آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کُرم میں امدادی قافلے پر فائرنگ: صوبائی حکومت کا شر پسندوں کے خلاف ’بلاتفریق‘ کارروائی کا فیصلہ

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے کرم کے علاقے اوچت، مندوری اور دیگر علاقوں کو شرپسندوں سے پاک کرنے کے لیے سخت کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خلاصہ

  • مریم نواز نے خود پر سیاسی انتقام کے الزام کی تردید کی ہے
  • خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ایک مرتبہ پھر سامان لے جانے والے گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کی گئی ہے جس میں ایک اب تک ایک ڈرائیور کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے
  • پاکستان میں چینی کی قیمت میں گذشتہ دو ہفتوں میں بے تحاشا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں چینی کی ریٹیل قیمت 165 سے 170 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔
  • برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے تحفظ اور امن مذاکرات کے لیے معاہدے کو یقینی بنانے کی غرض سے برطانوی فوجی دستے یوکرین بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یرغمالیوں کی رہائی کے بعد نتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کا شکریہ

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر نے عبرانی زبان میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں تین یرغمالیوں کی واپسی کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت غزہ میں قید افراد کی رہائی کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    بیان میں اس دعوے کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ حماس نے اس ہفتے ’معاہدے کی خلاف ورزی کی کوشش کی‘ اور کہا کہ اس گروپ نے ’جھوٹے دعوؤں کے ساتھ جعلی بحران‘ پیدا کیا۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور اس کے آس پاس اسرائیلی افواج اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’واضح اور دو ٹوک بیان‘ کی بدولت یرغمالیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے۔

    بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جس کا مقصد تمام یرغمالیوں کو جلد از جلد غزہ سے باہر نکالنا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدی وہ ریڈ کراس کی بس میں رام اللہ پہنچ رہے ہیں۔

  2. بریکنگ, حماس نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا

    اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے تحت حماس نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کے بدلے میں اسرائیل 360 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

    حماس کی جانب سے ان تین اسرائیلی یرغمالیوں کے نام گذشتہ روز ہی جاری کر دیے تھے جنھیں آج رہا کر دیا گیا ہے

    ان مغویوں کے نام نام الیگزینڈر ٹروفانوف، یائر ہارن اور ساگوئی ڈیکلچن ہیں۔

    فلسطینی قیدیوں کے انفارمیشن آفس کے مطابق ان تین مغویوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل غزہ کے 333 قیدیوں کے ساتھ عمر قید کی سزا پانے والے 36 فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرے گا جنھیں سات اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

    مغویوں کی رہائی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے ریڈ کراس کی تین گاڑیاں خان یونس پہنچی تھیں۔

    حماس نے ان یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا ہے جس کے بعد ریڈ کراس ان تینوں کو غزہ میں اسرائیلی فوج کے حوالے کرے گی۔ پچھلے ہفتے یرغمالیوں کی حوالگی کے وقت کے برعکس اس بار ہجوم کو دور رکھا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے کہا تھا کہ اگر ان تینوں یرغمالیوں کو بروقت رہا نہیں کیا گیا تو وہ حماس کے ٹھکانوں پر دوبارہ بمباری شروع کر دے گا۔

    اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے یہ انتباہ حماس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا تھا جس میں حماس نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں رہائی کو ملتوی کر رہا ہے۔

  3. افغانستان جا کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کی منصوبہ بندی، افغانستان نژاد برطانوی خاتون مجرم قرار, ول جیفورڈ، بی بی سی نیوز

    برطانیہ میں مقیم فرشتہ جامی نامی ایک افغان خاتون کو دہشت گردی کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے افغانستان میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کی شاخ خراسان (آئی ایس کے پی) میں شمولیت کے لیے سفر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

    لیسٹر کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد جمعرات کو دہشت گردی ایکٹ 2006 کے سیکشن پانچ کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی تیاری کے دو الزامات میں قصوروار پائی گئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق لندن کے علاقے سٹریٹ فورڈ ایون سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ فرشتہ جامی نے افغانستان جانے کے لیے ہوائی جہاز کا یک طرفہ ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے بچائے تھے۔

    الزامات کے تحت فرشتہ جامی کی جانب سے ستمبر 2022 سے جنوری 2024 کے درمیان سوشل میڈیا پر گرافک اور پرتشدد انتہا پسند مواد بھی شیئر کیا گیا۔

    تفتیشی حکام کے مطابق فرشتہ جامی متعدد سوشل میڈیا گروپس کی منتظم تھیں جہاں ان کا کام صارفین کی پوسٹس اور پیغامات کی نگرانی کرنا تھا۔

    ان میں سے بعض گروپس میں 700 سے زائد ممبران تھے اور ان میں مبینہ طور پر انتہا پسندمواد پر مبنی پروپیگنڈا پھیلایا جاتا تھا۔

    اس مواد میں ایسی ویڈیوز بھی شامل تھیں جن میں دھماکہ خیز آلات بنانے کے طریقے سکھاتے تھے تاکہ آئی ایس کے پی کو اپنی وفاداری اور عزم کا یقین دلایا جا سکے۔

    تحقیقات کے مطابق فرشتہ جامی نے اسلحے پر تحقیق کی اور اے کے 47 رائفل کو کھولنے اور جوڑنے سے متعلق معلومات اکٹھی کیں۔اس کے علاوہ انھوں نے افغانستان جانے کے منصوبے کے دوران لگ بھگ 22 مرتبہ پروازوں اور دیگر سفری معلومات کی تلاش کیں۔

    اس مقدمے کے حوالے سے پولیس کے خصوصی آپریشنز کے سربراہ ڈیرن ویبسٹر نے کہا ہے کہ ’یہ ایک پیچیدہ کیس تھا جس میں دہشت گردی اور سنگین نوعیت کے جرائم شامل تھے، اور ہم عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’فرشتہ جامی کے اقدامات سے دنیا کو حقیقی خطرہ تھا اور ممکنہ نقصان کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے تھا۔‘

  4. صدر ٹرمپ کا غزہ کے معاملے پر آج ’سخت موقف‘ دینے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ وہ سنیچر کے روز (آج ) غزہ پر اپنا ’سخت موقف‘ سامنے لائیں گے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ان دنوں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے تجویز پیش کی تھی کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال کر فلسطینیوں کو یہاں سے منتقل کرے اور پھر اس جگہ کو بہتر بنائے۔

    دوسری جانب حماس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر ایک بیان میں تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے نام الیگزینڈر ٹروفانوف، یائر ہارن اور ساگوئی ڈیکلچن ہیں

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے اعلان کیے جانے والے ناموں کی منظوری دے دی ہے اور یہ فہرست ’ہمیں قابل قبول‘ ہے۔

    فلسطینی قیدیوں کے انفارمیشن آفس کے مطابق ان تین مغویوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل غزہ کے 333 قیدیوں کے ساتھ عمر قید کی سزا پانے والے 36 فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرے گا جنھیں سات اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعرات کو سینیئر اسرائیلی سکیورٹی حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں تبادلہ خیال کیا ہے کہ سنیچر کے روز کیا ہو گا۔

    اجلاس میں حماس کی جانب سے معاہدے کے برخلاف جانے اور یرغمالیوں کو ان کے حوالے نہ کرنے کی صورت میں جنگ دوبارہ شروع کرنے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یاد رہے کہ حماس کے سات اکتوبر 2023 کو یرغمال بنائے گئے 251 افراد میں سے 73 اب بھی غزہ میں یرغمال ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق 35 مغوی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  5. امریکہ اور اسرائیل کی دھمکی کے بعد حماس نے سنیچر کے روز رہا ہونے والے یرغمالیوں کے نام جاری کر دیے

    حماس نے سنیچر کے روز رہا کیے جانے والے تین اسرائیلی یرغمالیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔

    حماس کی جانب سے رہا کیے جانے والے ان تین یرغمالیوں میں الیگزینڈر ٹروفانوف، یائر ہارن اور ساگوئی ڈیکلچن شامل ہیں۔

    اسرائیل نے کہا ہے کہ اگر ان تینوں کو بروقت رہا نہیں کیا گیا تو وہ حماس کے ٹھکانوں پر دوبارہ بمباری شروع کر دے گا۔ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے یہ انتباہ حماس کے اس بیان کے بعد سامنے آئی کہ جس میں حماس نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں رہائی کو ملتوی کر رہا ہے۔

    اسی کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر حماس نے غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو سنیچر کی دوپہر تک رہا نہیں کیا تو جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ 19 جنوری کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 566 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 16 اسرائیلی اور پانچ تھائی یرغمالیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

    جنگ بندی کے پہلے چھ ہفتوں کے مرحلے کے دوران، اسرائیل میں تقریباً 1900 فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کے بدلے مجموعی طور پر 33 یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔

    یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اُس وقت شروع ہوئی تھی کہ جب مسلح افراد نے اسرائیل کی سرزمین پر تقریباً 1،200 افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

    حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں 48,230 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    29 سالہ الیگزینڈر ٹروفانوف، 46 سالہ یائر ہارن اور 36 سالہ ساگوئی ڈیکل چن کو غزہ کے کنارے واقع کبوتز نیر اوز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے تناؤ کا شکار ہے اور فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ معاہدے میں پیدا ہونے والے خلل کے بعد امریکہ، مصر اور قطر کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے اب یرغمالیوں کی رہائی کا عمل ایک مرتبہ پھر شروع ہونے جا رہا ہے۔

    یرغمالیوں کی رہائی کے طریقہ کار پر اسرائیل خاص طور پر مشتعل ہے کہ یرغمالیوں کو عوامی سطح پر بندوق برداروں کے ساتھ سٹیج پر ہجوم کے سامنے لانا درست نہیں۔

    دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کے مطابق غزہ میں امدادی سامان کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  6. ’اپنی سرزمین سرحد پار حملوں میں استعمال نہ ہونے دیں‘: پاکستان نے مودی، ٹرمپ مشترکہ اعلامیہ ’گُمراہ کُن‘ قرار دے دیا

    پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیرِ اعظم نرندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان سے متعلق دیے جانے والے حوالے کو یکطرفہ، گمراہ کن اور سفارتی اقدار کے منافی قرار دے دیا ہے۔

    واضح رہے کہ انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر موجود مشترکہ اعلامیے کے مطابق امریکہ اور انڈیا دونوں مُمالک کے رہنماؤں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں میں ملوث مجرموں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین سرحد پار دہشت گرد حملوں کے لئے استعمال نہ ہو۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’اعلامیے میں دیے جانے والے اس طرح کے حوالے اس تلخ حقیقت سے بین الاقوامی توجہ نہیں ہٹا سکتے کہ انڈیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے مرتکب عناصر کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں انڈیا کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل نہ کرنے پر توجہ نہیں دی گئی جو خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے اور نہ ہی اس میں انڈیا کے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیا گیا ہے۔‘

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعہ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’انڈیا کو جدید فوجی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے منصوبے پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔ اس سے خطے میں عدم توازن پیدا ہوسکتا ہے اور استحکام کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ امریکہ انڈیا کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی سمیت لاکھوں ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان فروخت کرے گا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعہ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران امن و استحکام کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے علاقائی اور عالمی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

  7. روسی ڈرون نے چرنوبل جوہری پلانٹ کی تابکاری سے بچاؤ کی حفاظتی شیلڈ کو نشانہ بنایا: یوکرین کا دعویٰ

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایک روسی ڈرون حملے میں چرنوبل جوہری بجلی گھر کے تباہ شدہ ری ایکٹر کے اوپر تابکاری سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے حصے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ رات گئے ہونے والے اس ڈرون حملے کی وجہ سے پلانٹ کے تباہ شدہ چوتھے ری ایکٹر کے اوپر تابکاری سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ اس حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس پر بعد میں قابو پا لیا گیا۔

    تاہم روس کی جانب سے یوکرین میں اس ڈرون حملے سے متعلق تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ جمعے کی صبح تک پلانٹ میں تابکاری کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔

    اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی اہلکاروں اور گاڑیوں نے رات میں حونے والے اس حملے کے چند ہی منٹوں کے اندر اپنی کارروائیاں شروع کر دی تھی۔ ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے میں کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

    دنیا بھر میں جوہری تحفظ پر نظر رکھنے والے ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ چرنوبل کے اندر اور باہر حالات معمول کے مطابق ہیں۔

    زیلنسکی نے ایکس پر فوٹیج پوسٹ کی جس میں کنکریٹ اور سٹیل سے بنی دیوہیکل ڈھال کو نقصان پہنچتا دکھایا گیا ہے۔

    چرنوبل جوہری پلانٹ میں پیش آنے والا خطرناک تاریخی حادثہ

    یوکرین میں یہ وہ مقام ہے جہاں سنہ 1986 میں جوہری تباہی آئی تھی۔

    ایک حادثے کے نتیجے میں اس جوہری پلانٹ سے ریڈیو ایکٹو یعنی تابکار شعاعيں نکل پڑیں تھیں جو یورپ کے بعض علاقوں کی فضا میں پھیل گئی تھیں اور جس کی وجہ سے تھائرائڈ کینسر میں اضافہ دیکھا گیا۔

    اس واقعے کے بعد پلانٹ کے ارد گرد ایک ہزار مربع میل پر پھیلے وسیع علاقے کو الگ تھلگ کر دیا گیا تھا اور اب یہ ایک ممنوعہ علاقہ ہے جہاں کوئی نہیں رہتا۔

    اُس وقت یوکرین کی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس علاقے میں موجود جوہری تابکاری کی وجہ سے لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک اس علاقے میں آباد نہیں ہو سکیں گے۔

  8. بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں بم دھماکہ، 10 مزدور ہلاک چھ زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں بم دھماکے کے ایک واقعے میں کوئلہ کانوں کام کرنے والے کم از کم 10 مزدور ہلاک اورچھ زخمی ہوگئے ہیں۔

    دھماکہ ہرنائی کی تحصیل شاہرگ کے علاقے ٹاکڑی میں پیش آیا۔ اسسٹنٹ کمشنر شاہرگ شہزاد زہری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے سڑک کنارے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد اس وقت پھٹ گیا جب ایک پک اپ گاڑی وہاں سے گزررہی تھی جس کے باعث گاڑی سوار کم ازکم 10 مزدور ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدور تھے۔

    دھماکے کا نشانہ بننے والے مزدور خریداری کرنے بازار جا رہے تھے

    انھوں نے بتایا کہ جمعے کے روز کانوں میں چھٹی ہونے کے باعث کانکن اور مزدور ضروری اشیا کی خریداری کے لیے بازار جاتے ہیں اور دھماکے کا نشانہ بننے والے لوگ خریداری وغیرہ کے سلسلے میں بازار جا رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی افراد کا تعلق خیبر پشتونخوا کے علاقے سوات اور دیگر علاقوں سے ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    وزیر اعلی بلوچستان نے میر سرفراز بگٹی نے تحصیل شاہرگ میں مزدوروں کی گاڑی کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھیں گے۔

    ہرنائی کہاں واقع ہے

    ہرنائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق میں اندازا ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    اس ضلع کی غالب اکثریت مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے تاہم اس کے سرحدی علاقوں میں بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آباد ہیں۔

    شاہرگ سمیت ہرنائی کے دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں کوئلہ کانیں ہیں جن میں ہزاروں کانکن اور مزدور کام کرتے ہیں۔

    کوئلہ کانوں کے علاوہ ہرنائی سبزیوں کے پیداوار کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔ ضلع ہرنائی کی سرحدیں بلوچستان کی شورش سے متاثرہ اضلاع کوہلو اور ضلع کچھی کے علاقے بولان سے بھی لگتی ہیں۔

    بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ہرنائی کے مختلف علاقوں میں بھی بم دھماکوں ، سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت سنگین بدامنی کے دیگر واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اب ہرنائی میں حالات میں پہلے کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔

  9. جنوبی وزیرستان: کسٹم کے دو اہلکاروں سمیت چیمبر آف کامرس کے صدر اغوا، انتظامیہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان لوئر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسٹم کے دو اہلکاروں سمیت وزیرستان چیمبر آف کامرس کے صدر کو اغوا کر لیا ہے جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق ایک روز پہلے پاکستان ہلال احمر کے ایک ڈاکٹر کو بھی لوئر وزیرستان سے اغوا کیا گیا ہے۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق جس وقت اغوا کا واقعہ پیش آیا اس وقت وزیرستان چیمبر آف کامرس کے صدر سیف الرحمان، سپرنٹنڈنٹ کسٹم نثارعباسی اور کسٹم انسپکٹر انگوراڈا میں قائم کسٹم آفس کا دورہ کرکے واپس آ رہے تھے۔

    ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر ناصر خان نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ اور پولیس نے اس بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    لوئرجنوبی وزیرستان سے ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے تاکہ انھیں بحفاظت بازیاب کرایا جا سکے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مغویوں کو گاڑی سمیت اغوا کیا گیا ہے

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تینوں افراد گزشتہ روز انگور اڈا کے دورے پر گئے تھے اور واپسی پر شولام کے مقام پر انھیں اغوا کر لیا گیا ہے۔

    ایک روز پہلے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سے منسلک ایک ڈاکٹر نعمان کو لوئر وزیرستان کی تحصیل برمل سے اغوا کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر نعمان نے پاکستان ہلال احمر کے زیراہتمام شریف خان بنیادی صحت مرکز میں ایک میڈیکل کیمپ تشکیل دیا تھا۔

    مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ مسلح افراد اس مرکز میں داخل ہوئے اور وہاں موجود لوگوں سے فون لیے اور ڈاکٹر نعمان کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے۔

    ڈپٹی کمشنر وزیرستان لوئر ناصر خان نے کہا ہے کہ مسلح افراد ڈاکٹر نعمان کو اغوا کرکے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے ہیں اور اس وقت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہے کن لوگوں نے انھیں اغوا کیا ہے اور نا ہی اب تک کسی نے اس کی زمہ داری قبول کی ہے۔

    اس علاقے میں مقامی لوگوں کے مطابق کالعدم تنظیم کے چھوٹے چھوٹے گروہ متحرک ہیں ۔ متحدہ سیاسی امن پاسون کے رہنماؤں نے ایک بیان میں اغوا کے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکام سے اپیل کی ہے کہ مغویوں کو دو دن کے اندر بازیاب کرایا جائے بصورت دیگر پھراحتجاج کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

    گزشتہ ایک ماہ میں دو درجن سے زیادہ افراد کو اغوا کیا جا چکا ہے۔

    لکی مروت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ایک منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین کو ایک ماہ ہونے کو ہے لیکن اب تک انھیں بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔

    گزشتہ روز لکی مروت میں ایک جرگہ میں مقامی رہنماؤں اور عمائدین نے طالبان سے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ مغویوں کو تین دن کے اندر رہا کر دیا جائے ورنہ لکی مروت سے ساری قوم ان کے خلاف نکلے گی۔

    اس کے علاوہ حکومت اور سکیورٹی اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بے گناہ لوگ ان کی حراست میں ہیں تو انھیں رہا کیا جائے۔

  10. سپریم کورٹ کے سات ججز نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا: ’کچھ غلط نہیں کیا تو ریفرنس کا ڈر کیسا،‘ جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا ہے کہ ان کا کسی سے کوئی ذاتی عناد یا اختلاف نہیں ہے۔ ان کے مطابق جب کچھ غلط کیا ہی نہیں توریفرنس کا ڈر کیوں ہو گا۔

    سپریم کورٹ میں چھ مستقل اور ایک قائم مقام جج کی تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’کسی سے کوئی ذاتی عناد یا اختلاف نہیں۔‘

    ایک صحافی نے سوال کیا کہ ’سنا ہے آپ کے خلاف ریفرنس آرہا ہے‘۔

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’ریفرنس جب آئے گا تب دیکھی جائے گی، کچھ غلط کیا ہی نہیں تو ریفرنس کا ڈر کیوں ہونا، اللہ مالک ہے۔‘

    یاد رہے کہ دو روز قبل وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اینکر شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز کا بعض معاملات میں طرز عمل ایسا ہے کہ ریفرنس بنایا جاسکتا ہے۔

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’سینیئر ججز کے خلاف ریفرنس کی بات میں کوئی دھمکی نہیں ہے۔ یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے۔ بیچ میں صرف ایک دیوار ہے پھر بھی خطوط لکھتے ہیں۔ ججز کے ایک ہی عمارت میں ساتھ ساتھ دفاتر ہیں۔ چیف جسٹس اور خط لکھنے والے ججز ایک ساتھ پریکٹس کرتے رہے ہیں۔‘

    جمعے کے روز جسٹس منصور علی شاہ نے صحافیوں کے پوچھے گئے اسی سے متعلق جواب میں کہا کہ ’کمرے میں موجود ہاتھی کسی کو نظر نہ آئے تو کیا کہہ سکتے ہیں۔‘

    ایک صحافی نے منصور علی شاہ سے سوال کیا کہ ’کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ کام نہیں کرتے؟‘

    اس کے جواب میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مقدمات نمٹانے کی شرح دیکھ لیں، کس کے کتنے فیصلے قانون کی کتابوں میں شائع ہوئے سب سامنے ہے، تمام ریکارڈ سپریم کورٹ کی ویب سایٹ پر موجود ہے۔

    پھر انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ابھی تو حلف برداری کے بعد چائے پینے آیا ہوں۔‘

    اس گفتگو سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان کے چھ مستقل اور ایک قائم مقام جج نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والے سات نئے ججز سے حلف لیا۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ دنوں جسٹس عامر فاروق، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس شکیل احمد، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس صلاح الدین پنہور کو مستقل جج مقرر کیا گیا تھا، جنھوں نے آج اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔

    اس کے علاوہ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے بطور قائم مقام سپریم کورٹ جج حلف اٹھایا۔

  11. امریکہ کی ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ طہور رانا کو انڈیا کے حوالے کرنے پر آمادگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ 26 نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ طہور رانا کو انڈیا کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    جمعرات کے روز امریکہ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ممبئی پر دہشت گردانہ حملے میں ملوث طہور رانا کو انڈیا میں انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یاد رہے کہ پاکستانی نژاد کینیڈین شہری طہور رانا اس وقت امریکہ کی جیل میں قید ہیں اور انڈیا کافی عرصے سے طہور رانا کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل شکاگو کی ایک عدالت نے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں انڈین حکومت کو مطلوب تاجر طہور رانا کو انڈیا کے حوالے کرنے کی منظوری دی تھی تاہم امریکہ کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد کینیڈین تاجر طہور رانا کی شکاگو کی عدالت کی جانب سے انڈیا حوالگی کے خلاف دائر درخواست مئی 2023 میں مسترد کر دی تھی۔

    عدالت نے کہا تھا کہ رانا اس وقت تک امریکہ کی حراست میں ہی رہیں گے جب تک امریکی وزارتِ خارجہ اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی۔

    واضح رہے کہ نومبر 2008 میں انڈیا کے شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان کے لیے عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ 2011 میں شکاگو کی وفاقی عدالت کے ججوں نے طہور رانا کو لشکر طیبہ کی مدد کرنے کا مجرم قرار دیا تھا لیکن انھیں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی اور ان میں براہ راست ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔

    ان جرائم پر انھیں 2013 میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    2020 میں طہور رانا کو کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہمدردی کی بنیاد پر امریکی جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن انڈیا کی جانب سے حوالگی کی درخواست کے بعد انھیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

    پاکستان میں پیدا ہونے والے طہور حسین رانا نے پاکستانی فوج کی میڈیکل کور میں شمولیت اختیار کی۔ وہ اور ان کی اہلیہ 1997 میں کینیڈا چلے گئے تھے۔

    2009 میں اپنی گرفتاری سے چند سال قبل طہور رانا نے امریکی شہر شکاگو میں امیگریشن اور ٹریول ایجنسی کھولی اور اس کے ساتھ کچھ اور کاروبار بھی شروع کر دیا تھا۔

    میڈیکل کے ڈگری یافتہ پاکستانی نژاد کینیڈین شہری طہور حسین رانا کون ہیں

    طہور حسین رانا اور ان کی اہلیہ، جو خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں 2001 میں امیگریشن لینے کے بعد کینیڈا کے شہری بن گئے تھے۔

    سنہ 2009 میں گرفتاری سے قبل رانا شکاگو میں رہتے تھے اور امیگریشن اور ٹریول ایجنسی سمیت کئی کاروبار چلاتے تھے۔

    طہور رانا پر 12 الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں امریکی شہریوں کو قتل کرنے میں مدد کرنا بھی شامل تھا۔ ان پر ہیڈلی کو کور فراہم کرنے اور اپنے سابق دوست اور ’میجر اقبال‘ نامی شخص کے درمیان پیغامات بھیجنے کا بھی الزام ہے، جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی کا حصہ ہیں۔

    طہور رانا کو لشکر طیبہ کو مادی مدد فراہم کرنے اور ڈنمارک کے ایک اخبار کے خلاف ناکام سازش میں کردار ادا کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا لیکن پاکستانی نژاد کینیڈین شہری کو ممبئی حملوں میں براہ راست ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا، جس میں چھ امریکیوں سمیت 160 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکہ میں تہور رانا کو 2013 میں اپنے دوست ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے ساتھ ممبئی حملوں اور ڈنمارک میں حملے کی منصوبہ بندی کے لیے مجرم قرار دیا گیا تھا۔ ان مقدمات میں طہور حسین رانا کو امریکی عدالت نے 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

  12. امریکہ انڈیا کو ایف 35 لڑاکا طیارے، لاکھوں ڈالر مالیت کا فوجی ساز و سامان اور تیل اور گیس برآمد کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ, جیوڈ شیریں اور جیروسلیو لوکیو، نامہ نگار بی بی سی نیوز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ امریکہ انڈیا کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی سمیت لاکھوں ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان فروخت کرے گا۔

    انڈیا کے ساتھ انرجی سیکٹر میں ہونے والے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ انڈیا امریکہ سے مزید تیل اور گیس برآمد کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ بڑی مقدار میں ہم سے تیل اور گیس خریدنے جا رہے ہیں۔ انھیں اس کی ضرورت ہے اور ہمارے پاس یہ موجود ہے۔‘

    تیل اور گیس کی تجارت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں: انڈین وزیر اعظم

    اس موقع پر انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’انڈیا کی انرجی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہم تیل اور گیس کی تجارت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے جوہری توانائی میں مزید سرمایہ کاری کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

    یاد رہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم کا امریکہ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیکسزسے متعلق حکم نامہ جاری ہو چکا ہے۔

    تجارتی امور پر اختلافات کے باوجود ٹرمپ اور مودی کے درمیان حالیہ برسوں میں ذاتی سطح پر اچھے تعلقات بھی رہے ہیں۔ امریکی صدر نے ان خوشگوار تعلقات کا حوالہ جمعرات کے روز انڈین وزیراعظم کے استقبال کے دوران بھی کیا اور کہا کہ ’ہمارا تعلق شاندار رہا ہے۔‘

    انڈین وزیر اعظم کے دو روزہ سرکاری دورے کے موقع پر امریکہ اور انڈیا کے درمیان امیگریشن بھی اہم موضوع رہا اور توقع کی جا رہی تھی کہ ٹرمپ انڈیا سے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے کا مطالبہ کریں گے۔

    اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ کے اتحادی ایلون مسک کے ساتھ ملاقات میں خلائی تحقیق، ٹیکنالوجی اور اختراعات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

    نریندرمودی نے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ ہم ان کی پہلی مدت کے مقابلے میں دگنا تیز رفتار سے کام کریں گے۔‘

    اس دوطرفہ ملاقات سے کچھ دیر قبل ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ہدایات دیں تھیں کہ وہ دنیا بھر میں امریکہ کے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ نئے محصولات کا حساب لگائیں۔

    ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ یہ محصولات یکم اپریل سے نافذ ہو سکتے ہیں۔

  13. ڈاکٹر شاہنواز قتل: ’پولیس افسران تحریکِ لبیک کے رہنما سے رابطے میں تھے اور سیاست دانوں سے مدد لینے کی کوشش کرتے رہے‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار اور بعد میں پولیس مقابلے میں مارے جانے والے ڈاکٹر شاہنواز کنبہار کے کیس کا حتمی چالان ایف آئی اے نے پیش کر دیا ہے۔

    انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میرپور خاص میں ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے چالان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس افسران اور اہلکار تحریکِ لبیک کے رہنما پیر عمر جان سرہندی سے مسلسل رابطے میں تھے، اس کے علاوہ پولیس افسران تفتیشی ٹیم پر اثر انداز ہونے کے لیے سیاسی شخصیات سے بھی مدد کی کوشش کرتے رہے۔

    ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’کھپرو میرپور خاص روڈ پر سبزل کا علاقہ جس کو جائے وقوعہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ شاہنواز کے ساتھ یہاں مقابلہ ہوا تھا۔ اس جگہ سی آئی اے اور سندھڑی تھانے کی دو پولیس موبائلیں (گاڑیاں) 19 نومبر کی شب بارہ بج کر پچیس منٹ پر پہنچی ہیں اور انجن بند کیا گیا ایک منٹ کے بعد انجن سٹارٹ ہوا اور اگلے لمحے دونوں موبائلیں سندھڑی کی طرف روانہ ہو گئیں۔

    ’ان میں سے سندھڑی پولیس کے موبائل بارہ بج کر اڑتالیس منٹ پر پہنچی ہے جبکہ سی آئی اے کی موبائل ایک بج کر اٹھارہ منٹ پر شاہنواز کی لاش سمیت سول ہسپتال میرپور خاص پہنچی۔‘

    تفتشیی ٹیم کے مطابق وقوعہ کے وقت ایس ایس پی اسد چوہدری سی آئی اے سینٹر پر موجود تھا۔ وہ ایک مشکوک فون نمبر کے ساتھ بھی رابطے میں تھے، اس کے علاوہ وہ سی آئی اے ٹیم کے اہلکار محمد اقبال سے بھی رابطے میں تھے جس کے فون کی لوکیشن پیر عمر جان کے ساتھ تھی۔

    ایف آئی اے کے حتمی چالان سے پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر کنبہار کو گرفتار کرنے والی ٹیم میں شامل پولیس کانسٹیبل معشوق پیر عمر جان کی ٹیم سے رابطے میں تھا۔

    ایف آئی اے کے چلان کے مطابق ’ایف آئی اے نے عمر جان کی موبائل کا فارنزک کیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 18 نومبر کو اس نے ایس ایس پی عمرکوٹ آصف رضا سے رابطہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر شاہنواز کی کراچی سے گرفتاری کی خبر شیئر کی تھی، پیر عمر جان نے ایف آئی اے کو اپنی دو ویڈیوز پیش کی ہیں جس میں ڈاکٹر شاہنواز کے بارے میں ان کا مؤقف تھا اور پندرہ تصاویر بھی۔

    ایف آئی اے کے مطابق دو تصاویر میں جعلسازی کی گئی ہے تاہم اس چالان میں ان تصاویر کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

    ایف آئی اے کے چالان میں بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی جاوید سونھارو جسکانی وقوعہ کے وقت اپنے دفتر/رہائش گاہ میں موجود تھے اور ان کا صرف ایس ایس پی اسد چوہدری سے رابطہ تھا جبکہ ایس ایس پی آصف رضا اور عمر جان سے موبائل فون کے ذریعے رابطے کے ثبوت نہیں ملے تاہم پی ٹی سی ایل نمبر کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    چلان کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد ملزمان میں ایک 15 لاکھ کی رقم کی مشکوک منتقلی پر بھی بات چیت کے ثبوت ملے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ رقم کس کو اور کیوں دینی تھی۔

    انسپیکٹر عنایت کو ایس ایس پی اسد چوہدری کا میسیج وصول ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ڈی آئی جی صاحب نے پانچ لاکھ بھیجے ہیں، ایک دوسرے پیغام میں وہ چوہدری اسد عنایت کو کہتے ہیں کہ ’میں آج رات پانچ لاکھ بھیج دوں گا میں نے شبیر جسکانی ( ڈی آئی جی جاوید جسکانی کے بھائی) کو کہا ہے کہ ’وہ پانچ لاکھ بھیجے گا اس نے کہا ہے ٹوٹل پندرہ لاکھ۔ وہ کال کرے گا۔‘

    چالان میں پیش کیے گئے انسپیکٹر عنایت زرداری کے موبائل ریکارڈ کے مطابق ایس ایس پی چوہدری اسد نے عنایت زرداری کو میسیج فارورڈ کیا جس میں لکھا ہے کہ ڈی آئی جی جاوید جسکانی کا میسیج ہے اس میسیج میں لکھا ہے کہ ’عنایت کو کہو بڑے صاحب سے سردار شاہ کو ایک فون کروائے۔‘

    یاد رہے کہ صوبائی وزیر سردار شاہ نے سندھ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے پہلی بار اس مقابلے پر شک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

    ایس ایس پی چوہدری نے ایک اور میسیج فارورڈ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’عنایت کو کہو کہ ادی سے ہوم منسٹر کو کال کروا دے۔ میں نے ان کو میسیج کیا ہے پر میرا میسیج شاید اتنے کام کا نہ ہو۔‘

    ایف آئی اے کے حتمی چالان میں تحریک لبیک کے رہنما پیر عمر جان سرہندی، ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی آصف رضا، ایس ایس پی اسد علی چوہدری، عنایت علی زرداری، ہدایت اللہ، ندار پرویز، غلام قادر، نیاز محمد کھوسو، دانش بھٹی سمیت 23 ملزمان کے خلاف ٹرائل کی گزارش کی گئی ہے۔

  14. حماس کا غزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان

    حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ غزہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور طے شدہ وقت کے اندر یرغمالیوں کی رہائی جاری رکھے گی۔

    قاہرہ میں مذاکرات کے بعد حماس نے کہا کہ مصر اور قطر کے ثالثوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔

    مصر اور قطر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ثالثوں نے فریقین کے درمیان خلا کو کم کر دیا ہے اور دونوں اس پر عمل درآمد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    تاحال اسرائیل کی جانب سے حماس کی جانب سے جاری اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم منگل کے روز اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اگر حماس نے سنیچر کے روز یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا تو جنگ بندی ختم ہو جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل حماس نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں پر رہائی ملتوی کر رہی ہے۔

    حماس نے کہا تھا کہ اسرائیل خیمہ بستیوں اور پناہ گاہوں سمیت اہم انسانی امداد کی طے شدہ مقدار کی اجازت نہیں دے رہا تاہم اس بات سے اسرائیلی انتظامیہ انکار کرتی ہے۔

    حماس کی جانب سے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ اس معاہدے کو منسوخ کر دے اور اگر سنیچر تک ’تمام یرغمالیوں‘ کو حماس کی جانب سے رہا نہیں کیا جاتا اور اُن کی واپسی مُمکن نہیں ہوتی تو حماس کی خلاف دوبارہ جنگ کا آغاز کر دیا جائے۔

  15. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی اردو کی آج تازہ کی خبروں سے آگاہ کرنے سے قبل ہم آپ کو گزشتہ روز کی اہم خبروں کے چیدہ چیدہ نکات سے آگاہ کرتے چلیں۔

    • پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ انھیں سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کوئی خط موصول نہیں ہوا ہے اور اگر ایسا کوئی خط ان کے نام آیا بھی تو وہ اسے وزیراعظم شہباز شریف کو بھیج دیں گے۔
    • پاکستان اور ترکی کے درمیان متعدد نئے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر جمعرات کے روز وفاقی دارلحکومت میں دستخط ہوئے۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اُمید ہے صدر رجب طیب اردوغان کا دورہ پاکستان کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
    • یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین ’کسی بھی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا‘ جو ملک کی شمولیت کے بغیر کیے جائیں گے۔
    • انڈیا اور فرانس نے مشترکہ طور پر موڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹرز بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ نریندر مودی اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا تھا کہ ’توانائی کی سکیورٹی‘ اور ’کاربن کا کم اخراج کرنے والی معیشت‘ کے قیام کے لیے جوہری توانائی پر کام کرنے ضرورت ہے۔
    • خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پولیس کے مطابق مبینہ طور پر ناراض بیوی کو منانے میں ناکامی کے بعد شوہر نے اپنے ہی چار کم عمر بچوں کو مارنے کے بعد خودکشی کر لی ہے۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو خط لکھ کر اس سے 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
  16. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    ہماری لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم یہاں پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کو آپ کے لیے پیش کرتے ہیں تاہم اگر آپ 13 فروری کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔