بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں دھرنے کے شرکا کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چمن کے دفتر پر چڑھائی سے حالات ایک مرتبہ پر کشیدہ ہو گئے ہیں۔
منگل کی صبح مشتعل مظاہرین کی بہت بڑی تعداد نہ صرف ڈپٹی کمشنر چمن کے دفتر کے باہر جمع ہوئی بلکہ دفتر پر حملہ کر کے وہاں توڑ پھوڑ بھی کی۔
مقامی صحافیوں کے مطابق چمن شہر میں صورتحال اُس وقت کشیدہ ہو گئی کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان شاہراہ پر گڑنگ کے مقام پر رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے کاروائی کی جس دوران مظاہرین کے ساتھ جھڑیں ہوئیں۔
اگرچہ چمن میں ایک احتجاجی دھرنا گزشتہ سال 21 اکتوبر سے جاری ہے تاہم چار مئی کو چمن شہر میں ایف سی کے قلعہ کے سامنے مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد دھرنے کے شرکاء نے گڑنگ کے مقام پر بین الاقوامی شاہراہ کو بند کر دیا تھا۔
شاہراہ کو مظاہرین نے مکمل طور پر بند کرنے کی بجائے اسے بڑی مال بردار گاڑیوں کے لیے بند رکھا جس کے باعث سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ ان کے ڈرائیور اور عملے کے دوسرے لوگوں کو مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ شب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گڑنگ کے مقام پر نہ صرف رکاوٹوں کو ہٹا دیا بلکہ مظاہرین کے خیموں کو بھی نذر آتش کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مظاہرین نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے جانے کے بعد شاہراہ کو ایک مرتبہ پھر بند کیا تاہم انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔‘
گڑنگ میں ہونے والی کارروائی کے خلاف دھرنے کے شرکاء مشتعل ہوگئے اور انھوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج شروع کیا۔
چمن کے صحافیوں نے بتایا کہ ’بعض مشتعل مظاہرین نے پریس کلب پر بھی پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں پریس کلب کے بھی شیشے ٹوٹ گئے۔‘
دُپٹی کمشنر چمن راجہ اطہر عباس نے بتایا کہ مظاہرین کا ان کے دفتر کے باہر احتجاج اور دھرنا جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک 7 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ ’گرفتار ہونے والے افراد میں دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی اور غوث اللہ کے علاوہ دیگر رہنما شامل ہیں۔‘
ایسی اطلاعات ہیں کہ گرفتار ہونے والے رہنمائوں کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا جہاں سے ان کو گرفتار کیا گیا تاہم ڈپٹی کمشنر نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
چمن میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے ضلعی انتطامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق چمن میں پولیو مہم کے دوران ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں شر پسند عناصر نے حملہ کر کے دو لیویز اہلکار کو زخمی کیا۔ اس کے علاوہ دو پولیو ورکر خواتین کو بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق گزشتہ شب ضلعی انتظامیہ نے شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے چمن دھرنا کمیٹی کے ساتھ مزاکرات کیے۔
انتظامیہ کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’ڈی سی کے دفتر میں مزاکرات کے دوران مظاہرین میں سے بعض نے ڈی سی چمن راجہ اطہر عباس پر حملہ کیا اور ڈسی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔‘
بیان کے مطابق لیویز اہلکاروں نے بر وقت کارروائی کر کے شر پسند عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر لیا تاہم حملے میں ڈی سی چمن محفوظ رہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے ریڈ لائن کراس کر دی ہے اس لیے حملہ آوروں کے خلاف انسداد دہشتگردی کی ایف آئی آر درج ہوگی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق چمن شاہراہِ پر غیر قانونی روڈ بلاک کو ختم کرتے ہوئے ٹریفک کے لئے بحال کردیا گیا ہے۔
درایں اثناء حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ ’حکومت بلوچستان نے مسئلے کو بارہا مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن احتجاج پر بیٹھے لوگوں نے مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھاتے ہوئے ڈیڈ لاک برقرار رکھا۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کئی ماہ کے احتجاج کے دوران متعدد بار قانون کو اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا جس میں ایف سی کے قلعے اور پولیو ٹیم اور ڈی سی کمپلیکس پر حملہ کیا گیا۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’دھرنے کے نام پر عام عوام کو تنگ کرنا یا ریاست سے بغاوت کا درس دینا قابل قبول نہیں۔‘
خیال رہے کہ چمن میں گزشتہ سال اکتوبر سے ایک دھرنا جاری ہے جو کہ چمن سے افغانستان آمدورفت کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف شروع کیا گیا۔
چمن میں مظاہرین پر مبینہ تشدد اور ان کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی۔