امن معاہدے اور یرغمالیوں کی واپسی میں نیتن یاہو واحد رکاوٹ ہیں: لواحقین
حماس کی حراست میں باقی رہ جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان کی واپسی اور امن معاہدے میں رکاوٹ ہیں۔
یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ گذشتہ ہفتے قطر پر اسرائیل کا حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ’جب بھی کوئی معاہدہ قریب آتا ہے تو نیتن یاہو اسے سبوتاژ کرتے ہیں۔‘ منگل کے روز اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک گھر میں ہونے والے اجلاس میں حماس کے سینیئر رہنماؤں پر حملہ کیا۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس کے پانچ ارکان اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اسرائیل کے دورے پر پہنچے تھے جس کے دوران وہ نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے کیونکہ اسرائیل کو اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔
نیتن یاہو نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ قطر میں حماس کے رہنماؤں کا خاتمہ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کی راہ میں ’بنیادی رکاوٹ کو دور کر دے گا‘۔ انھوں نے حماس پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ غزہ میں جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے جنگ بندی کی تمام کوششوں کو روک رہی ہے۔
حماس کے ارکان غزہ میں جنگ بندی کی تازہ ترین امریکی تجویز پر بات چیت کے لیے دوحہ میں موجود تھے۔ تاہم یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ردعمل کو اپنے پیاروں کو وطن واپس لانے میں ناکامی کا تازہ ترین بہانہ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’قطر میں ہونے والے ٹارگٹڈ آپریشن نے بغیر کسی شک و شبہ یہ ثابت کیا کہ 48 یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ کے خاتمے میں ایک رکاوٹ ہے، اوروہ ہے وزیر اعظم نیتن یاہو۔‘
لواحقین کے مطابق ’وقت آگیا ہے کہ اقتدار کو طول دینے کے لیے وقت حاصل کرنے کے بہانے ختم کیے جائیں۔‘ انھوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے ’تعطل‘ نے ’42 یرغمالیوں کی جانیں ضائع کیں اور اضافی یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق کیا جو بمشکل زندہ بچ رہے ہیں‘۔
روانگی سے قبل مارکو روبیو نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر پر حملے سے خوش نہیں ہیں تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ظاہر ہے کہ ہم اس سے خوش نہیں ہیں ، صدر اس سے خوش نہیں تھے۔ اب ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آگے کیا آتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی ترجیح تمام یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دوحہ پر حملہ قطر کی امریکا کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی کو پیچیدہ بناتا ہے تو مارکو روبیو نے کہا کہ ’وہ متعدد محاذوں پر اچھے شراکت دار رہے ہیں۔‘
قطر خطے میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ہے اور وہ امریکا کے ایک بڑے فضائی اڈے کا مقام ہے۔ اس حملے کے تناظر میں قطر نے اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بزدل‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ یہ اقدام ’کلی طورپر جائز‘ تھا کیونکہ اس حملے کے ذریعے اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے منصوبہ ساز حماس کے سینیئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر پر اپنے فضائی حملے میں اضافہ کیا ہے، جس سے پورے اپارٹمنٹس اور بڑے کنکریٹ کے ڈھانچے ملبے میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
اسرائیل نے خطے کے تمام رہائشیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایک بڑے زمینی حملے کے پیش نظر فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج سکولوں اور عارضی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا رہی ہے، اکثر بمباری سے چند لمحے پہلے ہی وارننگ جاری کرتی ہے۔
سنیچر کے روز اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ تقریبا ڈھائی لاکھ افراد شہر چھوڑ کر جنوب کی طرف چلے گئے ہیں۔
نیتن یاہو کے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے منصوبے کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ ایک ایسے علاقے میں فوجی کشیدگی جہاں قحط کا اعلان کیا گیا ہے شہریوں کو ’اس سے بھی گہری تباہی‘ کی طرف دھکیل دے گا۔
اتوار کے روز غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 68 افراد کی لاشیں گذشتہ روز ہسپتالوں میں پہنچ چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ عالمی غذائی تحفظ کے ماہرین نے 22 اگست کو غزہ شہر میں قحط کی تصدیق کی ہے۔ وزارت نے اطلاع دی ہے کہ پورے علاقے میں کم از کم 144 افراد بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ امداد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو بڑھا رہا ہے اور غذائی قلت سے متعلق اموات کے بارے میں وزارت صحت کے اعداد و شمار سے اختلاف کیا ہے۔
حماس کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 64 ہزار 871 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔