حماس کے رہنما طاہر النون نے شرم الشیخ میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر پہلو سے تیاری کی ہے۔
یاد رہے کہ مصر شہر شرم الشیخ میں غزہ میں امریکی امن منصوبے کے حوالے سے اسرائیل اور حماس کے نمائندوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات آج بھی جاری رہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ بات چیت کا سلسلہ پیر سے شروع ہوا تھا۔
ان مذاکرات کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس حوالے سے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گزشتہ روز ہونے والے کے مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہ نکل سکا تھا۔
حماس نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’حماس کے وفد نے ایک مثبت اور ذمہ دارانہ رویہ کے ساتھ معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری کوششیں کی ہیں۔‘
حماس کے سیاسی بیورو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مذاکرات میں جنگ کے خاتمے، غزہ کی پٹی سے قابض افواج کے انخلا اور قیدیوں کے تبادلے کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔‘
طاہر النونو نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر حماس کی طرف سے شائع کردہ بیانات میں کہا کہ ’تحریک کے وفد نے مطلوبہ پیشرفت اور معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے ضروری مثبت اور ذمہ دارنہ رویہ برقرار رکھا۔ ثالث جنگ بندی پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق مذاکرات میں جنگ کے خاتمے، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے انخلا اور قیدیوں کے تبادلے کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
طاہر النونو نے کہا کہ ’آج کے دور میں رہا کیے جانے والے قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ، معیار اور تعداد کے مطابق کیا گیا اور تمام فریقین اور ثالثوں کی شرکت سے بالواسطہ بات چیت آج بھی جاری ہے۔‘
بدھ کی صبح ریمارکس میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ انھوں نے شرم الشیخ مذاکرات کے بارے میں ’بہت حوصلہ افزا‘ گفتگو سنی ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مذاکرات کی پیش رفت سے کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معاہدہ طے پانے کی صورت میں دستخط کرنے کے لیے مصرآنے کی دعوت بھی دی ہے۔
دوسری جانب حماس نے اس بات کی ضمانت کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ جنگ کے حتمی خاتمے کا باعث بنے گا۔
واضح ہو کہ مذاکرات کا مقصد غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنا، حماس کے زیر حراست باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے کے تحت دو سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔