ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اس پر پابندی کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی تو اتوار کو امریکہ میں اس کی ایپ لاکھوں صارفین کے لیے معطل کر دی جائے گی۔
جمعے کی رات دیر گئے ایک بیان میں ٹک ٹاک نے کہا کہ وائٹ ہاؤس اور محکمہ انصاف 'ٹک ٹاک کی دستیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری وضاحت اور یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں'۔
یہ بیان سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق اگر اس کی چین میں قائم پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس اتوار تک اس پلیٹ فارم کو فروخت نہیں کرتی تو امریکہ میں ایپ پر پابندی کے قانون کو برقرار رکھا گیا۔
گزشتہ سال اپریل میں منظور ہونے والے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ بائٹ ڈانس کو اس پلیٹ فارم کا امریکی ورژن کسی غیر جانبدار فریق کو فروخت کرنا ہوگا تاکہ مکمل پابندی سے بچا جا سکے۔
ٹک ٹاک نے اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک میں اس کے 170 ملین صارفین کے لیے آزادی اظہار رائے کے تحفظ کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب ہے کہ ایپ کا امریکی ورژن ایپ سٹورز اور ویب ہوسٹنگ سروسز سے ہٹا دیا جائے گا جب تک کہ آنے والے دنوں میں کمپنی کو کوئی خریدار نہیں مل جاتا۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ اس پابندی کا ایسے ٹک ٹاک صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو پہلے ہی اپنے فون پر ایپ ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ لیکن چونکہ پابندی کے نفاذ کے بعد اپ ڈیٹس دستیاب نہیں ہوں گی لہٰذا ایپ بالآخر خراب ہوجائے گی اور وقت کے ساتھ ناقابل استعمال ہوجائے گی۔
تاہم جمعے کو ٹک ٹاک کے تازہ بیان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فوری طور پر تمام موجودہ صارفین کے ساتھ ساتھ اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے خواہاں افراد کے لیے بھی دستیاب نہیں ہوسکتا۔
انفلوئنسرز اور مواد تخلیق کرنے والے پابندی سے قبل اپنے فالوورز کو الوداع کہتے ہوئے ایپ پر ویڈیوز پوسٹ کر رہے ہیں۔
ایک تخلیق کار نکول بلوم گارڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ' ٹک ٹاک پر نہ ہونا تنخواہوں میں نمایاں کٹوتی کے مترادف ہوگا' جبکہ ایک اور تخلیق کار ایریکا تھامسن کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر موجود تعلیمی مواد دیکھنے والی کمیونٹی کے لیے 'سب سے بڑا نقصان' ہوگا۔
کچھ صارفین یہ بتاتے نظر آ رہے ہیں کہ ان کا مواد مستقبل میں کہاں دیکھنے کے لیے دستیاب ہوگا، جس میں چینی ویڈیو ایپ ریڈ نوٹ بھی شامل ہے، جسے اب تک امریکی صارفین نے بہت کم استعمال کیا ہے۔
ابتدائی طور پر اس اقدام کی حمایت کرنے کے بعد نو منتخب ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندی کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک پر میرا فیصلہ مستقبل قریب میں کیا جائے گا لیکن میرے پاس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وقت ہونا چاہیے۔
انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انھوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سے بات کی ہے اور ٹک ٹاک سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
دسمبر میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے پاس اس ایپ کے لیے ایک 'گرم جوشی' ہے کیونکہ اس سے انھیں 2024 کے انتخابات میں نوجوان ووٹروں کے ساتھرابطے میں مدد ملی ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان نے صدر کی حیثیت سے اپنی پہلی مدت میں اپنے موقف پر یوٹرن لے لیا جب انھوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اسی طرح کی پابندی عائد کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
بائٹ ڈانس نے ٹک ٹاک کو فروخت نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’اگر کوئی مہلت نہیں ملتی تو وہ اتوار کو ایپ کے امریکی آپریشنز کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘
ڈیموکریٹک اور رپبلکن قانون سازوں نے گذشتہ سال ویڈیو شیئرنگ ایپ پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا کیونکہ اس کے چینی حکومت کے ساتھ روابط کے بارے میں خدشات تھے۔ ٹک ٹاک نے بارہا کہا ہے کہ وہ بیجنگ کو معلومات شیئر نہیں کرتا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیا ہے ؟
امریکہ کی سپریم کورٹ نے امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت اگر اتوار تک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی چینی کمپنی بائٹ ڈانس اسے 19 جنوری تک فروخت نہیں کرتی تو یہ امریکہ میں بند کر دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے اس قانون سے متعلق اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ 17 کروڑ امریکیوں کے لیے ٹک ٹاک اظہار، ایک دوسرے سے تعلق جوڑنے اور کمیونٹی کا ایک ذریعے ہے۔ لیکن کانگریس نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ ٹک ٹاک کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقوں اور اس کی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ وابستگی کے پیش نظر قومی سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اس کی فروخت یا تقسیم ضروری ہے۔'
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ 'ان تمام معاملات کے پیش نظر عدالت اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ مقدمے میں چیلنج کیے جانے والے نکات درخواست گزاروں پہلی ترمیم کے حقوق کی نفی نہیں کرتے۔ امریکہ کی ڈسٹرکٹ کولمبیا کی عدالت کا فیصلہ درست ہے اس لیے اسے برقرار رکھا جاتا ہے۔'
سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے اس مقدمے کا متفقہ فیصلہ دیا ہے۔
تاہم ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی بائٹ ڈانس نے اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ یہ آزادی اظہار کے حق کے خلاف ہے اور اس ایپ پر پابندی 17 کروڑ امریکیوں کی آزادی اظہار کو سلب کرے گی۔
تاہم ان کی اس درخواست کو ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اب چینی کمپنی امریکہ میں اپنے ایپ کو جاری رکھنے کے لیے یا تو 10 جنوری تک کوئی امریکی کمپنی کو اس کی ملکیت دے گی یا پھر پابندی کا سامنا کرے گی۔
یاد رہے کہ امریکی حکام اور قانون سازوں نے بائٹ ڈانس پر چینی حکومت سے منسلک ہونے کا الزام لگایا ہے اور ٹک ٹاک پر قومی سلامتی کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن جو پیر سے اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایپ پر پابندی کو نافذ نہیں کریں گے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بائیڈن کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ سبکدوش ہونے والی انتظامیہ ٹک ٹاک پابندی کے فیصلے کو نو منتخب صدر ٹرمپ پر چھوڑ دے گی۔
کیا ٹک ٹاک پر دیگر ممالک میں بھی پابندی ہے؟
ٹک ٹاک پر انڈیا میں پہلے ہی پابندی عائد ہے، جو کہ جون 2020 میں اسے غیر قانونی قرار دینے سے پہلے ایپ کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں سے ایک تھی۔
ایران، نیپال، افغانستان اور صومالیہ میں بھی اس ایپ پر پابندی عائد کی گئی تھا۔
برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ نے 2023 میں عملے کے سرکاری فونز اور کمپیوٹرز وغیرہ پر ٹک ٹاک انسٹال کرنے کی پابندی لگا دی تھی، اور یورپی کمیشن نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔