آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کے جواب کا کل تک انتظار کریں گے، حکومت آئینی ترمیمی بِل کے ’مسترد شدہ‘ حصوں سے دستبردار ہوگئی: مولانا فضل الرحمان

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیمی بِل میں ’اختلافی اجزا تحلیل ہوچکے ہیں‘ تاہم پی ٹی آئی نے مسودے پر مشاورت کے لیے اتوار تک کا وقت مانگا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بِل پر ووٹنگ کروائیں گے۔

خلاصہ

  • وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کا بِل اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں پیش کیا جائے گا۔
  • مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کے بِل میں موجود ’اختلافی اجزا‘ تحلیل ہو چکے ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے اس پر مشاورت کے لیے کل تک کا وقت مانگا ہے اور وہ ان کے جواب کا انتظار کریں گے۔
  • قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کی دوپہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
  • بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی اور جے یو آئی (ف) میں 26ویں آئینی ترمیم پر 100 فیصد اتفاق ہو چکا ہے اور امید ہے کہ مولانا کے ڈرافٹ پر پی ٹی آئی بھی مان جائے گی۔
  • عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سنجیدہ معاملہ ہے، مولانا سے مشاورت جاری رکھی جائے۔
  • خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اگر نہ بھی مانے تو آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے پاس نمبر پورے ہیں۔
  • شہر لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ ریپ کے معاملے پر بنائی گئی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کو بے بنیاد قرار دے کر کہا کہ کالج انتظامیہ معاملے کو بروقت سنبھالنے میں ناکام رہی۔

لائیو کوریج

  1. جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کو ’ہولوکاسٹ کے بعد سے اپنے لوگوں کے بد ترین قتلِ عام میں ملوث فرد قرار دیا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے یحییٰ سنوار کے ساتھ اپنا حساب چُکتا کر دیا ہے مگر جو ٹاسک انھیں درپیش ہے وہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ یہ ٹاسک اُسی وقت مکمل ہوگا کہ جب تک تمام اسرائیلی یرغمالی اپنے اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ آتے۔

    غزہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’سنوار نے آپ کی زندگیاں تباہ کر دیں‘ اور اب جب وہ ہلاک ہو چکے ہیں تو ’حماس اس علاقے پر اپنا کنٹرول کھو چُکی ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’یرغمالیوں کی واپسی ہی جنگ کا اختتام ہو گا۔‘

    نیتن یاہو نے یرغمالیوں سے متعلق مزید بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کسی کی بھی حراست میں ہمارے لوگ (یرغمال بنائے گیے اسرائیلی) ہیں انھیں وارننگ دی جا رہی ہے کہ ’جو کوئی بھی اپنے ہتھیار ڈال دے گا اور یرغمالیوں کو رہا اور اسرائیل کے حوالے کر دے گا اسے نا صرف جانے دیا جائے گا بلکہ اُسے کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔‘

    تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ بات یاد رکھی جائے کہ جو بھی یرغمالیوں کو نقصان پہنچائے گا، ہم ان کے ساتھ حساب برابر کریں گے۔‘

  2. یحییٰ سنوار: ایک سمجھوتہ نہ کرنے والی شخصیت, فرینک گارڈنر، نمائندہ سکیورٹی

    یحییٰ سنوار کی ہلاکت حماس کے لیے زلزلے کے ایک بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہو گی۔

    جب حماس نے انھیں رواں برس اسماعیل ہنیہ کے متبادل کے طور حماس کا سربراہ چُنا تو یہ انحراف اور بے لچک رویے پر مبنی ایک دانستہ عمل تھا۔ یحییٰ سے زیادہ ’سمجھوتہ نہ کرنے والی شخصیت‘ کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا تھا۔

    لبنان میں حزب اللہ کی طرح حماس نے بھی اپنے ایک کے بعد ایک لیڈر کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھا ہے، گذشتہ ایک برس کے دوران حماس کے سینکڑوں جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اُن کے اسلحے کے ذخیرے تباہ کیے گئے ہیں۔

    حماس کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا اب ایسا معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے جس سے غزہ کی پٹی میں تباہی پھیلانے والے اسرائیلی فوجی آپریشن کو ختم کیا جا سکے۔ یا اس کے برعکس اس امید کے ساتھ لڑائی اور مزاحمت جاری رکھی جائے کہ ایک روز اسرائیل کا صبر اور حوصلہ جواب دے جائے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے حال ہی میں کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ’90 فیصد‘ ہو چکا ہے تو کیا اسنوار کا قتل بالآخر اس معاہدے کو مکمل کرنے اور اسرائیل کے یرغمالیوں کو گھر لانے کا ایک موقع ہو سکتا ہے؟

    مگر اس کے برعکس ہونے کا خطرہ بھی ہے: یعنی حماس کے بچ جانے والے ناراض اراکین کو کسی بھی قسم کے جنگ بندی کے سمجھوتہ سے پہلے سے کہیں زیادہ دور کرنا۔

  3. حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار جمعرات کے روز ہلاک ہوئے: اسرائیلی افواج کا دعویٰ

    اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار جمعرات کے روز غزہ کے جنوب میں ایک فوجی کارروائی میں ہلاک کیا گیا تھا۔

    ایک بیان میں آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ سنوار نے 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کی اور اس پر عمل درآمد کیا اور وہ ’بہت سے اسرائیلیوں کے قتل اور اغوا کے ذمہ دار تھے۔‘

    بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یحییٰ سنوار کو غزہ کی پٹی میں حماس کی سرنگوں میں گذشتہ ایک سال تک چھپے رہنے کے بعد سُراغ لگا کر نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے سینئر ارکان کے مشتبہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرنے والی انٹیلی جنس معلومات کے بعد جنوبی غزہ میں کارروائی کر رہی ہے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’آئی ڈی ایف کی 828 بریگیڈ نے ’تین عسکریت پسندوں کو شناخت کرنے کے بعد ہلاک کیا،‘ شناخت کے عمل میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار بھی تھے۔‘

  4. یحییٰ سنوار کی ہلاکت: حماس کے لیے ایک بڑا دھچکہ, رشدی ابولوف، بی بی سی

    یحییٰ سنوار کا غزہ کے منظرنامے سے غائب ہو جانا حماس کے لیے ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا سٹریٹیجک نقصان ہے۔

    سنہ 2013 میں قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں اسرائیلی جیل سے رہا ہونے کے بعد سے اگر اُن کا کریئر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حماس کے سیاسی اور عسکری ونگز سمیت طاقت کے دیگر تمام مراکز کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا تھا۔

    یحییٰ سنوار ہی وہ شخص تھے جو غزہ کا نظم چلانے والی حماس کی حکومتی کمیٹی کے سربراہ کا چناؤ کرتے تھے۔ انھوں نے ہی اپنے بھائی محمد کے ساتھ مل کر حماس کے عسکری ونگ کی مختلف بٹالینز کے سربراہان کا تقرر کیا تھا۔ ان کے بھائی محمد غزہ کی پٹی کے جنوبی حصوں میں حماس کے طاقتور مسلح گروہوں کی سربراہی کرتے ہیں۔

    اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر حماس کے لیے ان کی ہلاکت کے صدمے کو برداشت کرنا اور اس سے باہر نکلنا مشکل بنا دے گا۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کا ایسا متبادل تلاش کرنا جو ان ہی کی طرح قابل قبول ہو، ایک مشکل امر ہو گا۔

    ماضی میں حماس اپنے سربراہ کے نام کو خفیہ رکھتی تھی اور اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد بھی یہ آپشن زیر غور تھا تاہم یحییٰ کے نام کا اعلان کر دیا گیا مگر اب ان کی ہلاکت کے بعد یہ آپشن ایک دفعہ دوبارہ زیر غور ہو گا۔

  5. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • اسرائیلی دفاعی افواج کا دعویٰ ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کو غزہ میں ہلاک کر دیا گیا ہے، تاہم حماس کی جانب سے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے
    • اسرائیلی پولیس کے مطابق اُن کی ہلاکت کی تصدیق دانتوں کی جانچ اور فنگر پرنٹس کی مدد سے کی گئی
    • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کو ’ہولوکاسٹ کے بعد سے اپنے لوگوں کے بدترین قتلِ عام میں ملوث فرد قرار دیا‘
    • اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ جمعرات کو جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اُن کے پانچ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
    • غزہ میں ایک سکول پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 29 فلسطینی ہلاک جبکہ 93 زخمی ہوئے ہیں
    • لاہور کے بعد صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی مختلف طالجوں کے طلبہ کی جانب سے توڑ پھوڑ اور احتجاج کے بعد کم از کم 350 طلبہ زیرِحراست ہیں اور 36 کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہےپاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور میں ’پنجاب کالج‘ کے اندر مبینہ ریپ کی اطلاعات پھیلنے کے بعد سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم پر 36 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے
    • پاکستان تحریکِ انصاف آج ’عمران خان کی قید اور غیر آئینی ترامیم کے خلاف‘ ملک گیر احتجاج کر رہی ہے
  6. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان سے لے کر مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔