آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کی امریکی حملوں میں 50 افراد کی ہلاکت کی تصدیق، ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عمل درآمد روکنے کا اعلان

ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ چھ جولائی کو نئے امریکی حملوں کے بعد اب تک 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ ایران نے ’اسلام مفاہمتی یادداشت‘ پر عمل درآمد روک کر توجہ اپنے دفاع پر مرکوز کر لی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے: نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدوں پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے وعدوں پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے، ہم ان پر عمل نہیں کر رہے اور ملک کے دفاع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

    کاظم غریب آبادی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم کے رُکن بھی تھے۔

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جو پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پایا تھا، اس کا مقصد دونوں ممالک کے مابین امن کے مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے سے بحری جہازوں پر حملوں، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوبارہ آغاز کے ساتھ ہی ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

  2. امریکی حملوں کے نئے سلسلے میں 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے: ایرانی وزارتِ صحت

    ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ چھ جولائی کے بعد امریکی حملوں میں اب تک 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین اور 18 سال سے کم عمر کے دو بچے اور نوجوان بھی شامل ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ 32 خواتین اور 18 نوجوان زخمی بھی ہوئے ہیں اور 37 افراد اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

  3. لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت پر قتل کا مقدمہ درج

    لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں خاتون اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    کاہنہ پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق جمعے کی شب پولیس اس واقعے کی اطلاع ملنے پر ویلنشیا ٹاؤن پہنچی تو خاتون کے شوہر نے پولیس کو بتایا کہ ان کے تین بچے مردہ حالت میں گھر کے عقبی حصے میں کپڑوں میں لپٹے ہوئے پائے گئے ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق خاتون کے شوہر نے بتایا کہ اُن کی اہلیہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن اطلاع ملی ہے کہ وہ بھی جان کی بازی ہار گئی ہے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ناصر ڈوگر کے مطابق حالات و واقعات کی روشنی میں افراد کو قتل کیا گیا ہے، لہذا قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  4. ایرانی صوبے خوزستان میں 10 روز کے دوران امریکہ کے 95 حملے، آٹھ ہلاکتیں

    ایرانی صوبے خوزستان کے گورنر کے دفتر کے نائب برائے سکیورٹی امور کا کہنا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ 10 دنوں کے دوران صوبہ خوزستان کے 12 شہروں پر 95 حملے کیے ہیں۔

    ولی اللہ حیاتی کے مطابق، ان حملوں میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک ہوئے۔

    صوبہ خوزستان ایران کے جنوبی خطوں میں سے ایک ہے جہاں حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ کی جانب سے بار بار حملے کیے گئے ہیں۔

  5. امریکی حملے ایم او یو اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، بین الاقوامی برادری مذمت کرے: ایرانی سفیر

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے بین الاقوامی برادری پر امریکہ کی کارروائیوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق ہوا تھا تاہم امریکہ نے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر کے جنگ شروع کر دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں رضا امیری مقدم نے کہا کہ کئی ماہ تک پاکستان کی ثالثی کے بعد 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق کیا گیا تھا اور یہ طے پایا تھا کہ مذاکرات کا عمل چھ ماہ بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

    ایرانی سفیر نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے اس معاہدے کی ایسی تشریح کی جو اس کی اصل شرائط کے خلاف کی تاکہ وہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں جو میدانِ جنگ میں حاصل نہیں ہو سکے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایران اس تشریح کو قبول نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی تھی۔

    ایرانی سفیر نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کی سخت مذمت کرے۔

  6. ایران اور امریکہ کے ایک دوسرے پر حملے، صبح سے اب تک کیا ہوا

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے یہاں آپ کے لیے امریکہ اور ایران کے صبح سے اب تک ایک دوسرے پر حملوں کے حوالے سے اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اب ’جنگ بھی اور مذاکرات بھی دونوں کی ہی پالیسی نہیں چلے گی۔‘
    • ایرانی فوج کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ انھوں نے کویت، بحرین اور اُردن میں امریکی فوج کے اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کویت کی وزارتِ بجلی و پانی کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں ملک کے ایک بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے) کی تنصیب میں آگ لگ گئی ہے اور بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔
    • اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں ہرمزگان کے جنوبی صوبے میں پلوں، ریلوے سٹیشنوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں اور اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    • امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ’17 جولائی کو رات کے وقت ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات ہونے والی فضائی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
    • ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے کہا ہے کہ ’دشمن کے خلاف ایران کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ امن بحال نہیں ہو جاتا۔‘
    • ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’امریکی فوج کی معاونت اور رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں کو میزائل اور ڈرون کارروائی کے دوران روک دیا گیا ہے۔
    • ایران کے پلوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے حوالے سے ’جنگی جرم‘ کے خدشات پر ردِعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فوج نے صرف فوجی اہداف، جن میں عسکری لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی شامل ہے کو نشانہ بنایا ہے
  7. اگر امریکی حملے جاری رہے تو جنگ مزید ’جارحانہ‘ اور ’تباہ کُن‘ مرحلے میں داخل ہو جائے گی: محسن رضائی

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اب ’جنگ بھی اور مذاکرات بھی دونوں کی ہی پالیسی نہیں چلے گی۔‘

    ایرانی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ آئندہ دو سے تین روز تک ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو جنگ مزید ’جارحانہ‘ اور ’تباہ کُن‘ مرحملے میں داخل ہو جائے گی۔

    سنہ 1980 سے سنہ 1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ رہنے والے محسن رضائی نے ایرانی ٹیوی کو دیے جانے والے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’میں پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بھی اسی طرح ختم کر دیں گے جیسے انھوں نے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کیا تھا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کا ابتدا سے ہی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ صرف ایران پر اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا تھا۔‘

    محسن رضائی کے مطابق، اگرچہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور قطر کے امیر کی موجودگی میں تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی تھی، تاہم امریکہ نے کبھی اس طریقۂ کار سے رجوع نہیں کیا، کیونکہ ’اسے معلوم تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر اس کی مذمت کی جائے گی، اسی لیے اس نے ’جنگ بھی اور مذاکرات‘ کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔‘

  8. ایرانی فوج کا کویت، بحرین اور اُردن میں امریکی فوج کے اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی فوج کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ انھوں نے کویت، بحرین اور اُردن میں امریکی فوج کے اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    کویت کی وزارتِ بجلی و پانی کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں ملک کے ایک بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے) کی تنصیب میں آگ لگ گئی ہے اور بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

    وزارت کے مطابق آگ پر قابو پانے اور متاثرہ تنصیبات کی مرمت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    اس سے قبل کویتی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایرانی حملے کے جواب میں کویتی فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن ہدفوں کو تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہوں گی۔

    حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن ’شائن‘ کے پندرہویں مرحلے میں خودکش ڈرونز کے ذریعے بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود طیاروں، فوجی تنصیبات اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    ایرانی فوج کے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ’بحرین میں متعدد پلوں پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔‘

    دوسری جانب اردن کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مُلک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 10 ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا۔

    اردن کی فوج کے بیان کے مطابق یہ میزائل اردن کی سرزمین کی جانب آ رہے تھے، تاہم فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انھیں مار گرایا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی قسم کے مالی یا مادی نقصان کی اطلاع ملی ہے۔

  9. ایرانی فوج کا عسلویہ کے قریب امریکی ڈرون مار گرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بحری فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ساحلی علاقے عسلویہ کے قریب ایک امریکی ’ایم کیو-9 ریپر ڈرون‘ کو مار گرایا ہے۔

    ایرانی خبر رسااں ادارے مہر نیوز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا ہے کہ ’ڈرون کا سراغ لگانے کے بعد اسے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے زیرِ استعمال جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ کارروائی ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کی رہنمائی میں کی گئی۔‘

    بیان کے مطابق یہ کارروائی عسلویہ کے علاقے میں ایرانی فضائی حدود کے اندر انجام دی گئی، جو خلیج فارس کے ساحل پر واقع ایک اہم توانائی مرکز ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ کامیاب کارروائی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام ملک کی فضائی سرحدوں کے تحفظ اور کسی بھی جارحیت یا خلاف ورزی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

  10. ایران کا اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ

    اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں ہرمزگان کے جنوبی صوبے میں پلوں، ریلوے سٹیشنوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق سعید ایروانی نے کہا کہ ’یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی ’کھلی خلاف ورزی‘ اور طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کی ممانعت کی خلاف ورزی ہیں۔‘

    ایرانی سفیر کے مطابق جمعرات کی رات اور جمعہ کی صبح ہونے والے حملوں میں بندر عباس اور کہورستان بندر خمیر کے راستوں پر کئی اہم پل تباہ ہوئے۔ ان کے مطابق ایک پل کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایک عام شہری کی گاڑی تباہ ہوئی، جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ ’بندر عباس کے ایک رہائشی علاقے پر حملے میں ایک شہری ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے۔‘

    ایروانی نے بتایا کہ بندر عباس ریلوے سٹیشن، جو بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور کا اہم حصہ ہے، کو بھی براہِ راست فوجی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے ٹرمینل کو نقصان پہنچا اور ریلوے کے دو ملازمین زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق اس روٹ پر مسافر ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ’خط میں کہا گیا ہے کہ ’تصدیق شدہ 43 ہلاکتوں میں تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 22 خواتین اور نو کم عمر بچے شامل ہیں۔‘

    ایران کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایروانی نے کہا کہ جولائی کے آغاز سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 47 افراد تشویشناک حالت میں ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

    سعید ایرانی نے کہا کہ ’شہری املاک، خاص طور پر اہم ٹرانسپورٹ اور ریلوے نیٹ ورک کو بار بار نشانہ بنانا ’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

    انھوں نے واشنگٹن کو جانی نقصان، زخمیوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، ماحولیاتی نقصانات اور دیگر نتائج کا مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔

    ایروانی نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنے چارٹر کے تحت اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرے اور امریکہ کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی یقینی بنائے۔

    ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ’اگر اقوامِ متحدہ کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

  11. امریکی فوج کا ایران پر مسلسل ساتویں شب ہونے والے حملوں کے اختتام کا اعلان

    امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ’17 جولائی کو رات کے وقت ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات ہونے والی فضائی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔‘

    اس سے قبل جمعے کی شب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ ’اس کی افواج نے ایران پر حملوں کا ایک نیا دور شروع کیا ہے۔‘ سینٹ کام نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’یہ امریکی حملوں کی مسلسل ساتویں رات ہے۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ’کارروائیوں کے دوران نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ ’ان حملوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز، جنگی بحری جہازوں اور دیگر فوجی وسائل کا استعمال کیا گیا۔‘

    سینٹکام نے مزید کہا کہ ’صدر کے احکامات کے مطابق ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی پر بھی مکمل طور پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔‘

    بیان کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو ہر وقت جنگی کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر آپریشنل ہیں۔

  12. ایران کے جوابی حملے جنوبی ساحلی علاقوں میں امن کی بحالی تک جاری رہیں گے: ایرانی فوج

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے کہا ہے کہ ’دشمن کے خلاف ایران کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ امن بحال نہیں ہو جاتا۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بریگیڈیئر جنرل موسوی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ’پورا ایران اس وقت ایک ساتھ دشمن کے خلاف کھڑا ہے۔ تہران سے لے کر جنوب تک ملک کا ہر حصہ یکساں اہمیت رکھتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے مختلف علاقوں سے دشمن کے خلاف ہمارے مؤثر اور انتہائی درست حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک جنوبی ساحلی پٹی اور آبنائے ہرمز میں سکون بحال نہیں ہو جاتا۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے پر یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب پاسدارانِ انقلاب نے ’آپریشن نصر 2‘ کے پندرہویں مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی ایرو سپیس فورس نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس پر بھرپور جوابی حملہ کیا ہے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس کارروائی میں ایک طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا ریڈار سسٹم، امریکی فضائی ایندھن بردار متعدد طیارے اور دیگر سٹریٹجک فوجی اثاثے بڑے پیمانی پر نقصان کا شکار ہوئے۔‘

    ایرانی فورس نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر ایرانی شہریوں یا بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے گئے تو اس کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔‘

  13. ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے متعدد فوجی مراکز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا: کویتی فوج

    کویت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’سنیچر کی صبح سے ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو سراغ لگانے کے بعد فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔‘

    ترجمان کے مطابق ’ایرانی حملوں کے دوران کویتی فوج کے کئی مراکز اور فوجی کیمپ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بنے، جس کے نتیجے میں زمینی افواج کے متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’تمام زخمیوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔‘

    کویتی فوج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے پلانٹ یعنی ’ڈی سیلینیشن پلانٹ‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے ایک اہم حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض حصوں اور بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو بھی نقصان پہنچا۔‘

    بیان کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز کا ملبہ کویت کے مختلف علاقوں میں گرا، جس سے مالی نقصان ہوا ہے تاہم ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  14. ایران نے سعودی عرب میں امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغ دیا، امریکی عہدیدار کا دعویٰ: ایگزیوس

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے سعودی عرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔‘

    بی بی سی فارسی نے ایگزیوس کی اس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اگر اس دعوے کی تصدیق ہو جاتے ہے تو یہ تقریباً چار ماہ کے دوران سعودی عرب پر ایران کا پہلا براہِ راست حملہ ہوگا۔‘

    اس سے قبل سنیچر کی صبح سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے الخَرج اور ینبع کے شہروں کے لیے ’ممکنہ خطرے‘ کا انتباہ جاری کیا تھا، تاہم بعد ازاں دونوں علاقوں میں خطرہ ختم ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔

    فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ انتباہ میزائل حملے سے براہِ راست متعلق تھا یا نہیں۔

    تاحال امریکی فوجی اڈے کے درست مقام، میزائل کی صورتحال یا ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی، جبکہ ایران اور سعودی عرب کے حکام نے بھی اس دعوے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  15. امریکی فوج کی معاونت سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے چار جہاز روک دیا گیا: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’امریکی فوج کی معاونت اور رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں کو میزائل اور ڈرون کارروائی کے دوران روک دیا گیا ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے ’فورس نے جہازوں کے مالکان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس اس علاقے سے گُزرنے کے حوالے سے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دی گئی ہدایات پر اور اس حوالے سے ہونے والے اعلان کی پابندی کریں۔‘

    تاہم جہازوں کی شناخت، عملے کی صورتحال یا انھیں کس طریقے سے روکا گیا، اس بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

  16. امریکی حملوں میں صرف ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: وائٹ ہاؤس

    ایران کے پلوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے حوالے سے ’جنگی جرم‘ کے خدشات پر ردِعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فوج نے صرف فوجی اہداف، جن میں عسکری لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی شامل ہے کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز میں زیادہ تر شہری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے ہمسایہ ممالک پر بھی حملے کیے ہیں جن کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی حملے کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔‘

  17. بریکنگ, ایران پر امریکی حملوں کا سلسلہ مسلسل ساتویں شب بھی جاری

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے جمعے کو ایران پر حملوں کا ایک نیا دور شروع کیا ہے۔

    سینٹ کام نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ امریکی حملوں کی یہ مسلسل ساتویں رات ہے۔

    امریکی فوجی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کا عمل جاری رکھنا ہے۔

    امریکہ کے تازہ حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    اس سے قبل ایرانی وزارتِ صحت کے حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ 16 جولائی کو صبح ساڑھے چھ بجے تک امریکی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اس دوران 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ادھر ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی بحریہ نے آپریشن لائٹننگ کے 13ویں مرحلے میں شمالی بحرہند میں ایک امریکی بحری جہاز کو ساحل سے ساحل تک مار کرنے والے کروز میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کی وجہ سے مذکورہ بحری جہاز ایرانی فورسز کے آپریشنل علاقے سے ہٹ گیا۔

    ابھی تک امریکی حکام نے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور ممکنہ نقصان کی کوئی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔

  18. بریکنگ, امریکی حملے میں ہرمزگان کا پل بھی نشانہ بنا

    ایران کی جانب سے امریکہ پر جمعرات کی شب کیے گئے حملوں میں متعدد پلوں، ریلوے سٹیشن اور ایک ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا۔ بی بی سی ویریفائی نے ایرانی صوبہ ہرمزگان میں ایک پل پر حملے کی تصدیق کی ہے۔

  19. ایرانی مسلح افواج کسی بھی وقت امریکی بحری افواج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں: پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے ایک امریکی بحری جہاز کی تصویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کی ’نقل و حرکت اور ساز و سامان‘ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری یونٹس کی نگرانی میں ہیں۔

    مختصر بیان میں کہا گیا: ’ایرانی مسلح افواج کسی بھی وقت امریکی بحری افواج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں۔‘

    جاری کی گئی تصویر کے کیپشن میں لکھا گیا: ’بحیرۂ عرب میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر بردار جہاز کو ایندھن بھرتے ہوئے دیکھا گیا۔‘

    اس سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر، میجر جنرل مجید موسوی نے بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا: ’ایران بھر سے دشمن پر ہمارے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ سکون بحال نہیں ہو جاتا۔‘

  20. امریکی حملوں میں مزید آٹھ افراد ہلاک اور 19 زخمی، امریکہ کی شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی تردید

    ایران کے صوبہ ہرمزگان کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب سے ہونے والے امریکی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا تھا کہ جولائی میں امریکی حملوں میں 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ صحت کے حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 16 جولائی کو صبح ساڑھے چھ بجے تک امریکی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اس دوران 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق زخمیوں میں 22 خواتین اور 18 برس سے کم عمر کے نو بچے شامل ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں بھی ایک 18 برس سے کم عمر نوجوان شامل ہے۔

    حکام کے مطابق 47 افراد اب بھی ایران کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

    ایران پر امریکی حملوں کا نیا سلسلہ چھ جولائی کو آبنائے ہرمز میں متعدد جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ایران جوابی حملے کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف خطے میں امریکی مفادات اور اڈے ہیں۔

    ایران کے سرکاری میڈیا اور صوبائی حکام نے بتایا کہ جمعرات کی شب حملوں سے کئی پل، ایک ٹرین سٹیشن اور ایک ہوائی اڈہ متاثر ہوا۔ بی بی سی ویریفائی نے صوبہ ہرمزگان میں ایک پل پر حملے کی تصدیق کی ہے۔

    تاہم امریکہ نے ایرانی الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے امن مذاکرات کے خاتمے کے بعد فضائی حملوں کی تازہ ترین لہر میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں جن میں فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی شامل تھا۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہوئی ہے تاکہ تہران کو 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر واپس آنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں یا شہری علاقوں پر حملہ کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم بعض حالات میں، شہری انفراسٹرکچر جیسے پل یا پاور پلانٹ اگر جنگی سرگرمیوں میں مدد کے لیے استعمال کیے جائیں تو وہ نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں۔