اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتہ: سینٹ کام
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا ہے۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران متعدد دیگر امریکی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ جانی نقصان ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات کے دوران پیش آیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چار امریکی فوجیوں کو زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے اردن کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا، تاہم طبی امداد ملنے کے بعد انھیں ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ فوج کے مطابق معمولی زخمی دیگر اہلکاروں کا بھی معائنہ کیا گیا اور وہ اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال چکے ہیں۔
سینٹکام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے احترام میں مزید تفصیلات، بشمول ان کی شناخت، فی الحال جاری نہیں کی جائیں گی۔ یہ معلومات قریبی عزیزوں کو باضابطہ اطلاع دینے کے کم از کم 24 گھنٹے بعد ہی منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔
ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، تاہم حملے کے اثرات اور نقصان کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف ممالک خطے میں سلامتی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے بحرین، کویت اور اردن میں شہری بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری مقامات پر حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات قابلِ مذمت ہیں۔
امریکی حکام نے لاپتہ فوجی کی تلاش اور زخمیوں کے علاج کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا کہا ہے، جبکہ واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔