آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, متحدہ عرب امارات کا ایران پر دو بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام، ’دونوں میزائل اماراتی سرزمین پر نہیں گرے‘

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے ملک کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا۔ پہلا میزائل امارات کی علاقائی حدود کے باہر گرا جبکہ دوسرا میزائل علاقائی پانیوں میں جا گرا۔‘

خلاصہ

  • وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سپریم کورٹ کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'اس فیصلے پر من و عن عمل' کیا جائے گا
  • ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکی کردار ادا کرنے کو تیار ہے: اردوغان کی ٹرمپ کو پیشکش
  • ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع ہیں، لیکن ابھی کوئی مفاہمت نہیں ہوئی: جیرڈ کشنر
  • ترک وزیرِ خارجہ کی آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایرانی وزیرِ خارجہ سے مشاورت
  • پاکستان نے انڈین وزیرِ داخلہ کا 'آئی ایس آئی کا حمایت یافتہ نیٹ ورک' تباہ کرنے کا دعویٰ مسترد کر دیا
  • عدالتی کمیشن نے زیارت حملے میں 31 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی انکوائری شروع کردی
  • ایران کے معاملے پر رکاوٹ بننے کی صورت میں عمان پر بمباری کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

لائیو کوریج

  1. جولائی میں غیر ملکی سرمایہ کاری گذشتہ سال کی نسبت 20 فیصد کم رہی: سٹیٹ بینک آف پاکستان, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 17 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی جو گذشتہ سال جولائی کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے۔ تاہم جون کے مقابلے میں جولائی میں 264 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    مرکزی بینک کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں بجلی اور مالیاتی شعبے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے والے نمایاں شعبے رہے۔

    بجلی کے شعبے میں جولائی کے دوران پانچ کروڑ 75 لاکھ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔ اس شعبے میں جون میں آٹھ کروڑ 68 لاکھ ڈالر جبکہ گذشتہ سال جولائی میں سات کروڑ آٹھ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔

    مالیاتی خدمات کے شعبے میں جولائی کے دوران چھ کروڑ 23 لاکھ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جو جون کے آٹھ کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں کم ہے، تاہم جولائی 2025 کے پانچ کروڑ 88 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری 34 فیصد کمی کے بعد 1.64 ارب ڈالر رہی تھی۔

  2. بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر نظرِثانی کے لیے رجوع کریں گے: اعظم نذیر تارڑ

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کا جائزہ لیا ہے اور اس فیصلے پر نظرِثانی کے لیے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا جائے گا۔

    ایک ویڈیو بیان میں اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم نامے کے دیگر نکات پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔

    وزیر قانون نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا سپریم کورٹ کا یہ حکم تمام قیدیوں پر بھی لاگو ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی جیلوں میں بہت سے ایسے قیدی موجود ہیں جنھیں صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

  3. ایران کی جانب سے دو بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں: متحدہ عرب امارات کا الزام

    متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ان میں سے کوئی بھی میزائل اماراتی سرزمین پر نہیں گرا۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے ملک کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا۔ پہلا میزائل امارات کی علاقائی حدود کے باہر گرا جبکہ دوسرا میزائل علاقائی پانیوں میں جا گرا۔‘

    ایران کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

  4. متحدہ عرب امارات میں ممکنہ میزائل حملے کا خطرہ، شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے ملک میں ممکنہ میزائل حملے کے خطرے کے پیشِ نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملکی افواج کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں تاکہ ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

    وزارتِ دفاع نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں شہریوں اور رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی تنبیہات اور تازہ اطلاعات پر عمل کریں۔

    وزارت نے کہا کہ مختلف علاقوں میں اگر کوئی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل کو روکنے اور خطرے سے نمٹنے کی کارروائیوں کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔

    وزارتِ دفاع نے مزید کہا کہ اس کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ملک اور اس کے علاقوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک الرٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث ممکنہ خطرہ موجود ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر کسی محفوظ عمارت میں پناہ لیں اور کھڑکیوں، دروازوں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں، جبکہ سرکاری ہدایات کا انتظار کریں۔

  5. یوکرین کی ’سو فیصد حمایت‘ جاری رکھیں گے: روسی دھمکیوں پر برطانوی وزیر اعظم کا ردعمل, پال کربی، بی بی سی نیوز

    وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ برطانیہ یوکرین کی ’سو فیصد حمایت‘ جاری رکھے گا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس نے حالیہ یوکرینی حملوں میں برطانوی ساختہ ڈرونز کے استعمال کی تصدیق کے بعد لندن کو ’نتائج‘ سے خبردار کیا تھا۔

    وزیر اعظم برنہم کا کہنا تھا کہ ’ہم موسم دیکھ کر دوستی نبھانے والے نہیں ہیں۔ ہم یوکرین کی ضرورت کی گھڑی میں اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور یہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔‘

    اس سے قبل برطانیہ میں روسی سفارت خانے نے برطانیہ پر ’یوکرین بحران کو جان بوجھ کر مزید بڑھانے‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

    روسی سفارت خانے نے کہا تھا کہ ’تنازع میں برطانیہ کی جتنی گہری شمولیت ہوگی، اسے اتنی ہی زیادہ قیمت چکانا پڑے گی۔‘

    یوکرین نے حالیہ عرصے میں ماسکو اور روس کے دیگر اندرونی علاقوں میں حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان حملوں میں خاص طور پر آئل ریفائنریز اور روس کی بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کے لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    روسی دھمکیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یوکرین کو اس قابل بنانے کے لیے مدد فراہم کر رہے ہیں کہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔ اس تنازع کے آغاز سے برطانیہ کا یہی مؤقف رہا ہے، گزشتہ وزرائے اعظم کے دور میں بھی اور میرے دور میں بھی یہ برقرار ہے۔‘

  6. ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو رہے، بحری ناکہ بندی برقرار ہے: صدر ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کوئی بات چیت طے ہے۔

    منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف ’بحری ناکہ بندی پوری طرح نافذ العمل اور برقرار ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور سب کچھ ’معمول‘ کے مطابق چل رہا ہے۔

    ’تمام بارودی سرنگیں یا تو ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔‘

  7. آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کی ’غلط فہمی‘ جلد دور ہو جائے گی: ایرانی نائب وزیر خارجہ

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ایک تصویر شائع کیے جانے پر ردِعمل دیا ہے، جس پر امریکی صدر نے ’نیو یو ایس ٹریٹری‘ (نئی امریکی سرزمین) لکھا تھا۔

    غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کی ’غلط فہمیً جلد دور ہو جائے گی۔

    انہوں نے مزید لکھا: ’جلد ہی آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کی غلط فہمی یا تو خود بخود دور ہو جائے گی یا پھر ہم اس گمراہ کن سوچ رکھنے والے شخص کی غلط فہمی دور کر دیں گے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تصویر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز، ایران کے بعض حصے، خلیج فارس اور خلیج عمان کا نقشہ دکھایا گیا تھا۔

  8. ثالث ممالک آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے بعد ایران اور امریکہ کو دوبارہ مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے: قطر

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے ممالک آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان معاہدے کے اعلان کا اعلان کر رہے ہیں۔

    ماجد الانصاری کے مطابق اس معاہدے کے بعد ہی واشنگٹن اور تہران کو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی پائلٹوں سے متعلق معاملے پر ایرانی وفد کو قطر آنے کی دعوت اب بھی برقرار ہے، تاہم تہران نے تاحال اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

    گذشتہ ہفتے ایران نے قطر پر الزام عائد کیا تھا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں طیاروں کے گرنے کے بعد اس نے ایرانی فضائیہ کے تین پائلٹوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے۔

    تاہم قطر نے ان الزامات کی دوٹوک تردید کی ہے۔

    ایک چوتھا پائلٹ حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ قطری حکام نے اس کی لاش برآمد کر کے ایران کے حوالے کر دی تھی۔

  9. عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ’من و عن‘ عمل ہوگا: وفاقی وزیر

    وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سپریم کورٹ کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس فیصلے پر من و عن عمل‘ کیا جائے گا۔

    انھوں نے منگل کو سینیٹ میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے ان کی جماعت کے لیے ’کوئی راستہ بن سکتا ہے۔‘

    خیال رہے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو اسلام آباد میں واقع نجی ہسپتال شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملزم کو صحت کے بارے میں بنیادی حق ہے۔

    عدالت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمی خان بھی عمران خان کے ساتھ ہی ہوں گی۔

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عظمی خان بھی شامل ہوں گے۔

  10. مفاہمتی یادداشت میں درج شرائط پر عمل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: ایران

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پر عمل نہیں کرتا۔

    امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہی کرنے والے قالیباف نے تسلیم کیا کہ ’جنگ بندی اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت سے حاصل ہونے والے موقع نے ایران کی معاشی مزاحمت بڑھانے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔‘

    ’آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، منجمد اثاثے جاری نہیں کیے جاتے، تیل پر پابندیاں نہیں اٹھائی جاتیں، تمام محاذوں پر دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور مفاہمتی یادداشت کی دیگر شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔‘

    گذشتہ روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے نائب سربراہ یداللہ جوانی کا کہنا تھا کہ ’جنگ کا خاتمہ اسلام آباد معاہدے کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکی اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔‘

    گذشتہ روز اس مفاہمتی یادداشت میں درج 60 روزہ مدت بھی ختم ہو گئی، جو ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

    تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نئے مرحلے کی کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد دونوں فریق پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ وہ اس عمل کو عملاً ختم شدہ سمجھتے ہیں۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ عبوری معاہدے میں توسیع کے خواہاں نہیں ہیں اور ان کے خیال میں تہران ایسے معاہدے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا جسے وہ ضروری سمجھتے ہیں۔

  11. حوثیوں کا سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمن میں حوثی گروہ انصار اللہ نے ایک بار پھر سعودی عرب کے علاقے جازان میں آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے سبا نیوز ایجنسی کے مطابق یہ حملہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا ہے۔

    خبر ایجنسی نے ایک فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ حوثیوں نے یمن کے صوبوں صعدہ اور حجہ کی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے ردِعمل میں جازان میں واقع آرامکو کی تنصیبات کو متعدد ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔

    ایران کے اتحادی حوثی گروہ نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں جوابی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کے علاوہ یمنی حکومتی افواج کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔

    حوثیوں نے اس سے قبل بھی متعدد بار سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے اور ہوائی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔

  12. امید ہے متعلقہ ادارے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے: جنید اکبر

    تحریک انصاف کے رہنما اور رکن پارلیمان جنید اکبر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ’حکومت اور متعلقہ ادارے اس پر عمل درآمد میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کریں گے۔‘

    دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف یقینی بنائے گی کہ الشفا ہسپتال کے سامنے امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو۔

    انھوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُر امن رویہ اختیار کریں۔

    ان کا کہنا تھا: ’یہ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اسلام آباد کی طرف یا الشفا ہسپتال کی طرف نہ آئیں، بلکہ گھروں پر رہ کر عمران خان کی صحت کے لیے دعا کریں۔‘

  13. عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم: سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے وعدہ کیا ہے کہ ہسپتال کے ارد گرد پی ٹی آئی کے کارکن جمع نہیں ہوں گے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا

    سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے حکم کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ہمیں انصاف مل گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا کام انصاف دینا ہے، اگر عدالتیں انصاف نہیں دینگی تو عوام کہاں جائے گی؟

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ امید ہے سپریم کورٹ کے فیصلے پر جلد عملدرآمد ہوگا۔

    سہیل آفریدی کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے وعدہ کیا ہے کہ ہسپتال کے ارد گرد پاکستان تحریک انصاف کا کوئی کارکن جمع نہیں ہوگا۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے حکم میں پی ٹی آئی کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے۔

    عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آج عدالت عظمی سے روشنی کی ایک کرن پھوٹی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ریاست کے تمام اداروں کو حکم دیا ہے کہ عمران خان کی صحت مقدم ہے اور حکم دیا ہے کہ دو دنوں میں عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ حکم ہوا جو ہم ایک سال سے مانگ رہے تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ایک ماہر ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے جس میں تمام شعبوں کے سپیشلسٹ شامل ہوں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمران خان کو جو بلڈ پریشر کی بیماری بتائی جا رہی ہے وہ کیوں لاحق ہوئی؟عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟

  14. سپریم کورٹ کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اسلام آباد میں واقع نجی ہسپتال شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملزم کو صحت کے بارے میں بنیادی حق ہے۔

    عدالت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمی خان بھی عمران خان کے ساتھ ہی ہوں گی۔

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عظمی خان بھی شامل ہوں گے۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ حکم پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہن عظمی خان کی درخواستوں پر دیا ہے جنھوں نے سابق وزیر اعظم کی صحت اور ان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی سے متعلق درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔

    جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنا حکم نامہ سناتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں پی ٹی آئی کوئی سیاست نہیں کرے گی اور سابق وزیر اعظم اگلی سماعت تک ہسپتال میں ہی رہیں گے۔

    عدالت نے ان درخواستوں کی اگلی سماعت سولہ ستمبر مقرر کی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان کے علاج پر اٹھنے والے تمام اخراجات ان کی فیملی ادا کرے گی۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عمران خان کو جب ہسپتال منتقل کیا جائے تو وہاں پر امن وامان کی صورت حال میں کوئی خلل پیدا نہیں ہونا چاہیے۔

    اس سے قبل اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔

    عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں کیا کہا گیا تھا؟

    عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں اینگزائٹی (بے چینی) کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے، جو انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا آخری مرتبہ طبی معائنہ 10 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ نے کیا تھا اور اس میڈیکل بورڈ میں آنکھوں، امراضِ قلب اور میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔

    سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کی عمر تقریباً 73 سال ہے اور طبی معائنے کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس رپورٹ میں سابق وزیر اعظم کی ای سی جی نارمل، سینہ صاف اور دل کے والوز و چیمبرز نارمل قرار دیے گئے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی، تاہم میڈیکل رپورٹ کے مطابق سینے میں درد، بھاری پن یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں۔

    رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے ادویات تجویز کی تھیں۔

  15. آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے جہاز پر حملے کی اطلاع، عملے کا ایک رکن ہلاک: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے ایک جہاز کو نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق اس واقعے میں عملے کا ایک رکن ہلاک جبکہ جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمانی کوسٹ گارڈ اس وقت جہاز کے باقی عملے کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی، جبکہ حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کم ہو کر چند ایک رہ گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تعداد روزانہ 130 سے زیادہ تھی۔

  16. ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکی کردار ادا کرنے کو تیار ہے: اردوغان کی ٹرمپ کو پیشکش

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ترک ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ٹیلیفونک گفتگو کے دوران رجب طیب اردوغان نے امن کی کوششوں میں انقرہ کی حمایت اور تعاون کی آمادگی کا اظہار کیا۔

    امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ تاہم فریقین ابھی تک کسی باہمی مفاہمت تک نہیں پہنچ سکے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کشنر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مذاکرات شاید پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں، لیکن دونوں جانب ابھی تک کسی اتفاقِ رائے یا مفاہمت تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔

  17. ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع ہیں، لیکن ابھی کوئی مفاہمت نہیں ہوئی: جیرڈ کشنر

    امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ تاہم فریقین ابھی تک کسی باہمی مفاہمت تک نہیں پہنچ سکے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کشنر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مذاکرات شاید پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں، لیکن دونوں جانب ابھی تک کسی اتفاقِ رائے یا مفاہمت تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔

    جیرڈ کشنر جو غزہ کے لیے ایک امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں، نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ طویل مذاکرات کیے ہیں، تاہم بظاہر ان بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

    اسرائیل پہنچنے سے قبل اُنھوں نے مصر میں حماس کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی تھی۔

  18. ترک وزیرِ خارجہ کی آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایرانی وزیرِ خارجہ سے مشاورت

    ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے پیر کے روز اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    تاہم ترک سفارتی ذرائع نے اس ٹیلی فونک گفتگو کی مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔

    اس سے قبل ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا تھا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ جنگ ​​کے مستقل خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث اپنی پالیسی کو دفاعی سے تبدیل کر کے ’مکمل جارحانہ‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عہدیدار کے مطابق امن مذاکرات اور سٹریٹجک آبنائے ہرمز کے راستے آئل ٹینکروں کی آمدورفت بحال کرنے کی کوششیں عملی طور پر تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔

  19. پاکستان نے انڈین وزیرِ داخلہ کا ’آئی ایس آئی کا حمایت یافتہ نیٹ ورک‘ تباہ کرنے کا دعویٰ مسترد کر دیا

    پاکستان نے انڈیا کے وزیرِ داخلہ کے اُن دعوؤں کو مسترد کیا ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ یومِ آزادی سے قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حمایت یافتہ دہشت گروپ شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

    پیر کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے وزیرِ داخلہ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے جن میں پاکستان کو انڈیا میں ہونے والی کچھ گرفتاریوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کا پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف انڈیا کی اس مذموم مہم کا ایک اور ثبوت ہے جس کا مقصد اپنی داخلی سکیورٹی کے چیلنجوں سے توجہ ہٹانا اور محض تنگ نظر ملکی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے ملک کے اندر انڈیا ایک جابر ریاست ہے جو اپنی اقلیتوں پر وحشیانہ مظالم ڈھاتی ہے اور اختلافِ رائے کی آواز کو دبا دیتی ہے۔ بیرونی محاذ پر، انڈیا دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا کی بے بنیاد اور گمراہ کن باتیں بین الاقوامی توجہ کو انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور غیر ملکی علاقوں میں تخریبی کارروائیوں سے نہیں ہٹا سکتیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بارہا دہشت گردی اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں انڈیا کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ انڈیا کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرے اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی پر انڈیا کا احتساب کرے۔

    انڈیا وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈین سکیورٹی فورسز نے 14 ریاستوں میں مختلف مقامات پر مربوط کارروائیوں کا آغاز کرکے دہشت گردی کے خلاف انڈیا کی زیرو ٹالرنس پالیسی کی ایک شاندار مثال کو برقرار رکھتے ہوئے نیٹ ورک کو توڑ دیا۔

    اُنھوں نے الزام لگایا کہ نیٹ ورک کے قبضے سے پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے دستی بم، پستول، کارتوس اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

  20. امریکی افواج نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے باعث 64 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا: امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے اب تک ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران 64 تجارتی جہازوں کا رُخ موڑ دیا ہے۔

    سینٹ کام کے مطابق 17 اگست کو امریکی افواج نے تین تجارتی جہازوں کو سفر سے روک جبکہ دو دیگر جہازوں کا معائنہ کیا تاکہ ضابطوں اور پابندیوں کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    حال ہی میں یہ بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن جلد ہی مشرقِ وسطیٰ میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے گا۔

    یو ایس ایس ابراہم لنکن 250 دن سے زائد عرصے سے مشن پر تعینات ہے اور اس کی طویل مدت کی تعیناتی کے ساتھ بندرگاہوں پر محدود قیام نے بعض قانون سازوں میں عملے کی رہائشی اور فلاحی صورتحال کے بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔