بریکنگ, اسٹیبلشمنٹ سمیت ہر کسی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مذاکرات کے طریقے اور ماحول کو طے کرنا ہو گا، پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ سمیت ہر کسی سے بات چیت کرنے کے لیے ماضی میں بھی تیار تھی اور آج بھی تیار ہیں لیکن اس سے قبل یہ طے کرنا ہو گا کہ مذاکرات کیسے اور کس ماحول میں ہوں گے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان رؤف حسن نے پاکستان کے مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے لیے سوا سال سے کمیٹی بنائی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے کل بھی تیار تھے، آج بھی تیار ہیں اور آئندہ بھی تیار رہیں گے مگر ان کی طرف سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ہمارا چھ جماعتی اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سیاسی جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔
ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومتی جماعتیں مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو پہلے ہمارا مینڈیٹ واپس کریں، اسٹیبلشمنٹ سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگیں گے، انھیں یہ بتانے کے لیے بات کریں گے کہ ان کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہونا چاہیے، سب اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف ایک حقیقت ہیں اور مذاکرات ہر کسی سے ہو سکتے ہیں لیکن سب سے پہلے یہ طے کرنا ہے کہ مذاکرات کس طریقے سے اور کس ماحول میں ہوں گے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی عدم استحکام نے پورے ملک کو گرفت میں لیا ہوا ہے تو یہ مسائل مذاکرات سے ہی حل ہو سکتے ہیں اور مذاکرات ہونے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ یہ طے کریں کہ مذاکرات کیسے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ طے کرنا ضروری ہے کہ یہ مذاکرات ہونے چاہئیں یا نہیں ہونے چاہئیں، اس کی بنیاد کیا ہو گی اور یہ کن حالات میں ہوں گے۔ تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ مذاکرات ہر کسی سے ہونے چاہئیں، جو بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں ان سے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ جمعے کو سینیٹر عرفان صدیقی نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ انھوں نے تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ احتجاج کے لیے محمود خان اچکزئی سے بات کرسکتے ہیں، فضل الرحمٰن کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں جن کا نام بھی آپ بھول گئے تھے تو ہمارے ساتھ بیٹھنے میں کیا قباحت ہے؟انھوں نے مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئیں پاکستان کے لیے ایک ساتھ بیٹھیں، ہم ایک بار پھر آپ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں۔