پاکستان میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران انڈین حکومت کے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار پر امریکہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو آپس میں بات کرنی چاہیے۔
انڈیا کی جانب سے سیاسی اختلافات کو کھیل کی راہ میں رکاوٹ بنائے جانے کے سوال پر سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یقینی طور پر ہم ان کے درمیان نہیں آئیں گے لیکن کھیل یقینی طور پر جوڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کے امریکہ سمجھتا ہے کے لوگوں کو جوڑنے کے لیے سپورٹس ڈپلومیسی کافی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ’کھیل بہت سے لوگوں کو جوڑتے ہیں اور یہ ان انسانوں سے انسانوں اور لوگوں سے لوگوں کے تعلقات کے لیے ایک بہترین طریقہ ہے جسے اس انتظامیہ نے واقعی ترجیح دی ہے۔‘
یاد رے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے نو نومبر کی شام پاکستان کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ انڈیا نے پاکستان آ کر چیمیئنز ٹرافی کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی سی سی نے اتوار کو بذریعہ ای میل پی سی بی کو مطلع کیا اور انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے تحریری طور پر آئی سی سی کو آگاہ کیا کہ چیمپیئنز ٹرافی کے لیے ان کی ٹیم پاکستان نہیں آ سکے گی۔
انڈیا نے آخری مرتبہ پاکستان میں کھیلے جانے والے سنہ 2008 کے ایشیا کپ میں شرکت کی تھی۔ انڈیا نے پاکستان میں سنہ 2006 میں آخری مرتبہ سیریز کھیلی تھی جس کے بعد سے پاکستان نے سنہ 2008 اور 2013 میں انڈیا کے دورے تو کیے لیکن انڈیا نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار ہی کیا۔
اس حوالے سے اب پاکستان کی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے اس بارے میں آئندہ چند روز کے دوران صورتحال واضح ہو جائے گی کہ آیا پاکستان ٹورنامنٹ گذشتہ برس کے ایشیا کپ کے طرح ’ہائبرڈ ماڈل‘ پر کھیلے گا یا کسی دوسرے آپشن پر غور کر سکتا ہے۔
پی سی بی نے چیمپیئنز ٹرافی کی میزبانی کے لیے نیشنل سٹیڈیم کراچی اور قذافی سٹیڈیم لاہور کی تعمیر نو کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس حوالے سے اگلے دو ماہ کے اندر کام مکمل ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔
چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان اور انڈیا کے علاوہ، بنگلہ دیش، انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور افغانستان شرکت کریں گے۔
ون ڈے رینکنگز میں پہلی آٹھ پوزیشنز پر نہ آنے کے باعث سری لنکن ٹیم ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ جب سنہ 1996 کے ایشیا میں ہونےوالے ون ڈے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا میں اپنے میچ سکیورٹی وجوہات کے باعث کھیلنے سے انکار کیا تھا تو انھیں ان میچوں کے پوائنٹس گنوانے پڑے تھے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ پر متنازع پابندی اور بد امنی
پریس بریفینگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں پاکستان میں انٹرنیٹ اور سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متنازع پابندیوں اور اب وی پی این کی رجسٹریشن کے حوالے سے امریکہ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان اور دنیا بھر کی حکومتوں سے بات کی جار ہی ہے۔
بلوچستان کے ریلوے سٹیشن پر دھماکے 35 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کہنا تھا کہ ’ہم سختی سے بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کی مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ اس قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے میں ہمارے مشترکہ مفادات ہیں۔ ہم علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔ خود امریکہ نے بی ایل اے کو خصوصی طور پر 2019 میں عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ ہم دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔‘