آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

دوحہ میں مسلم ممالک کے اجلاس میں اسرائیل کی مذمت، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ملاقات

قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں اس وقت دوحہ میں عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔ اس اجلاس کے دوران کچھ اور اہم اجلاس اور ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد اور ایرانی صدر کے درمیان ملاقات میں نو ستمبر کو اسرائیل کی طرف سے قطر پر کیے جانے والے فضائی حملے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان کے اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات بھی ہوئی ہے۔
  • قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین طہٰ نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
  • سیکریٹری جنرل عرب لیگ احمد ابوالغیط نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسے وقت میں اکٹھے ہوئے ہیں جب خطے کو بہت چیلنجز درپیش ہیں۔
  • امریکی وزیر خارجہ سے یروشلم میں ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کے رہنماؤں پر حملے جاری رکھے گا، چاہے وہ کہیں بھی ہوں جبکہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ کے لوگ بہتر مستقبل کے مستحق ہیں مگر یہ حماس کے خاتمے تک ممکن نہیں۔
  • پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقام پر سیلابی صورتحال بر قرار ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آنا شروع ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. امن معاہدے اور یرغمالیوں کی واپسی میں نیتن یاہو واحد رکاوٹ ہیں: لواحقین

    حماس کی حراست میں باقی رہ جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان کی واپسی اور امن معاہدے میں رکاوٹ ہیں۔

    یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ گذشتہ ہفتے قطر پر اسرائیل کا حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ’جب بھی کوئی معاہدہ قریب آتا ہے تو نیتن یاہو اسے سبوتاژ کرتے ہیں۔‘ منگل کے روز اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک گھر میں ہونے والے اجلاس میں حماس کے سینیئر رہنماؤں پر حملہ کیا۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اس کے پانچ ارکان اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اسرائیل کے دورے پر پہنچے تھے جس کے دوران وہ نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے کیونکہ اسرائیل کو اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔

    نیتن یاہو نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ قطر میں حماس کے رہنماؤں کا خاتمہ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کی راہ میں ’بنیادی رکاوٹ کو دور کر دے گا‘۔ انھوں نے حماس پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ غزہ میں جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے جنگ بندی کی تمام کوششوں کو روک رہی ہے۔

    حماس کے ارکان غزہ میں جنگ بندی کی تازہ ترین امریکی تجویز پر بات چیت کے لیے دوحہ میں موجود تھے۔ تاہم یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ردعمل کو اپنے پیاروں کو وطن واپس لانے میں ناکامی کا تازہ ترین بہانہ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’قطر میں ہونے والے ٹارگٹڈ آپریشن نے بغیر کسی شک و شبہ یہ ثابت کیا کہ 48 یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ کے خاتمے میں ایک رکاوٹ ہے، اوروہ ہے وزیر اعظم نیتن یاہو۔‘

    لواحقین کے مطابق ’وقت آگیا ہے کہ اقتدار کو طول دینے کے لیے وقت حاصل کرنے کے بہانے ختم کیے جائیں۔‘ انھوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے ’تعطل‘ نے ’42 یرغمالیوں کی جانیں ضائع کیں اور اضافی یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق کیا جو بمشکل زندہ بچ رہے ہیں‘۔

    روانگی سے قبل مارکو روبیو نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر پر حملے سے خوش نہیں ہیں تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ظاہر ہے کہ ہم اس سے خوش نہیں ہیں ، صدر اس سے خوش نہیں تھے۔ اب ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آگے کیا آتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی ترجیح تمام یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دوحہ پر حملہ قطر کی امریکا کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی کو پیچیدہ بناتا ہے تو مارکو روبیو نے کہا کہ ’وہ متعدد محاذوں پر اچھے شراکت دار رہے ہیں۔‘

    قطر خطے میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ہے اور وہ امریکا کے ایک بڑے فضائی اڈے کا مقام ہے۔ اس حملے کے تناظر میں قطر نے اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بزدل‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ یہ اقدام ’کلی طورپر جائز‘ تھا کیونکہ اس حملے کے ذریعے اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے منصوبہ ساز حماس کے سینیئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر پر اپنے فضائی حملے میں اضافہ کیا ہے، جس سے پورے اپارٹمنٹس اور بڑے کنکریٹ کے ڈھانچے ملبے میں تبدیل ہوگئے ہیں۔

    اسرائیل نے خطے کے تمام رہائشیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایک بڑے زمینی حملے کے پیش نظر فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج سکولوں اور عارضی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا رہی ہے، اکثر بمباری سے چند لمحے پہلے ہی وارننگ جاری کرتی ہے۔

    سنیچر کے روز اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ تقریبا ڈھائی لاکھ افراد شہر چھوڑ کر جنوب کی طرف چلے گئے ہیں۔

    نیتن یاہو کے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے منصوبے کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ ایک ایسے علاقے میں فوجی کشیدگی جہاں قحط کا اعلان کیا گیا ہے شہریوں کو ’اس سے بھی گہری تباہی‘ کی طرف دھکیل دے گا۔

    اتوار کے روز غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 68 افراد کی لاشیں گذشتہ روز ہسپتالوں میں پہنچ چکی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ عالمی غذائی تحفظ کے ماہرین نے 22 اگست کو غزہ شہر میں قحط کی تصدیق کی ہے۔ وزارت نے اطلاع دی ہے کہ پورے علاقے میں کم از کم 144 افراد بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ امداد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو بڑھا رہا ہے اور غذائی قلت سے متعلق اموات کے بارے میں وزارت صحت کے اعداد و شمار سے اختلاف کیا ہے۔

    حماس کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 64 ہزار 871 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  2. آئی ایم ایف پاکستان میں سیلاب سے متعلق اخراجات کا جائزہ لے گا

    عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرض پروگرام کے جائزہ مشن میں دیکھا جائے گا کہ آیا حکومت کی مالیاتی پالیسی اور ہنگامی اقدامات اس بحران سے مؤثر طور پر نمٹ سکتے ہیں یا نہیں۔

    آئی ایم ایف مشن کا دوسرے جائزے کے لیے رواں ماہ کے آخر میں دورہ پاکستان متوقع ہے۔

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے ماہیر بینسی نے کہا کہ ’مشن اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا مالی سال 2026 کا بجٹ، اس میں مختص اخراجات اور ہنگامی اقدامات سیلاب کے باعث درکار اخراجات کو پورا کرنے کے لیے لچکدار ہیں یا نہیں۔‘

    نمائندہ آئی ایم ایف کے مطابق سیلاب متاثرین کے لیے حکومتی اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، ریلیف، بحالی اور بجٹ ترجیحات پر رپورٹ تیار کی جائے گی۔

    ماہیر بنسی کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد بحالی اور امداد کے فنڈز کا مشن تخمینہ لگائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک سیلاب سے نو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    سیلاب نے پنجاب بھر میں فصلوں، مویشیوں اور گھروں کو تباہ کر دیا ہے اور اب یہ سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور مزید مشکلات کا خدشہ ہے۔

    آئی ایم ایف بورڈ نے مئی میں 1.4 ارب ڈالر کا نیا قرضہ منظور کیا تھا تاکہ پاکستان کو ماحولیاتی نقصانات اور قدرتی آفات کے مقابلے میں اپنی معاشی لچک کو مضبوط بنانے میں مدد دی جا سکے۔

    عالمی کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔

    روئٹرز کے ایک سروے کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پیر کو ہونے والے اجلاس میں بنیادی شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کی توقع ہے، کیونکہ پالیسی ساز فصلوں کے نقصان سے بڑھتی مہنگائی کے خطرات اور سست ہوتی معیشت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  3. چھ ماہ میں اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کر دوں گی: نیپال کی عبوری وزیراعظم

    نیپال کی نومنتخب عبوری وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ اس منصب پر چھ ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں رہیں گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے اس منصب کے لیے خواہش کا اظہار نہیں کیا۔‘

    جمعے کو حلف اٹھانے کے بعد پہلی بار سشیلا کارکی نے کہا کہ سڑکوں سے اٹھنے والی عوامی آوازوں کے بعد وہ یہ منصب قبول کرنے پر مجبور ہوئیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اقتدار نئی حکومت کے حوالے کریں گی۔ واضح رہے کہ نیپال میں نئی حکومت اگلے سال پانچ مارچ کو ہونے والے انتخابات کے بعد سامنے آئے گی۔

    سشیلا کی عبوری وزیراعظم کے طور پر تقرری ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب بدعنوانی کے خلاف مظاہروں کے دوران 70 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے اور ان ہنگاموں کے ذریعے نیپال کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

    سشیلا کارکی نے نام نہاد ’جنرل زی‘ تحریک کے مظاہرین کے رہنماؤں کے ساتھ معاہدے کے بعد عبوری وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں جنریشن زی کی سوچ کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ یہ گروہ جس چیز کا مطالبہ کر رہا ہے وہ بدعنوانی، اچھی حکمرانی اور معاشی ناانصافی کا خاتمہ ہے۔‘

    نیپال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے بعد شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر مظاہرے آٹھ ستمبر کو شروع ہوئے تھے اور دو دن کے دوران افراتفری اور تشدد کا شکار ہوگئے جس کے دوران سیاستدانوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور پارلیمنٹ کو آگ لگا دی گئی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ہنگاموں میں مرنے والوں کی تعداد اب 72 تک پہنچ گئی ہے جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    سشیلا کارکی نے کہا کہ ’مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اگر یہ نیپالی تھے جنھوں نے ان اہم عمارات کو تباہ کیا تھا تو انھیں نیپالی کیسے کہا جا سکتا ہے۔‘

    کٹھمنڈو میں نہ صرف پارلیمنٹ کی عمارت کو نذرِ آتش کیا گیا بلکہ مشتعل ہجوم نے دیگر سرکاری عمارتوں اور وزیروں کے گھروں پر بھی حملے کیے۔

    تاہم احتجاج میں حصہ لینے والے ’جین زی گروپس‘ نے کٹھمنڈو میں ہونے والی تباہی سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تحریک کو ’موقع پرستوں نے ہائی جیک‘ کر لیا ہے۔

    سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی شہرت اچھی ہے مگر وہ تنازعات کی زد میں بھی رہی ہیں خاص طور پر جب انھیں چیف جسٹس کی حیثیت سے اپنے تقریباً 11 ماہ کے دور میں مواخذے کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    اب سشیلا کارکی اور ان کی کابینہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں امن و امان کی بحالی، پارلیمنٹ اور دیگر اہم عمارتوں کی تعمیر نو شامل ہے، اس کے علاوہ جنریشن زی مظاہرین کو یقین دلانا بھی شامل ہے جو تبدیلی چاہتے ہیں اور نیپالی عوام کو بھی جنھیں یہ خدشہ ہے کہ کہیں جمہوری نظام ہی پٹری سے نہ اتر جائے۔

  4. پنجاب میں سیلاب سے 104 ہلاکتوں کی تصدیق، مون سون بارشوں کے 11 ویں سپیل کا الرٹ جاری

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے (پی ڈی ایم اے) کے مطابق صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 104 ہو گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں دریائے راوی، دریائے چناب اور ستلج کے سیلابی ریلوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے 11ویں سپیل کا الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 16 سے 19 ستمبر کے دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث ندی، نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیر و تفریح سے گریز کریں۔

  5. لندن میں امیگریشن مخالف ریلی کے دوران جھڑپیں، 26 پولیس اہلکار زخمی، 25 مظاہرین گرفتار

    لندن میں امیگریشن مخالف ریلی کے شرکا اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں زخمی پولیس اہلکاروں کی تعداد 26 ہو گئی ہے جبکہ پولیس نے 25 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

    ہفتے کو وسطی لندن میں انتہائی دائیں بازو کے ایکٹوسٹ ٹومی رابنسن کی جانب سے منعقد کی جانے والی ریلی میں شریک افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک جا پہنچی تھی۔ اس ریلی کو ’یونائیٹ دی کنگڈم‘ (بادشاہت کو متحد کریں) کا نام دیا گیا تھا۔

    ریلی کے دوران اُس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی جب کچھ مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکیں جس سے چار پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔

    اس دوران دوسری جانب اس ریلی کے خلاف سٹینڈ اپ ٹو ریسزم‘ نامی تنظیم نے بھی احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا تھا جس کے باعث کسی بھی تصادم سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

    دوپہر کو دونوں ریلیاں ایک مقام پر قریب آنے لگیں تو پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نے درمیان میں حصار بنا لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس دوران مظاہرین نے پولیس کی جانب سے قائم کیے گئے حصار کو نظر انداز کیا جس پر پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ’یونائیٹ دی کنگڈم‘ ریلی میں شریک افراد کی تعداد پولیس کی توقع سے زیادہ تھی۔

    میٹرو پولیٹین پولیس کے مطابق جب افسران نے ان کا راستہ روکنے کے لیے مداخلت کی تو ان پر لاتوں اور گھونسوں سے حملہ کیا گیا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

    امیگریشن مخالف ریلی سے ایک مقام پر ایلون مسک نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور کہا کہ بڑے پیمانے پر بے قابو ہجرت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اُنھوں نے برطانیہ میں حکومت کی تبدیلی کا بھی مطالبہ کر دیا۔

  6. وزیر اعظم شہباز شریف ’ایمرجنسی عرب اسلامک سمٹ‘ میں شرکت کے لیے قطر جائیں گے

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف ’ایمرجنسی عرب اسلامک سمٹ‘ میں شرکت کے لیے قطر جائیں گے۔

    اسرائیل کی جانب سے حماس کے رہنماؤں کے خلاف دوحہ میں کی گئی کارروائی کے بعد بلائی گئی کانفرنس کا انعقاد 15 ستمبر کو ہو گا۔

    سمٹ سے قبل اتوار کو عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہو گا جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اجلاس میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی غور ہو گا۔

    اجلاس میں اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے رُکن ممالک کے سربراہان اور دیگر اعلِی حکام بھی شریک ہوں گے۔

    منگل کو دوحہ میں اسرائیلی حملے میں حماس سے منسلک چھ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں تنظیم کے رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے اور آفس مینیجر بھی شامل ہیں۔ تاہم اس حملے میں حماس کی اعلیٰ قیادت محفوظ رہی تھی۔

  7. امریکی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلی فون: ’پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

    ٹیلی فونک رابطے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیَے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھنے پر اعتماد کا اظہار کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں باہمی تعلقات اور حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے تعاون کے کثیر جہتی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کی قطر میں حماس کے رہنماؤں کے خلاف کی گئی کارروائی پر مسلم ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

  8. قطر کا عرب اسلامی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان: ’اسرائیلی حملے کے بعد کوئی خلیجی ملک محفوظ نہیں‘

    قطر نے اسرائیلی حملے کے تناظر میں ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کرنے کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیل کے حملے کے بعد کوئی بھی خلیجی ریاست محفوظ نہیں۔‘

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد انصاری کے مطابق اتوار اور پیر کو ہونے والے دو روزہ عرب سربراہی اجلاس میں عرب ممالک قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے جبکہ اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کو مسترد کرنے کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

    قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق عالمی برادری کو اجتماعی طور پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقدامات کا مقابلہ کر کے اس کی روک تھام کے اقدامات کرنا ہوں گے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے منگل (9 ستمبر) کو دوحہ پر ایک فضائی حملے میں قطر میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو ختم کرنے کے ارادے سے حملہ کیا۔ ۔

    اس حملے کی مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر ایک ایسی کارروائی کے طور پر شدید مذمت کی گئی جو خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے یہاں تک کے صدر ٹرمپ نے بھی اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قطر کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ایسے حملے دوبارہ نہیں ہوں گے۔

    قطری وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت حملے کے بعد مکمل چوکس ہے اور نئے اسرائیلی حملےسمیت کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان کے مطابق ’حماس کے رہنماؤں پر منگل کے روز کیے جانے والے مہلک حملے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کبھی بھی غزہ کے لیے امن معاہدے پر دستخط کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔‘

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ نیتن یاہو اس وقت کسی کی بات سننے یا منطق کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

  9. ’خارجیوں یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کریں‘: شہباز شریف کا افغانستان کی عبوری حکومت سے مطالبہ

    وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے افغانستان کی عبوری حکومت کو ایک بار پھر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغانستان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ خارجیوں یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بات فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بنوں میں سی ایم ایچ میں زخمی فوجی جوانوں کی عیادت کے بعد گفتگو کے دوران کہی۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں جو سرحد پار سے آ کر پاکستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر دہشت گردی کر رہے ہیں۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’اگر افغان حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے تو ایمانداری اور سچائی کے ساتھ تعلقات قائم کرے جس کے لیے ہم تیار ہیں، تاہم اگر افغانستان کی حکومت کو دہشت گردوں کا ساتھ دینا ہے تو پھر ہمیں بھی افغانستان کی قائم مقام حکومت سے کوئی واسطہ نہیں۔‘

    انھوں نے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کی افواج فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ہر صورت ان دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گی۔

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر جواب دینے کے لیے جو ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرنے پڑے وہ فوراً کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کریں گے، جلد کابینہ کے پاس ان فیصلوں کو لے کر جاؤں گا، جس پر بحث کے بعد حتمی فیصلہ کر کے فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔‘

    خیال رہے کہ پاکستانی حکام کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

  10. چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی وضاحت کے بعد وکیل ایمان مزاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست

    ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے ساتھ ہونے والی ’متنازع‘ گفتگو کے دورانیہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست جمع کروا دی ہے۔

    اپنی تحریری درخواست میں ایمان مزاری نے رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ وہ معزز چیف جسٹس کی عدالت نمبر ایک کی 11 ستمبر 2025 کی صبح نو بجے سے 11 بجے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کریں۔

    درخواست کے مطابق ’اس دوران میرے ساتھ ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں یہ ضروری ہے کہ گفتگو کی ریکارڈنگ محفوظ کی جائے۔‘

    یاد رہے کہ جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی تھی جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے درمیان تکرار ہو گئی تھی۔

    تاہم جمعے کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ایمان مزاری ان کی بیٹیوں کی طرح ہیں لیکن ان کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے طوفان کھڑا کیا گیا۔

    سنیچر کے روز ایمان مزاری نے درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’مذکورہ تاریخ اور وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی ایک کاپی مجھے فراہم کی جائے، جس کے لیے میں نے اس درخواست کے ساتھ ایک یو ایس بی منسلک کی ہے۔‘

    کل سے اِس بات کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن میں نے تو نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا۔‘

    جمعے کے روز وضاحت دیتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ وہ گذشتہ روز بطور چیف جسٹس اور بڑا ہونے کے ناطے ایمان مزاری کو سمجھا رہے تھے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ’کل سے اِس بات کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن میں نے تو نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا۔‘

    ’ہادی صاحب (ایمان مزاری کے شوہر) کھڑے تھے تو میں نے کہا انھیں پکڑ کر لے جائیں ورنہ توہینِ عدالت کی کارروائی کروں گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے بچوں کی طرح سمجھایا لیکن وہ سمجھ نہیں رہی تھی۔ بار بار کہہ رہی تھیں کہ بنیادی حقوق، کیا اِس کورٹ کے بنیادی حقوق نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر ’توہینِ عدالت کی کارروائی ہوئی تو بچی کا کیرئیر خراب ہو جائے گا۔‘

  11. خیبر پختونخوا میں پاکستانی فوج کے دو آپریشنز میں 35 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دو مقامات پر سکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے دوران 35 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ضلع باجوڑ میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں ’فائرنگ کے شدید تبادلے‘ کے دوران 22 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرا آپریشن ضلع جنوبی وزیرستان میں کیا گیا جہاں سکیورٹی فورسز نے 13 مزید شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے 12 فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔

    اس نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں سے اسلحہ برآمد کیا گیا اور وہ ان علاقوں میں متعدد دہشتگرد حملوں میں ملوث رہے تھے۔

    پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے ’انڈین سپارنسرڈ‘ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ خیال رہے کہ انڈین حکام ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ ’انٹیلیجنس رپورٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ اِن کارروائیوں میں افغان شہری ملوث ہیں۔‘ اس نے دعویٰ کیا کہ شدت پسندوں کی جانب سے پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔ ’پاکستان افغان عبوری حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائے اور پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں میں اپنی سرزمین استعمال ہونے کو روکے۔‘

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرِ دفاع ملّا یعقوب نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے ’سکیورٹی ادارے کمزور ہیں اور اس کمزوری کو چھپانے کے لیے وہ افغانستان پر الزامات عائد کرتے ہیں۔‘

    بی بی سی کو دیے ایک انٹرویو میں ملّا یعقوب نے مزید کہا تھا کہ ’تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ (علیحدگی پسند) اپنی کارروائیاں پاکستان میں کرتے ہیں۔ وہ ڈیورنڈ لائن سے سینکڑوں کلومیٹر دور (پاکستان کے) بڑے شہروں میں حملے کرتے ہیں۔‘

  12. پنجند اور گدو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، آرمی چیف کا سیلاب متاثرہ اضلاع کا دورہ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب نے 28 اضلاع کو متاثر کیا ہے لیکن یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں کمی آئے گی۔

    پی ڈی ایم اے کے سربراہ عرفان علی کاٹھیا نے سینچر کو سیلاب سے متاثرہ جنوبی ضلع بہاولپور کا دورہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ دریائے چناب اور راوی میں طغیانی سے جنوبی اضلاع، خاص کر ملتان، متاثر ہوئے لیکن اب جلال پور پیر والا کو ’کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

    جنوبی اضلاع میں ریلیف آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے پی ڈی ایم اے کے سربراہ نے کہا کہ رحیم یار خان اور جلال پور پیر والا میں پانچ ہیلی کاپٹر ریسکیو سروسز فراہم کر رہے ہیں اور اب پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق پنجند پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 5 ہزار کیوسک ہے۔

    پنجاب میں سیلاب سے ہونے والے نقصان کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے احمد علی کاٹھیا نے بتایا کہ سیلاب سے مجموعی طور پر 45 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور 4744 دیہات زیر آب آئے۔

    خیال رہے کہ پنجاب کے حکام نے سیلاب کے باعث اب تک کم از کم 97 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    صوبائی حکومت کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں مجموعی طور پر 24 لاکھ سے زائد افراد اور 19 لاکھ سے زائد جانوروں کا محفوظ انخلا کروایا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پنجاب کے بعد پانی اب سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے اور گدو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گدو بیراج پر اس وقت پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ 14 ہزار کیوسک ہے۔

    دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی پنجاب میں سیلاب متاثرہ اضلاع کا دورہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فوج کے سربراہ نے جلال پور پیروالا میں ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور متاثرہ اضلاع میں فوج اور سول انتظامیہ کی مشترکہ امدادی سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔

  13. قطری وزیراعظم کی نیویارک میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات

    قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے وزیراعظم سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔

    جمعے کو نیویارک میں یہ ملاقات ڈنر یا عشائیے پر ہوئی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہے لیکن ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

    صدر ٹرمپ اور قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آلثانی کے مابین ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی سفیر سٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔

    نیویارک میں امریکی صدر کے ساتھ عشائیے سے قبل قطری وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔

    امریکہ میں قطری مشن کے نائب سربراہ نے ایکس پر لکھا کہ ’امریکی صدر کے سے ساتھ زبردست عشائیہ ابھی ختم ہوا ہے۔‘

    یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب چند روز قبل امریکی کے قریبی اتحادی ملک اسرائیل نے قطر کے دارالحومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ کیا تھا۔

    دوسری جانب امریکی سیکرٹری خارجہ سنیچر کو اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔

    امریکی سیکرٹری خارجہ ایک ایسے وقت میں اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں جب فرانس کی قیادت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر بات ہو گی۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکام سے ملاقات میں خطے کی صورتحال کے تناظر میں امریکہ اور قطر کے مابین گہرے سٹرٹیجک تعلقات کو وسعت دینے پر غور کیا گیا۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق قطر کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے جارحانہ حملے کو دیکھتے ہوئے قطر اپنی سکیورٹی اور خودمختاری کے لیے ہر ممکن قدم اُٹھائے گا۔

    بیان کے مطابق امریکہ نے امن کے قیام اور ثالثی کے لیے قطر کے کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قطر خطے میں امریکہ کا قریبی اتحادی ہے۔

  14. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے ’نیویارک ڈیکلیئریشن‘ کی منظوری دی ہے جس میں اسرائیل فلسطین تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے ’مقررہ مدت کے اندر، ٹھوس، ناقابل واپسی اقدامات‘ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
    • نیپال میں بدعنوانی کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کے بعد سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سُشیلا کارکی نے بطور نگراں وزیرِ اعظم حلف اُٹھا لیا ہے۔
    • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دوحہ کے ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے تاہم اس بیان میں براہ راست اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا۔ حماس کا کہنا ہے کہ منگل کو دوحہ میں اسرائیلی حملے میں ان کے رہنما خلیل الحیہ محفوظ رہے ہیں۔ ادھر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے نائب سفیر کو سرزنش کے لیے طلب کیا۔
    • شام کی عبوری حکومت کے صدر احمد الشرع کا کہنا ہے کہ شام اور اسرائیل کے مابین ’سکیورٹی معاہدے‘ کو حتمیٰ شکل دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
    • ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور انڈیا کے نئے امریکی سفیر سرجیو گور کا کہنا ہے کہ انڈیا امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کے نتائج جلد ہی معلوم ہوں گے لیکن انھوں نے امریکہ کے اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ انڈیا کو روس سے تیل خریدنا بند کرنا چاہیے۔
    • برازیل کے سابق صدر جائیر بولسونارو پر فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام ثابت ہونے پر انھیں 27 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔