آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

حماس کا غزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان

حماس کی جانب سے غزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ قاہرہ میں مذاکرات کے بعد حماس نے کہا ہے کہ مصر اور قطر کے ثالثوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔

خلاصہ

  • حماس کی جانب سے غزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
  • پاکستان اور ترکی کے درمیان متعدد نئے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر جمعرات کے روز وفاقی دارلحکومت میں دستخط ہوئے۔
  • انڈیا اور فرانس نے مشترکہ طور پر موڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹرز بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ کا روسی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ: امریکی صدر کا کہنا ہے کہ صدر پوتن نے یوکرین میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہیں۔
  • عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا ہے۔
  • حماس کے زیر نگرانی میڈیا کے مطابق حماس کا ایک وفد سیز فائر پر بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچ گیا ہے۔
  • الفارعہ کیمپ میں موجود مہاجرین کا کہنا ہے کہ 'اسرائیل نے خوراک اور پانی کی ترسیل دس روز سے روک رکھی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بلوچستان: ضلع کیچ میں ٹاگٹ کلنگ اور جبری گمشدگیوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں معروف ماہر تعلیم شریف ذاکر پر قاتلانہ حملے، ٹارگٹ کلنگ اور جبری گمنشدگیوں کے واقعات کے خلاف شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی۔

    شٹرڈائون ہڑتال کی کال تربت سول سوسائٹی کی جانب سے دی گئی تھی جس کے باعث شہر کے تمام تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہی۔

    شریف ذاکر تربت میں ایک ٹیچر کے علاوہ معروف نجی تعلیمی ادارے کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ان پر حملے کے خلاف تربت میں نجی تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔

    شریف ذاکر پر گذشتہ روز نامعلوم افراد نے شہر کے مرکزی علاقے سے دو کلومیٹر دور کوشک ملک آباد کے علاقے میں حملہ کیا تھا جس میں گولی لگنے سے وہ زخمی ہوئے تھے۔

    تربت پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ شریف ذاکر پر حملے کا مقدمہ پولیس سٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

    تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست نے بتایا کہ شریف ذاکر پر حملے سے قبل ان کے بھائی کو قتل کیا گیا لیکن ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ چار فروری کو شریف ذاکر کے بیٹے کامل شریف اور بھتیجے احسان سرور کو مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جن کی تاحال بازیابی نہیں ہوئی۔

    گلزار دوست نے کہا کہ چند روز قبل تربت شہر میں ایک اور سیاسی کارکن اور ایم فل اسکالر اللہ داد بلوچ کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

  2. حماس کا وفد سیز فائر پر مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گیا

    حماس کے زیر نگرانی میڈیا کے مطابق حماس کا ایک وفد سیز فائر پر بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچ گیا ہے۔

    اس گروپ نے سیز فائر پر عملدرآمد کے حوالے سے بات چیت کرنے کے لیے مصری حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے۔

    خیال رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بات چیت کے لیے مصر ایک اہم ثالث ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حماس کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ ہم موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے راستہ نکالنے کے لیے اور معاہدے پر عملدآمد کو کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کریں گے۔

    اس سے قبل حماس نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں اس نے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے منصوبے کو اردن اور مصر کی جانب سے مسترد کیے جانے کا خیر مقدم کیا تھا۔

    خیال رہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے امریکی صدر نے ایک مجوزہ منصوبے پر کئی بار بات کی ہے جس میں انھوں نے یہ کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اس علاقے سے نکالا جائے گا۔

    اس سلسلے میں صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز اردن کے بادشاہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

  3. رفع کراسنگ کی بندش: امدادی سامان کے ٹرک آگے بڑھنے کے لیے راستہ کھلنے کے منتظر

    اردن سے تعلق رکھنے والے احمد حسین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ ایک ماہ سے مصر کی رفع کراسنگ پر پھنسے ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 19 جنوری کو سیز فائر کے بعد سے غزہ کے لیے آنے والے امدادی سامان کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ برس مئی میں اسرائیل نے تصدیق کی تھی کہ اس کی افواج نے غزہ اور مصر کے درمیان فلسطینی سائیڈ پر رفع کراسنگ پر قبضہ (آپریشنل کنٹرول سنبھال لیا) کر لیا ہے۔

    اکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے رفع، غزہ میں امداد پہنچانے اور جنگ سے جان بچا کر نکلنے والوں کے لیے واحد راستہ بچا تھا۔

    احمد نے بتایا کہ بہت اکم مدادی ٹرکوں کو اس مرکزی راستے سے جانے کی اجازت ملی جبکہ نصف سے زائد کو واپس لوٹا دیا گیا۔

    یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کچھ ٹرکوں کو امداد کی محدود تعداد کو رفع کراسنگ سے لے جانے کی اجازت ملی اور بدھ کو اس کی ویڈیوز دیکھی گئی ہیں۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان ٹرکوں میں اکیا چیزیں لے جائی جا رہی ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل مسلسل بنیادوں پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تاہم اسرائیل نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    خیال رہے کہ رفع کراسنگ کی بندش کا مطلب غزہ کے لیے دو اہم امدادی راستوں کا بند ہو جانا ہے۔

  4. شیخ حسینہ کی حکومت میں کریک ڈاؤن کو انسانیت مخالف جرائم کہا جا سکتا ہے: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور ان کی حکومت نے مظاہرین کے خلاف منظم اور بدترین تشدد کا استعمال کرتے ہوئے اقتدار پر قائم رہنے کی کوشش کی جو انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک میں اپنی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج اور پر تشدد مظاہروں کے بعد گذشتہ برس پانچ اگست کو ڈھاکہ سے ایک طیارے کے ذریعے دلی آگئی تھیں۔

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے دسمبر میں انڈیا کو ایک سفارتی پیغام بھیجا ہے جس میں انڈیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کو بنگلہ دیشی حکومت کے حوالے کر دے۔

    اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق حکومت نے گذشتہ برس مظاہرین کے خلاف بہیمانہ ردعمل کا اظہار کیا۔

    ادارے کے اعدادو شمار کے مطابق تقریباً 1400 افراد جن میں سے بہت سے سکیورٹی اہلکار شامل ہیں ہلاک ہوئے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرین کو تشدد سے دبانے کے لیے اپنائی گئی پالیسی کا کنٹرول سیاسی رہنماؤں اور سکیورٹی افسران کے پاس تھا۔

    سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد 15 برس تک حکومت میں رہیں اور وہ اس سے کچھ دیر پہلے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے انڈیا چلی گئیں جب ان کے گھرکو ایک ہجوم نے گھیرے میں لے لیا تھا۔

    عوامی لیگ نے 29 دسمبر 2008 کے انتخابات میں دو تہائی نشستیں جیت کر حکومت بنائی۔ تب سے پارٹی اقتدار سے باہر نہیں آنا چاہتی تھی۔

    یک طرفہ یا مبینہ دھاندلی پر مبنی انتخابات، اپوزیشن اور اختلاف رائے کو دبانا، بے ضابطگیاں اور بدعنوانی، بیوروکریسی اور انتظامیہ پر پارٹی کا انحصار اس زوال کی چند اہم وجوہات ہیں۔

    واضح رہے کہ شیخ حسینہ نے اب تک جتنی بھی تقریریں کی ہیں وہ صرف آڈیو کلپس کی شکل میں ہیں۔ گذشتہ سال 5 اگست کے بعد سے ان کی کوئی ویڈیو منظر عام پر نہیں آئی۔

    شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد چند ماہ قبل ہی 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ سمندری رابطہ بحال ہوا جب ایک پاکستانی مال بردار جہاز کراچی سے بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع چٹاگانگ کی بندرگاہ پر پہنچا۔ اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان بحری تجارت سنگاپور یا کولمبو کے ذریعے ہوا کرتی تھی۔

  5. فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل: ’اگر کوئی پنجاب میں گھر میں پتنگ اڑاتا ہے تو وہ ملٹری کورٹ میں نہیں جائے گا‘

    سپریم کورٹ آئینی بینچ میں زیر سماعت فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

    فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ملزم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل دیے جو کل بھی جاری رہیں گے۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے کی۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر بنیادی حقوق دستیاب نا ہوں اور کسی ایکٹ کے ساتھ ملا لیا جائے، تو کیا بنیادی حقوق متاثر ہوں گے؟

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اپنایا کہ آرمی ایکٹ ایک بلیک ہول ہے، اس میں کوئی بھی ترمیم ہوئی تو بنیادی حقوق ختم ہو جائیں گے، قانون کے مطابق جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہونا ضروری ہے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر آرمڈ فورسز کا کوئی شخص گھر بیٹھے کوئی جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہو گا؟

    سلمان اکرم راجہ نے موقف اپنایا مثال کے طور پر پنجاب میں پتنگ اڑانا منع ہے، اگر کوئی پنجاب میں گھر میں پتنگ اڑاتا ہے تو وہ ملٹری کورٹ میں نہیں جائے گا، اس پر بھی سویلین قانون لاگو ہوگا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا ٹو ون ڈی کی حیثیت پر ہر مرتبہ سپریم کورٹ جوڈیشل ریویو کیوں کرے؟

    مجرم کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا لیگل فریم ورک تبدیل ہوجائے تو جوڈیشل ریویو کیا جا سکتا ہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا ٹو ون ڈی کیلئے1967 میں آرڈیننس لایا گیا، آرڈیننس کی ایک معیاد ہوتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں آرڈیننس معیاد ختم ہونے پر متروک ہو گیا ہو؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے سول سروس میں کوئی شخص ایسا جرم کرتا ہے تو اسے نوکری سے نکالا جاتا ہے، سول سروس میں سزا دینے کا اختیار موجود نہیں ہے، آرمڈ فورسز میں ایک طرف نوکری سے نکالاجاتا ہے دوسری طرف سزا بھی دی جاتی ہے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے آپ کو بتانا پڑے گا کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا کس پر ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا ایسا نہیں کہ ٹو ون ڈی کے بغیر ریاست کا کاروبار نہیں چل سکتا۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا اگر کوئی سویلین مڈل مین دشمن ملک کے ورغلانے پر راز ان کے حوالے کر دے تو اسکا ٹرائل کہاں ہوگا؟

    سلمان اکرم راجہ نے موقف اپنایا اس کا ٹرائل آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہوگا، آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کا مکمل طریقہ کار موجود ہے۔

    'میں اصول اور قانون کے خلاف اپنی مرضی سے توڑ موڑ کر دلائل نہیں دوں گا۔'

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 'کلبھوش کا کیس آپ کے سامنے ہے، دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ آئین بنیادی حقوق دے اور کوئی ایک انگلی کے اشارے سے بنیادی حقوق چھین لے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کمانڈنگ آفیسر کہے مجھے ارزم جنید چاہیے، اسے میرے حوالے کرو۔'

    دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کی کیا ا پانچ رکنی بینچ نے سیکشن ٹو ڈی ختم کردیا، سیکشن ٹو ڈی ختم ہونے کے بعد جاسوس عناصر کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

    ' آرمی میں سول ملازمین بھی ہوتے ہیں، اگر سول ملازم کی آڑ میں دشمن ملک کے لیے جاسوسی کرے، ایسے سول ملازم جاسوس کا ٹرائل کہاں ہوگا؟ '

    سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا آرمی میں موجود سول ملازمین آرمی ایکٹ کے تابع ہوتے ہیں۔'

    اتنی تلاشی کیوں لی جاتی ہے؟

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 'بند دروازوں کے پیچھے شفاف ٹرائل نہیں ہو سکتا، 19ویں صدی والا کورٹ مارشل اب پوری دنیا میں تبدیل ہو چکا ہے، 2025 میں 1860 والے کورٹ مارشل کی کارروائی کا اطلاق یونیفارم پرسنل پر بھی نہیں ہو سکتا، پتہ نہیں دو سال تک کیا ہوتا رہا، ایک کاغذ تک باہر لیکر جانے کی اجازت نہیں تھی، ضمانت کا حق بھی حاصل نہیں، برطانیہ میں جج ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتی ہائی کورٹ ججز تعیناتی کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہوتی ہے۔'

    دوران سماعت وکیل رہنما اعتزاز احسن نے موقف اختیار کیا کہ ' ایف بی علی کیس میں ایاز سپرا اور میجر اشتیاق آصف کا وکیل رہا، اس وقت ٹرائل اٹک جیل میں ہوتا تھا، ٹرائل کے بعد ریکارڈ جلا دیا جاتا تھا، جب ٹرائل ختم ہوتا ہماری اٹک قلعے سے نکلتے وقت مکمل تلاشی لی جاتی تھی، ایک کاغذ تک نہیں لیکر جانے دیا جاتا تھا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ اس وقت مارشل لا کا دور تھا۔ سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ مجھے بطور وکیل روزانہ اڈیالہ جیل میں ایسا سہنا پڑتا ہے۔'

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اتنی تلاشی کیوں لی جاتی ہے؟

    سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میری ٹائی تک کی تلاشی لی جاتی ہے۔

    وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ مجھ سے تو ایک مرتبہ ٹشو پیپر تک لے لیا گیا تھا۔

    بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ آپ دلائل اس کیس تک ہی محدود رکھیں۔

    سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'آپ مجھے دس سال سزا دے دیں اور کہیں آپ کو اپیل کا حق نہیں، کیس کوئی اور سنتا ہے فیصلہ کوئی اور جاری کرتا ہے، دنیا میں کورٹ مارشل کے لیے دو ماڈلز اپنائے گئے ہیں، دنیا میں ٹرائل کے لیے قابل ججز کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ یہاں کنویکشن ریٹ 95 فیصد ہے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ اعتراف کی بنیاد پر سزا ہو جائے، اعتراف کی بنیاد پر سزا ہمارا ہی انوکھا طریقہ ہے۔ دنیا میں پورا سسٹم بدل کر رکھ دیا گیا ہے، دنیا میں اوپن ٹرائل کا تصور بھی موجود ہے۔'

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے ہمارے سامنے جو معاملہ ہے ہم نے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، کل بھی سلمان اکرم راجا اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

  6. اے ٹی سی کے حکم پر مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے رہنما آفاق احمد کو جیل کسٹڈی میں بھیج دیا گیا

    کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے رہنما آفاق احمد کو جیل بھجوا دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے شہر میں ڈمپر جلانے کے لیے لوگوں کو اکسایا تھا۔

    آفاق احمد کو گذشتہ شب پولیس نے گرفتار کیا تھا اور بدھ کی صبح انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

    تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ آفاق احمد کے کہنے پر ڈمپر جلایا گیا تھا ان سے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ دیا جائے۔

    اس موقع پر سرکاری وکیل نے ان کی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے ڈمپر مالکان ڈرے ہوئے ہیں۔

    عدالت نے سوال کیا کہ کس تھانے میں مقدمہ درج ہے اور اس میں کونسے سیکشن لگے ہیں۔

    عدالت نے تفتیشی افسر کی جمسانی ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کیا اور آفاق احمد کو جیل کسٹڈی میں بھیج دیا گیا۔

    کورنگی کی عوامی کالونی تھانے میں درج مقدمے میں ٹرک ڈرائیور فرید خان نے موقف اختیار کیا تھا کہ ’میں حیدرآباد سے سیمنٹ کی چادریں لیکر کورنگی پہنچا تو پندرہ سے بیس افراد نے پتھراؤ کیا اس کے بعد گاڑی کو آگ لگا دی۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں مشتعل افراد نے کہا کہ ’آفاق احمد نے شہر میں ہیوی ٹرئفک کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے تم گاڑی لیکر کیوں آئے ہو۔‘

    درخواست گذار کے مطابق ان کی گاڑی کو جلانے کی وجہ آفاق احمد کی وہ ھہمکی آمیز ویڈیو تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ منگل سے شہر میں کوئی ہیوی ٹرئفک داخل نہیں ہوگی اگر ہوگی تو نقصان ہوگا ان کے اس بیان سے شہر کا امن خراب ہوا ہے اور ٹرانسپورٹرعدم تحفظ کا شکار ہیں۔

    یاد رہے کہ کراچی میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایک درجن سے زائد افراد جن میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں کی تھی ڈمپروں سے حادثات کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد مشتعل افراد نے ڈمپروں کو آگ لگا دی۔

    اس کے بعد حکومت سندھ نے ڈمپروں کی شہر میں دوپہر کے وقت نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔

    مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے سربراہ آفاق احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں شہریوں کے رد عمل کی حمایت کی تھی بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ڈمپروں کو جلایا جائے۔

    منگل کو ڈمپر مالکان نے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج بھی کیا تھا۔

  7. پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    خیال رہے کہ زرتاج گل کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے، کار سرکار میں مداخلت کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    وارنٹ گرفتاری جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے جاری کیے۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ مبشرحسن نے کہا کہ زرتاج گل متعدد بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئیں، لہذا عدم پیشی کی بنیاد پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی رہنما زرتاج گل کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہے۔ اس مقدمے میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی بری ہو چکے ہیں۔

  8. توہین مذہب کے الزام کے بعد مارے جانے والے ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس: تشدد کے شواہد چھپانے پر میڈیکو لیگل آفیسر گرفتار

    سندھ کے علاقے عمر کوٹ میں توہین مذہب کے الزام کے بعد مارے جانے والے ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کے ماورائے عدالت قتل کیس میں ایف آئی اے نے میڈیکو لیگل آفیسر کو میرپور خاص سے گرفتار کرلیا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس 20 ستمبر کو سندھ کے علاقے عمر کوٹ میں پولیس نے توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے ڈاکٹرشاہنواز کمبھار کومبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ جب ان کے لواحقین نے ان کی تدفین کی کوشش کی تو مشتعل مظاہرین نے ان کی لاش کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

    ایف آئی اے میرپور خاص نے ڈاکٹر شاہنواز کمبھار قتل کیس میں میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر منتظر مہدی کو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے شواہد چھپانے کے الزام کے تحت گرفتار کیا ہے۔

    ایف آئی اے نے سپیشل میڈیکل بورڈ کی جانب سے جاری رپورٹ اے ٹی سی میرپور خاص میں پیش کی گئی جس میں ڈاکٹر شاہنواز پر شدید تشدد کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

    اس خصوصی میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں متقفقہ طور پر تسلیم کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کی پسلیوں پر فریکچرز ان کی زندگی میں ہی آئے۔

    اس سے قبل پولیس سرجن منتظر مہدی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں حقائق کو چھپاتے ہوئے لکھا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کی بائیں جانب کی صرف ساتویں پسلی پر ضرب سے فریکچر آیا تھا جبکہ دیگر پسلیاں فریکچرسے محفوظ اور سلامت تھیں۔

    تاہم سپیشل میڈیکل بورڈ کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کی بائیں جانب کی پہلی اور دائیں جانب کی نیچے سے چار پسلیاں فریکچر تھیں۔

    ایف آئی اے کے بیان کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کے قتل میں ملوث پولیس افسران کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کے خلاف قتل، دہشتگردی، کسٹوڈیل ٹارچر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے خلاف 17 ستمبر کو توہین مذہب کا ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی تاہم 18 اور 19 ستمبر کی درمیانی شب ان کی ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی۔ ڈاکٹر شاہنواز پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    ان کی ہلاکت سے قبل 17 اور 18 ستمبر کو عمر کوٹ میں توہینِ مذہب کے مبینہ واقعے کے خلاف مذہبی جماعتوں کی جانب سے پرتشدد احتجاج بھی ہوا تھا۔

  9. لائن آف کنٹرول پر بارودی دھماکے میں دو انڈین فوجی ہلاک, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے صوبے جموں میں لائن آف کنٹرول کے سیکٹر اکھنور میں بارودی دھماکے میں ایک افسر سمیت دو انڈین فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

    ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے بتایا کہ ’ہماری فوج علاقے کا محاصرہ کررہی ہے اور تلاشی مہم جاری ہے۔‘

    ترجمان کے مطابق منگل کی دوپہر کو جب یہ دھماکہ ہوا تو فوج کا ایک دستہ اکھنور کے علاقے بھٹال میں ایل او سی کی اگلی چوکی کے قریب گشت کررہی تھی۔

    فوج کی شمالی کمان نے ایک بیان میں کہا کہ دھماکے کے فوراً بعد علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور زخمی فوجیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ منگل کے روز ہی نئی دلّی میں انڈین وزیرداخلہ امیت شاہ جموں کشمیر کی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔

    انھوں نے فوج، پولیس، نیم فوجی اداروں اور خفیہ اداروں کے سربراہوں سے کہا کہ ’جموں پر فوکس کریں اور بالائی علاقوں میں اپنی پکڑ مضبوط کریں۔‘

    ایک ہفتہ پہلے بھی امیت شاہ نے نئی دلی میں جموں کشمیر کی صورتحال سے متعلق ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی تھی جس میں فوجی سربراہ جنرل اوپندر دِویدی، جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور دوسرے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔

    واضح رہے 2020 میں انڈین اور پاکستانی افواج کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔

    ایل او سی پر اب گولہ باری تو نہیں ہوتی لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں کے راجوری، پونچھ، کٹھوعہ، ریاسی، ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں مسلح تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

  10. ترک صدررجب طیب اردوغان دوروزہ سرکاری دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے: دفترخارجہ

    ترک صدررجب طیب اردوغان دوروزہ سرکاری دورے پر آج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

    اس دورے کے دوران وزیراعظم شہبازشریف اور صدر اردوغان پاکستان اور ترکی کے درمیان اعلیٰ سطح کی سٹریٹجک کوآپریشن کونسل (HLSCC) کے ساتویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر ترکی کے صدر رجب طیب اردغان 12 سے 13 فروری 2025 تک پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر وزیراعظم شہبازشریف کی دعوت پرپاکستان کا دورہ کررہے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق صدر اردوان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا ایک وفد بھی ہوگا جس میں وزرا، سینئر حکام اور کاروباری نمائندے شامل ہوں گے۔

    ترجمان کے بیان کے مطابق سیشن کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ اور متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔

    ہائی لیول سٹریٹجک کوآپریشن کونسل فیصلہ سازی سے متعلق اعلیٰ ترین فورم ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، بینکنگ، فنانس، ثقافت، سیاحت، توانائی، دفاع، زراعت، ٹرانسپورٹ، مواصلات، آئی ٹی، صحت، سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سٹریٹجک سمت فراہم کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ اب تک ایچ ایل ایس سی سی کے چھ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں اور اس کا آخری اجلاس 13اور 14 فروری 2020 کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔

  11. فلسطینیوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو سب کی ترجیح ہونی چاہیے: شاہ اردن

    اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو اور وہاں سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنا سب کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔‘

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شاہ اردن کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے ساتھ اپنی ملاقات میں انھوں نے دو ریاستی حل کے لیے اپنے ملک کے عزم پر زور دیا اور اسے ’علاقائی استحکام‘ کے لیے ایک نقطہ نظر سمجھا ہے۔

    ایکس پر شاہ اردن نے مزید لکھا کہ ’میں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نقل مکانی کے خلاف اردن کے ثابت قدم موقف کا اعادہ کیا۔ یہ عرب ممالک کا اجتماعی موقف ہے۔ فلسطینیوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو اور سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنا سب کی ترجیح ہونی چاہیے۔‘

    یاد رہے کہ منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات ہوئی ہے جس میں صدر ٹرمپ نے غزہ پر قبضے والی بات دہرائی ہے۔

    امریکہ کے ٹیکس دہندگان کے ڈالر اس علاقے کو خریدنے کے لیے استعمال کیے جانے کے سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انھوں نے کہا ’ہم کچھ خریدنے نہیں جا رہے، خریدنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں، ہم بس اسے حاصل کر لیں گے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے الٹی میٹم کے بعد ٹرمپ نے دہرایا ہے کہ حماس کو سنیچر کی دوپہر تک اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہو گا۔

  12. آئی ڈی ایف کو غزہ میں فوج جمع کرنے کا حکم ’سنیچر تک یرغمالی رہا نہ ہوئے تو جنگ بندی معاہدہ ختم ہو جائے گا‘ نیتن یاہو کا الٹی میٹم

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’اگر حماس سنیچر کی دوپہر تک ہمارے یرغمالیوں کو واپس نہیں کرتی تو جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا اور آئی ڈی ایف دوبارہ سے شدید لڑائی کا آغاز کرے گی جو حماس کو مکمل شکست دینے تک جاری رہے گی۔‘

    تقریباً چار گھنٹے تک کابینہ اجلاس کی صدارت کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حماس کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی اور ہمارے یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کے فیصلے کی روشنی میں، میں نے کل رات آئی ڈی ایف کو حکم دیا کہ وہ غزہ کی پٹی کے اندر اور اس کے ارد گرد فوج جمع کریں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت یہ آپریشن ہو رہا ہے اور جلد ہی مکمل ہو جائے گا۔‘

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران ہم سب نے صدر ٹرمپ کے سنیچر کی دوپہر تک یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبے اور غزہ کے مستقبل کے لیے صدر کے انقلابی وژن کا خیر مقدم کیا۔

  13. ٹرمپ کے بیانات نسل پرستانہ ہیں، غزہ سے فلسطینیوں کو ’نکالنے‘ کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا: حماس

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سنیچر کی ڈیڈ لائن دینے اور بصورتِ دیگر معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی کے جواب میں حماس کا کہنا ہے کہ وہ ’جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے‘۔

    ایک بیان میں حماس نے ’تعمیر نو کے بہانے‘ غزہ کی پٹی سے شہریوں کی نقل مکانی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو ایک بار پھر مسترد کیا ہے۔

    حماس نے ٹرمپ کے بیانات کو ’نسل پرستانہ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کو ’نکالنے‘ کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا۔

    ’حماس تحریک اس وقت تک جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے جب تک کہ اسرائیل اس کی پاسداری کرتا رہے گا۔‘

    گروپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دیگر ممالک کی ثالثی میں بین الاقوامی برادری کے سامنے ہوا۔

    حماس کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل اپنے وعدوں پر قائم رہنے میں ناکام رہا ہے اور معاہدے پر عمل درآمد اور یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کی تمام تر ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔‘

    یرغمالیوں کو صورتحال بہتر ہونے پر رہا کیا جائے گا: حماس

    غزہ میں جنگ بندی خطرے میں پڑنے کے بعد حماس کے ایک سینیئر سیاستدان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس کا ذمہ دار ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

    ڈاکٹر باسم نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس معاہدے کے لیے پرعزم ہے اور ’اگر صورت حال بہتر ہو جاتی ہے تو وہ اگلے ہفتے قیدیوں کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    حماس نے پیر کے روز اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’طے شدہ تاریخ کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ملتوی کر رہی ہے۔‘

    نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’معاہدے کی یہ مسلسل خلاف ورزیاں معاہدے کو نقصان پہنچائیں گی اور اسے سبوتاژ کر دیں گی جس کے نتیجے میں غزہ کے بے گھر افراد کی واپسی میں 48 سے 72 گھنٹے تک تاخیر ہو سکتی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب بھی غزہ میں اہم امداد، جیسے خوراک اور ادویات دستیاب نہیں ہیں، نعیم نے اسے معاہدے میں تاخیر کی ایک اور وجہ قرار دیا ہے۔

    لیکن نعیم کے مطابق سب سے اہم نیتن یاہو کی دھمکیاں ہیں جنھیں ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے اور ایسے بیانات کہ وہ غزہ کے 20 لاکھ لوگوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

  14. ٹرمپ کی شاہ عبداللہ سے ملاقات، حماس سنیچر کے روز اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گی: امریکی صدر کا خدشہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر نہیں چاہتے یا تو یرغمالیوں کو سنیچر کو 12:00 بجے تک رہا کر دیں یا پھر تمام شرطیں ختم ہو جائیں گی‘۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بات منگل کے روز اردن کے شاہ عبداللہ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کہی ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران غزہ اسرائیل جنگ بندی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھیں یقین نہیں ہے کہ حماس سنیچر کے روز اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔

    ’سنیچر کی ڈیڈ لائن ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس روز اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ وہ خود کو سخت جان دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم دیکھ لیں گے کہ ان میں کتنا دم ہے۔‘

    یاد رہے اس سے قبل صدرٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر حماس نے سنیچر کی ڈیڈ لائن تک تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا تو ’جہنم کا قہر ٹوٹ پڑے گا۔‘

    مشرقِ وسطیٰ میں استحکام لانا کوئی مشکل کام نہیں ہے: ٹرمپ

    اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے غزہ کے باشندوں کو ہمسائیہ ممالک (مصر اور اردن) میں بسانے کا منصوبہ دہرایا۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ممالک کے ساتھ ’زبردست پیش رفت‘ ہونے والی ہے، تاہم دونوں ممالک نے ٹرمپ کی تجویز پر تنقید کی ہے۔

    صدرٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر امریکہ کے کنٹرول کے ساتھ ’پہلی بار مشرق وسطیٰ میں استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’فلسطینی یا وہ لوگ جو اس وقت غزہ میں رہتے ہیں وہ کسی اور مقام پر زندگی گزار رہے ہوں گے۔ وہ محفوظ طریقے سے زندگی گزار رہے ہوں گے۔ انھیں قتل نہیں کیا جا رہا ہو گا اور ہر دس سال بعد انھیں اپنے گھروں سے بے دخل نہیں ہونا پڑے گا۔‘

    ’مصر کے منصوبوں کا انتظار کریں‘ شاہ عبداللہ

    صحافیوں کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن کے دوران اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ پر قبضے کی تجویز کے حوالے سے مصر امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منصوبہ پیش کرے گا۔

    ’مصر کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ صدر کے سامنے منصوبہ پیش کریں اور تب تک قیاس آرائیوں سے گریز کرتے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے ملک کا مفاد دیکھیں گے۔

    شاہ عبداللہ نے کہا کہ ’علاقائی رہنما سعودی عرب میں ملاقات کریں گے اور اس حوالے سے بات چیت کریں گے کہ ہم صدر ٹرمپ اور امریکہ کے ساتھ کیسے کام کر سکتے ہیں۔‘

    وائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر قبضے والی بات دہرائی ہے۔

    امریکہ کے ٹیکس دہندگان کے ڈالر اس علاقے کو خریدنے کے لیے استعمال کیے جانے کے سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    انھوں نے کہا ’ہم کچھ خریدنے نہیں جا رہے، خریدنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں، ہم بس اسے حاصل کر لیں گے۔‘ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے مطابق اردن میں پہلے ہی تقریباً 24 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق اردن دنیا میں مہاجرین کو پناہ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

    اردن میں بہت سے عراقی اور شامی مہاجرین بھی موجود ہیں جو سنہ 2000 اور 2010 کے دوران وہاں آئے۔ شاہ عبداللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔

  15. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ کسی کو پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور پارلیمنٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے نتائج روکنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا تھا کہ ’عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ سمیت تمام ستون گر چکے ہیں۔
    • شامی صدر احمد الشراح کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے لیے اخلاقی اور سیاسی طور پر یہ درست نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کی کوشش کی قیادت کریں۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ اسرائیل سیز فائر کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا قبضہ ہی باقی رہ جانے والا سب سے بڑا مسئلہ ہے
    • آئی ایم ایف کے خصوصی وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی جس میں چیف جسٹس نے وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات سے متعلق آگاہ کیا۔ اس حوالے سے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کے لیے ایجنڈا مانگا ہے۔
    • ایلون مسک کی زیرِ قیادت سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کو 97.4 ارب امریکی ڈالرز کے عوض خریدنے کی پیشکش کی ہے۔
    • پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) اور صحافیوں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت میں جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ’اگر اس قانون پر عمل ہو گیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے‘
  16. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردوکے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔