آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس: آپ ہمیں پراکسیز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ

گذشتہ روز فیصل واوڈا نے اپنے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے، اب الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، اب اگر کسی نے پگڑی اچھالی تو پگڑی کی فٹبال بنائیں گے اور ڈبل پگڑی اچھالیں گے۔‘ تاہم آج نیب ترامیم سے متعلق انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت ملتوی ہونے پر کسی کا نام لیے بغیر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’آپ ہمیں پراکسز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں۔‘

خلاصہ

  • نیب قوانین میں ترامیم کا کیس: سابق وزیراعظم عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں شریک
  • حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان، 15 روپے 39 پیسے کی کمی کے بعد پیٹرول 273 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے
  • حکومت مستعفیٰ ہو، انتِخابات دوبارہ ہوں اور اسٹیبلشمنٹ انتخابات سے دور رہے: مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ
  • اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت منظور، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت منظور کر لی ہے

لائیو کوریج

  1. ’ہماری جنگ مُلک میں حقیقی جمہوریت کے لیے جاری رہے گی‘ قائد حزبِ اختلاف عمر ایوب

    قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عُمر ایوب خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے ہمیں یہ احکامات ملے ہیں کہ ہم مُلک کی اعلیٰ عدالتوں میں تین پٹیشنز لائی جائیں گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’نو مئی 2023 کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لائی جائیں چاہیے وہ کورکمانڈر ہاؤس کی ہو یا کسی بھی اور اہم مقام کی۔‘

    عمر ایوب نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے جانے والے خط سے متعلق بات کی اور کہا کہ ’جوڈیشری اس سب کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے اور ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ان اقدام کی وجہ سے مُلک کی معشیت پر گہرے اثرات پڑے ہیں، اور یہ ایک دو یا تین سال نہیں بلکہ کئی دہائیوں تک ان کے اثرات سامنے آتے رہیں گے۔‘

    عُمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’آج جو پاکستان تحریک انصاف کے لوگ قومی اسمبلی میں آئے ہیں وہ بہت سی مُشکلات دیکھ کر یہاں پہنچے ہیں اور ہماری جنگ مُلک میں حقیقی جمہوریت کے لیے جاری رہے گی۔‘

  2. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پھر سے کشیدگی، رینجرز اور مظاہرین میں تصادم

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفر آباد میں ایک بار پھر کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی جب مظاہرین اور رینجرز کے درمیان تصادم ہوا۔

    مظاہرین نے رینجرز کی کم از کم دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔

    عینی شاہدین اور ہسپتال ذرائع کے مطابق اس تصادم کے دوران کم از کم تین افراد زخمی اور دو شخص ہلاک ہوئے ہیں۔

    احتجاجی مظاہرین نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد بھی رینجرز کے شہر کی حدود میں داخلے ہونے پر مشتعل ہوئے۔ مظفرآباد شہر میں متعدد مقامات پر ایک بار پھر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

    حکومتی ترجمان ماجد خان کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا ہےکہ ’عوام کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ رینجرز کو سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے طلب کیا گیا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  3. عمر ایوب نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران چھ ججز کے عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط کا ذکر بھی آیا

    قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عُمر ایوب خان نے اپنے خطاب میں اسلام آباد ہائیکوٹ کی جانب سے سپریم کورٹ کو لکھے جانے والے خط کا بھی ذکر کیا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے اس بات کا اظہار کیا گیا اور اُنھوں نے باقائدہ طور پر اُن اداروں کے نام لیے کہ جو ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ جب عُمر ایوب نے اس بارے میں گفتگو کا آغام کیا تو سرکاری ٹی وی چینل کی جانب سے اُن کی آواز کو خاموش کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

    یہ خط میڈیا پر 26 مارچ کی شام کو سامنے آیا، جس میں نچلی عدالتوں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز پر دباؤ کے بارے میں چند واقعات کا ذکر شامل کیا گیا۔ اس خط میں نچلی عدالت کے ایک جج کی شکایت کا بھی قصہ شامل ہے جس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے آئی ایس آئی اہلکاروں کی شکایت لگائی اور پھر بعد میں اس سیشن جج کو او سی ڈی بنا دیا گیا۔

    خط میں ججز نے لکھا کہ جوڈیشل کنونشن سے پتا چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے۔

    اس خط میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں رہنمائی نہیں دی گئی ہے کہ ایسی صورتحال میں ججز کیسے رد عمل دیں؟ اور اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ ججز اس طرح کی مداخلت کو کیسے ثابت کریں۔

  4. ’مُلک میں جمہوریت کا فقدان ہے، آج کوئی کُھل کر یہاں بات نہیں کر سکتا‘ قائد حزب اختلاف

    قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عُمر ایوب خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’مُلک میں اس وقت آزادی اظہار رائے پر بھی پابندی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار رائے سے متعلق واضح طور پر ہدایات موجود ہیں یہاں آج میں تقریر کر رہا ہوں مگر اسے بھی خاموش کیا جا رہا ہو گا۔‘

    جس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ’آپ کی آواز باہر جا رہی ہے آپ کی تقریر لائیو جا رہے ہیں۔‘

    اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’ایک مرتبہ آئین کے آرٹیکل 19 کو پورا پڑھ دیں۔‘

    جس کے بعد عُمر ایوب نے قومی اسمبلی میں سپیکر کے کہنے پر پڑھ کر سُنایا۔

    عُمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے متعدد مرتبہ اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ نو مئی 2023 سے متعلق ایک آزاد جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو اُس دن ہونے والے تمام تر واقعات کے درست انداز میں تحقیقات کی جا سکیں اور اس کے بعد سچائی کو سامنے آنا چاہیے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ ہے بھی اور نہیں بھی، پاکستان میں اس وقت صحیح جمہوریت کا فقدان ہے۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے نو مئی سے پہلے کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بات پر انھوں نے کہا کہ ’اگر ایسا ہے تو پھر ہم آج اس ہاؤں میں اس بات کا بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ حمودالرحمٰن کمیشن کے رپورٹ بھی پبلک کی جانے چاہیے، اُس کے ساتھ اوجڑی کیمپ رپورٹ بھی سامنے آنی چاہیے، اُس کے ساتھ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ بھی سامنے آنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ آرمی پبلک سکول کمیشن اور تحقیقات کی رپورٹ بھی سامنے آنی چاہیے۔‘

  5. ’مُلک میں تو آئین پاکستان کے آرٹیکل 5 کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے‘ قائد حزبِ اختلاف عُمر ایوب

    عُمر ایوب خان کی جانب سے آج قومی اسمبلی میں اپنے تقریر کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 5 کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر اس مُلک کا کوئی فرد یا ادارہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 5 کی پابندی نہیں کرتا تو ایسے میں اُس پر آئین کے آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوتا ہے

    واضح رہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 5 کی تعاریف کُچھ یوں ہے کہ ’ریاست سے وفاداری ملک کے ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔ اور ملک کے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ ہر حال میں ملک کے آئین و قانون کی پاسداری و احترام کرے۔‘

    تاہم آئین پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین کو توڑنے اور ایسا کرنے والے کی مدد کرنے والے تمام افراد ریاست سے ’سنگین بغاوت‘ کے اس جرم میں برابر کے شریک تصور کیے جائیں گے، جن کی سزا پارلیمنٹ نے عمر قید یا موت تجویز کی ہے۔

  6. ’ڈی جی آئی ایس پی آر نے مُلک کے سیاسی نظام میں مداخلت کی ہے‘ قائدِ حزب اختلاف عُمر ایوب خان

    قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عُمر ایوب خان نے اپنے خطاب میں فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈی جی کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں پاکستان تحریکِ انصاف پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کیا۔

    قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران آئینِ پاکستان میں سے وہ حلف پڑھ کر سُنایا کہ جو پاکستان کی مسلح افواج میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے وقت لیا جاتا ہے۔

    عُمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو پریس کانفرنس کی وہ ایک سیاسی پریس کانفرنس تھی۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیانیہ کنفیوزن کا شکار تھا۔‘

    واضح رہے کہ جس وقت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی جانب کی تقریر جاری تھیں تو مختلف اوقات میں پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے کی جانب سے اُن کی تقریر کے چند مندرجات کو سینسر بھی کیا۔

    عُمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر نے مُلک کے سیاسی نظام میں مداخلت کی ہے اور اُن کی یہ پریس کانفرنس ہونی ہی نہیں چاہیے تھی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک کے سکیورٹی ادارے آئینِ پاکستان کے تحت مُلک کے سیاسی نظام میں مداخلت نہیں کر سکتے۔‘

    واضح رہے کہ سات مئی کو فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری سے پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی سے ممکنہ مذاکرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے واضح کیا تھا کہ ’اپنی ہی فوج پر حملہ آور انتشاری ٹولے سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔۔۔ ایسے انتشاری ٹولے کے لیے صرف ایک راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے معافی مانگے اور وعدہ کرے کہ وہ نفرت کی سیاست چھوڑ کر تعمیری سیاست میں حصہ لے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’بات چیت سیاسی جماعتوں کو زیب دیتی ہے۔ فوج یا ادارے بات چیت کریں، یہ بالکل مناسب نہیں۔‘

  7. شہباز شریف ن لیگ کی صدارت سے مستعفی: ’نواز شریف کو یہ عہدہ لوٹا رہا ہوں‘

    پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت سے استعفی دے دیا ہے۔

    ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’11 مئی 2024 کو پارٹی کے سیکریٹری جنرل کو بھجوائے جانے والے استعفے میں جناب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2017 میں قائد محمد نواز شریف سے ناحق وزارت عظمی اور جماعت کی صدارت چھین لی گئی تھی۔ میرے محبوب قائد کی بریت اُن کے باوقار کردار اور قوم کی خدمت کے بے داغ ماضی کی گواہی ہے۔

    ’جماعت اور قیادت نے دور ابتلا و آزمائش کا بڑی بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور سرخرو ہوئے۔‘

    انھوں نے شہباز شریف کے حوالے سے مزید بتایا کہ ’اس عہدے کو ہمیشہ ایک امانت سمجھا ہے جسے اپنے قائد کو واپس لوٹا رہا ہوں کہ وہ اپنی غیر معمولی لیڈرشپ اور وژن سے ملک اور جماعت کی راہنمائی فرمائیں۔‘

  8. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی مستقل ہو گی: وزیر اعظم چوہدری انوار الحق

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کا نیوز کانفرنس میں کہنا تھا کہ یہ ایک مستقل حل ہے۔ یہ آنے والے بجٹ کا بھی حصہ ہوگا۔ ’اس مد میں مقامی حکومت اور وفاقی گرانٹ دونوں کو شامل کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومت مراعات میں کمی کر کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل بچائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گذشتہ ایک سال میں نو ارب کی بچت کی گئی۔ ‘

  9. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم: بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے نوٹیفیکیشن جاری

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے آٹے اور بجلی کی نئی قیمتوں کے نوٹیفیکیشن جا کر دیے گئے ہیں۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان چیزوں پر پہلے سے سبسڈی موجدو تھی جسے مزید بڑھا دیا گیا ہے اگرچہ اس سے قومی حزانہ پر مزید 23 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہِ توانائی نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفیکیشن کیے جن کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے پہلے سو یونٹ تین روپے، 100 سے 300 تک یونٹ کی قیمیت 5 روپے اور 300 سے زاید یونٹ استمعال کرنے پر بجلی کے نرخ 6 روپے یونٹ ہوگا۔

    کمرشل صارفین کے لیے پہلے 300 یونٹ 10 روپے اور اس ے زائد کے نرخ 15 روپے ہوں گے۔

    نوٹیفیکشن کے مطابق آٹے کی نئی قیمیتیں 20 کلو گرام فائن آٹے کی قیمت 1000 روپے ہو گی جبکہ 40 کلو فائن آٹے کی قیمیت 2000 روپے ہو گی۔

  10. مجھ سے معافی مانگی جائے بجائے اس کے کہ میں معافی مانگوں:عمران خان

    تحریک انصاف رہنما عمران خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے بجائے ’مجھ سے معافی مانگی جائے بجائے اس کے کہ میں معافی مانگوں۔‘

    پارٹی کے رہنما بیرسٹر گوھر علی خان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ہم نو مئی کی مذمت کرچکے ہے پہلے بھی اور آج بھی ہم اس کی مذمت کرتے ہے‘۔

    انھوں نے مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ کس نے کروایا؟ نو مئی کو مجھے کس کے حکم پر گرفتار کیا گیا ؟ اتنے پرتشدد طریقے سے گرفتار کروانا کس کا آرڈر تھا؟ ‘

    یاد رہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری سے پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی سے ممکنہ مذاکرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’اپنی ہی فوج پر حملہ آور انتشاری ٹولے سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔۔۔ ایسے انتشاری ٹولے کے لیے صرف ایک راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے معافی مانگے اور وعدہ کرے کہ وہ نفرت کی سیاست چھوڑ کر تعمیری سیاست میں حصہ لے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بات چیت سیاسی جماعتوں کو زیب دیتی ہے۔ فوج یا ادارے بات چیت کریں، یہ بالکل مناسب نہیں۔‘

  11. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج: عوامی ایکشن کمیٹی کا 23 ارب کی امداد کا خیر مقدم لیکن احتجاج کا خاتمہ تحریری معاہدے سے مشروط, تابندہ کوکب، بی بی سی اردو

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے کشمیر کے مسائل کے حل لیے 23 ارب روپے کی منظوری کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم انھوں نے کہا ہے کہ وہ حکومت سے اپنے مطالبات کے حوالے سے تحریری معاہدہ چاہتے ہیں۔

    ایکشن کمیٹی کے رکن اور انجمنِ تاجرانِ کے صدر شوکت نواز میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ ہم نے ہر چیز کا ایک میکانزم دے رکھا ہے، انتظامیہ اور حکومت کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدہ ابھی ہونا ہے۔‘

    عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی قیادت میں اس وقت احتجاجی مارچ دھیر کوٹ کے مقام پر ہے۔ شوکت نواز میر خود بھی احتجاجی مظاہرین کے ہمراہ مظفر آباد کی جانب مارچ کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومتی نمائندے ان سے رابطہ نہیں کرتے اور تحریری ضمانت نہیں دیتے یہ مارچ جاری رہے گا۔

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ایکشن کمیٹی اور مظاہرین کا مقصد تشدد یا بدامنی پھیلانا نہیں ہے اس لیے حکومت جب کہے گی وہ ایک بار پھر مذاکرات کے لیے مارچ کو اسی مقام پر روک دیں گے۔

    شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ اتوار کی رات کے مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ رات بھی بات چیت میں قدرے پیش رفت ہوئی تھی۔

    احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تحریری معاہدے کے بعد وہ مزید لائحہ عمل طے کر سکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ’حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں کا معاملہ وفاق پر ڈالنا نا قابلِ قبول ہے کیونکہ کشمیر کی ایک الگ آزاد حیثیت ہے اور حکومت اپنے فیصلوں میں آزاد ہے اس لیے اس معاملے پر اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوں گے اور ہم اس مسئلے کا حل نکالیں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں چلنے والے منصوبوں اور کشمیر کی آمدنی کے ذرائع کے حوالے سے اب تک کوئی باقاعدہ معاہدے موجود نہیں ہیں اس لیے حکومت کو ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  12. پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں 74000 پوائنٹس کی سطح عبور، تیزی کے اس رجحان کے وجہ کیا ہے؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے آغاز پر پیر کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کاروبار کے دوران دن کے آغاز سے اب تک انڈیکس میں 1000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کی گیا ہے جس کے بعد انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار 74000 پوائنٹس کی سطح عبور کر کے 74070 پوائنٹس کی سطح پر موجود ہے۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ جمعے کو بھی ایسا ہی تیزی کا رجحان ریکارڈ کی گیا تھا جب انڈیکس نے پہلی بار 73000 پوائنٹس کی سطح کو عبور کیا تھا۔ سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کئی روز سے تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ پاکستان کے معاشی اشاریوں میں ہونے والی بہتری ہے۔

    گذشتہ مہینے کے آخر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کی گئی تھی جس کے بعد سعودی سرمایہ کاروں کے وفد نے بھی پاکستان کا دورہ کیا جس کی وجہ سے پاکستانی سٹاک مارکٹ میں مثبت رجحان پیدا ہوا۔

    دوسری جانب پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں کمی کے بعد ملک میں شرح سود میں کمی کا امکان ہے جو اس وقت 22 فیصد ہے۔ شرح سود میں کمی کی توقعات نے بھی سٹاک مارکیٹ میں خریداری کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔

    عارف حبیب سیکورٹیز میں ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے بی بی سی اردو کو اس سلسلے میں بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں موجودہ تیزی کی سب سے بڑی وجہ تو ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی کے بعد شرح سود میں کمی کا امکان ہے جو آنے والے دنوں میں دو فیصد تک گر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 13.50 فیصد تک گرنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ آئی ایم ایف کا ایک مشن پاکستان پہنچ چکا ہے جو پاکستان کے لیے ایک بڑے قرضے کے پروگرام کے لیے مذاکرات کرے گا جس کا سٹاک مارکیٹ نے خیر مقدم کیا۔

    طاہر عباسی نے بتایا کہ معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے جیسے کہ ترسیلاتِ زر میں بہتری نظر آئی ہے۔ انھوں نے کہا اگر بیرونی ادائیگیوں کا توازن آئندہ دنوں میں مستحکم رہتا ہے تو امکان ہے کہ مارکیٹ میں مزید خریداری ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت سٹاک مارکیٹ مقامی کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ تیزی نظر آرہی ہے۔

    طاہر عباس نے کہا کہ اگرچہ انڈیکس میں کافی اضافہ ہوا ہے تاہم ابھی بھی کمپنیوں کے حصص کی قیمت کافی کم ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے۔

  13. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج: وزیرِ اعظم پاکستان نے مسائل کے حل کے لیے 23 ارب روپے کی منظوری دی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک خصوصی اجلاس میں خطے کے مسائل کے حل کے لیے 23 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں وزیرِ اعظم جموں و کشمیر، خطے کی حکومت کے وزرا اور اعلیٰ سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور اتحادی جماعتوں کے رہنماوں نے بھی شرکت کی۔

    اجلاس میں حالیہ صورتحال کا مفصل جائزہ لینے کے بعد وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کشمیری عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے 23 ارب روپے کی فوری فراہمی کی منظوری دی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آٹے کی قیمتوں پر سبسڈی اور بجلی کے رعایتی نرخوں سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے عوامی احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    دو دن پہلے شروع ہونے والی پر تشدد احتجاج کے بعد کشمیر بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہے۔ آج بھی سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر شہر میں تعلیمی ادارے اور دفاتر بند ہیں۔

  14. سوشل میڈیا پر حساس معلومات کی اشاعت پر آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت مقدمہ ہو گا: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر حساس اور خفیہ معلومات کی غیرمجاز اشاعت اور تشہیر کے ذمہ دار افراد کے خلاف آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے حساس اور خفیہ معلومات کی غیر مجاز تشہیر، خاص طور پر، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خفیہ دستاویزات کی کھلے عام نمائش کا سخت نوٹس لیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس طرح کی معلومات کے پھیلاؤ سے پاکستان کے سٹریٹجک اور اقتصادی مفادات کو زک پہنچنے کے علاوہ اس کے دوست ممالک سے تعلقات کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    خواجہ آصف کے مطابق اس تناظر میں وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام افراد کے خلاف آفیشل سیکرٹس ایکٹ 2023 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں جو خفیہ معلومات یا دستاویزات افشا کرنے یا پھیلانے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث پائے جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجرمان کو اس جرم کی سزا دو سال قید اور جرمانے کی صورت میں بھگتنا ہو گی۔

  15. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج: مظاہرین کا مظفر آباد کی جانب مارچ کا دوبارہ آغاز، وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس جاری, شہزاد ملک، محمد زبیر اور تابندہ کوکب

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں امن و امان کی صورتحال پر جائزہ اجلاس وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت شروع ہو گیا ہے جس میں کشمیر کے وزیر اعظم کے علاوہ وفاقی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے افسران بھی موجود ہیں جبکہ دوسری جانب مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث دھیر کوٹ میں موجود ہزاروں مظاہرین نے کشمیر کے صدر مقام مظفر آباد کی جانب سے اپنا مارچ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

    کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے مرکزی رہنما سردار شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ خطے میں حکام نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر رینجرز کو دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے جبکہ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے مظاہرین کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوہالہ سے مظفر آباد جانے والے راستے کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا گیا ہے جبکہ مظفر آباد کی طرف جانے والے دیگر راستوں کو مختلف مقامات سے بند کیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین کے ساتھ حکومت کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد رات گئے مظاہرین مارچ کرتے ہوئے راولاکوٹ سے دھیر کوٹ تک پہنچ گئے تھے اور آج دوپہر ایک بجے دوبارہ اپنے مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔

    دوسری جانب کشمیر میں جاری احتجاج کے پانچویں روز پاکستان اور کشمیر کی سرحد ’برار کوٹ‘ میں مظاہرین اور پیرا ملڑی فورسز کے درمیاں تصادم کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

    برار کوٹ کے رہائشی محمد نصیر کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد مظاہرین نے ایبٹ آباد روڈ کو مختلف رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا ہوا تھا جب اسی دوران پیرا ملٹری فورس اور پولیس کا قافلہ مانسہرہ سےبرار کوٹ کے راستےکشمیر کی حدود میں داخل ہو نے کی کوشش کی تو شوڑان کے مقام پر مظاہرین نے قافلے پر شدید پتھراؤ کیا۔

    محمد نصیر کے مطابق اس موقع پر مظاہرین قریب ہی موجود بلندی پہاڑی مقام پر چلے گے اور وہاں سے قافلے پر پتھراؤ کرتے رہے تھے۔ موقع پر موجود ایک اور عینی شاہد کے مطابق اس موقع پر مشتعل مظاہرین نے مقامی تھانہ کے ایس ایچ او اور پولیس کا بھی گھیراؤ کیا تھا۔

    کمیٹی کے رُکن امتیاز اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ہم توقع کرتےہیں کہ حکومت پاکستان مذاکراتنہیں بلکہ ہمارے مطالبات کو منظور کرے۔ جیسے ہی وہ مطالبات کو منظور کرنے کا اعلان کریں گے تو ہم اس مارچ کو اظہار تشکر کے طور پر منائیں گے۔ اب ہمارے جائز مطالبات کی منظوری کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں ہے۔‘

    امتیاز اسلم کے مطابق ’مذاکرات میں ہم نے حکومتی نمائندوں سے کہا کہ ہمارے تین مطالبات ہیں کہ منگلا ڈیمسے کشمیر کو بجلی اس کی لاگتی قیمت پر فراہم کرے، جس پر حکومتی وفد نے کہا کہ یہ واپڈا کا کام ہے اور اس میں آئی ایم ایف بھی شامل ہے۔ یہ اتنی جلدی ممکن نہیں اور شاید یہ ممکن ہی نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا دوسرا مطالبہ تھا کہ ہمیں آٹا حکومت پاکستان کے وعدے کے مطابق اس ریٹ پر فراہم کیا جائے جس پر گلگت بلتستان کو دیا جاتا ہے۔ اس انھوں نے کہا کہ وہ اس پر تیار نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم توقع رکھتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف معاملات کو بیوروکریسی کے ذریعے نہیں بلکہ خود حکومتی نمائندوں کے ذریعے حل کروائیں گے۔‘

    کشمیرکے علاقوں سے آئے ہوئے مظاہرین نے گذشتہ رات دھیر کوٹ میں گزاری جہاں پر مقامی لوگوں نے مظاہرین کو اپنے گھروں، مساجد اور سکولوں میں رہائش فراہم کی تھی۔ کشمیر میں جاری احتجاج کو آج پانچواں روز ہے۔ کشمیر کے مختلف علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

  16. ہماری گرینڈ ڈائیلاگ کی پیشکش کسی کے ایما پر نہیں، مذاکرات کے لیے عمران خان کو ضمانت پر مشروط رہائی دی جا سکتی ہے، رانا ثنا اللہ

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بہتری اور سیاسی استحکام کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کی ہماری پیشکش کسی کے ایما پر نہیں ہے، اور ماحول کو سازگار بنانے کے لیے عمران خان کو ضمانت پر رہائی دی جا سکتی ہے۔

    پاکستان کے نجی ٹی وی چینلزاے آر وائی نیوز اور جیو نیوز کے پروگراموں ’سوال یہ ہے‘ اور ’جرگہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو لاہور کے جلسہ عام میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے سب کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

    پروگرام ’جرگہ‘ میں انھوں نے کہا کہ جو بھی گرینڈ ڈائیلاگ ہو گا اس میں سب سے پہلے سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں گی پھر اداروں کے ساتھ بات ہو گی اور انھیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام ڈائیلاگ سے ہی آئے گا۔ مگر یہ ڈائیلاگ غیر مشروط ہو گا۔

    ’اگرعمران خان آج کہیں کہ یہ مذاکرات غیر مشروط ہو گا تو ان کی رہائی پر اتفاق ہو سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس گرینڈ ڈائیلاگ کے ایجنڈے میں اداروں کے کرادر اور عدالتی نظام میں اصلاحات سمیت متعدد مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔

    پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں حکومت کے پاس اختیارات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان 2011 سے یہ راگ آلاپ رہے ہیں کہ وہ نہ کسی کے ساتھ بیٹھیں گے اور نہ ہی بات کریں گے تو ان کے رویے کا جمہوری معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی ایک طرف ہمیں بے اختیار حکومت قرار دیتی ہے اور دوسری طرف ہم پر مینڈیٹ چوری کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ویسے مذاکرات کرنے پر تیار نہیں لیکن پبپلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے لیے بات کر سکتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان، اختر مینگل، محمود خان اچکزئی سے مذاکرات کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور ان سے معاملات پر بات ہو رہی ہے مسئلہ صرف ایک جماعت پی ٹی آئی کا ہے۔

    ادھر پی ٹی آئی کے رہنما اور ترجمان رؤف حسن نے مسلم لیگ ن کی مذاکرات کی پیشکش کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے۔

    پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گرینڈ ڈائیلاگ کی بات وہ کر رہے ہیں جن کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے۔ یہ لوگ تو کٹھ پتلیاں ہیں۔ ہم بات ان سے کریں گے جن کے پاس اختیار اور طاقت ہے اور صرف انھیں سے بات ہو گی۔

    اس سے قبل سنیچر کو مقامی ٹی وی چینل جیو کے پروگرام ’جرگہ‘ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کے پی ٹی آئی کے ساتھ جانے سے ممکن ہے کہ عمران خان کی مذاکرات کے معاملے میں سوچ میں تبدیلی آ جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں مذاکرات پر یقین رکھتی ہیں اور ممکن ہے کہ ان جماعتوں کا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ہونے سے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات کا عمل شروع ہو جائے۔

    انھوں نے پی ٹی آئی کے الیکشن کے حوالے سے اعتراضات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کے تحفظات پر پارلیمانی کمیشن بنانے کو تیار ہیں۔ انھوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے عمل میں بڑی رکاوٹ عمران خان اور ان کا رویہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سنہ 2018 میں بھی ہم پی ٹی آئی سے بات کرنے پر تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ عمران خان نو مئی کے مقدمات میں جیل میں ہیں، ہم نے ان پر کوئی سیاسی مقدمہ نہیں بنایا۔ انھوں نے ملک کے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود نو مئی کے مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے میں عدالتی نظام کا سقم ہے۔

  17. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ چند روز سے جاری احتجاج کے بعد امن و امان کی صورتحال پر غور کے لیے آج ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

    اجلاس آج وزیر اعظم ہاؤس میں ہوگا جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت، وزارت داخلہ کے نمائندے اوردیگر اہم حکام شریک ہوں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام، وزیر توانائی، وزیر فوڈ سکیورٹیبھی شرکت کریں گے۔

    اجلاس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی جائے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔

    دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے درمیان مذاکرات بے نتیجے رہے اور ڈیڈلاک برقرار رہے۔

    جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری پُرتشدد مظاہروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بدقسمتی سے افراتفری اور اختلافی صورتحال میں بھی ہمیشہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتے ہیں۔‘

    اتوار کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’بحث و مباحثہ، گفت و شنید اور پرُامن احتجاج جمہوریت کی خوبصورتی ہے، تاہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بالکل برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔

    خیال رہے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والا احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر گیا ہے اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان دو دن تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی جبکہ ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

    اس وقت کئی شہروں سے احتجاجی قافلے دار الحکومت مظفرآباد کی جانب رواں ہے اور مظفرآباد سمیت کشمیر کے متعدد شہروں میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔

    ادھر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کے مطالبات کو قانون کے مطابق پورا کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام سٹیک ہولڈرز تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    صدر آصف علی زرداری سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ممبران کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں انھوں نے خطے میں جاری احتجاج اور عوام کے مطالبات سے انھیں آگاہ کیا۔

    صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر کے مسائل بات چیت اور باہمی مشاورت سے حل کریں۔

  18. بریکنگ, قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا

    قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر چار بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا۔

    اجلاس صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 54 کی شق (1) کے تحت تفویض شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے طلب کیا ہے۔ یہ موجودہ قومی اسمبلی کا پانچواں اجلاس ہوگا۔

  19. چمن میں قبائلی جرگہ: ’حکومت کو یہاں کے لوگوں کے مسائل کااحساس ہے اس لیے حکومتی وفد چمن آیا ہے‘، صوبائی وزیر داخلہ

    افغانستان کی سرحد سے متصل بلوچستان کے شہر چمن میں صوبائی وزیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو اور سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کی قیادت میں ڈپٹی کشمنر کمپلیکس میں قبائلی جرگہ ہوا ہے۔

    قبائلی، سیاسی، کاروباری مذہبی اور سماجی عمائدین نے اس جرگے میں شرکت کی ہے۔ اس جرگے میں چمن باڈر، احتجاج، سکیورٹی اور عوامی مسائل سے متعلق صورتحال پرتفصیلی غور ہوا۔

    وزیر داخلہ بلوچستان میرضیا اللہ لانگو کا جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’چمن کے محب وطن ہمارے ہی لوگ ہیں، تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق ’حکومت کو یہاں کے لوگوں کے مسائل کااحساس ہے اس لیے حکومتی وفد چمن آیا ہے۔‘

    ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ ’ملکی معیشت میں چمن کے عوام کا اہم کردار ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے روز اول سے تمام جائز مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ حکومت آئین میں رہتے ہوئے فیصلے کرتی ہے جس پر چمن کے عوام کا تعاون درکار ہے۔‘

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ’حکومت کو آپ لوگوں کے تکالیف اور مشکلات کا احساس ہے جس کے حل کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

  20. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کے مطالبات کو قانون کے مطابق پورا کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام سٹیک ہولڈرز تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘ صدر آصف علی زرداری سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ممبران کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں انھوں نے خطے میں جاری احتجاج اور عوام کے مطالبات سے انھیں آگاہ کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر کے مسائل بات چیت اور باہمی مشاورت سے حل کریں۔ آصف زرداری نے وفد سے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے تاکہ دشمن عناصر حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔‘
    • بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے گوادر میں باڑ لگا کر شہری علاقے کو بند کرنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ گوادر میں رواں سال مارچ کے مہینے میں گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملے کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک بار پھر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گوادر شہر کے گرد باڑ لگانے کی افواہوں میں صداقت نہیں اور سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ایک تنظیم کی جانب سے کیا گیا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
    • بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے جاری ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر لانگ مارچ اور مظفر آباد دھرنا کے موقع پرحکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے مظفر آباد کے داخلے اور خارجی راستے بند کرنے کے علاوہ تمام اضلاع کے بھی داخلی اور خارجی راستوں کو بند کردیا ہے۔ کشمیر کے کئی علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کی اطلاعات ہیں۔ یہ کمیٹی بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگے داموں آٹے کی فروخت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ کشمیر کے داالحکومت مظفر آباد، ڈھوڈیال، کوٹلی اور دیگر علاقوں میں گذشتہ دو روز سے نظام زندگی معطل، شیلٹر او رپہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔ مظاہرین کی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے پورے کشمیر میں کئی لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے مگر اس کے باوجود عوام بڑی تعداد میں باہر نکل چکے ہیں اور اپنے مطالبات کے حق تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔