بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق قافلے کے آگے موجود گروپ نے ایک گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو روک کر اس کی مذموم سازش ناکام بنا دی، جس کا مقصد بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔ اس طرح ایک بڑے سانحے سے بچاؤ ممکن ہوا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کا سراغ لگایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں پانچ شدت پسند مارے گئے تاہم، شدت پسندوں نے مایوسی میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو فوجی قافلے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں مانسرہ سے تعلق رکھنے والے 43 برس کے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز، جو اپنی جرات مندانہ قیادت کے لیے مشہور تھے اور ہمیشہ اپنی فوج کو آگے سے لیڈ کرتے تھے، ہلاک ہو گئے۔ ان کے ساتھ پشاور سے تعلق رکھنے والے 28 برس کے سپاہی کرامت شاہ بھی ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’شدت پسند رمضان کے مقدس مہینے میں بھی افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق افغان طالبان حکومت ایک بار پھر ناکام رہی ہے کہ شدت پسندوں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے۔
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس بزدلانہ اور سنگین حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں گی اور شدت پسند جہاں بھی ہوں، ان کے خلاف جائز بدلہ لیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی مہم ’عزمِ استحکام‘ کے تحت، جو نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی نے منظور کی ہے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری رفتار سے کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
’ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں کہ وطن کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر قربانی دی جائے گی۔‘