ایران اور امریکہ کے ایک دوسرے پر حملے، صبح سے اب تک کیا ہوا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے یہاں آپ کے لیے امریکہ اور ایران کے صبح سے اب تک ایک دوسرے پر حملوں کے حوالے سے اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
- ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اب ’جنگ بھی اور مذاکرات بھی دونوں کی ہی پالیسی نہیں چلے گی۔‘
- ایرانی فوج کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ انھوں نے کویت، بحرین اور اُردن میں امریکی فوج کے اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کویت کی وزارتِ بجلی و پانی کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں ملک کے ایک بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے) کی تنصیب میں آگ لگ گئی ہے اور بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔
- اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں ہرمزگان کے جنوبی صوبے میں پلوں، ریلوے سٹیشنوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں اور اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ’17 جولائی کو رات کے وقت ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات ہونے والی فضائی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
- ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے کہا ہے کہ ’دشمن کے خلاف ایران کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ امن بحال نہیں ہو جاتا۔‘
- ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’امریکی فوج کی معاونت اور رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں کو میزائل اور ڈرون کارروائی کے دوران روک دیا گیا ہے۔
- ایران کے پلوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے حوالے سے ’جنگی جرم‘ کے خدشات پر ردِعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فوج نے صرف فوجی اہداف، جن میں عسکری لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی شامل ہے کو نشانہ بنایا ہے