آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مفرور‘ ملک ریاض کے دبئی پراجیکٹ میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ ہوگی: نیب کی تنبیہ

نیب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے پاس ’اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کرچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں نہ صرف سرکاری بلکہ نجی اراضی پر بھی ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائیٹیز قائم کی ہیں اور وہ لوگوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔‘

خلاصہ

  • نیب نے لوگوں کو 'تنبیہ' کی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے دُبئی میں شروع ہونے والے نئے پراجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں کیونکہ ایسے کسی بھی فعل کو 'منی لانڈرنگ' تصور کیا جائے گا۔
  • ترکی کے شہر بولو کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 66 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہو گئے ہیں۔
  • آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں 11 جنوری کو ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت محمد خان خیل کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری تھا اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث تھا۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں امریکی صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اُٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ’امریکہ کے سنہری دور کا آغاز ہو رہا ہے‘
  • نئے امریکی صدر نے عہدہ سنبھالتے ہی بہت سے ایگزیکٹیو حکمنامے جاری کیے ہیں
  • ٹرمپ نے کیپیٹل ہل حملے میں ملوث تقریباً 1600 افراد کے لیے معافی کے حکمنامے پر بھی دستخط کیے ہیں
  • امریکی کانگریس کی سابق سپیکر نینسی پلوسی نے کیپٹل ہل کر حملہ کرنے والوں کو معافی دینے کے اقدام کو ’اشتعال انگیز توہین‘ قرار دیا ہے

لائیو کوریج

  1. ’جنوری 20، 2025 آزادی کا دن ہے‘

    ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت ہر بحران سے ’طاقت، قوت اور وقار‘ سے نمٹیں گے اور ’تمام قومیتوں، مذاہب، رنگوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے عوام کے لیے ترقی لائیں گے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’جنوری 20، 2025 آزادی کا دن ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ حالیہ الیکشن کو امریکہ کی تاریخ کے سب سے عظیم اور اہم انتخاب کے طور پر یاد کیا جائے گا۔‘

  2. ’میری زندگی اس لیے بچائی گئی ہے تاکہ میں امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا سکوں‘

    ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران گذشتہ برس ان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ آٹھ سالوں کے دوران انھیں کسی بھی دوسرے صدر سے زیادہ امتحانوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘

    ان کے مطابق ’کچھ نے ہمارے مقصد کی ختم کرنے کی کوشش کی اور کچھ نے میری زندگی کو۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میری زندگی کسی وجہ سے بچائی گئی ہے اور وہ ہے کہ میں ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا سکوں۔‘

  3. ’امریکہ کا صحت کا نظام سانحے کے وقت کام نہیں کرتا‘

    ٹرمپ نے اپنی تقریر میں شمالی کیرولائنا میں طوفان اور لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی بھی بات کی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ آگ کے باعث سب سے امیر اور طاقتور افراد متاثر ہوئے جن میں سے کچھ یہاں بھی موجود ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ بہت دلچسپ بات ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’امریکہ کا صحت کا نظام ایسا ہے جو سانحے کے وقت کام نہیں کرتا لیکن اس پر دنیا میں کسی بھی دوسری جگہ سے زیادہ پیسے خرچ کیے جاتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا تعلیم کا نظام ایسا ہے جو ہمارے بچوں کو خود پر شرم محسوس کرنا سکھاتا ہے۔‘

    ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’یہ سب تبدیل ہو جائے گا، یہ آج سے شروع ہو گا اور یہ بہت جلد تبدیل ہو گا۔‘

  4. ’ہم ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں عوام خود پر فخر کریں، ترقی کریں اور آزاد ہوں‘

    ٹرمپ کا اپنی تقریر میں یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم اپنی خودمختاری واپس لیں، اپنے تحفظ کو برقرار رکھیں گے اور انصاف کے پیمانے میں توازن پیدا کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ محکمۂ انصاف کو تشدد پر مبنی ناانصافی کے لیے کسی کے خلاف استعمال کرنے کے عمل کا خاتمہ ہو گا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں عوام خود پر فخر کریں، ترقی کریں اور آزاد ہوں۔‘

  5. ’امریکہ کا سنہرا دور اب سے شروع ہو چکا ہے‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر کا آغاز سابق امریکی صدور اور نائب صدر کملا ہیرس اور صدر جو بائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ’امریکہ کا سنہرا دورا اب شروع ہو چکا ہے۔ آج کے دن کے بعد سے ہمارا ملک ترقی کرے گا اور اس کا احترام کیا جائے گا۔

    ’میں امریکہ کو ہمیشہ سب سے پہلے رکھوں گا۔‘

  6. ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی: 47ویں امریکی صدر نے حلف اٹھا لیا

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں امریکی صدر کی حیثیت سے حلاف اُٹھا لیا ہے۔

    حلف برداری کی تقریب میں سابق صدور بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن، جارج بش اور ان کی اہلیہ اور بارک اوباما بھی شریک تھے۔

    قبل ازیں، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اہلیہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس پہنچے تھے جہاں جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا کا استقبال کیا تھا۔

  7. امریکہ کے نئے صدر کی پہلی تقریر میں خارجہ پالیسی کے لیے کیا نیا ہوگا؟, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز

    امریکہ میں نئے آنے والے صدر کی افتتاحی تقاریر روایتی طور پر خارجہ پالیسی پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آنے والا صدر امریکہ کے لئے ایک وژن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہوتا ہے۔

    آٹھ سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی افتتاحی تقریر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھی۔ لیکن اُن کے پہلے دورِ حکومت میں انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں بہت سی نئی باتیں کیں تھیں یا یوں کہہ لیں کہ اُس تقریر میں دنیا کے لئے پیغامات موجود تھے۔

    انھوں نے دنیا سے اسلامی شدت پسندی مٹانے کی بات کی جبکہ نئے اتحاد قائم کرنے اور پرانے اتحاد اجاگر کرنے کا وعدہ کیا۔

    لیکن ’امریکہ سب سے پہلے‘ نے کبھی کبھار بے رحم دور کا آغاز کیا جس کی قیادت ایک ایسے شخص نے کی جو محسوس کرتا تھا اور اب بھی محسوس کرتا ہے کہ امریکہ کو دوستوں اور دشمنوں نے یکساں طور پر نقصان پہنچایا ہے۔

    آٹھ سال بعد دنیا ان کے ہر ہر لفظ پر کان رکھے ہوئے ہے کہ اب کی بار ہو کیا کہیں گے۔ سب کی سوچ یہی ہو گی کہ ٹرمپ 2.0 سے کیا توقع کی جائے۔

    یہ دیکھتے ہوئے کہ ٹرمپ پہلے ہی اپنی خارجہ پالیسی کی پہلی کامیابی کا کریڈٹ لے چکے ہیں، جس میں اُن کا اشارہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی جانب تھا۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکہ کے نئے رہنما اس بات کا کوئی اشارہ دیتے ہیں کہ وہ 2017 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل دنیا سے کیسے نمٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  8. سابق امریکی صدور کی تقریبِ حلف برداری کے لئے کیپیٹل آمد

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کے لیے اب سے کُچھ دیر قبل تین سابق امریکی صدور بھی کیپیٹل پہنچے ہیں۔

  9. تقریبِ حلف برداری کے دن، امریکہ میں سیاسی روایات کی واپسی

    آج صبح وائٹ ہاؤس آمد پر ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ کا جو بائیڈن اور جل بائیڈن نے استقبال کیا اس موقع پر وائٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر ہاتھ ملائے گئے اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔

    نومنتخب امریکی صدر اور اُن کی اہلیہ کی وائٹ ہاؤس میں چائے پر آمد کو انتخابات کے بعد اقتدار کی پرامن منتقلی کی واضح علامت کے طور پر دکھا جاتا ہے۔ اس لمحے کو امریکی سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل ہے کہ جس دن سیاسی اختلافات کو ایک جانب رکھ کر کم از کم ایک دن کے لئے سب متحد دکھائی دیتے ہیں۔

    یہ ایک ایسی روایت تھی جسے چار سال قبل 6 جنوری کو ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے امریکی کیپیٹل ہل پر حملے اور سبکدوش ہونے والے صدر کی جانب سے بائیڈن سے ملاقات نہ کرنے یا حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بعد ترک کر دیا گیا تھا۔

    اس ہنگامہ خیز اقتدار کی منتقلی کے بعد بائیڈن نے اپنی صدارت کے دوران امریکہ کی تقسیم کو ختم کرنے کا وعدہ کیا، ایک ایسا کام جو گزشتہ چار سالوں کی تلخیوں کو دیکھتے ہوئے ادھورا رہ گیا ہے۔

    لیکن کم از کم آج جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے نئے صدر کے طور پر حلف اُٹھانے جا رہے ہیں تو ایسے میں امریکہ کے صدارت کے پرانے اصول اور روایات واپس آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

  10. امریکہ میں نئے صدر کی تقریبِ حلف برداری: اب تک کیا ہو چُکا ہے اور کیا ہونے والا ہے

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے دن کا آغاز واشنگٹن ڈی سی میں سینٹ جان چرچ میں ایک تقریب سے ہوا جہاں ٹیکنالوجی کی دُنیا کے بڑے ناموں کے علاوہ ٹرمپ کے خاندان اور اُن کے اتحادیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں جو بائیڈن اُن کی اہلیہ اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں چائے پر ملاقات ہوئی۔ جس کے بعد ان کا قافلہ کیپیٹل کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

    مقامی وقت کے مطابق 11 بجے کے بعد نومنتخب نائب صدر جے ڈی وینس کیپٹل ون ایرینا میں حلف اٹھائیں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق 12 بجے سے پہلے حلف اٹھائیں گے جس کے بعد وہ حلف برداری سے خطاب کریں گے۔

  11. ٹرمپ کا جنوبی سرحد پر ایمرجنسی نافذ کرنے اور 10 انتظامی اقدامات کرنے کا اعلان

    وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے نئے عہدیداروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر ’نیشنل ایمرجنسی‘ کا اعلان کرے گی اور محکمہ دفاع کو ’عام فہم امیگریشن پالیسی‘ کو بحال کرنے کے مقصد سے ’سرحد کو سیل‘ کرنے کی ہدایت کرے گی۔

    نامہ نگاروں کے ساتھ ایک مختصر گفتگو میں نئی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آج 10 ایگزیکٹو اقدامات پر دستخط کریں گے جو امریکہ اور میکسیکو کی سرحد سے متعلق ہیں۔

    مزید یہ کہ ٹرمپ حکام کو حکم دیں گے کہ وہ سرحدی دیوار کی تعمیر دوبارہ شروع کریں، جس کا تقریباً 450 میل (724 کلومیٹر) حصہ ان کے پہلے دورِ صدارت کے دوران تعمیر کیا گیا تھا اور ’ریمین ان میکسیکو‘ کی پالیسی کو بحال کریں، جس کے تحت تارکین وطن کو میکسیکو میں رہتے ہوئے اپنی امریکہ میں سرکاری پناہ کی درخواست پر کارروائی اور اس کے نتیجے کا انتظار کرنا ہوگا۔

  12. تقریب حلف برداری سے قبل وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور بائیڈن کی چائے پر ملاقات

    صدر بائیڈن اور ان کی اہلیہ جل نے اب سے کُچھ دیر قبل نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی اہلیہ میلانیا کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا ہے۔ وہ کیپیٹل جانے سے پہلے کُچھ لمحے کے لیے وائٹ ہاؤس میں رُکیں گے۔

    یہ مناظر پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملے ہیں کہ جب صدر بائیڈن اُن کی اہلیہ اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی اہلیہ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

  13. واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کے حامیوں کی آمد کا سلسلہ جاری

    امریکی دارالحکومت سے کچھ تصاویر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بھیڑ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    لوگ کیپٹل ون ایرینا کے باہر قطار میں کھڑے ہیں جہاں یہ تقریب منعقد ہوگی۔

  14. نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے سینٹ جان چرچ آمد

    ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے خاندان کے افراد اور ان کی آنے والی انتظامیہ کی اہم شخصیات اس وقت واشنگٹن ڈی سی کے سینٹ جان چرچ میں موجود ہیں۔

    سینٹ جان چرچ سے چند تازہ تصاویر:

  15. تقریبِ حلف برداری کیا ہے؟

    حلف برداری کی تقریب باضابطہ طور پر ایک صدر کے دور کا خاتمہ اور دوسرے کے آغاز کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔

    یہ حکومتی رہنماؤں کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں اقتدار کی منتقلی کا سب سے ہائی پروفائل حصہ ہوتا ہے۔

    تقریب کے اہم ترین حصے کے دوران نومنتخب صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہیں اور یہ الفاظ کہتے ہیں: ’میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں ایمانداری کے ساتھ امریکی صدر کے عہدے پر عمل کروں گا اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق امریکی آئین کی حفاظت، حفاظت اور دفاع کروں گا۔‘

    اگرچہ انھوں نے نومبر میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن ٹرمپ یہ الفاظ کہنے کے بعد باضابطہ طور پر 47ویں صدر بن جائیں گے۔

    جے ڈی وینس بھی باضابطہ طور پر نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    اس تقریب میں میوزیکل پرفارمنس اور تقاریر بھی شامل ہیں جس کے دوران ٹرمپ خطاب کریں گے اور اگلے چار سالوں کے لیے اپنے اہداف کا اعلان کریں گے۔

  16. امریکہ کے 47ویں صدر کی تقریب حلف برداری کب اور کہاں ہو گی؟

    پیر کے روز یعنی آج ٹرمپ کی دوسری حلف برداری کے دن کا آغاز واشنگٹن ڈی سی میں لافائیٹ سکوائر کے تاریخی سینٹ جان چرچ میں ایک دعائیہ تقریب سے ہوگا جس کے بعد وائٹ ہاؤس میں چائے کا اہتمام کیا جائے گا۔

    امریکی کیپیٹل کے ویسٹ لان میں واقع مرکزی تقریب کے سٹیج پر موسیقی کی پرفارمنس اور افتتاحی کلمات 9:30 پر شروع ہوں گے۔

    اس کے بعد ٹرمپ اور وینس کی حلف برداری کے ساتھ ساتھ افتتاحی خطاب بھی ہوگا۔

    اس کے بعد ٹرمپ اپنی نئی انتظامیہ کے آغاز کے لیے اہم دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے سینیٹ چیمبر کے قریب واقع صدر کے کمرے میں داخل ہوں گے۔

    حلف برادی کی تقریبات سے متعلق کانگریس کی مشترکہ کمیٹی ظہرانے کی میزبانی کرے گی جس میں وہ اس کے بعد شرکت کریں گے۔

    بعد ازاں کیپیٹل سے نکل کر پنسلوانیا ایونیو سے ہوتے ہوئے وہ وائٹ ہاؤس تک جائیں گے۔

    شام کو ٹرمپ شہر بھر میں تین افتتاحی تقریبات میں نظر آئیں گے۔ توقع ہے کہ وہ تینوں میں خطاب کریں گے۔

    رواں سال واشنگٹن میں منفی 11 ڈگری سیلسیئس کی سردی کے باعث یہ تقریب امریکی کیپیٹل عمارت کے اندر منعقد ہو رہی ہے۔

  17. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب سے متعلق بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔