سری لنکا کے صدر کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست
سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کو انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سری لنکن صدر کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے میچ کے حوالے سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلے سے آگاہ کرنے کو کہا ہے۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق سری لنکن صدر نے کہا کہ سری لنکا میں دہشت گردی کے دوران پاکستان نے سری لنکن کرکٹ بورڈ سے بھرپور تعاون کیا تھا۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق سری لنکن صدر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو ہر چیز پر فوقیت دی اور پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دہشتگردی کے باوجود سری لنکا میں کرکٹ کھیلنے کے لیے دورے جاری رکھے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی مشکل ادوار میں سری لنکا نے بھرپور ساتھ دیا اور پاکستان میں کرکٹ جاری رکھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سری لنکن ٹیم نے پاکستان کا دورہ منسوخ نہ کرکے پاکستانی قوم اور کرکٹ شائقین کے لیے ایک ناقابلِ فراموش اقدام اٹھایا۔
واضح رہے کہ سری لنکن صدر نے پاکستانی وزیر اعظم سے ایسے وقت میں رابطہ کیا ہے، جب اس سے قبل سری لنکن کرکٹ بورڈ بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپیل کر چکا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول میچ کھیلے۔
سری لنکن کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ میچ نہ ہونے کی وجہ سے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو بھی بھاری مالی نقصان ہو گا۔
پاکستان کی جانب سے انڈیا کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر بات چیت کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ بھِی اتوار کو پاکستان آئے تھے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین امین الاسلام نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی اتوار کو لاہور میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کے بائیکاٹ پر بات چیت ہوئی تاہم اس کا نتیجہ اب تک واضح نہیں۔
آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن مبشر عثمانی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی اور اس اجلاس میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود تھے۔