آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بشام میں چینی شہریوں پر حملے میں ٹی ٹی پی ملوث، چار ملزمان گرفتار: سی ٹی ڈی

محکمۂ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ بشام میں چینی انجینیئرز کے قافلے پر حملے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملوث ہے اور اس کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے دوران چار ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔

خلاصہ

  • وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس کی سائیڈ لائینز پر سعودی عرب وزرا کی ملاقات ہوئی جس دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ ’سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرے گا۔‘
  • پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو ملک کا نائب وزیرِاعظم مقرر کر دیا ہے۔
  • کیچ میں پنجاب کے تعلق رکھنے والے دو مزدور نامعلوم افراد کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ’جھوٹی‘ اور ’توہین آمیز‘ مہم پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جسٹس بابر ستار کے پاس کبھی پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں رہی۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اسٹیبلشمنٹ سمیت ہر کسی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مذاکرات کے طریقے اور ماحول کو طے کرنا ہو گا، پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ سمیت ہر کسی سے بات چیت کرنے کے لیے ماضی میں بھی تیار تھی اور آج بھی تیار ہیں لیکن اس سے قبل یہ طے کرنا ہو گا کہ مذاکرات کیسے اور کس ماحول میں ہوں گے۔

    پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان رؤف حسن نے پاکستان کے مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے لیے سوا سال سے کمیٹی بنائی ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے کل بھی تیار تھے، آج بھی تیار ہیں اور آئندہ بھی تیار رہیں گے مگر ان کی طرف سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ہمارا چھ جماعتی اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سیاسی جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

    ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومتی جماعتیں مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو پہلے ہمارا مینڈیٹ واپس کریں، اسٹیبلشمنٹ سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگیں گے، انھیں یہ بتانے کے لیے بات کریں گے کہ ان کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہونا چاہیے، سب اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف ایک حقیقت ہیں اور مذاکرات ہر کسی سے ہو سکتے ہیں لیکن سب سے پہلے یہ طے کرنا ہے کہ مذاکرات کس طریقے سے اور کس ماحول میں ہوں گے۔

    اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی عدم استحکام نے پورے ملک کو گرفت میں لیا ہوا ہے تو یہ مسائل مذاکرات سے ہی حل ہو سکتے ہیں اور مذاکرات ہونے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ یہ طے کریں کہ مذاکرات کیسے ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ طے کرنا ضروری ہے کہ یہ مذاکرات ہونے چاہئیں یا نہیں ہونے چاہئیں، اس کی بنیاد کیا ہو گی اور یہ کن حالات میں ہوں گے۔ تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ مذاکرات ہر کسی سے ہونے چاہئیں، جو بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں ان سے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ جمعے کو سینیٹر عرفان صدیقی نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ انھوں نے تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ احتجاج کے لیے محمود خان اچکزئی سے بات کرسکتے ہیں، فضل الرحمٰن کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں جن کا نام بھی آپ بھول گئے تھے تو ہمارے ساتھ بیٹھنے میں کیا قباحت ہے؟انھوں نے مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئیں پاکستان کے لیے ایک ساتھ بیٹھیں، ہم ایک بار پھر آپ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں۔

  2. گذشتہ روّز کی اہم خبریں!

    • خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے سیشن جج شاکر اللہ مروت کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ ضلع ڈی آئی خان کے تھانہ ہتھالہ کی انفارمیشن رپورٹ کے مطابق اطلاعات ہیں کہ یہ واقعہ ڈیرہ ٹانک روڈ پر بھگوال نامی گاؤں کے قریب ہوا۔ شاکر اللہ مروت جنوبی وزیرستان میں تعینات ہیں اور وہ ٹانک سے ڈی آئی خان آ رہے تھے۔ نامہ نگار عزیز اللہ بتاتے ہیں کہ شاکر اللہ مروت سیشن جج وزیرستان کے عہدے پر تعینات ہیں لیکن وزیرستان میں سورشُ کی وجہ سے ان کی عدالت ضلع ٹانک میں قائم ہے۔ یہ واقعہ بنیادی طور پر ضلع ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد پر پیش آیا ہے۔
    • پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف عالمی تعاون، ترقی اور توانائی کے حوالے سے عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔خبر رساں ادار ے اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف 28 اور 29 اپریل کو منعقد ہونے والے عالمی تعاون، ترقی اور توانائی کے بارے میں عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے۔ وزیر اعظم اور ان کا وفد تجارت اور سرمایہ کاری کے اقدامات، سرمایہ کاری کے نئے فریم ورک، سپلائی چین کی تنظیم نو، پائیدار ترقی اور توانائی کے منظر نامے سے متعلق مسائل پر ڈبلیو ایم ایف کی بات چیت میں شرکت کریں گے۔
    • پاکستانی حکومت کے پاور ڈویژن نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر نیا ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پاکستانی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت نے سولر پینلز پر 30 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے شیری رحمان، شرمیلا فاروقی اور فواد چوہدری سمیت متعدد افراد کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ سنیچر کو پاور ڈویژن نے ’سولر پاور پر فکسڈ ٹیکس‘ لگانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاور ڈویژن نے حکومت کو ایسی کوئی سمری نہیں بھیجی۔‘ تاہم پاور ڈویژن سے جاری بیان میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ انھیں نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام کے تحت امیر لوگ ’بے تحاشہ سولر پینل لگا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گھریلو اور صنعتی صارفین سمیت حکومت کو بھی سبسڈی کی شکل میں 1 روپے 90 پیسے کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔‘ پاور ڈویژن کے مطابق موجودہ نظام کے نتیجے میں تقریباً ڈھائی کروڑ غریب صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
    • پاکستانی سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہونی چاہیے اور ’ایک ایسا شفاف نظام بنانے کی ضرورت ہے جو کسی فرد کے تابع نہ ہو۔‘ سنیچر کو لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں 24 لاکھ مقدمات زیرالتوا ہیں اور اگر آرٹیفشل انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا گیا تو ان مقدمات کو نمٹانے میں ’20 سال لگ جائیں گے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو جج کارکردگی نہ دکھا سکیں اور انھیں نکالنا ہوگا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ ’یہ کیس اس جج کے پاس لگادو کیونکہ مجھے یہ نتیجہ چاہیے، یہ نہیں ہو سکتا۔‘
  3. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی، سماجی، اقتصادی، معاشی اور سیکورٹی سمیت دیگر امور سے متعلق خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!