آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

غزہ پر حملے حد سے تجاوز کر گئے، امداد تقسیم کرنے کے نئے اسرائیلی اور امریکی ماڈل کی حمایت نہیں کر سکتے: یورپی یونین

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کیلس نے کہا ہے کہ ’غزہ میں اسرائیلی حملے حماس سے لڑنے کے لیے ضروری حد سے بڑھ گئے ہیں‘ کیونکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین نے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ امداد کی تقسیم کے نئے ماڈل کی حمایت نہیں کی جو اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیموں کو نظر انداز کر کے کی جا رہی ہے۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی اور آذر بائیجان کی پاکستان کے لیے حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا نے پہلگام واقعے کی آڑ میں جارحیت کا راستہ اختیار کیا۔
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر اور آذر بائیجان کے وزیر دفاع کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں علاقائی سلامتی اور دو طرفہ تعلقات کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
  • انڈیا کے نوجوان نفرت کی سیاست کو مسترد کریں: انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کا ردِعمل
  • جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں 23 افراد زخمی

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں سونے کی قیمت 3,600 روپے فی تولہ کمی کے بعد 347900 روپے ہو گی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں منگل کے روز مقامی مارکیٹ میں بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کے باعث سونے کی قیمت میں 3,600 روپے فی تولہ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت کم ہو کر 3,47,900 روپے ہو گئی ہے۔

    اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 3,086 روپے کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 2,98,268 روپے ہو گئی ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 36 ڈالر کی کمی آئی، اور یہ 3,295 ڈالر فی اونس پر آ گئی۔ مقامی سونے کی قیمتیں عموماً بین الاقوامی قیمتوں پر 20 ڈالر کے پریمیم کے ساتھ طے کی جاتی ہیں۔

    چاندی کی قیمت میں بھی 60 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد فی تولہ چاندی کی قیمت 3,448 روپے ہو گئی۔ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 52 روپے کمی کے بعد 2,956 روپے ہو گئی۔

  2. مقبوضہ مغربی کنارے میں منی ایکسچینج کے دفاتر پر اسرائیلی فورسز کے چھاپے اور گرفتاریاں

    اسرائیلی حکام نے منی ایکسچینج کے دفاتر کے خلاف منگل کو بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کر دیا ہے جس کا مقصد رقوم کی منتقلی کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔ ان حکام کا کہنا ہے کہ ایران اس سہولت کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ’دہشت گرد‘ تنظیموں کی حمایت کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    اسرائیلی فورسز نے آج صبح الخلیج اور فخرالدین کی تین منی ایکسچینج کی دکانوں پر چھاپہ مارا جو نابلس اسٹریٹ اور وسطی تلکرم میں اولڈ گیراج اسٹریٹ پر واقع ہے، ایک نوجوان اور دو لڑکیوں کو گرفتار کر لیا۔

    یہ مغربی کنارے کے کئی شہروں میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں گلف ایکسچینج کے دفاتر، کمرشل سٹورز اور جیولری سٹورز پر چھاپے شامل ہیں۔

    ان کارروائیوں میں متعدد ملازمین کی گرفتاری اور رقم کی ضبطی شامل تھی۔

    اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ کے مطابق یہ اقدام غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ’دہشت گردوں کی مالی معاونت‘ کو محدود کرنے کی شدید اسرائیلی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    اسرائیلی اخبار نے عسکری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہم میں حصہ لینے والی فورسز میں جنرل سکیورٹی سروس کی نگرانی میں یہودیہ اور سامریہ ڈویژن (مغربی کنارے)، پولیس، بارڈر گارڈ اور سول انتظامیہ کے اہلکار شامل ہیں۔

    اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے بڑے شہروں، ہیبرون سے لے کر جینن تک چھاپے مارے، مبینہ مشتبہ افراد کے ایک گروپ کو گرفتار کیا اور شاپنگ مالز کے اندر موجود منی ایکسچینج کے دفاتر سے بڑی رقم ضبط کی۔

    اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیل نے آپریشن کے دوران سات ملین شیکل (دو ملین ڈالر) سے زائد رقم ضبط کی، جبکہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ضبط کی گئی کل رقم 28 ملین شیکل یعنی سات ملین ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔

    اسرائیل ہیوم نے رپورٹ کیا کہ ایران کئی سالوں سے ان تنظیموں کو فنڈز منتقل کر رہا ہے جنھیں اسرائیل دہشت گرد قرار دیتا ہے، اور اس نے حال ہی میں خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

    اخبار نے مزید کہا کہ حالیہ اسرائیلی سکیورٹی آپریشنز ان نیٹ ورکس کو نمایاں طور پر کمزور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    امریکی اور بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ

    سیاسی محاذ پر، فلسطینی وزارت خارجہ اور تارکین وطن نے منگل کے روز فوری طور پر امریکی اور بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

    وزارت نے ایک بیان میں واضح کیا کہ وہ جاری فوجی کارروائیوں اور شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی روشنی میں تمام ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    بیان میں الجرجاوی سکول کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیا گیا، جو غزہ میں بے گھر افراد کی پناہ گاہ تھی۔

    وزارت نے کہا کہ ان اسرائیلی طرز عمل کا مقصد فلسطینی شہریوں کے خلاف ’بڑھتی ہوئی جارحیت‘ کا جواز پیش کرنا ہے۔

    جیریکو میں عام ہڑتال

    مقبوضہ مغربی کنارے کے جیریکو میں فتح تحریک نے منگل کی صبح اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان فلسطینی کے سوگ میں عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

    طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 19 سالہ حمدا یحییٰ آسی جلیتہ منگل کی صبح جیریکو شہر پر اسرائیلی فوج کے چھاپے کے دوران شدید زخمی ہونے کی وجہ سے دم توڑ گئے ہیں۔

    نابلس میں، فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے اطلاع دی ہے کہ شہر پر چھاپے کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے گردن میں گولی لگنے سے ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔

    فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں نو فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

  3. آندھی اور تیز بارشوں سے خیبر پختونخوا میں نقصانات کی اطلاعات, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    تیز آندھی اور بارش سے خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت متعدد علاقوں سے نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    پشاور کے علاقے متنی میں ایک عارضی ہوٹل (ڈھابے) کی چھت گر گئی ہے۔ پشاور میں بارش، طوفان اور تیز ہوا سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں گرڈ سٹیشن اور حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ حیات آباد گرڈ سٹیشن میں بجلی کی دو بڑے ہول گر گئے ہیں اور دیگر انفرا سٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔

    پیسکو کے ایک اہلکار نے بتایا کہ قریب واقع انڈسٹری کی لوہے کی چھت گری ہے جس سے نقصان ہوا ہے۔ اس وقت مقامی اور دیگر علاقوں سے عملہ طلب کریا گیا ہے تاکہ بجلی بحال کی جا سکے۔ اس کے علاوہ ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق نوشہرہ میں ایک اور صوابی سے دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے 27 مئی یعنی آج سے خیبر پختونخوا سمیت ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید بارش، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی تھی۔

    اس ہدایت کی روشنی میں پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے مراسلہ جاری کیا تھا۔

    یاد رہے یہ سلسلہ 27 مئی سے 31 مئی تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔ آج ہونے والی تیز آندھی، بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے پشاور، مردان، خیبر، صوابی، سوات، ایبٹ آباد، ہری پور اور دیگر بالائی علاقے متاثر ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق کوئی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ تیز بارش اور آندھی کے باعث فصلوں کو کافی نقصان پہنچا۔ مردان اور آس پاس کے علاقوں میں گندم، سبزیاں اور پھلوں کی فصلیں ژالہ باری سے شدید متاثر ہوئیں۔

    اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا جس میں 113 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تیز ہواؤں اور ژالہ باری سے سڑکیں، درخت اور دیگر ڈھانچے متاثر ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی حکام کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع اور رہنمائی کے لیے 1700 پر رابطہ کریں.

  4. بارش سے شاہراہ قراقرم پر متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، ٹریفک معطل, محمد زبیر خان، صحافی

    شاہراہِ قراقرم پر کوہستان لوئر کے مقام پر طوفانی بارشوں کے باعث کھیدر نالہ، نالہ جیجال بازار اور آبشار نالہ کے مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

    انتظامیہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ راولپنڈی سے آنے والے مسافر اور ٹرانسپورٹ بشام میں رُکیں۔ اسی طرح گلگت سے راولپنڈی جانے والے مسافر کوہستان اپر میں کسی محفوظ مقام پر سڑک کھلنے کا انتظار کریں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہستان لوئر تیمور خان نے تمام پٹرولنگ پولیس پوسٹوں اور تھانوں کو ہائی الرٹ رہنے سے متعلق یہ ہدایت جاری کی ہیں:

    لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کوہستان لوئر میں پھنسے ہوئے مسافروں اور سیاحوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔

    محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔ ڈرائیور حضرات سے خصوصی گزارش: سڑک کی حالت شدید بارشوں کی وجہ سے نہایت خطرناک ہے۔

    محتاط ڈرائیونگ کریں تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، اوورٹیکنگ اور موبائل فون کے استعمال سے پرہیز کریں.

  5. مظفر آباد میں بادل پھٹنے سے ماں بیٹی سمیت تین خواتین ہلاک، ایک شخص لاپتہ, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بلگراں میں کلاؤڈ برسٹ یعنی بادل پھٹنے سے تین خواتین ہلاک ہو چکی ہیں۔ ہلاک ہونے والی خواتین میں میں 75 سالہ زیور جان اور ان کی 35 برس کی بیٹی شرینا بی بی اور 27 برس کی گوری بی بی شامل ہیں۔

    سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے بلگراں کلاوڈ برسٹ سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بلگراں میں کلاؤڈ برسٹ سے جہاں تین خواتین ہلاک ہوئی ہیں وہیں گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    طوفان اور تیز بارش کے بعد اس علاقے سے جلال دین نامی شخص ابھی تک لاپتہ ہیں۔

    ضلع مظفرآباد تحصیل پٹہکہ کے گاؤں بلگراں میں کلاؤڈ برسٹ سے نقصانات کی اطلاعات موصوصول ہوئی ہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق 15 سے زائد مویشی نالہ میں بہہ گئے ہیں۔

    بلگراں کے رہائشی حاجی قدیر نے کہا ہے کہ اس وقت ریسکو اپریشن جاری ہے، آرمی کے نوجوان بھی حصہ لے رہے تاہم ابھی تک اس جگہ مشینری نہیں پہنچ سکی جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کوٹلی ناصر رفیق کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں بھی طوفانی بارش کے دوران مختلف مقامات پر چھ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

    کمشنر آفس سے جاری ہونے والی ایڈوائزری کے مطابق مظفرآباد ڈویژن کے مختلف علاقوں میں اس وقت شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے۔

    ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مختلف علاقوں سے کلاؤڈ برسٹ کی بھی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ اس وقت بارش کا سلسلہ جاری ہے، عوام غیرضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں۔ ہر قسم کے غیر ضروری سفر سے اجتناب کیا جائے۔

  6. پاکستان کے ساتھ جاری تناؤ کے دوران انڈیا میں سٹیلتھ جنگی طیاروں کا پروگرام منظور

    انڈیا کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ملک میں جدید سٹیلتھ جنگی طیارے بنانے کا ایک پروگرام منظور کیا ہے۔

    یہ پروگرام انڈیا کے سرکاری ادارے ایروناٹیکل ڈیویلپمنٹ ایجنسی کو سونپا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق دفاعی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگی طیاروں کے پروٹوٹائپ بنانے میں دلچسپی ظاہر کریں۔ اس میں دو انجن والا ففتھ جنریشن جنگی طیارہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    یہ پروگرام انڈین ایئر فورس کے لیے ضروری ہے جس کے سکواڈرن میں فی الحال اکثر روسی یا سابقہ سوویت طیارے ہیں جن کی تعداد اب 31 رہ گئی ہے۔ دوسری طرف چین تیزی سے اپنی ایئر فورس کو وسعت دے رہا ہے۔ پاکستان کے پاس چین کا جدید جے 10 طیارہ ہے۔

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں دونوں اطراف سے جنگی طیاروں، میزائل، ڈرون اور گولہ باری کا استعمال دیکھا گیا جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔

    انڈیا کی وزارت دفاع کے مطابق سٹیلتھ فائٹر طیارے کے پروگرام میں کسی مقامی کمپنی کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا۔ کمپنیاں اس حوالے سے آزادانہ طور پر یا مشترکہ طور پر دلچسپی ظاہر کر سکتی ہیں۔ یہ پروگرام نجی و سرکاری دونوں طرح کی کمپنیوں کے لیے دستیاب ہوگا۔

    مارچ میں انڈیا کی ڈیفنس کمیٹی نے سرکاری ادارے ہندوستان ایروناٹکس پر بوجھ کم کرنے اور انڈین ایئر فورس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کسی نجی شعبے کے ساتھ مل کر فوجی طیارے بنانے کی تجویز دی تھی۔ یہ کمپنی فی الحال انڈیا کے لیے اکثر فوجی طیارے بناتی ہے۔

    ایئر چیف مارشل امیر پریت سنگھ نے ہندوسرتان ایروناٹکس پر تنقید کی تھی کہ اس نے 4.5 جنریشن کے تیجاس طیاروں کی ڈیلیوری میں تاخیر کی ہے۔ امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک کو سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے انجن کی منتقلی میں تاخیر ہوئی تھی۔

  7. ’غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن‘: امریکی حمایت یافتہ متنازع گروہ کا غزہ میں امداد کی تقسیم کا دعویٰ

    ایک نئے اور متنازع امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں امداد فراہم کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

    ’دی غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن‘ نامی اس گروہ کا کہنا ہے کہ خوراک سے بھرے ٹرک غزہ میں محفوظ مقامات تک پہنچا دیے گئے ہیں اور لوگوں میں راشن کی تقسیم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    تاہم اس تنظیم کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کہاں اور کتنے افراد میں امداد تقسیم کی گئی ہے۔

    یہ تنظیم، جو مسلح امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز کا استعمال کرتی ہے، کا مقصد غزہ میں 2.1 ملین فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے والے اہم فراہم کنندہ کے طور پر اقوام متحدہ کو نظر انداز کرنا ہے۔ جہاں ماہرین 11 ہفتوں تک جاری رہنے والی اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد قحط کے خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ اور بہت سے امدادی گروہوں نے جی ایچ ایف نامی اس تنظیم کے منصوبوں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق سے متصادم ہیں اور ’ہتھیاروں کے سائے میں امداد‘ فراہم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کو امداد چوری کرنے سے روکنے کے لیے ایک نئے نظام کی ضرورت ہے، جبکہ اس تنظیم نے ایسا کچھ کرنے کی تردید کی ہے۔

    پیر کی رات صحافیوں کی جاری ایک بیان میں اس تنظیم کا کہنا تھا کہ اس نے ’غزہ میں امدادی آپریشن شروع کر دیا ہے اور خوراک سے بھرے ٹرکوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیا گیا ہے جہاں سے غزہ کے لوگوں کو راشن کی تقسیم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔‘

    اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’منگل کو بھی مزید ٹرک خوراک لے کر پہنچیں گے اور یہ امداد روزانہ بڑھتی جائے گی۔‘

    اس تنظیم کی جانب سے جاری تصاویر میں صرف درجن بھر افراد ایک نامعلوم مقام سے ڈبے لے جاتے نظر آتے ہیں۔

    بی بی سی نے جی ایچ ایف سے پوچھا ہے کہ امداد کے کتنے ٹرک پہنچے اور کتنے لوگ امداد لینے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔

  8. بلوچستان کے ضلع نوشکی میں فائرنگ سے انسدادِ پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک, روحان احمد، بی بی سی اردو

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسدادِ پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے تصدیق کی ہے کہ نوشکی میں انسداد پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور ٹیم پر فائرنگ ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں وحید احمد نامی پولیس اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کا تعلق ضلع نوشکی کے علاقے جمال آباد سے تھا۔

    ترجمان کے مطابق ’یہ حملہ قومی مہم کو ثبوتاژ کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی سازش ہے۔‘

    شاہد رند کے مطابق صوبائی حکومت انسداد پولیو ٹیموں اور سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنائے گی۔

    خیال رہے گذشتہ روز پاکستان میں انسدادِ پولیو پروگرام کے تحت ملک میں سال کی تیسری قومی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔

    چھبیس مئی سے شروع ہونے والی ہفتہ وار قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کی جائے گی۔

    رواں سال پاکستان سے پولیو کے 10 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے 127 مقامات سے حاصل کردہ 272 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے، جس سے اس سال پولیو سے متاثرہ اضلاع کی مجموعی تعداد 68 ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے انسدادِ پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور ٹیم پر حملہ ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے محفوظ و صحت مند مستقبل پر حملہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

  9. سات سے آٹھ برس کی بچی کو ونی کرنے کا پنچائیت کا فیصلہ، 12 ملزمان گرفتار

    یہ ڈیرہ اسماعیل خان کا علاقہ تلوگر ہے۔ خیبر پختونخوا کے اس علاقے میں تقریباً دو ہفتے قبل دو ملزمان نے ایک 12 سے 13 برس کے لڑکے کا ریپ کیا۔ اس کے بعد مقامی سطح پر پنچائیت نے ایک ملزم کی سات سے آٹھ برس کی بیٹی کا نکاح اس لڑکے سے کرانے کا فیصلہ سنایا جس کا ریپ ہوا۔ یعنی اس سات سے آٹھ برس کی بچی کو اس کے باپ کے جرم میں ونی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    جب پولیس کو اس بارے میں اطلاع ملی تو قانون حرکت میں آیا۔ پولیس نے کم از کم 12 ملزمان کو گرفتار کر لیا جن میں نکاح خوان، گواہان اور پنچائیت کے ممبران بھی شامل ہیں۔

    ایک مقامی پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا تو اس بارے میں تفتیش شروع کی گئی اور حقائق معلوم ہونے پر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

    یہ ڈیرہ اسماعیل خان میں چند ہفتوں میں دوسرا ونی کا ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔

    واضح رہے کہ ونی کی رسم کے تحت پاکستان کے بعض قبائل میں پنچایت بطور سزا کسی کی بیٹی، بہن کی جبری شادی کا حکم دیتی ہے اور اس لڑکی کو رات کی تاریکی میں گھر سے رخصت کر دیا جاتا ہے۔

    عام طور پر ونی قرار دی جانے والی بچیوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہوتا ہے جن کے والدین کے پاس نقصان کے ازالے کے لیے نقد رقم موجود نہیں ہوتی اور انھیں نہ چاہتے ہوئے بھی انھیں جرگے کے اس نوعیت کے غیرقانونی فیصلے ماننا پڑتے ہیں۔

  10. پی ٹی آئی ویمن ونگ کا لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف وومن ونگ لاہور نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ صدر وجنرل سیکرٹری وومن ونگ لاہور سائرہ رضا، ثمینہ خاور حیات کی سرپرستی میں اس مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔

    احتجاجی مظاہرے میں پی ٹی آئی وومن ونگ لاہور کی عہدیداران کی بڑی تعداد میں شرکت کی اور عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی۔ انھوں نے عمران خان پر قائم مقدمات ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    پی ٹی آئی ویمن ونگ لاہور کی سائرہ رضا نے کہا کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ظلم کی سیاہ رات جلد ختم ہوگی۔‘

  11. اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کا مختصر احوال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ آئینی بینچ میں زیر سماعت مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی درخواستوں میں سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے نظرثانی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

    کہا نظر ثانی کیلئے فیصلے میں نقائص کی نشاندہی لازم ہے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے رولز کے مطابق جو شخص سمجھتا ہے وہ فیصلے سے متاثرہ ہے نظرثانی کر سکتا ہے، سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرسکتی ہے۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آئے تو جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا فیصل صدیقی صاحب آپ نظر ثانی کی حمایت کررہے ہیں یا مخالفت؟ تیرہ ججز نے کہا سنی اتحاد کونسل سیٹوں کی حقدار نہیں۔

    وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ میں جسٹس مندوخیل کے فیصلے کی کسی حد تک حمایت کررہا ہوں، کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے سب سے زیادہ متاثرہ آپ تھے۔ فیصل صدیقی نے کہا ’ہمیں تو سب سے زیادہ خوشی ہے۔‘ اس موقع پر جسٹس جمال مندو خیل نے پی ٹی آئی وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس میں آپ پی ٹی آئی کی طرف سے سنی اتحاد کونسل کو سپورٹ کررہے تھے، آج یہ آپ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا بینچ میں شامل اکثریت ججز نے مرکزی کیس نہیں سنا، اس بینچ میں چھ نئے ججز شامل ہیں، ایسا بینچ نظرثانی سن رہا ہے جس میں ججز کی اکثریت نے اصل کیس سن ہی نہیں رکھا، میں اسی لیے اپنے دلائل ذرا تفصیل سے دوں گا، پورا پس منظر بتاؤں گا مخصوص نشستوں کا فیصلہ آیا کیسے تھا، تیرہ میں سے گیارہ ججز نے کہا نشستیں پی ٹی آئی کی بنتی ہیں، یہ آٹھ ججز کا نہیں، گیارہ ججز کا فیصلہ تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے نظرثانی لیکن صرف اکثریتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔

    عدالت نے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی آئندہ سماعت پر بھی دلائل جاری رکھیں گے۔

  12. انڈیا کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیاں پراکسی وار نہیں بلکہ پاکستان کی ایک سوچی سمجھی جنگی حکمت عملی ہے: وزیر اعظم مودی

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ ’انڈیا میں دہشت گردی کی کارروائیاں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔‘

    ریاست گجرات کے اپنے دورے کے دوسرے دن گاندھی نگر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران انھوں نے مُلکی معشیت پر بھی بات کی اور اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم سب سنہ 2047 تک ’وکاست انڈیا یعنی ایک ترقی یافتہ انڈیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں اور اپنی معیشت کو عالمی سطح پر چوتھے سے تیسرے درجے پر لے جائیں تو ہم غیر ملکی مصنوعات پر انحصار نہیں کر رہے ہوں گے۔‘

    انڈیا کی معشیت سے متعلق بات چیت کے ساتھ ساتھ نریندر مودی نے ایک بار پھر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے اور اس کے تناظر میں انڈیا کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی ’آپریشن سندور‘ پر بھی بات کی۔

    پہلگام حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’اسے پراکسی وار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ جن 6 مئی کو (آپریشن سندور کے نتیجے میں) جن دہشت گردوں کی ہلاکت ہوئی اُن کے جنازے ادا کیے گئے اور انھیں پاکستان میں سرکاری اعزاز دیا گیا۔ اُن کے تابوت پر پاکستان کے جھنڈے لگائے گئے اور پاکستانی فوج نے انھیں سلامی دی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی سرگرمیاں پراکسی وار نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جنگی حکمت عملی ہیں۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان میں سویلین و فوجی حکام بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ملک کے مختلف شہروں میں انڈیا کی جانب سے کیے گئے حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

    یاد رہے کہ پیر کے روز انڈین وزیر اعظم کی جانب سے دیے گئے ایسے ہی ایک بیان کے جواب میں پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’انڈین وزیر اعظم کی تقریر پریشان کن اور خطرناک ہے اور عالمی برداری کو اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

    منگل کے روز وزیر اعظم مودی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کسی سے دشمنی نہیں چاہتے۔ ہم پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم دنیا کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’6 مئی کی رات کو آپریشن سندور ہماری مسلح افواج کی طاقت سے شروع ہوا۔ لیکن اب یہ آپریشن سندور عوام کی طاقت سے آگے بڑھے گا۔ جب میں اپنی مسلح افواج کی طاقت اور عوام کی طاقت کی بات کرتا ہوں تو میرا مطلب ہے کہ ہر شہری کو اس کا حصہ بننا چاہیے۔‘

    وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ سنہ 1947 میں جب ہندوستان کی تقسیم ہوئی تھی تو ’کٹنی تو زنجیریں چاہیں تھی مگر بازو کاٹ دیے گئے اور ملک کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اُسی رات کشمیر میں پہلا دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ اور انڈیا کے ایک حصے (پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) پر پاکستان نے مجاہدین کی مدد سے قبضہ کر لیا۔ اگر اُسی دن یہ سب روک دیا جاتا تو مسائل یہاں تک نہ پہنچتے، لیکن کسی نے بھی سردار پٹیل کی بات نہیں مانی اور اب ہم گذشتہ 75 سالوں سے اس (دہشت گردی) کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جسم کتنا مضبوط ہے، اس میں موجود ایک چھوٹا سا کانٹا بھی مستقل تکلیف کی وجہ بن سکتا ہے۔ اور اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کانٹے کو نکال پھینکا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ جب بھی فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی تو ہم نے دیکھا کہ انڈیا نے تینوں مرتبہ (جنگوں) میں پاکستان کو شکست دی۔ پاکستان سمجھ چکا ہے کہ وہ انڈیا کو جنگ میں ہرا نہیں سکتا چنانچہ انھوں نے پراکسی جنگ کا آغاز کیا۔ انھیں جب موقع ملتا ہے وہ حملہ کرتے ہیں اور ہم اس سے صرف نظر کرتے رہے۔‘

    وزیراعظم مودی نے پہلگام واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’یہ حملہ بھی (1947) کے ہی حملے کی مثال تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نئی نسل کو بتانا چاہتا ہے ہوں کہ ملک کو کیسے برباد کیا گیا۔ 1960 میں جس انداز میں سندھ طاس معاہدہ کیا گیا، اگر آپ اس کی باریکی میں جائیں گے تو چونک جائیں گے۔ اس معاہدے میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں ندیوں پر جو ڈیم بنے ہیں اُن کی صفائی کا کام نہیں کیا جائے گا اور ڈیمز کے گیٹ نہیں کھولے جائیں گے۔ اور 60 سال تک یہ گیٹ نہیں کھولے گئے۔ انڈیا کے وہ آبی ذخیرے جنھیں اپنی گنجائش کے مطابق 100 فیصد تک بھرنا چاہیے تھا وہ دو سے تین فیصد تک آ گئے۔ کیا میرے ملک کے لوگوں کا پانی پر حق نہیں ہے؟ کیا ہمارے لوگوں کو اُن کے حق کا پانی نہیں ملنا چاہیے کیا؟ اور ابھی تو میں نے (اس ضمن میں) کچھ زیادہ کیا نہیں ہے۔ ابھی تو ہم نے کہا ہے کہ ہم نے (سندھ طاس معاہدے کو) اسے معطل کیا ہے، وہاں (پاکستان) پسینہ چھوٹ رہا ہے۔ اور ہم نے ڈیم کے گیٹ تھوڑے تھوڑے کھول کر صفائی شروع کی، اتنے سے ہی وہاں سیلاب آ جاتا ہے۔‘

    یاد رہے کہ وزیر اعظم مودی نے ریاست گجرات کے اپنے دورے کے پہلے دن تقریر کرتے ہوئے بھی پاکستان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کے علاوہ الزامات بھی عائد کیے تھے۔ پیر کے روز اُن کا کہنا تھا ’پاکستان کو دہشتگردی کی بیماری سے نجات دلانے کے لیے پاکستان کے عوام کو آگے آنا ہو گا۔‘

    انھوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ ورنہ میری گولی تو ہے ہی۔‘

    انڈین وزیر اعظم کی تقریر پریشان کُن اور خطرناک ہے، دفتر خارجہ پاکستان

    پیر کی روز انڈین وزیر اعظم کی جانب سے کی گئی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’عالمی برادری کو انڈیا کی جانب سے پاکستان مخالف بڑھتی ہوئی بیان بازی پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے، جس سے علاقائی استحکام اور دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

    پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ ’جوہری طاقت کے حامل مُلک کے وزیراعظم کی جانب سے ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا گیا ہے‘ اور وزیراعظم مودی کے گجرات میں دیے جانے والے بیانات نے ’پہلے ہی عدم استحکام سے دوچار خطے میں حالات کو مزید خطرناک کرنے کا کام کیا ہے۔‘

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہاہے کہ ’اس طرح کے بیانات واضح طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جو رکن ممالک کو تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور دیگر ریاستوں کی خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے باز رہنے کا پابند کرتا ہے۔‘

  13. بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما اظہر اسلام کی موت کی سزا کالعدم، فوری رہائی کا حکم

    بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے جماعت اسلامی (بنگلہ دیش) کے رہنما اظہر اسلام کو جنگی جرائم کے الزامات کے تحت دی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں فوری رہا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں بنگلہ دیش میں ایک ٹرائبیونل نے اظہر اسلام کو سنہ 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔

    جس سات رُکنی اپیلنٹ بینچ نے اظہر اسلام کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم جاری ہے اس کی سربراہی بنگلہ دیش کے چیف جسٹس ڈاکٹر سید رفعت احمد کر رہے تھے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ اگر اظہر اسلام کے خلاف اور کوئی کیس موجود نہیں ہے تو انھیں فوری رہا کیا جائے۔

    30 دسمبر 2014 کو بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ٹرائبیونل نے اظہر اسلام کو سنہ 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔

    انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل کی تھی تاہم اپیل میں بھی فیصلہ ان کے خلاف آیا اور 31 اکتوبر کو اپیلنٹ ڈویژن نے ان کی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

    جولائی 2020 میں انھوں نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی تھی جس پر آج فیصلہ سنایا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم بدلہ نہیں بلکہ انصاف چاہتے تھے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ انصاف کو دبایا نہیں جا سکتا۔۔۔‘

    یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں سنہ 2010 میں دو مختلف ٹرائبیونلز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جن کا کام مبینہ جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کرنا تھا۔ ان عدالتوں کی تشکیل سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔

    سنہ 2010 کے بعد ان ٹرائبیونلز نے جن افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق بنگلہ دیش کی حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی سے تھا۔ یاد رہے کہ جماعت اسلامی پاکستان سے علیحدگی کی مخالف رہی تھی۔

    جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے اور بند کمروں میں ہونے والی ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

  14. غزہ میں دو مختلف مقامات پر اسرائیلی بمباری میں 54 فلسطینی ہلاک متعدد زخمی

    غزہ سے ہسپتال کے ڈائریکٹرز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 54 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں سے اکثر وہ تھے کہ جنھوں نے ایک سکول کی عمارت میں پناہ لی ہوئی تھی۔

    غزہ شہر میں واقع فہمی الجرگاوی سکول میں بیت لاہیہ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد رہائش پذیر تھے، جسے اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سکول کو نشانہ بنائے جانے سے کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ بچوں سمیت متعدد لاشیں سکول کے ملبے سے نکالی جا چُکی ہیں جن میں سے کئی ایسی ہیں کہ جو آگ لگنے کی وجہ سے بُری طرح سے جھلس چکی ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ ’جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں حماس اور اسلامی جہاد کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تھا جس پر بمباری کی گئی ہے۔‘

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس علاقے کو دہشت گرد منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

    آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکول کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر آگ لگی ہوئی ہے، مزید یہ کہ اسی ویڈیو میں بچوں سمیت بُری طرح سے جھلس جانے والے افراد اور زندہ بچ جانے والوں کو بُری طرح سے زخمی حالت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

    شمالی غزہ کی ایمبولینس سروس کے منیجر فارس افانہ نے بتایا کہ وہ عملے کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے تو دیکھا کہ تین کلاس رومز میں آگ لگی ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جب اس سکول پر اسرائیلی فوج کی جانب سے بمباری کی گئی تو اُس وقت بڑی تعداد میں خواتین اور بچے ان کلاس رومز میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ چیخ رہے تھے لیکن آگ کی شدت کی وجہ سے انھیں بچانا انتہائی مُشکل تھا۔‘

    ایمبولینس سروس کے منیجر فارس افانہ کہ کہنا ہے کہ ’میں بیان نہیں کر سکتا کہ ہم نے کیا دیکھا وہ سب انتہائی خوفناک تھا۔‘

    مقامی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں شمالی غزہ میں حماس پولیس کے سربراہ محمد القصیح، ان کی اہلیہ اور بچے بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب الاہلی ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فدیل النعیم کے مطابق شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں 19 افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ کس چیز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس نے 48 گھنٹوں کے دوران غزہ بھر میں 200 اہداف کو نشانہ بنایا اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔

  15. میں جانتا ہوں کہ کون وکٹ کی دونوں جانب کھیل رہا ہے، سب لوگ ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں: عمران خان

    سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ’مُجھے اس بات کا علم ہے کہ کون وکٹ کی دونوں جانب کھیل رہا ہے، میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن ظلم کے سامنے نہیں جھکوں گا۔‘

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں وکلا اور صحافیوں سے گفتگو سے متعلق سابق وزیراعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں اُن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا، پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔‘

    اُن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔‘

    بانی پی ٹی آئی کا ایکس پر جاری بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔ پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اُن سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آئے ہیں یا 45 سے۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہے سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے۔‘

  16. لیورپول میں ایک گاڑی لوگوں کے ہجوم سے ٹکرا گئی، چار بچوں سمیت 27 افراد زخمی

    پیر کے روز انگلینڈ کے شہر لیورپول میں فٹ بال کلب کی پریمیئر لیگ میں کامیابی کے بعد نکالی جانے والی ریلی کے دوران ایک گاڑی متعدد افراد سے ٹکرا گئی، اب تک کی اطاعات کے مطابق اس واقے میں 27 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چار بچے بھی سامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لیورپول فٹ بال کلب کی پریمیئر لیگ میں کامیابی کی خوشی میں یہ تمام لوگ لیورپول شہر کے مرکز میں ایک ریلی کی صورت میں جمع تھے کہ جب یہ حادثہ پیش آیا۔

    پولیس نے اس معاملے میں ایک 53 سالہ برطانوی شہری کو گرفتار کیا ہے جن پر یہ الزام ہے کہ وہ گاڑی چلا رہے تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایکس پر جاری ایک بیان میں لیورپول کے مناظر کو خوفناک قرار دیا اور کہا کہ ’میری دعائیں اور ہمدردیاں ان تمام افراد کے ساتھ ہیں کہ جو اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔‘

  17. انڈین وزیر اعظم کی تقریر پریشان کن اور خطرناک ہے، دفتر خارجہ پاکستان

    پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے انڈین وزیراعظم کی جانب سے انڈین ریاست گُجرات میں ایک انتخابی ریلی کے دوران دینے جانے والے ایک حالیہ بیان پر رد عم ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’جوہری طاقت کے حامل مُلک کے وزیراعظم کی جانب سے ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا گیا ہے۔‘

    پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم مودی کے گجرات میں دیے جانے والے بیانات نے پہلے ہی عدم استحکام سے دوچار خطے میں حالات کو مزید ’خطرناک کرنے کا کام کیا ہے۔‘

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہاہے کہ ’اس طرح کے بیانات واضح طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جو رکن ممالک کو تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور دیگر ریاستوں کی خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے باز رہنے کا پابند کرتا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عالمی برادری کو انڈیا کی جانب سے پاکستان مخالف بڑھتی ہوئی بیان بازی پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے، جس سے علاقائی استحکام اور دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ پیر کے روز انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے گجرات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کو دہشتگردی کی بیماری سے نجات دلانے کے لیے پاکستان کے عوام کو آگے آنا ہوگا۔‘

    انڈین وزیراعظم نے مزید کہا تھا کہ ’پاکستان کے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں، آپ نے کیا پایا۔ انڈیا دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا اور تمھارا کیا حال ہے، آپ کی سرکار اور آپ کی فوج دہشتگردی کو پال رہی ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’دہشتگردی پاکستان کی سرکار اور فوج کے لیے پیسہ کمانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔‘

  18. انڈیا پاکستان کشیدگی میں ایرانی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے پیر کو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں انھوں نے انڈیا کی جانب سے جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت کرنے پر ایران کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤٹ پر اس ملاقات کے بعد ایک پیغام میں لکھا کہ ’ہم نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ میں نے جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران کے دوران ایران کے ثالث کے کردار اور پاکستان کے لیے اپنی تشویش کا اظہار کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان مسلم امہ میں ایران کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور امن، ترقی اور ہم آہنگی کے باہمی اہداف کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔‘

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے بھی ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ایران اور پاکستان بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی سمیت تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔‘

    اس سے قبل 26 مئی کو ایران کے دورے کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’پاکستان اور ایران نے تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’خطے میں امن کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پانی کے مسئلے، تنازعہ کشمیر اور انسداد دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے بات چیت کیلئے تیار ہیں، پاکستان پرامن مقاصد کیلئے ایران کے جوہری سول پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔‘

  19. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر:

    • پیر کے روز پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بھی اپنے ہمسائے سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر انڈیا جارحانہ رویہ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو پھر ہم اپنے مادر وطن کا دفاع کریں گے جیسا کہ ہم نےاللہ کے فضل و کرم سے کچھ روز قبل کیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر انڈیا میری امن کی یش کش قبول کرتا ہے تو پھر ہم دکھائیں گے کہ ہم خلوص نیت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔‘
    • وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کے روز کہا تھا کہ جون کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کرنے اور پینشن اصلاحات کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمیں معاشی محاذ پر بھی ایسے ہی قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔
    • غزہ میں وزارتِ صحت اور سول ڈیفنس کے حکام کا کہنا ہے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے دو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حماس کے تحت چلنے والے سول ڈیفنس کے محکمے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے فہمی الجرگاوی سکول پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد بچوں سمیت 20 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ان میں سے کئی لاشیں جھلسی ہوئی تھیں۔
  20. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید۔

    26 مئی تک کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں