حماس اور اسرائیل کے درمیان سنیچر کے روز دوحہ میں شروع ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے موقعے پر قاہرہ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔
ایک مصری ذریعے نے بی بی سی کو اس تجویز سے متعلق بتایا کہ اس میں 45 سے 60 دن کی جنگ بندی کے علاوہ 200 فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں حماس کے زیر حراست آٹھ سے دس اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ اور یوں غزہ کی پٹی میں ضروری امداد کی ترسیل بھی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس تجویز پر اسرائیل کے جواب کا انتظار ہے جبکہ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے خبر نشر کی ہے کہ 200 سے 250 فلسطینی قیدیوں کی رہائی ’متنازع ہے اور بات چیت سے مشروط ہے۔‘
ذرائع نے اشارہ کیا کہ حماس زندہ اور مردہ اسرائیلی یرغمالیوں کے ناموں کی ایک تفصیلی فہرست فراہم کرے گا اور اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنی افواج کو دوبارہ تعینات کر سکتا ہے۔
اس وقت جاری مذاکرات سے باخبر ایک فلسطینی اہلکار نے کہا کہ ’حماس یرغمالیوں کی تعداد اور رہائی سے متعلق لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے، لیکن مسئلہ ہمیشہ اسرائیل کا جنگ کو ختم کرنے کے عزم کا رہا ہے۔‘
روئٹرز کے ساتھ رابطے میں حماس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’اسرائیل کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ وہ جنگ ختم کرنے کا عہد کیے بغیر اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔‘
قطر، مصر اور امریکہ کے ثالث کاروں کی موجودگی میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔
بی بی سی کو ایک مصری ذریعے نے بتایا کہ ’مشرق وسطیٰ کے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے پیش کردہ ایک مقالے میں ایک ’سنگل پیکیج معاہدے‘ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
’پورے خاندانوں کو مٹا دیا گیا تھا‘
غزہ کی پٹی میں صحت کے حکام نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کی پٹی میں رات بھر کم از کم 100 فلسطینی مارے گئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر خلیل الدقران نے ٹیلی فون پر روئٹرز کو بتایا کہ ’گزشتہ رات سے اب تک ہمارے پاس کم از کم 100 لاشیں آ چکی ہیں۔ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے پورے پورے خاندان ختم ہو گئے ہیں۔‘
طبی ماہرین نے بتایا کہ تازہ ترین کارروائیوں میں متعدد خواتین اور بچے ہلاک جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے اور کئی خیموں کو آگ لگا دی گئی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلیجی ممالک کے دورے کے باوجود حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل اتوار کو ہلاک ہونے والے درجنوں افراد میں تین صحافی اور ان کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔ طبی حکام نے بتایا کہ شمالی غزہ میں ایک اور خاندان کے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق طبی ماہرین نے بتایا کہ حماس کے سابق رہنما یحییٰ سنوار کے بھائی زکریا سنوار، جنھیں گذشتہ اکتوبر میں اسرائیل نے ہلاک کر دیا تھا، اور ان کے تین بچے وسطی غزہ میں ان کے خیمے پر اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
ایک بیان میں حماس نے ’بے گھر ہونے والوں کے خیموں کو نشانہ بنانا اور ان کے اندر موجود معصوم شہریوں کے ساتھ جلانے کو ایک نیا وحشیانہ جرم قرار دیا۔‘
حماس نے مزید کہا کہ ’امریکی انتظامیہ، دہشت گرد قابض حکومت کو سیاسی اور فوجی حمایت دے کر، غزہ کی پٹی میں اس پاگل پن اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی براہ راست ذمہ داری قبول کرے۔‘
دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں دوبارہ فوجی آپریشن شروع کیا اور اس پٹی کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
اسرائیلی فوج نے ابھی تک تازہ ترین کارروائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، لیکن ایک پچھلے بیان میں اس نے کہا تھا کہ وہ اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے منصوبے کے تحت غزہ کے علاقوں پر شدید فضائی حملے کر رہی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے میں یرغمال بنائے گئے ’یرغمالیوں کو رہا کرنا اور حماس کو شکست دینا‘ ہے۔