف ٹرائل سے متصادم نظام کے حوالے نہیں کر سکتی۔‘

    آئینی بنچ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر عائد 20 ہزار روپے جرمانہ کا حکمنامہ واپس لے لیا۔ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی نظرثانی واپس لینے پر جرمانہ ختم کردیا گیا تھا۔

    سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین کے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنے بینچ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا کورٹ مارشل کیے جانے کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف حکومت کی اپیل پر اپ سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

  15. دیگر ہائی کورٹس سے تین ججوں کی اسلام آباد ہائی کورٹ منتقلی کے خلاف وکلا کی ہڑتال, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی تینوں بار کونسلز نے لاہور، بلوچستان اور سندھ ہائی کورٹس سے تین ججوں کی اسلام آباد ہائی کورٹ منتقلی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

    بار کونسلز کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ججوں کی منتقلی کا نوٹیفیکیشن واپس لیا جائے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ بار، اسلام آباد بار کونسل اور ڈسٹرکٹ کورٹس ایسوسی ایشن کی مشترکہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے اس خط کے ساتھ ہیں جس میں ملک کی دوسری ہائی کورٹس سے ججوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرانسفر کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہی لگایا جائے۔

    واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے دو روز قبل لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ سے ایک، ایک جج کا اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلہ کر دیا تھا جبکہ اس سے ایک روز قبل ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے دوسری ہائی کورٹ سے جج لا کر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس بنانے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    صدر زرداری نے آئین کے آرٹیکل 200 کی شق (ون) کے تحت تینوں ججوں کے تبادلے کیے ہیں جس کا نوٹی فکیشن وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر، سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس خادم حسین سومرو اور بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف کا اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلہ کیا گیا ہے۔

    آئین کے آرٹیکل 200 کے مطابق صدر ہائی کورٹ کے کسی بھی جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں منتقل کر سکتے ہیں، لیکن جج کو ان کی رضامندی اور صدر کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان اور دونوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسڑار آفس کی جانب سے جاری ججز روٹا کے مطابق ٹرانسفر ہونے والے ججز آج مختلف مقدمات کی سماعت کریں گے۔

    جسٹس سرفراز ڈوگر سنیارٹی میں دوسرے نمبر ہر آگئے ہیں جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی اب سنیارٹی میں تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔

    دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ بار نے ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرانسفر پر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ بار کا کہنا ہے کہ ‏وکلا ارجنٹ کیسز کے بعد عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔

  16. جلد ہی یورپی یونین پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا، اگر کینیڈا نے جوابی کارروائی کی تو محصولات میں مزید اضافہ کریں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جلد ہی یورپی یونین سے امریکہ آنے والی مصنوعات پر بھی درآمدی محصولات عائد کی جائیں گی۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’انھوں (یورپی یونین) نے ہمارا بہت فائدہ اٹھایا ہے۔‘

    ’وہ ہماری گاڑیاں نہیں خریدتے، ہماری زراعت کی مصنوعات نہیں خریدتے۔ وہ تقریباً کچھ بھی نہیں لیتے ہیں ہم سے۔ اور ہم تقریباً سب کچھ ہی لیتے ہیں اُن سے: لاکھوں گاڑیاں، بہت بڑی تعداد میں اشیائے خورد و نوش اور زرعی مصنوعات۔‘

    بی بی سی کی جانب سے سوال پر کہ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ یورپی یونین کی مصنوعات پر ٹیرف کا اعلان کب تک متوقع ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس کی ٹائم لائن تو نہیں دے سکتے لیکن یہ ’بہت جلد ہو گا۔‘

    ’دنیا میں تقریباً ہر ملک نے ہمارا فائدہ اٹھایا ہے۔ ہماری تقریباً ہر ملک کے ساتھ ہی تجارت خسارے میں ہے، ہر کسی کے ساتھ نہیں لیکن لگ بھگ سب کے ساتھ ہی، اور ہم اس صورتحال کو بدلنے جا رہے ہیں۔ یہ بہت ناانصافی ہے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں کیا وہ برطانیہ پر بھی ٹیرف لگانے جا رہے ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ ہماری تجارت ٹھیک نہیں، لیکن صورتحال پر کام کیا جا سکتا ہے۔‘

    ’اگر کینیڈا نے جوابی کارروائی کی تو محصولات میں مزید اضافہ کریں گے‘

    یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف (ٹیکس) عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی اسی شرح سے امریکی اشیا پر ٹیکس عائد کر دیا ہے۔

    کینیڈا کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر 106 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے کے اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈا نے جوابی کارروائی کی تو وہ کینیڈا کی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں کینیڈا کے لوگ بہت پسند ہیں لیکن کینیڈا کی لیڈرشپ سے ان کے اختلافات ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی میکسیکو سے ’مثبت بات چیت‘ ہوئی ہے۔

    تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر میکسیکو سے امریکہ میں منشیات اور تارکینِ وطن کی آمد بند نہ ہوئی تو ٹیرف میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    کینیڈا اور میکسیکو پر ٹیکس عائد کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک طرح کی جوابی کارروائی ہے۔‘

    ’میکسیکو اور کینیڈا کے ذریعے لاکھوں لوگ ہمارے ملک میں داخل ہوئے ہیں۔ اور ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

  17. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو سے امریکہ درآمد ہونے والی اشیا پر 25 فیصد جبکہ چین سے درآمدات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف یا ٹیکس عائد کر دیا ہے
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تمام چینی مصنوعات پر 10 فیصد محصولات عائد کرنے پر ردِعمل دیتے ہوئے چین نے امریکہ کے خلاف ڈبلیو ٹی او میں مقدمہ دائر کرنے اور جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے
    • کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا 155 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد محصولات عائد کر رہا ہے
    • میکسیکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میکسیکو کی حکومت منشیات کے سمگلروں کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ فراہم کرتی ہے
    • پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف سنیچر کے روز احتساب عدالت میں ایک ریفرنس دائر کیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ زمینوں پر قبضہ کر کے قومی خزانے کو 700 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا گیا ہے
    • خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں بلوچستان کی لیویز فورس کے چار اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے
  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔