امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں انقرہ میں نیٹو اجلاس کے دوران ایک صحافی نے پوچھا ’کیا جنگ بندی ختم ہو گئی ہے؟ کیا یہ معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے؟ کیا مفاہمتی یادداشت اب مردہ ہو چکی ہے؟
(جنگ بندی کی بنیاد بننے والی مفاہمتی یادداشت گزشتہ ماہ طے پائی تھی۔)
اس پر ٹرمپ نے جواب دیا ’یہ بہت دلچسپ سوال ہے۔ میرے نزدیک تو یہ ختم ہو چکی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اب ان کے ساتھ مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا، وہ غلیظ لوگ ہیں۔ جانتے ہیں غلیظ لوگ کس کو کہتے ہیں؟ وہ غلیظ لوگ ہیں۔ وہ بیمار لوگ ہیں۔ ان کی قیادت بیمار لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ بے رحم اور پرتشدد لوگ ہیں۔‘
’اور اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ اسے استعمال کرتے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں اپنے مذاکرات کاروں سے بات کروں گا، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، وہ اچھے لوگ ہیں۔ سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، لیکن انھیں واپس آ کر مجھ سے بات کرنا ہوگی۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، ان کے ساتھ معاملات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘
انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں ان (نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے ساتھ کوئی معاہدہ کروں تو معاہدہ ہو جاتا ہے۔ وہ باہر جا کر اسی کے مطابق بات کرتے ہیں۔
’ہم (امریکہ اور ایران) ایک معاہدہ کرتے ہیں، سب متفق ہوتے ہیں کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔
’ہم معاہدہ کرتے ہیں، پھر وہ (ایران) باہر جا کر میڈیا سے کہتے ہیں کہ ’ہم نے تو اس موضوع پر کبھی بات ہی نہیں کی۔ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ وہ پاگل ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘
اس کے بعد ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے؟
انھوں نے جواب دیا کہ ’مجھے اس کی پروا نہیں۔ وہ بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹ بولنے والوں کا ایک ٹولہ ہیں۔‘