سپریم کورٹ آئینی بینچ میں زیر سماعت فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ملزم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل دیے جو کل بھی جاری رہیں گے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے کی۔
جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر بنیادی حقوق دستیاب نا ہوں اور کسی ایکٹ کے ساتھ ملا لیا جائے، تو کیا بنیادی حقوق متاثر ہوں گے؟
وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اپنایا کہ آرمی ایکٹ ایک بلیک ہول ہے، اس میں کوئی بھی ترمیم ہوئی تو بنیادی حقوق ختم ہو جائیں گے، قانون کے مطابق جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہونا ضروری ہے۔
جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر آرمڈ فورسز کا کوئی شخص گھر بیٹھے کوئی جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہو گا؟
سلمان اکرم راجہ نے موقف اپنایا مثال کے طور پر پنجاب میں پتنگ اڑانا منع ہے، اگر کوئی پنجاب میں گھر میں پتنگ اڑاتا ہے تو وہ ملٹری کورٹ میں نہیں جائے گا، اس پر بھی سویلین قانون لاگو ہوگا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا ٹو ون ڈی کی حیثیت پر ہر مرتبہ سپریم کورٹ جوڈیشل ریویو کیوں کرے؟
مجرم کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا لیگل فریم ورک تبدیل ہوجائے تو جوڈیشل ریویو کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا ٹو ون ڈی کیلئے1967 میں آرڈیننس لایا گیا، آرڈیننس کی ایک معیاد ہوتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں آرڈیننس معیاد ختم ہونے پر متروک ہو گیا ہو؟
جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے سول سروس میں کوئی شخص ایسا جرم کرتا ہے تو اسے نوکری سے نکالا جاتا ہے، سول سروس میں سزا دینے کا اختیار موجود نہیں ہے، آرمڈ فورسز میں ایک طرف نوکری سے نکالاجاتا ہے دوسری طرف سزا بھی دی جاتی ہے۔
جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے آپ کو بتانا پڑے گا کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا کس پر ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا ایسا نہیں کہ ٹو ون ڈی کے بغیر ریاست کا کاروبار نہیں چل سکتا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا اگر کوئی سویلین مڈل مین دشمن ملک کے ورغلانے پر راز ان کے حوالے کر دے تو اسکا ٹرائل کہاں ہوگا؟
سلمان اکرم راجہ نے موقف اپنایا اس کا ٹرائل آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہوگا، آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کا مکمل طریقہ کار موجود ہے۔
'میں اصول اور قانون کے خلاف اپنی مرضی سے توڑ موڑ کر دلائل نہیں دوں گا۔'
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 'کلبھوش کا کیس آپ کے سامنے ہے، دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ آئین بنیادی حقوق دے اور کوئی ایک انگلی کے اشارے سے بنیادی حقوق چھین لے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کمانڈنگ آفیسر کہے مجھے ارزم جنید چاہیے، اسے میرے حوالے کرو۔'
دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کی کیا ا پانچ رکنی بینچ نے سیکشن ٹو ڈی ختم کردیا، سیکشن ٹو ڈی ختم ہونے کے بعد جاسوس عناصر کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔
' آرمی میں سول ملازمین بھی ہوتے ہیں، اگر سول ملازم کی آڑ میں دشمن ملک کے لیے جاسوسی کرے، ایسے سول ملازم جاسوس کا ٹرائل کہاں ہوگا؟ '
سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا آرمی میں موجود سول ملازمین آرمی ایکٹ کے تابع ہوتے ہیں۔'
اتنی تلاشی کیوں لی جاتی ہے؟
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 'بند دروازوں کے پیچھے شفاف ٹرائل نہیں ہو سکتا، 19ویں صدی والا کورٹ مارشل اب پوری دنیا میں تبدیل ہو چکا ہے، 2025 میں 1860 والے کورٹ مارشل کی کارروائی کا اطلاق یونیفارم پرسنل پر بھی نہیں ہو سکتا، پتہ نہیں دو سال تک کیا ہوتا رہا، ایک کاغذ تک باہر لیکر جانے کی اجازت نہیں تھی، ضمانت کا حق بھی حاصل نہیں، برطانیہ میں جج ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتی ہائی کورٹ ججز تعیناتی کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہوتی ہے۔'
دوران سماعت وکیل رہنما اعتزاز احسن نے موقف اختیار کیا کہ ' ایف بی علی کیس میں ایاز سپرا اور میجر اشتیاق آصف کا وکیل رہا، اس وقت ٹرائل اٹک جیل میں ہوتا تھا، ٹرائل کے بعد ریکارڈ جلا دیا جاتا تھا، جب ٹرائل ختم ہوتا ہماری اٹک قلعے سے نکلتے وقت مکمل تلاشی لی جاتی تھی، ایک کاغذ تک نہیں لیکر جانے دیا جاتا تھا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ اس وقت مارشل لا کا دور تھا۔ سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ مجھے بطور وکیل روزانہ اڈیالہ جیل میں ایسا سہنا پڑتا ہے۔'
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اتنی تلاشی کیوں لی جاتی ہے؟
سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میری ٹائی تک کی تلاشی لی جاتی ہے۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ مجھ سے تو ایک مرتبہ ٹشو پیپر تک لے لیا گیا تھا۔
بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ آپ دلائل اس کیس تک ہی محدود رکھیں۔
سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'آپ مجھے دس سال سزا دے دیں اور کہیں آپ کو اپیل کا حق نہیں، کیس کوئی اور سنتا ہے فیصلہ کوئی اور جاری کرتا ہے، دنیا میں کورٹ مارشل کے لیے دو ماڈلز اپنائے گئے ہیں، دنیا میں ٹرائل کے لیے قابل ججز کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ یہاں کنویکشن ریٹ 95 فیصد ہے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ اعتراف کی بنیاد پر سزا ہو جائے، اعتراف کی بنیاد پر سزا ہمارا ہی انوکھا طریقہ ہے۔ دنیا میں پورا سسٹم بدل کر رکھ دیا گیا ہے، دنیا میں اوپن ٹرائل کا تصور بھی موجود ہے۔'
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے ہمارے سامنے جو معاملہ ہے ہم نے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، کل بھی سلمان اکرم راجا اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔