آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کر دی گئی

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ان کی تدفین کی گئی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بوشہر سے دھماکوں کی اطلاعات

    ایرانی خبر رساں اداروں نے بوشہر کے مقامی باشندوں کے حوالے سے شہر میں دو دھماکے سنائی دینے کی خبر دی ہے۔

    ان دھماکوں کے مقام کے بارے میں ابھی تک سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ خیال رہے کہ امریکہ نے جمعرات کی صبح اس صوبے میں مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔

    اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ بوشہر پاور پلانٹ پر ایک میزائل گرا ہے تاہم بوشہر کے گورنر نے اس خبر کی تردید کی تھی۔

  2. کویت: ’چار میزائل اور 10 ڈرونز تباہ، ایک شخص زخمی‘

    کویت کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ نو جولائی کو ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

    کویتی وزارت دفاع کے ترجمان سعود عبدالعزیز العطوان نے کہا کہ زخمی شخص کو ضروری طبی امداد دی جا رہی ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جمعرات کی صبح ’چار میزائل اور 10 ڈرونز کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا گیا ہے‘۔

  3. آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال برقرار

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران دونوں بحری ٹریفک کو مختلف راستوں سے گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جاری تنازع کے باعث جہازوں کو آبنائے ہرمز کے درمیانی حصے سے گزرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    امریکہ کی رکنیت رکھنے والے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے سفارش کی ہے کہ بحری جہاز ممکنہ ایرانی بارودی سرنگوں کے خطرے سے بچنے کے لیے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمان کے ساحل کے قریب واقع راستہ اختیار کریں۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بحری جہاز اس وقت تک آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتا جب تک وہ اس کے مقرر کردہ شمالی راستے پر سفر نہ کرے، جو ایرانی ساحل کے زیادہ قریب واقع ہے۔

    ایران کی پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اجازت نامے صرف اسی راستے کے لیے جاری کیے جائیں گے، جبکہ دیگر راستوں کا استعمال سختی سے ممنوع ہے۔

    آبنائے ہرمز کے انتظام اور جہاز رانی کے طریقۂ کار پر یہ متضاد مؤقف دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک میں سرگرم شپنگ کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

  4. ایران کا امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔

    معاہدے میں فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل خاتمے‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اپنی بھرپور کوششیں بروئے کار لانے کا عہد کیا تھا۔

    تاہم، اس شق کی تشریح دونوں فریق مختلف انداز میں کر رہے ہیں اور یہی معاملہ موجودہ کشیدگی کا ایک اہم سبب بن گیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ’چند۔۔ تجارتی جہازوں سے متعلق مبینہ واقعات‘ کو جواز بنا کر حملے کیے، حالانکہ یہ دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں۔

    دوسری جانب امریکہ پہلے ہی ایران پر جنگ بندی کی ’واضح خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایران نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی بھی مذمت کی ہے۔ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایرانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔

    وزارتِ خارجہ نے مزید الزام لگایا کہ ریلوے کے دو پلوں سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنا کر امریکہ نے ’سنگین جنگی جرم‘ کا ارتکاب کیا ہے۔

  5. وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ہمراہ متعدد وفاقی وزرا بھی موجود ہیں۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں بلوچستان کی امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزرا اور اعلیٰ عسکری و سول حکام اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوگا۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں امن و استحکام کے قیام سے متعلق اہم فیصلوں اور اقدامات کی منظوری متوقع ہے۔

  6. ’نہ جنگ، نہ امن‘: دونوں فریق تصادم سے بچنا چاہتے ہیں، مگر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں, لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    ’وہاں جنگ بندی دنیا کے دوسرے حصوں کی جنگ بندیوں سے بہت مختلف ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے ساتھ نازک جنگ بندی اور گذشتہ ماہ طے پانے والے عبوری معاہدے کو اسی انداز میں بیان کیا تھا۔ یہ سمجھوتہ اب بھی آزمائش سے گزر رہا ہے اور بار بار کشیدگی کا شکار ہو رہا ہے۔

    ایسا لگتا ہے کہ خطہ فی الحال ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت میں رہنے والا ہے۔ اس صورتحال کی بنیاد مختصر اور مبہم الفاظ پر مشتمل مفاہمتی یادداشت ہے، جس کی دونوں فریق اپنی اپنی تشریح کر رہے ہیں۔

    ایران کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے نے اسے آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کے انتظام سے متعلق کردار دیا ہے اور جہازوں کو اس کے مقرر کردہ راستوں سے گزرنا چاہیے۔

    دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادانہ روانی بحال ہوئی ہے۔

    اگرچہ کوئی بھی فریق مکمل جنگ کی طرف لوٹنا نہیں چاہتا، لیکن دونوں اپنی پوزیشن منوانے کے لیے محدود سطح پر دباؤ اور جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

    دونوں حکومتوں کو اپنے اپنے حلقوں میں موجود سخت گیر عناصر کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    اس کشیدہ ماحول میں ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے بارے میں کہا ہے کہ ’وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔‘

  7. مزید حملوں کے باوجود تیل کی قیمتوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں

    امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل دوسری رات بھی حملے کیے جانے کے باوجود جمعرات کی صبح تیل کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    بدھ کو حملوں کے پہلے مرحلے کے بعد عالمی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا، تاہم آج یہ معمولی کمی کے بعد تقریباً 77.90 ڈالر (58 پاؤنڈ) فی بیرل پر آ گئی ہے۔

    سرمایہ کاری بینک ریمنڈ جیمز میں نجی سرمایہ کاری کی مشاورتی خدمات کی عالمی سربراہ سنائنا سنہا ہلدیا نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے سے گفتگو میں کہا کہ مارکیٹیں اب اس صورتحال کی کسی حد تک عادی ہو چکی ہیں کہ آیا فریق مکمل جنگ کی طرف جا رہے ہیں یا دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔

    ان کے بقول بدھ کو تیل کی قیمت میں اضافہ ضرور ہوا، تاہم یہ اس اضافے کے قریب بھی نہیں تھا جو تنازع کے آغاز پر اس وقت دیکھا گیا تھا جب آبنائے ہرمز عملاً بند ہو گئی تھی۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔

    سنائنا سنہا ہلدیا کا کہنا ہے کہ مارکیٹوں کی مجموعی توقع اب بھی یہی ہے کہ فریقین بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔

  8. رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات کے شہر جانے والی ریلوے لائن حملے میں متاثر

    ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل ہو گئی ہے، جہاں آج بعد ازاں سابق رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات ادا کی جانی ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن کو امریکی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ وزارتِ خارجہ کے مطابق اس حملے میں دو پل تباہ ہو گئے ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے ایران ریلوے کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’اس راستے کی جلد از جلد مرمت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

    تہران اور شمال مشرقی شہر مشہد کے درمیان ریلوے رابطہ ایران کے مصروف ترین ریلوے راستوں میں شمار ہوتا ہے۔

  9. ملک ریاض کے ادارے بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو کرنل خلیل سمیت تین ملزمان کو ایک سال قید کی سزا

    بحریہ ٹاؤن سے متعلق مقدمے میں عدالت نے وائس چیف ایگزیکٹو کرنل خلیل سمیت تین ملزمان کو ایک، ایک سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ کی عدالت نے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو کرنل خلیل، حوالہ ایجنٹ عمران کاکا اور پراپرٹی ڈیلر مشتاق احمد کو جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔ مقدمے کی تحقیقات ایف آئی اے کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کی تھیں۔

    حکام کے مطابق یہ فیصلہ غیر قانونی فاریکس ٹریڈنگ، حوالہ ہنڈی اور اس سے منسلک پراپرٹی لین دین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  10. شجاع آباد کے قریب فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک، تین زخمی ہونے کا دعویٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے شجاع آباد کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے درمیان مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مظفرآباد سے راولاکوٹ میں تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے سامان لے جایا جا رہا تھا۔ اُن کے مطابق اس قافلے کے ہمراہ سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے۔

    سردار وحید خان کا کہنا تھا کہ شجاع آباد کے قریب کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے سڑک پر پتھر رکھ کر راستہ بند کر رکھا تھا۔ اُن کے بقول جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار رکاوٹیں ہٹانے کے لیے گاڑیوں سے اترے تو تنظیم کے کارکنوں نے مبینہ طور پر اُن پر فائرنگ شروع کر دی۔

    کمشنر پونچھ کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ سے قافلے میں شامل متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیم کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آور ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    سردار وحید خان کے مطابق حملہ آور ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو اطلاعات ملی ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق اُس قریبی علاقے سے تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

    دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن اختر عباسی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ انھیں واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ تاہم اُن کے بقول انھیں جو معلومات دی گئی ہیں، اُن کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اختر عباسی نے کہا کہ اُن کی تنظیم اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہو گی اور تنظیمی قیادت جمعرات کو آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔

    ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعض علاقوں میں مبینہ طور پر راستوں کی بندش کے باعث اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے سبب بعض مقامات پر لوگوں کو سبسڈی والا آٹا دستیاب نہیں ہو رہا۔

    واضح رہے کہ تین برس قبل حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشیوں کو دو ہزار روپے فی من کے حساب سے آٹا فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

    تاہم مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے ضلع میں خوراک، خصوصاً آٹے کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں اور شہریوں کو سبسڈی والا آٹا معمول کے مطابق دستیاب ہے۔

  11. علی خامنہ ای کی میت لے جانے والا طیارہ ایران کے شہر مشہد پہنچ گیا

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی میت لے جانے والا طیارہ ایران کے مقدس ترین شہر مشہد پہنچ گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، کئی روز سے جاری جنازے کی تقریبات کے آخری مرحلے کا آغاز مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے ہوگا۔

    خامنہ ای کے تابوت کو گذشتہ چھ روز کے دوران ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا، جبکہ انہیں مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا، جو ان کی جائے پیدائش بھی ہے۔

  12. آبنائے ہرمز پر پہلے کون پسپائی اختیار کرے گا؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار، انقرہ

    آبنائے ہرمز کے گرد اس وقت پیدا ہونے والی صورتحال میں ایک حد تک خطرناک پیش گوئی جیسی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ہفتے کے آغاز میں پاسدارانِ انقلاب نے، جن وجوہات سے وہ خود ہی آگاہ ہیں، تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 80 اہداف پر حملے کیے، جبکہ ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر ڈرونز اور میزائل داغ کر ردِعمل ظاہر کیا۔

    بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے، جن کے بعد دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے۔

    کسی حد تک یہ صورتحال اس سوال پر آ کر ٹھہرتی ہے کہ پہلے کون پسپائی اختیار کرتا ہے؟

    امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی افواج کے رواں سال کے آغاز میں کیے گئے 24 ہزار سے زائد فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے بعد، پاسدارانِ انقلاب خود کو کافی مضبوط اور ناقابلِ شکست محسوس کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلی لائی جائے، جس کے تحت جہازوں کو ایک چیک پوائنٹ سے گزرنا پڑے اور پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ان کا معائنہ کریں۔

    ایران کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی صورتحال اب کبھی بحال نہیں ہوگی۔

    تاہم امریکہ، عرب خلیجی ریاستیں اور بین الاقوامی بحری تنظیم اس مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہیں۔

    گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں بھی ان اختلافات کا کوئی حل نہیں نکل سکا تھا، اور اب حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد دیرپا معاہدے تک پہنچنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔

  13. آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت انتہائی کم ہو گئی

    بین الاقوامی آزاد ٹینکر مالکان کی تنظیم انٹرٹینکو کے میرین ڈائریکٹر فل بیلچر کے مطابق، جنگی کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے میں بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب واقع امریکی حمایت یافتہ جنوبی بحری راستے سے رات کے وقت گزرنے والے جہازوں کی تعداد سنگل فگرز (دس سے کم) رہ گئی ہے، جبکہ ایران کی نگرانی میں موجود شمالی راستے سے تقریباً 20 جہاز گزرے۔

    ان کے مطابق، روزانہ گزرنے والے جہازوں کی مجموعی تعداد تقریباً 30 رہ گئی ہے، جو ایک ہفتہ قبل 70 تھی، جبکہ رواں سال ایران سے متعلق جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تعداد معمول کے مطابق 130 جہاز روزانہ کے قریب ہوا کرتی تھی۔

  14. ایران میں سابق رہبر اعلیٰ کی آخری رسومات پر جنگ کے سائے, لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    ایران میں چھ روز اور پانچ شہروں پر محیط عوامی سوگ اور آخری رسومات کے سلسلے کا آج آخری دن ہے، جبکہ اس دوران پڑوسی ملک عراق میں بھی تقریبات منعقد کی گئیں۔ یہ ایران کی نئی قیادت کی جانب سے اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش تھی اور اس بات کو اجاگر کرنے کی بھی کہ جنگ کے آغاز میں قتل کیے گئے ان کے رہبر اعلیٰ کی اہمیت صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ وسیع شیعہ مسلم دنیا تک پھیلی ہوئی ہے۔

    ہر مقام پر بڑے اور جذباتی ہجوم کے باعث جنازے کا جلوس سست روی کا شکار رہا، اور آج بھی ایران کے مقدس ترین شہر مشہد، جو آیت اللہ خامنہ ای کا آبائی شہر بھی ہے، یہی منظر دیکھنے میں آیا۔ ایران کو امید تھی کہ گذشتہ ماہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ان تقریبات کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھے گی، لیکن نازک جنگ بندی اور ایک ایسی مبہم مفاہمت، جس کی دونوں فریق الگ الگ تشریح کرتے ہیں، ابتدا ہی سے خطرات اپنے ساتھ لیے ہوئے تھی۔

    اب ایران اور پورا خطہ بظاہر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات پر مذاکرات جاری رکھنے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں گی۔ جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی دنیا کے دیگر خطوں کی جنگ بندیوں سے مختلف نوعیت رکھتی ہے۔

  15. دو راتوں کے دوران امریکی حملوں میں 14 افراد ہلاک: ایران کی وزارتِ صحت

    ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی کے دوران 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    وزارتِ صحت کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین کرمان پور نے بتایا کہ 8 اور 9 جولائی کو ایران کے پانچ صوبوں میں امریکی حملوں کے نتیجے میں 78 افراد زخمی بھی ہوئے۔

    ان کے مطابق زخمیوں میں سے 47 افراد اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

    دوسری جانب، جنوبی ایران کے ضلع ایرانشہر کے گورنر نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی حملے میں ہوائی اڈے کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

  16. امریکی حملوں میں تین افراد ہلاک، ایرانی میڈیا

    ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، رات بھر ہونے والے امریکی حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان کے نائب گورنر نے بتایا کہ اہواز شہر کے نواحی علاقے پر کیے گئے حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    نائب گورنر کے بیان کے مطابق، امریکی حملوں نے علاقے میں جانی نقصان پہنچایا، تاہم زخمیوں کی درست تعداد یا حملے کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

    ایرانی حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری ردِعمل کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

  17. رات بھر کے حملوں میں تین خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا: ایران کا دعویٰ

    ایران کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کویت، قطر اور بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    فوج کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل سسٹم، قطر میں سیٹلائٹ اینٹینا ارلی وارننگ سسٹم، اور بحرین میں امریکی ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو مختلف اقسام کے بڑی تعداد میں ڈرونز کے ذریعے ہدف بنایا گیا۔

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ’کچھ ہی دیر پہلے‘ کیے گئے اور یہ خطے میں موجود امریکی اڈوں پر ایران کے ’جاری حملوں‘ کا تسلسل ہیں۔

    یہ بیان ایران کے متعدد ذرائع ابلاغ، بشمول سرکاری نشریاتی ادارے، کی جانب سے شائع کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل کئی خلیجی ممالک، جن میں بحرین، کویت اور قطر شامل ہیں، حملوں کی اطلاعات دے چکے ہیں یا سکیورٹی الرٹس جاری کر چکے ہیں۔

    بحرین کا دعویٰ: فضائی دفاعی نظام نے ایران کے متعدد حملے ناکام بنا دیے

    بحرین کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آج صبح ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد حملہ آور اہداف کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    یہ بیان ایرانی فوج کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے بحرین میں امریکی ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

  18. ایران نے امریکی حملوں کے خلاف سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط بھیج دیا

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خطوط بھیجے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے سعید ایروانی نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر ’اقوامِ متحدہ کے منشور اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے شروع کیے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی اقدامات ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی ہیں۔

  19. امریکی حملوں سے اہواز شہر میں تین افراد ہلاک ہوئے: ایرانی حکام

    ایرانی صوبے خوزستان کے حکام کا کہنا ہے کہ آج صبح امریکی حملوں کے نتیجے میں اہواز شہر میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    خوزستان کے نائب گورنر برائے سکیورٹی ولی اللہ حیاتی نے کہا کہ ان حملوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق حملوں سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

  20. ایران کے پاسداران انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ

    ایران کے پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ کی عہد شکنی کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔‘

    پاسداران انقلاب کے مطابق کارروائی کے پہلے مرحلے میں پاسداران انقلاب کی بحریہ اور فضائی فورسز نے مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کویت میں عریفجان اور علی السالم، جبکہ بحرین میں الجفیر اور شیخ عیسیٰ کے امریکی اڈوں کی اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکی فوج کو خبردار بھی کیا ہے کہ اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو جوابی حملوں کا دائرہ خطے میں موجود دیگر امریکی اڈوں تک وسیع کر دیا جائے گا۔

    اس سے پہلے کویت کی فوج نے اعلان کیا تھا کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ جبکہ بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بھی بتایا تھا کہ ملک میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں اور شہریوں و رہائشیوں کو قریب ترین محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔