آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتہ: سینٹ کام کی تصدیق

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا ہے۔ سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران متعدد دیگر امریکی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ جانی نقصان ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات کے دوران پیش آیا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتہ: سینٹ کام

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا ہے۔

    سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران متعدد دیگر امریکی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ جانی نقصان ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات کے دوران پیش آیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چار امریکی فوجیوں کو زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے اردن کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا، تاہم طبی امداد ملنے کے بعد انھیں ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ فوج کے مطابق معمولی زخمی دیگر اہلکاروں کا بھی معائنہ کیا گیا اور وہ اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال چکے ہیں۔

    سینٹکام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے احترام میں مزید تفصیلات، بشمول ان کی شناخت، فی الحال جاری نہیں کی جائیں گی۔ یہ معلومات قریبی عزیزوں کو باضابطہ اطلاع دینے کے کم از کم 24 گھنٹے بعد ہی منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔

    ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، تاہم حملے کے اثرات اور نقصان کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف ممالک خطے میں سلامتی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے بحرین، کویت اور اردن میں شہری بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری مقامات پر حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات قابلِ مذمت ہیں۔

    امریکی حکام نے لاپتہ فوجی کی تلاش اور زخمیوں کے علاج کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا کہا ہے، جبکہ واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  2. ایرانی سرکاری ٹی وی پر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب تحریری پیغام: ’ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں، امریکہ کو ناقابلِ فراموش سبق سکھایا جائے گا‘

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان نے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک نیا تحریری پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ’ناقابلِ فراموش سبق‘ دیا جائے گا۔

    اس تحریری پیغام میں، جو ایران کے رہبراعلیٰ سے منسوب کیا گیا ہے میں کہا گیا ہے کہ

    ’مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی حیثیت یا اعتبار نہیں۔‘

    مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب پیغام میں مزید کہا گیا کہ ’بڑے شیطان نے ایک بار پھر اپنا حقیقی اور بے نقاب چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے، تاکہ جرم اور غداری کا یہ تلخ تجربہ امریکہ کی جھوٹی، غیر منطقی، ناقابلِ اعتماد اور مذموم فطرت کا ایک اور مضبوط ثبوت بن جائے۔‘

    پیغام کے مطابق، ’اب جبکہ امریکی دشمن جنگ بھڑکانے اور خود کو مزید بھاری اخراجات اور بڑی رسوائی سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسے جان لینا چاہیے کہ ایران کی عزیز قوم اور محاذِ مزاحمت اس کے لیے ناقابلِ فراموش اسباق رکھتے ہیں۔‘

    اپنے والد کے جانشین بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے ہیں، اور نہ ہی ان کی کوئی آواز یا ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے۔

    اب تک ان سے منسوب تمام پیغامات صرف تحریری شکل میں ہی منظرِ عام پر آئے ہیں۔

  3. خضدار میں طالب علم آصف بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی ریلی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم آصف بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے جس میں شرکا نے آصف بلوچ کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

    خضدار میں سینیچر کو نکالی جانے والی ریلی میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔

    ریلی میں شریک آصف بلوچ کی والدہ کے ہاتھ میں ان کی تصویر کے علاوہ اسلام کی مقدس کتاب قرآن بھی تھی۔

    آصف بلوچ کی بہن سارہ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی کو 13جولائی کو کوئٹہ شہر میں سمنگلی روڈ سے دوسرے طلبا کے ساتھ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

    ان کا الزام ہے کہ آصف بلوچ سمگلی روڈ پر امتحان کی تیاری کے سلسلے میں رہائش پزیر تھے جہاں علی الصبح پانچ بجے چار گاڑیوں میں آنے والے اہلکار انھیں اٹھا کر لے گئے جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے خروٹ آباد پولیس سٹیشن میں درخواست دی گئی لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

    سارہ بلوچ نے کہا کہ ان کے بھائی کے خلاف اگر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر ان کے خلاف الزام نہیں تو ان کو رہا کیا جائے۔

    انھوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کے بھائی کو منظر عام پر نہیں لایا گیا تو وہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بطور احتجاج بند کریں گے۔

  4. غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم نو فلسطینی ہلاک

    غزہ میں اسرائیل کے دو الگ الگ فضائی حملوں میں کم از کم نو فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

    غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق غزہ شہر کے زیتون محلے میں ہونے والے ایک حملے میں تین افراد جان سے گئے۔

    فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ شہر کے مغربی علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر کیے گئے ایک دوسرے حملے میں مزید چھ افراد ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی حکام کی جانب سے ان حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ سے متعلق کوششیں جاری ہیں تاہم اسرائیلی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے دعوے کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  5. روس کی کمپنی وائلڈ بیریز کے گوداموں پر یوکرینی ڈرون حملے،آٹھ افراد ہلاک متعدد زخمی

    روس نے یوکرین پرالزام عائد کیا ہے کہ اس نے ڈرون حملوں میں روس کی سب سے بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کے دو گوداموں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 62 زخمی ہو گئے۔

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد روس کے شہر تامبوف میں واقع ایک گودام پر حملے میں ہلاک ہوئے جبکہ 25 افراد زخمی ہوئے۔

    تامبوف ماسکو سے تقریباً 475 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ماسکو کے علاقے کے شہر الیکٹروسٹال میں واقع وائلڈبیریز کے ایک اور گودام پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور 37 زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ حملوں میں ان ’بڑی لاجسٹک تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا جو ان کے بقول ڈرونز کی تیاری کے لیے پابندیوں کے شکار پرزوں اور نیویگیشن آلات کی فراہمی میں استعمال ہو رہی تھیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ بحیرہ ازوف، بحیرہ اسود اور روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں ایک بڑے لاجسٹک مرکز سے آگ کے شعلے اور سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ درجنوں کارکن علاقے سے بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں تاہم بی بی سی آذادانہ اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    کچھ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے رات کے وقت شروع ہوئے۔ ان میں زخمی اور خوف زدہ ملازمین کو دھماکوں کے دوران محفوظ مقام کی جانب بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک اور ویڈیو میں گودام کی دیواریں آگ کی لپیٹ میں آ کر گرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

    صدر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں ’روس کی جانب سے یوکرین کے شہری بنیادی ڈھانچے، شہروں اور آبادیوں پر حملوں‘ کے جواب میں کی گئی ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق بدھ کی صبح تک روسی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    تاہم یوکرینی سکیورٹی اینڈ کوآپریشن سینٹر کے سربراہ سرہی کوزان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وائلڈ بیریز روسی لاجسٹکس کا ایک ’اہم جزو‘ ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کی ویب سائٹ کو روسی رضاکار فوجی سامان خریدنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، جن میں واکی ٹاکیز، باڈی آرمر اور ڈرونز کے پرزے شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’وائلڈبیریز کے گوداموں کو نشانہ بنانے کا بنیادی مقصد روسی لاجسٹکس، دوہری استعمال کی اشیا، اہم الیکٹرانکس، پابندیوں کا شکار سامان اور روسی فوج و اسلحہ ساز اداروں تک ان کی رسد کو متاثر کرنا ہے۔‘

    دوسری جانب روس بھی جنگ کے آغاز سے یوکرین میں ایسی ہی تنصیبات کو نشانہ بناتا رہا ہے جن میں یوکرین کی ڈاک سروس اور بعض الیکٹرانکس تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔

    وائلڈبیریز کی چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ یہ ’روس اور کمپنی دونوں کے لیے ایک ہولناک رات تھی۔‘

    تامبوف کے گورنر نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ’رات کی شفٹ میں کام کرنے والے سات افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے ان کے مطابق گودام کی جانب بڑھنے والے 28 ڈرون بھی مار گرائے گئے تھے۔

  6. چار بڑے تیل کے کارخانوں میں سے ایک پر ایران تواتر کے ساتھ حملے کر رہا ہے: کویت آئل کمپنی

    کویت کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کویت کی آئل کمپنی سے منسلک ایک مقام مسلسل ایرانی حملوں کی زد میں ہے۔

    رپورٹ میں کویت آئل کمپنی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حملے کی وجہ سے تنصیب کو بہت نقصان پہنچا ہے جبکہ کچھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    کویت نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    کویتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اہم تنصیبات پر منظم حملے اس مخاصمانہ سوچ کو ظاہر کرتے ہیں جس کا مقصد شہری مقامات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں سے عام شہریوں کی سکیورٹی خطرے میں پڑ رہی ہے۔

    اس سے قبل یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ایران نے امریکی حملوں کے ردِعمل میں کویت میں پانی صاف کرنے کے ایک کارخانے اور بجلی گھر کو نشانہ بنایا ہے۔

    جمعے کو ایران نے اعلان کیا تھا کہ امریکی حملوں کی وجہ سے جاسک کے علاقے کے 20 دیہات کو پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔

    چند روز قبل تازہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بحرین، کویت اور اُردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  7. قطر کی اُردن، بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت

    قطر نے اُردن، کویت اور بحرین میں ایرانی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ان ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    سنیچر کو قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ان ممالک پر حملے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اچھے ہمسائے کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ قطری وزارتِ خارجہ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ کویت میں بجلی اور پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس (ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو نشانہ بنانا تمام ’سرخ لکیروں‘ کو عبور کرنے کے مترادف ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ خارجہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان حملوں کا تسلسل کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث ہے، جس سے کشیدگی کو قابو کرنے کی کوششیں پیچیدہ ہو جائیں گی اور خطے میں سلامتی و استحکام کے حصول کے لیے کی جانے والی سیاسی و سفارتی کاوشوں کو نقصان پہنچے گا۔

    وزارت خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی تمام عسکری کارروائیوں اور حملوں کو فوری اور مکمل طور پر روکنے، کشیدگی کا دائرہ کار بڑھانے کا سبب بننے والے اقدامات سے گریز کرنے، بات چیت اور مذاکرات کی طرف حقیقی واپسی، اور سفارتی کوششوں کے ذریعے طے پانے والے سمجھوتوں کی پاسداری کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

  8. کویتی وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک رابطہ، خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

    کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

    کویتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال، بالخصوص موجودہ کشیدگی میں اضافے اور اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی کوششوں پر بھی بات چیت کی تاکہ علاقائی سلامتی اور استحکام کا تحفظ کیا جا سکے۔

  9. بحرین میں شہریوں کو محفوط مقامات کی طرف جانے کی ہدایت

    بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قریبی محفوظ مقام کی طرف جائیں۔

    سنیچر کی شام بحرین کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رہائشیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں۔

  10. ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے: نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدوں پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے وعدوں پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے، ہم ان پر عمل نہیں کر رہے اور ملک کے دفاع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

    کاظم غریب آبادی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم کے رُکن بھی تھے۔

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جو پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پایا تھا، اس کا مقصد دونوں ممالک کے مابین امن کے مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے سے بحری جہازوں پر حملوں، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوبارہ آغاز کے ساتھ ہی ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

  11. امریکی حملوں کے نئے سلسلے میں 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے: ایرانی وزارتِ صحت

    ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ چھ جولائی کے بعد امریکی حملوں میں اب تک 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین اور 18 سال سے کم عمر کے دو بچے اور نوجوان بھی شامل ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ 32 خواتین اور 18 نوجوان زخمی بھی ہوئے ہیں اور 37 افراد اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

  12. لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت پر قتل کا مقدمہ درج

    لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں خاتون اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    کاہنہ پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق جمعے کی شب پولیس اس واقعے کی اطلاع ملنے پر ویلنشیا ٹاؤن پہنچی تو خاتون کے شوہر نے پولیس کو بتایا کہ ان کے تین بچے مردہ حالت میں گھر کے عقبی حصے میں کپڑوں میں لپٹے ہوئے پائے گئے ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق خاتون کے شوہر نے بتایا کہ اُن کی اہلیہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن اطلاع ملی ہے کہ وہ بھی جان کی بازی ہار گئی ہے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات کی روشنی میں افراد کو قتل کیا گیا ہے، لہذا قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  13. ایرانی صوبے خوزستان میں 10 روز کے دوران امریکہ کے 95 حملے، آٹھ ہلاکتیں

    ایرانی صوبے خوزستان کے گورنر کے دفتر کے نائب برائے سکیورٹی امور کا کہنا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ 10 دنوں کے دوران صوبہ خوزستان کے 12 شہروں پر 95 حملے کیے ہیں۔

    ولی اللہ حیاتی کے مطابق، ان حملوں میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک ہوئے۔

    صوبہ خوزستان ایران کے جنوبی خطوں میں سے ایک ہے جہاں حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ کی جانب سے بار بار حملے کیے گئے ہیں۔

  14. امریکی حملے ایم او یو اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، بین الاقوامی برادری مذمت کرے: ایرانی سفیر

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے بین الاقوامی برادری پر امریکہ کی کارروائیوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق ہوا تھا تاہم امریکہ نے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر کے جنگ شروع کر دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں رضا امیری مقدم نے کہا کہ کئی ماہ تک پاکستان کی ثالثی کے بعد 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق کیا گیا تھا اور یہ طے پایا تھا کہ مذاکرات کا عمل چھ ماہ بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

    ایرانی سفیر نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے اس معاہدے کی ایسی تشریح کی جو اس کی اصل شرائط کے خلاف کی تاکہ وہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں جو میدانِ جنگ میں حاصل نہیں ہو سکے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایران اس تشریح کو قبول نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی تھی۔

    ایرانی سفیر نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کی سخت مذمت کرے۔

  15. ایران اور امریکہ کے ایک دوسرے پر حملے، صبح سے اب تک کیا ہوا

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے یہاں آپ کے لیے امریکہ اور ایران کے صبح سے اب تک ایک دوسرے پر حملوں کے حوالے سے اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اب ’جنگ بھی اور مذاکرات بھی دونوں کی ہی پالیسی نہیں چلے گی۔‘
    • ایرانی فوج کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ انھوں نے کویت، بحرین اور اُردن میں امریکی فوج کے اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کویت کی وزارتِ بجلی و پانی کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں ملک کے ایک بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے) کی تنصیب میں آگ لگ گئی ہے اور بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔
    • اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں ہرمزگان کے جنوبی صوبے میں پلوں، ریلوے سٹیشنوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں اور اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    • امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ’17 جولائی کو رات کے وقت ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات ہونے والی فضائی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
    • ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے کہا ہے کہ ’دشمن کے خلاف ایران کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ امن بحال نہیں ہو جاتا۔‘
    • ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’امریکی فوج کی معاونت اور رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں کو میزائل اور ڈرون کارروائی کے دوران روک دیا گیا ہے۔
    • ایران کے پلوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے حوالے سے ’جنگی جرم‘ کے خدشات پر ردِعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فوج نے صرف فوجی اہداف، جن میں عسکری لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی شامل ہے کو نشانہ بنایا ہے
  16. اگر امریکی حملے جاری رہے تو جنگ مزید ’جارحانہ‘ اور ’تباہ کُن‘ مرحلے میں داخل ہو جائے گی: محسن رضائی

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اب ’جنگ بھی اور مذاکرات بھی دونوں کی ہی پالیسی نہیں چلے گی۔‘

    ایرانی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ آئندہ دو سے تین روز تک ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو جنگ مزید ’جارحانہ‘ اور ’تباہ کُن‘ مرحملے میں داخل ہو جائے گی۔

    سنہ 1980 سے سنہ 1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ رہنے والے محسن رضائی نے ایرانی ٹیوی کو دیے جانے والے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’میں پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بھی اسی طرح ختم کر دیں گے جیسے انھوں نے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کیا تھا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کا ابتدا سے ہی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ صرف ایران پر اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا تھا۔‘

    محسن رضائی کے مطابق، اگرچہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور قطر کے امیر کی موجودگی میں تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی تھی، تاہم امریکہ نے کبھی اس طریقۂ کار سے رجوع نہیں کیا، کیونکہ ’اسے معلوم تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر اس کی مذمت کی جائے گی، اسی لیے اس نے ’جنگ بھی اور مذاکرات‘ کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔‘

  17. ایرانی فوج کا کویت، بحرین اور اُردن میں امریکی فوج کے اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی فوج کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ انھوں نے کویت، بحرین اور اُردن میں امریکی فوج کے اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    کویت کی وزارتِ بجلی و پانی کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں ملک کے ایک بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے) کی تنصیب میں آگ لگ گئی ہے اور بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

    وزارت کے مطابق آگ پر قابو پانے اور متاثرہ تنصیبات کی مرمت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    اس سے قبل کویتی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایرانی حملے کے جواب میں کویتی فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن ہدفوں کو تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہوں گی۔

    حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن ’شائن‘ کے پندرہویں مرحلے میں خودکش ڈرونز کے ذریعے بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود طیاروں، فوجی تنصیبات اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    ایرانی فوج کے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ’بحرین میں متعدد پلوں پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔‘

    دوسری جانب اردن کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مُلک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 10 ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا۔

    اردن کی فوج کے بیان کے مطابق یہ میزائل اردن کی سرزمین کی جانب آ رہے تھے، تاہم فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انھیں مار گرایا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی قسم کے مالی یا مادی نقصان کی اطلاع ملی ہے۔

  18. ایرانی فوج کا عسلویہ کے قریب امریکی ڈرون مار گرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بحری فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ساحلی علاقے عسلویہ کے قریب ایک امریکی ’ایم کیو-9 ریپر ڈرون‘ کو مار گرایا ہے۔

    ایرانی خبر رسااں ادارے مہر نیوز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا ہے کہ ’ڈرون کا سراغ لگانے کے بعد اسے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے زیرِ استعمال جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ کارروائی ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کی رہنمائی میں کی گئی۔‘

    بیان کے مطابق یہ کارروائی عسلویہ کے علاقے میں ایرانی فضائی حدود کے اندر انجام دی گئی، جو خلیج فارس کے ساحل پر واقع ایک اہم توانائی مرکز ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ کامیاب کارروائی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام ملک کی فضائی سرحدوں کے تحفظ اور کسی بھی جارحیت یا خلاف ورزی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

  19. ایران کا اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ

    اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں ہرمزگان کے جنوبی صوبے میں پلوں، ریلوے سٹیشنوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق سعید ایروانی نے کہا کہ ’یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی ’کھلی خلاف ورزی‘ اور طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کی ممانعت کی خلاف ورزی ہیں۔‘

    ایرانی سفیر کے مطابق جمعرات کی رات اور جمعہ کی صبح ہونے والے حملوں میں بندر عباس اور کہورستان بندر خمیر کے راستوں پر کئی اہم پل تباہ ہوئے۔ ان کے مطابق ایک پل کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایک عام شہری کی گاڑی تباہ ہوئی، جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ ’بندر عباس کے ایک رہائشی علاقے پر حملے میں ایک شہری ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے۔‘

    ایروانی نے بتایا کہ بندر عباس ریلوے سٹیشن، جو بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور کا اہم حصہ ہے، کو بھی براہِ راست فوجی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے ٹرمینل کو نقصان پہنچا اور ریلوے کے دو ملازمین زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق اس روٹ پر مسافر ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ’خط میں کہا گیا ہے کہ ’تصدیق شدہ 43 ہلاکتوں میں تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 22 خواتین اور نو کم عمر بچے شامل ہیں۔‘

    ایران کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایروانی نے کہا کہ جولائی کے آغاز سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 47 افراد تشویشناک حالت میں ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

    سعید ایرانی نے کہا کہ ’شہری املاک، خاص طور پر اہم ٹرانسپورٹ اور ریلوے نیٹ ورک کو بار بار نشانہ بنانا ’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

    انھوں نے واشنگٹن کو جانی نقصان، زخمیوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، ماحولیاتی نقصانات اور دیگر نتائج کا مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔

    ایروانی نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنے چارٹر کے تحت اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرے اور امریکہ کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی یقینی بنائے۔

    ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ’اگر اقوامِ متحدہ کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

  20. امریکی فوج کا ایران پر مسلسل ساتویں شب ہونے والے حملوں کے اختتام کا اعلان

    امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ’17 جولائی کو رات کے وقت ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات ہونے والی فضائی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔‘

    اس سے قبل جمعے کی شب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ ’اس کی افواج نے ایران پر حملوں کا ایک نیا دور شروع کیا ہے۔‘ سینٹ کام نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’یہ امریکی حملوں کی مسلسل ساتویں رات ہے۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ’کارروائیوں کے دوران نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ ’ان حملوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز، جنگی بحری جہازوں اور دیگر فوجی وسائل کا استعمال کیا گیا۔‘

    سینٹکام نے مزید کہا کہ ’صدر کے احکامات کے مطابق ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی پر بھی مکمل طور پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔‘

    بیان کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو ہر وقت جنگی کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر آپریشنل ہیں۔