یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
چھ فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ’ایران کو ٹکڑے ٹکڑے‘ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ تہران کے ساتھ ’مستند جوہری امن معاہدہ‘ کرنے کو ترجیح دیں گے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
چھ فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ’ایران کو ٹکڑے ٹکڑے‘ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ تہران کے ساتھ ’مستند جوہری امن معاہدہ‘ کرنے کو ترجیح دیں گے۔
بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹُرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ایران ایک عظیم اور کامیاب ملک بنے لیکن ایک ایسا ملک جس کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ اطلاعات کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہیں۔‘
’میں ایک ایسے مستند جوہری امن معاہدے کو ترجیح دوں گا جس کے تحت ایران آگے بڑھ سکے اور خوشحال ہو سکے۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ’ہم اس پر فوراً کام شروع کریں گے، جب یہ مکمل ہو جائے گا اور اس پر دستخط ہوجائیں گے تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑا جشن ہو گا۔‘
ماضی میں ایران اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ کیا تھا؟
یہ معاہدہ پی فائیو پلس ون (اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ جرمنی) اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ تھا جو کہ جنوری 2016 میں طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔
ایران نے اپنی یورینیم افزودگی اور ذخیرہ اندوزی پر پابندیاں قبول کرنے، متعدد جوہری مقامات پر تنصیبات کو بند کرنے یا ان میں ترمیم کرنے اور بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو تنصیبات کے دوروں کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا۔
اس کے بدلے میں، ایران پر سے کئی بین الاقوامی مالیاتی پابندیاں ہٹا دی گئیں تھیں۔ پی فائیو پلس ون کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دے گا۔
ایران کو امید ہے کہ پابندیوں کے خاتمے سے اس کی مشکلات کی شکار معیشت کو بڑے پیمانے پر فروغ ملے گا۔ معاہدہ ختم کیوں ہوا تھا؟ اس معاہدے پر براک اوباما کے دورِ صدارت میں دستخط کیے گئے تھے، لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس پہنچنے سے بہت پہلے واضح کر دیا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ‘بدترین معاہدہ‘ ہے۔
انھوں نے بار بار اسے ‘خوفناک‘ اور ‘مضحکہ خیز‘ قرار دیا تھا اور طنز کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں بھی شامل ہونی چاہیے تھیں اور یہ کہ معاہدے کی شرائط زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہیں گی۔
صدر ٹرمپ نے مئی 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی تھیں۔
اس کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی اس مقررہ حد سے زیادہ کرنا شروع کی جس کی اسے معاہدے میں اجازت تھی اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ساتھ اپنا تعاون کم کر دیا تھا۔
مصر اور فلسطینی اتھارٹی کے علاوہ بین الاقوامی برادری نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ پر ’قبضہ‘ کر کے اس کی تعمیر نو کر سکتا ہے۔
برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے دو ریاستی حل کے بارے میں بات کی گئی ہے۔
غزہ میں اس حالیہ جنگ سے قبل بھی حالات اچھے نہیں تھے اور یہاں زندگی گُزارنا انتہائی مُشکل تھا، برسوں سے خطے میں کسی داخل ہونا ہے اور کسے نہیں اس بات کا فیصلہ اسرائیلی اور مصری انتظامیہ نے کیا۔ تاہم اس بارے میں دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ ایسا سکیورٹی اور اپنی سلامتی کی غرض سے کیا جاتا رہا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق اگرچہ تقریباً دو تہائی آبادی غربت میں تھی اور ہزاروں افراد اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گزین کیمپوں میں رہتے تھے لیکن وہاں ہسپتال، سکول اور دکانیں بھی موجود تھیں۔
لیکن غزہ صرف 41 کلومیٹر (25 میل) لمبا اور 10 کلومیٹر چوڑا اور بحیرہ روم سے گھرا ہوا ہے اور اسرائیل اور مصر کے ساتھ بند سرحدیں ہیں، تاہم اب یہاں کا بڑا حصہ رہائش کے قابل نہیں ہے۔ پورے ضلع کو زمین بوس کر دیا گیا۔
زرعی زمین جہاں کبھی گرین ہاؤس ہوا کرتے تھے، اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے علاقے میں چھاپوں اور بھاری فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کی وجہ سے ریت اور ملبے میں تبدیل ہو گئی ہے۔
جنگ سے پہلے غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر اس کے چار اہم شہروں جنوب میں رفح اور خان یونس، مرکز میں دیر البلاح اور غزہ شہر میں رہتے تھے جو 775000 افراد کا گھر تھا لیکن اب تقریباً پوری آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ سے فلسطینیوں کی کسی دوسری جگہ منتقلی اور غزہ پر قبضے کے بعد اس کی تعمیر نو کی تجویز کے بعد سے ہم غزہ سے لوگوں کا اس بارے میں ردِ عمل جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
غزہ کی رہائشی جمالات وادی نے بی بی سی کو بتایا: ’میں اپنے گھر کی تعمیرِ نو کرنے اور اس میں رہنے کی منتظر ہوں اور نہ تو ٹرمپ نہ ہی کوئی اور ہمارے لیے اہمیت کا حامل ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب تک ہمارے بچوں میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی ہے، ہم غزہ سے باہر نہیں جائیں گے اور ہم ہمت نہیں ہاریں گے۔ ہم اسی ملبے پر زندہ رہیں گے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور پھر غزہ کی تعمیرِ نو ہو جائے گی۔‘
محمود باہجت کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے ٹرمپ کا بیان سنا تو ’میں نے خدا سے دعا کی کہ عرب ممالک ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کریں کیونکہ ہم یہیں پلے بڑھے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہماری زمین ہے اور ہم غزہ کے علاوہ کہیں اور نہیں رہ سکتے۔ غزہ ہماری زمین ہے ہم یہاں بڑے ہوئے ہیں، ہم اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ ہم ٹرمپ کے فیصلے (تجویز) کے خلاف ہیں۔ انھوں نے جنگ ختم کی لیکن ہمیں نقل مکانی پر مجبور کرنے سے ہماری زندگیاں ختم ہو جائیں گی۔‘
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک تعلقات بحال کرنے کے بارے میں بات نہیں کرے گا جب تک ایک نئی فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا۔
یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی تھی جس میں انھوں نے امریکہ کی جانب سے غزہ کی پٹی پر ’قبضہ‘ کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ریاض علیحدہ فسلطینی ریاست کا مطالبہ نہیں کر رہا۔‘
خیال رہے کہ ٹرمپ نے منگل کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کےساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دیے گئے ایک حیران کن بیان میں کہا تھا کہ امریکہ فلسطینیوں کو کہیں اور منتقل کرنے کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کرے گا۔
بدھ کو سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں فلسطینیوں کو غزہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے بارے میں ان کا مؤقف اٹل ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے زور دیا ہے کہ سعودی عرب کا مؤقف ’واضح اور دو ٹوک‘ ہے اور اس میں کسی بھی صورتحال میں مختلف ’تشریح‘ کی گنجائش نہیں ہے۔
خیال رہے کہ غزہ کی جنگ کے دوران بھی فلسطینیوں کو خدشہ تھا کہ یہ جنگ کہیں ایک اور ’نکبہ‘ کا پیش خیمہ ثابت نہ ہو۔ نکبہ دراصل سنہ 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے موقع پر لاکھوں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو کہا جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے اس دیرینہ مسئلے کے حوالے سے سعودی پالیسی ٹرمپ اور اسرائیل دونوں کے لیے بہت اہم ہے۔
امریکہ کی جانب سے کئی ماہ کی سفارت کاری کے ذریعے سعودی عرب کو اسرائیل سے تعلقات بہتر کرنے اور ملک کو تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اکتوبر 2023 میں غزہ کی حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ریاض نے اسرائیلی جارحیت پر عربوں کے غصے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس معاملے میں کو پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
سویڈن کے شہر اوربرو میں منگل کے روز ایک تعلیمی مرکز میں فائرنگ کا وقعہ پیش آیا ہے جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم اُلف کرسٹرسن نے اسے ’سویڈن کی تاریخ کا بدترین اجتماعی فائرنگ‘ کا واقعہ قرار دیا ہے۔
حملے کا نشانہ بننے والا تعلیمی مرکز ایسے افراد کے لیے ہے جنھوں نے پرائمری کی تعلیم مکمل نہیں کی ہوتی۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فائرنگ سے بچنے کے لیے طالبعلم ڈیسک کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد اب تک واضح نہیں لیکن انھوں نے کسی بھی ’نظریاتی‘ وجہ کو مسترد کر دیا ہے۔
بدھ کے روز پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فی الحال حملے میں زخمی ہونے والوں کی صحیح تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔
منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔
اب تک ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں:
برطانوی مصنف سلمان رشدی پر 2022 میں امریکہ کی ریاست نیو یارک میں ہونے والے حملے کے مقدمے کی سماعت کے لیے جیوری کا انتخاب شروع ہو گیا ہے۔
اگست 2022 میں سلمان رشدی پر امریکی ریاست نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو سے حملہ کیا گیا جس میں اُن کی گردن اور پیٹ پر وار کیے گئے تھے۔
سلمان رشدی پر حملے کے الزام میں امریکی ریاست نیو جرسی کے 26 سالہ رہائشی ہادی ماتر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ہادی صحتِ جرم سے انکاری ہیں۔
شاٹوکوا کاؤنٹی کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران سلمان رشدی ثبوت فراہم کریں گے اور ملزم کا سامنا کریں گے۔
مقدمے کی سماعت جنوری 2024 میں شروع ہونی تھی تاہم ملزم کے وکیل نے سماعت موخر کرنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سماعت سے قبل سلمان رشدی کی آنے والی کتاب جو کہ اس حملے کے بارے میں تھی کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔
اکتوبر 2024 میں سماعت ایک بار پھر اس وقت موخر کر دی گئی جب ہادی ماتر کے وکلا نے کیس کسی اور کاؤنٹی منتقل کرنے کی درخواست کی۔
ان کو خدشہ تھا کہ کیس کی مقبولیت اور شاٹوکوا کاؤنٹی میں عرب امریکیوں کی خاطر خواہ تعداد نہ ہونے کے باعث ٹرائل انصاف پر مبنی نہیں ہوگا۔ تاہم ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
منگل کے روز جیوری کے پانچ ارکان کا انتخاب ہو گیا ہے اور مزید ارکان کا اتخاب بدھ کے روز کیا جائے گا۔
2024 میں اپنے اوپر ہوئے قاتلانہ حملے کے دو سال بعد بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں سلمان رشدی نے اس حملے سے متعلق ڈرا دینے والی تفصیلات شیئر کی تھیں۔
سلمان رشدی بتاتے ہیں کہ (اس حملے کے نتیجے میں) اُن کی آنکھ باہر نکل آئی اور یہ اُن کے چہرے پر کسی ’اُبلے ہوئے نرم انڈے‘ کی مانند لٹکی ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آنکھ کھو دینے کی بات انھیں ’ہر روز پریشان کر دیتی ہے۔‘
ان کا مکمل انٹرویو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
’دی سٹینک ورسز‘ اتنی متنازع کیوں تھی؟
سلمان رشدی نے سنہ 1981 میں اپنے ناول ’مڈ نائٹ چلڈرن‘ سے شہرت حاصل کی۔ اس ناول کی صرف برطانیہ میں دس لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔
لیکن اُن کی چوتھی کتاب ’دی سٹینک ورسز‘ (شیطانی آیات) میں مذہب اسلام پر شدید تنقید کی گئی تھی اور اس میں درج تفصیلات کو گستاخانہ تصور کرتے ہوئے پاکستان سمیت بہت سے مسلم اکثریتی ممالک میں اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
ایران کے اُس وقت کے رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی نے سنہ 1989 میں سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور ان کے سر پر 30 لاکھ ڈالر کا اعلان کیا۔ یہ فتویٰ کبھی منسوخ نہیں ہوا۔ اس متنازع کتاب کے باعث مسلم دنیا میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
نتیجتاِ ابتدا میں تقریباً ایک دہائی تک سلمان رشدی کو روپوش رہنا پڑا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے باعث وہ مسلح محافظ کے پہرے میں رہتے رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر کہ وہ غزہ پر قبضہ کر کے وہاں کے رہائشیوں کو کسی ’خوبصورت زمین‘ پر دوبارہ آباد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اقوامِ متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور کا کہنا ہے کہ ’جو انھیں کسی خوشگوار، اچھی جگہ بھیجنا چاہتے ہیں، وہ انھیں اسرائیل میں ان کے اصل گھروں کو واپس جانے دیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اقوامِ متحدہ میں فلسطینی مشن کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ریاض منصور کا کہنا ہے کہ، ’ہمار وطن ہمارا ہے۔۔۔۔ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کرنا چاہتے ہیں، سکول، ہسپتال، انفراسٹرکچر - کیوں کہ ان کا یہیں سے تعلق ہے اور وہ یہیں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور میرے خیال میں رہنماؤں کو فلسطینی عوام کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب حماس کے ترجمان سمیع ابو ظہری نے امریکی صدر کے متنازع بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے ’بے تکا‘ اور ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، حماس کے ترجمان کا کہنا ہے، ’غزہ پر کنٹرول کی خواہش کے بارے میں ٹرمپ کا بیان بے تکا اور مضحکہ خیز ہے، اور اس طرح کی تجویز خطے میں دوبارہ آگ بھڑکا سکتی ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات ابتدائی مرحلے پر ہیں۔
منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے درمیان ملاقات کے بعد جب دونوں رہنما میڈیا سے بات کرنے آئے تو شاید ہی کسی کو امریکی صدر کی جانب سے ایسے بیان کی امید تھی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال کر ’اس پر حقیقی معنوں میں کام‘ کر سکتا ہے جیسے کہ ایسے بموں کو ہٹانا جو پھٹے نہیں ہیں، غزہ کی تعمیر نو اور اس کی معیشت کو دوبارہ متحرک کرنا۔
نامہ نگار برنڈ ڈیبسمین جونیئر بھی اس بریفنگ میں موجود تھے۔ ان کے مطابق وہاں موجود تمام میڈیا کے نمائندے ٹرمپ کے بیان پر حیرت زدہ تھے۔
زیادہ تر نمائندوں کو یہی امید تھی کہ ٹرمپ اور نتن یاہو کے مابین ہونے والی گفتگو کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی جائیں گی۔ لیکن اس بات کی امید تو بہت ہی کم لوگوں نے کی تھی کہ وہ غزہ کی پٹی پر قبضے کی بات کریں گے۔
آنے والے دنوں میں اس بارے میں بہت سارے سوالات اٹھائے جائیں گے اور دیکھنا یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس ان باتوں کی وضاحت کیسے دیتا ہے۔
یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ ٹرمپ کے ان بیانات نے بہت سارے لوگوں کے دماغوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہوگی۔ ان میں وہ ہزاروں امریکی ووٹرز بھی شامل ہیں جنھوں نے جو بائیڈن کو غزہ پر انکے موقف کی وجہ سے ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ٹرمپ امریکہ کی دہائیوں سے جاری مشرق وسطیٰ پالیسی بدلنے جا رہے ہیں: پال ایڈمز کا تجزیہ
بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار پال ایڈمز لکھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان ان کے اپنے معیار سے بھی کافی سر چکرا دینے والا تھا۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ غزہ کے بارے میں ان کی تجویز کو بہت حمایت حاصل ہے تاہم مشرقِ وسطیٰ میں اس کے آثار نظر نہیں آتے۔
صدر ٹرمپ نے فلسطینی علاقے مغربی کنارے کے مستقبل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہاں اسرائیل کی خودمختاری کی توثیق کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور اگلے چار ہفتوں میں اس بارے میں اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا دو ریاستی حل سے کوئی تعلق نہیں۔
کیا اس میں سے کچھ بھی واقعتاً ہوگا؟ ٹرمپ کے ہوتے اس بارے میں کچھ بھی حتمی طور پر کہنا ممکن نہیں۔
انھوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ دوبارہ ایسا ہی کچھ کرنے لگے ہیں۔
ٹرمپ بنا سوچے سمجھے چیزیں کہہ رہے ہیں – تجزیہ کار
مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو برائن کٹولس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر امریکی قبضے کا بیان بنا سوچے سمجھے دیا ہے اور امریکی صدر کا اس بارے میں کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ یہ سب باتیں بنا سوچے سمجھے کر رہے ہیں۔ واقعتاً اس کے پیچھے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی منصوبہ ہے بھی تو یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا آج کے مشرقی وسطی کی حقیقتسے کوئی تعلق نہیں۔ اور اس بارے میں فلیسطینیوں یا اس کے ہمسایہ ممالک جیسے کہ مصر اور اردن سےکوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔
کٹولس کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات دے کر ٹرمپ توجہ کا مرکز بننا چاہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی ٹرمپ نے ایسے ہی بیانات دیے تھے جس کا مقصد بحث شروع کرنا تھا۔
’مسئلہ یہ ہے کہ ان باتوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اس سے ہمیں ان کے مضحکہ خیز بیانات پر توجہ مرکوز دینے کے لیے کچھ وقت اور توانائی مل جاتی ہے، لیکن اس سے فلسطینیوں یا اسرائیلیوں کے لیے کوئی نئی حقیقت نہیں بنتی۔‘
سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے درمیان منگل کے روز ہونے والی ملاقات کے بعد سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ان کا فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق موقف اٹل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔
سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی ریاست کا جائز حق دیے بغیر دیر پا امن ممکن نہیں۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات بحال کرنے کی اپنی کوششوں کو دوبارہ شروع کرنا چاہیں گے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال کر ’اس پر حقیقی معنوں میں کام‘ کر سکتا ہے جیسے کہ ایسے بموں کو ہٹانا جو پھٹے نہیں ہیں، غزہ کی تعمیر نو اور اس کی معیشت کو دوبارہ متحرک کرنا۔
جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر پابندیوں سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں پہلے بھی پابندیاں عائد کرنا پسند نہیں تھا اور وہ ایران کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے خوبصورت عوام کے ساتھ ’ایک زبردست ڈیل‘ کرنا چاہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے کئی امریکی-ایرانی دوست ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’تباہ کن صورتحال‘ سے بچنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ لیکن وہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
منگل کے روز اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔
نتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال کر ’اس پر حقیقی معنوں میں کام‘ کر سکتا ہے جیسے کہ ایسے بموں کو ہٹانا جو پھٹے نہیں ہیں، غزہ کی تعمیر نو اور اس کی معیشت کو دوبارہ متحرک کرنا۔
امریکی صدر نے بنا کسی ثبوت کے دعویٰ کیا کہ فلسطینی صرف اسی لیے غزہ واپس جانا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ انھوں نے غزہ کو کسی تباہ شدہ علاقے سے تشبیہ دی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے جیسے حالات کی طرف واپس نہیں جا سکتے ورنہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایک خود مختار علاقے کا انتظام سنبھالنے کی بات کر رہے ہیں تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔
ان کہنا تھا کہ ’ہم اس علاقے کو اپنی زمین کی طرح اپنائیں گے، اس کو ترقی یافتہ بنائیں گے، ہزاروں نوکریوں کے مواقع پیدا کریں گے، یہ واقعی بہت شاندار ہوگا۔‘
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سب کو ان کا یہ آئیڈیا بہت پسند ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تجویز کے بارے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا آئیڈیا ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ غزہ کا ایک مختلف مستقبل دیکھتے ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیلی اور امریکی مغویوں کو واپس لانے میں مدد کی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی ہے جو بائیڈن انتظامیہ نے بند کردی تھی۔
نتن ہاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ جیت کر اس جنگ کو ختم کر دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی بھی جیت ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم امن جیتیں گے اور مشرق وسطیٰ کا ایک نیا مستقبل ترتیب دیں گے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین کے مشرق میں واقع قصبے تیاسیر میں ایک فلسطینی نے اسرائیلی فوجی چوکی پر فائرنگ کے واقعے میں دو فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے فوجیوں نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے خبر دی ہے کہ ایک مسلح حملہ آور چیک پوائنٹ سے ملحقہ فوجی علاقے پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوا جس میں مشاہداتی چوکیاں اور متعدد عمارتیں شامل ہیں۔
خبر کے مطابق اس حملے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں حملہ آور بھی مارا گیا۔
فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک نے اس حملے کو ’دلیرانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک مزاحمت جاری رہے گی۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے چوکی کو دونوں سمتوں سے بند کر دیا اور اس کے ارد گرد اسرائیلی فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر اور جاسوس طیاروں نے گورنری کے علاقے کے اوپر سے پروازیں کیں۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایک دہشت گرد نے تیسر میں فوجی چوکی پر فوجیوں پر فائرنگ کی اور پھر جوابی فائرنگ میں حملہ آور مارا گیا۔
بی بی سی کے یروشلم دفتر سے محمود ادامہ نے یہ خبر دی ہے کہ اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی فوجی تحقیقات کی بنیاد پر اطلاع دی کہ حملہ آور کے پاس فوجیوں کی نقل و حرکت اور ٹھکانے کے بارے میں درست انٹیلی جنس معلومات تھیں۔
ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق، مجرم رات کے وقت پیدل فوجی علاقے میں گھسنے میں کامیاب ہو گیا اور پھر اس نے صبح کے اوقات میں فوجیوں پر فائرنگ کر کے انھیں حیران کر دیا۔
گذشتہ رات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سرکاری فنڈ قائم کرنے کے عمل کو شروع کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ ایسے فنڈ ہوتے ہیں جو سرمایہ کاری کے لیے ممالک سرکاری سطح پر قائم کرتے ہیں۔ اس فنڈ میں سالانہ سرپلس فنڈ کو اس طرح شامل کیا جاتا ہے کہ جس سے مستقبل کی نسلوں کو فائدہ پہنچے۔
مثال کے طور پر سعودی عرب نے ایک ایسا فنڈ کھیلوں کی دنیا میں سرمایہ کاری کے لیے قائم کیا ہے جس کے تحت دنیا کے سرفہرست فٹ بالرز کو سعودی عرب لایا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اس فنڈ کے لیے رقم کہاں سے آئے گی مگر انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ تجویز دی تھی کہ اس فنڈ کو زیادہ ٹیرف عائد کر کے اور دیگر ’انیلیجنٹ‘ طریقوں سے مضوط اور مربوط بنایا جا سکتا ہے۔
اس حکمنامے پر دستخط کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ فنڈ چینی ملکیت والی کمپنی ٹک ٹاک جیسے مسئلے سے نمنٹے میں مدد دے سکتا ہے۔ ابھی امریکہ میں اس پلیٹ فارم میں پابندی میں ٹرمپ نے کچھ وقت مزید دے رکھا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس فنڈ سے کچھ خاص کرنے جا رہے ہیں شادی یہ ٹک ٹاک سے متعلق ہو یا اس سے متعلق نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے ایک اچھی ’ڈیل‘ کی تو پھر یقیناً ہم یہ تسلیم کر لیں گے وگرنہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم میں یہ سب پیسہ جمع کرا دیں۔‘
بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ بھانپ لیا ہے کہ چین اپنی قیمتی اور نہایت اہمیت کی حامل 25 زمینی معدنیات کی برآمد پر پابندی عائد کرنے جا رہا ہے۔
پیر کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ 300 بلین ڈالر امریکی امداد کے بدلے یوکرین ان بہت ہی نایاب معدنیات کی امریکہ کو فراہمی یقینی بنائے۔
ان میں سے کچھ دھاتیں جیسے ’آر ای ایم‘ متعدد الیٹریکل پروڈکٹ کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔
چین نے ’تنگسٹن‘ کو بھی ان معدنیات کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جن کی برآمد روک دی گئی ہے جو کہ ایروسپیس کی صنعت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اس کا متبادل بھی بہت مشکل ہے۔
اس چینی فہرست میں ’ٹیلیوریم‘ بھی ہے جس کا سولر پینلز اور مولیبڈینم میں استعمال کیا جاتا ہے جو کہ پینلز کے لیے بہت اہمیت کی حامل معدنیات ہیں۔
چین کا کہنا ہے کہ ان معدنیات پر عائد کی جانے والی پابندیوں سے اسے اپنے قومی سلامتی کے مفادات کو تحفظ ملے گا۔ بیجنگ خوب جانتا ہے کہ اس کی سپلائی کا متبادل بہت مشکل ہے۔
چین نے کیلون کلین اینڈ ٹومی ہلفیگر کی مالک امریکی کمپنی پی وی ایچ کو ناقابل بھروسہ ادارے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
کینیڈا کے شہر اونٹاریو کی ویسٹرن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل بزنس کے پروفیسر اندریس شوٹر کا کہنا ہے کہ ’یہ امریکی رٹیل کے خلاف چین نے اپنا ایک سیاسی ہتھیار استعمال کیا ہے۔‘
ان کے مطابق ماضی میں چین پر مزدور مخالف اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات لگتے رہے ہی ںاور اب چین یہ سب مغرب پر ڈال رہا ہے۔
پروفیسر کے مطابق یہ بحث ایک طرف رہ گئی کہ کیا یہ الزامات درست ہیں یا نہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ چین بھی اسی وکٹ پر کھیل رہا ہے یعنی اسی انداز میں ان معاملات پر مؤقف دے رہا ہے جیسے مغڑبی ممالک کرتے آئے ہیں۔
چینی حکام اب کیلون کلین کی فیکٹریوں میں میں جا کر ان کے طرز عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔ اب کیلون کلن کے لیے چین میں کاروبار کرنا مشکل تر ہو جائے گا۔
پروفیسر اندریس کے مطابق یہ امریکہ کی طرف سے جاری کردہ اقدامات کا نتیجہ ہے جس سے چین اور امریکہ میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے لیے بنائے گئے متنازع پیکا قانون کے تحت فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں دو مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پیر کو اوکاڑہ پولیس نے واٹس ایپ پر ڈکیتی کی جھوٹی خبر دینے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا۔ جبکہ اتوار کو ایف آئی اے نے مظفر گڑھ میں ایک شخص کو گرفتار کیا جس نے مبینہ طور پر اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر توہین مذہب کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔
ڈکیتی کی جھوٹی پوسٹ وائرل کرنے کے الزام میں پیر کو اوکاڑہ میں سوشل میڈیا پر پولیس نے ایک شخص کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ سب انسپکٹر کی مدعیت میں پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر واٹس ایپ گروپ پر جھوٹی خبر پھیلائی کہ ’10 سے 11 ملزمان ایک ہوٹل سے تین لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار، ملزمان میں لڑکیاں بھی شامل۔‘
مقدمے کے متن کے مطابق پولیس کو تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا اور اس حوالے سے مذکورہ ہوٹل نے بھی تصدیق کی۔
اتوار کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ ملتان نے سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب کی جھوٹی پوسٹ لگانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے کے متن کے مطابق ملزم نے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ کے ذریعے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے ’بھرے بازار میں گستاخی کی ہے‘ اور ان کے اس جھوٹے دعوے سے ’بدامنی پیدا ہوئی۔‘
خیال رہے کہ جنوری کے اواخر میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے لیے پیکا ترمیمی بل 2025 کی توثیق کی تھی۔
اس بل کے مطابق جو شخص آن لائن 'فیک نیوز' پھیلانے میں ملوث پایا گیا اسے تین سال قید یا 20 لاکھ تک جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
دی پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (ترمیمی) بل 2025 میں سیکشن 26 (اے) کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت آن لائن ’جعلی خبروں‘ کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے گی، ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلاتا ہے، یا کسی دوسرے شخص کو بھیجتا ہے، جس سے معاشرے میں خوف یا بد امنی پھیل سکتی ہے، تو اسے تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اس لیے خط لکھا ہے کیونکہ ’انھیں ملک کی فکر ہے۔‘
اسلام آباد میں عدالت پیشی کے موقع پر شبلی فراز سے ایک صحافی نے یہ سوال پوچھا کہ عمران خان کو آرمی چیف کو خط لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
اس کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ ’ڈھائی سال سے سیاسی عدم استحکام برپا ہے جس کی وجہ سے ملک نہ صرف رکا ہوا ہے بلکہ پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔‘
’خان صاحب نے اس لیے لکھا ہے کہ وہ پریشان ہیں، بطور ایک قومی رہنما کے۔ انھیں ملک میں منفی سرگرمیوں پر فکر ہے۔‘
گذشتہ روز عمران خان کے وکلا کی ٹیم کے رکن فیصل چوہدری نے بتایا تھا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں خط لکھنے کی اجازت ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ’اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے‘ اور یہ کہ ’عوام اور فوج کے درمیان فاصلہ بڑھ رہے ہیں۔‘
دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر عقیل نے اے آر وائے کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے تحریری طور پر فوج سے ’این آر او مانگا ہے۔ یہ چھ نکات یہی ہیں کہ مجھے معاف کرو، مجھے رہا کرو۔‘
وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’عمران خان ایک طرف اپنے حامیوں کو کہتے ہیں کہ فوج کا سیاست میں کردار نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اور پھر خط بھی لکھتے ہیں۔‘
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتی جس کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کو حل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بعض مبصرین کی رائے ہے کہ اس خط میں عمران خان کے لہجے اور الفاظ کے چناؤ میں تبدیلی آئی ہے۔ تجزیہ کار عاصمہ شیرازی اپنے وی لاگ میں کہتی ہیں کہ سابق وزیر اعظم نے بظاہر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔