آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ارشد شریف قتل کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے جوڈیشل کمیشن کی درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک صفحے پر مشتمل اس تحریری حکم نامے میں رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے جانے والے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ درخواست کی سماعت کے لیے نمبر لگایا جائے۔ دوسری جانب بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں لیکن بات چیت تب ہو گی جب ہمارا چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے گا اور جیلوں میں قید ہمارے بے گناہ کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔

خلاصہ

  • بات ان ہی سے ہو گی، جو اس وقت پی ٹی آئی کے سب سے بڑے مخالف ہیں: عمران خان
  • راولپنڈی سے ہنزہ جانے والی مسافر بس کو چلاس کے قریب حادثہ، کم از کم 20 افراد ہلاک
  • کسی بھی غیر ملک کو اڈے دینے کی باتیں بے بنیاد ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
  • ہم اپنی آئینی حدود جانتے ہیں اور دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری کی توقع کرتے ہیں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر
  • ٹیکس چوری روکنا اور ٹیکس سرکل کو بڑھانا آئی ایم ایف کے مطالبات ہیں: وفاقی وزیر قانون

لائیو کوریج

  1. ایل این جی ریفرنس: سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت تمام ملزمان بری

    قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ریفرنس واپس لے لیا ہے جس کی بنیاد پر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان کو اس مقدمے سے بری کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی اس مقدمے میں نامزد ملزمان میں شامل تھے۔

    نیب کے پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب کے حکام نے ایل این جی ریفرنس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ میرٹ پر کیا گیا ہے۔

    شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف یہ ریفرنس سنہ 2019 میں دائر کیا گیا اور اس مقدمے میں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو گرفتار بھی کیا گیا۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اس ریفرنس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے علاوہمتعدد پراسیکوشن کے گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے تھے۔ تاہم نیب کی طرف سے یہ ریفرنس واپس لینے پر عدالت نے تمام ملزمان کو بری کردیا۔

    واضح رہے کہ نیب نے اسی کیس میں سنہ 2019 میں شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا تھا۔ نیب کی جانب سے اس ریفرنس میں قومی خزانے کو 21 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

  2. بریکنگ, آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت پاکستان کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی آخری قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی۔

    آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان نے دوسرا جائزہ کامیابی سے مکمل کرلیا ہے، پاکستان نے جولائی 2023 میں آئی ایم ایف سے 9 ماہ کا قرض پروگرام لیا تھا اور پاکستان نے قرض پروگرام کے اہداف کے حصول میں سنجیدہ کوششیں کیں۔

    اعلامیے میں آئی ایم ایف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہونا شروع ہوگئی ہے اور قرض پروگرام کے بعد پاکستان معاشی ترقی کی شرح دو فیصد تک پہنچ رہی ہے اور رواں برس جون تک مہنگائی کے بڑھنے کی شرح کم ہو جائے گی۔

    آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 4.5 سے بڑھ آٹھ ارب ڈالر ہوگئے ہیں، پاکستان نے وصولیوں میں اضافے کے ذریعے گردشی قرضوں کو کم کیا ہے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ گذشتہ مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 8.5 فیصد تھی، رواں سال بے روزگاری کی شرح آٹھ فیصد رہنے کی توقع ہے۔

    آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام دونوں کے سابقہ بیانات میں عندیہ دیا گیا تھا کہ بورڈ 29 اپریل کو اجلاس میں ایس بی اے پروگرام کے تحت ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی آخری قسط جاری کرنے کی منظوری دے گا، جس کا معاہدہ جون 2023 میں ہوا تھا۔

    یاد رہے کہ 20 مارچ کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول کا معاہدہ طے پا گیا تھا، اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے قرض کی آخری قسط کی مد میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

    پاکستان کو دو اقساط کی مد میں آئی ایم ایف سےایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔

  3. کب تک اسٹیبلشمنٹ کی بات سنتے رہیں گے، جنھیں محکوم ہونا چاہیے تھا وہ آقا ہیں، مولانا فضل الرحمان

    پاکستان کی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جو نتائج ہمیں مرتب کر کے دے، یہاں (پارلیمنٹ میں) بیٹھنے کے لیے جو نام مرتب کر کے دے اس پر کب تک سمجھوتہ کرتے رہیں گے، ہم نے ہر معاملے پر سمجھوتے کیے اور جو ہمارے محکوم ہونے چاہیے تھے وہ ہمارے آقا بن گئے ہیں۔ کب تک ان سے بھیک مانگتے رہے گے۔

    پیر کو سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوامی پارلیمنٹ ہے یا اسٹیبلشمنٹ کی ترتیب دی ہوئی پارلیمنٹ ہے؟

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں موجود جماعتوں کے سینئر لوگ مینڈیٹ پر سوال اٹھا رہے ہیں، ہم نے سودے کیے اور جمہوریت بیچ دی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ریاست ہے۔‘

    انھوں نے الیکشن کی شفافیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھے سنہ 2018 کے الیکشن کے نتائج پر اعتراض تھا اور اب بھی اعتراض ہے۔ سیاست دان معلومات کی بنیاد پر بات کرتے ہیں اور اس بار اسمبلیاں بیچی اور خریدی گئی ہیں۔ کیسے یہ ایوان عوامی نمائندوں کا ایوان کہلائے گا؟ کیا آپ لاہور کے نتائج سے مطمئن ہیں؟۔

    انھوں نے کہا کہ اس ملک کی آزادی میں نہ بیوروکریسی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے لیکن جمہوریت آج کہا کھڑی ہے، ہم آج اس لیے کمزور ہیں کیونکہ ہم نے ہر معاملے پر سمجھوتا کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم اس ایوان میں ایک قانون پاس کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ انھوں نے کہا کہ پس پردہ جو قوتیں ہمیں کنٹرول کرتی ہیں فیصلے وہ کریں اور عوام ہمیں ذمہ دار ٹھہرائیں، ہم آج دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں اور اس کا ذمہ دار کون ہے، ذمہ دار سیاست دان کو قرار دیا جاتا ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے سیاسی و آئینی مطالبے کو درست سمجھتا ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں آج بھی ہمدردری کی بنیاد پر میاں نواز شریف، شہباز شریف بلاول بھٹو سے یہ کہتا ہوں کہ آپ عوامی لوگ ہیں، چلیں اکھٹیں عوام میں جاتے ہیں، چھوڑو اس اقتدار کو، آئیں، ادھر بیٹھیں، اور اگر واقعی اکثریتی جماعت پی ٹی آئی ہے تو ان کو حکومت دے دو لیکن شاید میری بات احمقوں والی سی لگ رہی ہو گی کہ کیا کہہ رہا ہوں، آج بھی وقت ہے سنبھلنے کا، لیکن ہم سنبھلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم نوکری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عزم کر رکھا ہے کہ اس غلامی کے خلاف جنگ لڑیں گے، میدان عمل میں آکر جنگ لڑیں گے ، عوام میں جا کر لڑیں گے، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر لڑیں گے اور ملک کو اس غلامی سے نجات دلائیں گے، ہم پر یا توعالمی قوتیں حکومت کر رہی ہیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ حکومت کر رہی ہے، یہ نظام ہمیں قبول نہیں ہے۔

  4. غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا، یوکرین جنگ نے عالمی سطح پر مہنگائی کو جنم دیا، شہباز شریف کا عالمی اقتصادی فورم سے خطاب

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں قیام امن بہت ضروری ہے، غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

    پیر کو عالمی اقتصادی فورم اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ غزہ میں مستقل امن قائم کیے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور فلسطین میں قیام امن بہت ضروری ہے۔ یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، عالمی منڈی میں مہنگائی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک متاثر ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنج کا سامنا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہوا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، مشکلات ہیں لیکن ناممکن کچھ نہیں ہے، ہم بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات متعارف کرانے کے خواہاں ہیں، ملک میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہے ہیں، ہمیں اپنی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کفایت شعاری کی طرف جانا ہو گا، سعودی عرب سمیت دوست ممالک نے پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔

  5. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود کسی ردوبدل کے بغیر 22 فیصد پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ مرکزی بینک کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے سوموار کو اجلاس میں کیا ہے۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ’مہنگائی کی شرح اب بھی بلند ہے اور معاشی استحکام کے اقدامات مہنگائی اور بیرونی پوزیشن دونوں میں خاطر خواہ بہتری لانے میں کردار ادا کررہے ہیں اور معتدل معاشی بحالی آ رہی ہے۔‘
    • وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا، پاکستان کو درپیش مشکلات کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہے ہیں۔
    • صوبہ سندھ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنما رضا علی عابدی کے قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عبدالحسیب، غزالی، محمد فاروق اور ابو بکر نامی ملزمان کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔اس کے علاوہ عدالت نے ملزمان پر ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
    • محکمۂ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ بشام میں چینی انجینیئرز کے قافلے پر حملے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملوث ہے اور اس کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے دوران چار ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔ ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث نیٹ ورک کے ’اہم کرداروں کا تعین کر لیا گیا ہے۔ چار ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ یاد رہے کہ 26 مارچ کو بشام میں داسو منصوبے کے قریب اس حملے میں پانچ چینی شہری اور ایک پاکستانی ڈرائیور کی ہلاکت ہوئی تھی۔ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔‘