سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی عدت کے دوران نکاح سے متعلق فیصلے کے خلاف اپیل پر بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے دلائل مکمل کرنے کے بعد عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کو جمعرات کو اپنے دلائل دینے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعقلہ عدالت کو ایک ماہ میں عمران خان اور بشری بی بی کی اپیلوں پر فیصلہ دینے کا حکم دے رکھا ہے اور یہ مدت 12 جولائی (جمعہ) کو مکمل ہو رہی ہے۔
دورانِ سماعت سلمان صفدر کی معاون وکیل خدیجہ صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ خاتون کے تقدس اور وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔
خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی خاتون کے ذاتی معاملات پر بات کرے یا سوال اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سزا کالعدم قرار نہ دی گئی تو یہ خواتین کے لیے شرم ناک ہوگا۔
سماعت کے دوران ایڈشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ صرف یہی کیس ’ہائی لائٹ‘ ہوا ہے۔
خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ جرم تب ثابت ہوگا جب کیس ثابت ہوتا ہے، عدت کے کیس میں خاتون کا قول معتبر ہوتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عدت کا تعلق حاملہ ہونے سے ہے اور اگر عدت میں شادی ہو بھی گئی تو عدت پوری ہونے پر ریگولر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت عدالت کا خدیجہ صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ دو مختلف سمت میں جا رہی ہیں یا تو اسلامک لا کی بات کریں یا ہمارے موجودہ قانون پر رہیں۔ جج محمد افضل مجوکا کہنا تھا وہ ضابطہ فوجداری (کریمنل پروسیجر) قانون کے پابند ہیں۔
خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان میں خواتین کی بقا کا کیس ہے۔ بشری بی بی کے بیان کا تو کہیں ذکر ہی نہیں اور سزا دینے کے لیے عدت کے دورانیہ کا سہارہ لیا گیا۔
بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ایسی ایسی باتیں سامنے آئیں جو کوئی پاکستانی مرد نہیں کر سکتا۔
انھوں نے کہا کہ درخواست گزار خاور مانیکا اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ وہ سی ایس پی افسر ہیں اور انھوں نے قبول کیا ہے کہ طلاق نامے پر درج تاریخ اور مہینہ درست ہے مگر وہ اصل دستاویز نہیں بلکہ فوٹو کاپی ہے۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ایک فوٹو کاپی پر کیسے سزا ہو سکتی ہے، یہ کیس ہی نہیں بنتا۔
انھوں نے کہا کہ گواہ نے مان لیا کہ طلاق نامے میں ٹیمپرنگ کی گئی ہے لیکن جج صاحب نے نہیں مانا اور سزا سنا دی۔
انھوں نے کہا کہ مقدمہ شکایت کنندہ پر ہونا چاہیے کہ انھوں نے عزت اچھالی اور ایک جعلی طلاق نامہ پیش کیا۔
ایک جگہ خاور مانیکا کہتے ہیں انھوں نے آدھے دل سے طلاق دی دوسری جگہ کہا کہ تین طلاقیں دیں، وکیل بشری بی بی۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا نہ آزاد گواہ تھے نہ قابل بھروسہ۔ انھوں نے کہا کہ خاور مانیکا کا یہ بیان چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میں نے بیان دے دیا لیکن مجھ پر یقین نہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ استغاثہ کے گواہ عون چوہدری ایک ناقابل اعتماد گواہ ہیں اور ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ عدت کے دورانیہ پر بات کریں۔
بشری بی بی کے وکیل کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا گرفتاری کے بعد دو ماہ تحویل میں رہے اور انھوں نے شکایت رہا ہونے کے بعد دائر کی ہے۔
سلمان صفدر کے بقول خاور مانیکا سیاسی حریفوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ خاندانی معاملہ ہے اس میں خاندان کے افراد [کو بطورِ گواہ] کو پیش کرنا چاہیے تھا، خاور مانیکا اپنی والدہ کو لاتے اور بچے اگر بالغ ہیں تو بچوں کو لاتے یہاں تو پانچ بچے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ شادی لاہور میں ہوئی اور اپیل اسلام آباد میں ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طلاق نامے کی تاریخ اور مہینے میں دونوں میں ہی ٹیمپرنگ کی گئی ہے۔
بشری بی بی کے جانب سے دلائل مکمل کیے جانے کے بعد عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کو حکم دیا ہے کہ وہ جمعرات کو اپنے دلائل پیش کریں۔