آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چولستان کینال کی تعمیر کے خلاف سندھ میں احتجاجی مظاہرے

سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے منگل کو کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور ٹھٹہ سمیت سندھ بھر میں چولستان کینال کی تعمیر کی ۂلسف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ پی پی پی کے سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ چولستان کینال سمیت چھ کینالوں کا منصوبہ ’غیر قانونی اور غیرآئینی ہے۔‘

خلاصہ

  • وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک صحافی کو غلطی سے ایک ایسے گروپ چیٹ میں شامل کر لیا گیا تھا جہاں حکام حوثیوں کے خلاف حملے کے منصوبے کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے.
  • ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعت کے گرفتار میئرکی حمایت میں ہونے والا احتجاج پرتشدد تحریک میں بدل چکا ہے۔
  • کراچی اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
  • حکومت نے بلوچستان میں 'ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث' سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ریاض میں ہونے والے مذاکرات پر اصل بات کس نکتے پر ہو رہی ہے؟, جیمز لینڈل، نامہ نگار برائے سفارتی امور، کیئف

    امریکی مذاکرات کار سوموار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں یوکرینی اور روسی وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

    ریاض میں ہونے والی ان ملاقاتوں میں اصل میں کیا بات چیت کی جا رہی ہے؟ اس حوالے سے مختلف پیغامات مل رہے ہیں۔

    اگر ہم گذشتہ ہفتے کو دیکھیں تو امریکہ کے مطابق ٹرمپ اور پوتن کی فون پر ہونے والی گفتگو میں ان مذاکرات کا فوکس توانائی اور انفراسٹرکچر کی تنصیبات پر حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات پر ہو گا۔

    یوکرین کے مطابق ٹرمپ اور زیلنسکی نے توانائی کی تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کو روکنے پر بات کی۔

    امریکی خبررساں ادارے سی بی ایس سے گفتگو میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے فضائی جنگ بندی پر بات کی جو کہ ان کے خیال سے پہلے سے ہی موجود ہے لیکن روس نے ٹرمپ اور پوتن کی فون کال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انرجی انفراسٹرکچر کی تنصیبات پر حملے بند کیے جائیں گے۔

    لیکن یہاں ایک بات بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ روس اب بھی شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے پرانرجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام لگا رہے ہیں۔

    بحیرہ اسود کے حوالے سے بھی کنفیوژن موجود ہے۔

    امریکہ کا خیال، جس کے بارے میں مائیک والٹز نے بھی کہا کہ میری ٹائمز سیز فائر ہے لیکن کریملن نے بحیرہ اسود کے نام نہاد منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے‘ کی خواہش کا اظہار کیا، جو اب ایک غیر فعال محدود معاہدہ ہے جس کے تحت سمندری راہداریوں کے ذریعے اناج اور کھاد کی ترسیل کی محفوظ نقل و حمل کی اجازت دی گئی ہے۔

    اسی طرح رواں ہفتے ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بھی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔

    لیکن امریکہ نے 'جزوی جنگ بندی پر عمل درآمد اور اسے وسعت دینے' کی امید ظاہر کی ہے۔

    والٹز نے دونوں فریقوں کے درمیان ’لائن آف کنٹرول‘ پر اتفاق کرنے اور کسی بھی جنگ بندی کی تصدیق اور امن قائم کرنے کے بارے میں بات چیت شروع کرنے پر بھی بات کی۔

  2. عمران خان کو ہفتے میں دو دن ملاقات کی اجازت، ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہیں ہو گی: اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل میں ہر ہفتے منگل اور جمعرات کے روز ملاقاتیں کروانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    سوموار کے روز عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم پر مشتمل لارجر بینچ نے کی۔

    دورانِ سماعت اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے وکیل نوید ملک نے عدالت کو بتایا کہ دسمبر تک اسی ایس او پیز کے تحت جیل میں ملاقاتیں کروائی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوری کے بعد عمران خان کا بطور قیدی سٹیٹس تبدیل ہوا اور سکیورٹی خدشات بھی تھے۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ جیل مینوئل کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی منگل کے روز ملاقاتیں کروائی جا رہی ہیں۔ جنوری کے بعد سابق وزیر اعظم کا سٹیٹس انڈر ٹرائل قیدی سے سزا یافتہ قیدی ہو گیا۔

    قائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہر شخص درخواست لے کر آ جاتا ہے کہ میری بھی جیل میں ملاقات کرائی جائے۔ اس پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے وکیل نے کہا کہ جیل میں ہونے والی ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل میں منگل اور جمعرات کی ملاقات کے ایس او پیز طے ہوئے تھے، جس پر سپرنٹینڈنٹ کے وکیل نے جواب دیا کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہم نے دو دن کے بجائے منگل کو ہی دو ملاقاتیں کر دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل رولز کے مطابق ملاقاتوں کا فیصلہ کرنا سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا اختیار ہے۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کیا جائے، جس پر وکیل جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ دو دن انتظامات کرنا مشکل ہوتا ہے، اسی لیے ہم ایک دن ہی تمام ملاقاتیں کروا رہے ہیں۔

    قائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جیل ملاقاتوں کی 100 سے زیادہ پٹیشن دائر ہوئیں جن میں سے 98 کے قریب نمٹائی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کو لارجر بینچ ایک ہی مرتبہ نمٹا دے۔

    جسٹس سرفراز ڈوگر کا کہنا تھا جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کی کیا ضرورت ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان سے انڈر ٹیکنگ لے لیتے ہیں کہ جیل ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہیں کی جائے گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی جیل میں منگل اور جمعرات کو ملاقات بحال کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کوآرڈینیٹر جو نام دیں گے صرف وہی افراد ملاقات کر سکیں گے اور عمران خان سے ملاقات کے بعد ملاقاتی میڈیا ٹاک نہیں کریں گے۔

  3. ترکی: بدعنوانی کے الزام میں قید اردوغان کے حریف امام وغلو اپوزیشن جماعت کے صدارتی امیدوار نامزد

    ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مخالف اکرم امام وغلو کو ان کی جماعت سی ایچ پی نے2028 کے الیکشن کے لیے صدارتی امیدوار نامزد کر لیا ہے۔

    سی ایچ پی کے چیئرمین ازغر اوزیل کا کہنا ہے کہ صدارتی امیدار کا تعین کرنے کے لیے ہونے والے پرائمری انتخابات میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد نے حصہ لیا ہے۔

    تاہم اگر امام وغلو کے خلاف لگے الزامات میں سے ایک بھی ثابت ہو جاتا ہے تو وہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

    استنبول کے میئر امام وغلو ان 100 سے زیادہ لوگوں میں شامل ہیں جنھیں بدھ سے حراست میں لیا گیا۔ ان میں معروف سیاستدان، صحافی اور کاروباری شخصیات شامل ہیں اور انھیں ایک تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

    پراسیکیوشن امام وغلو پر دہشتگردی اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرتی ہے۔ تاہم وہ خود پر عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے خلاف کیس سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

    ان کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

    خبر رساں ادار اے ایف پی کے مطابق، اتوار کے روز امام وغلو کی گرفتاری کے خلاف ترکی کے 81 میں سے کم از کم 55 صوبوں یا ملک کے دو تہائی حصے میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

  4. پاک افغان بارڈر پر سمگلنگ میں ملوث 50 سے زیادہ بچے گرفتار، عمائدین کی مداخلت پر بچے افغان حکام کے حوالے

    پاک افغان سرحد پر طور خم کے مقام پر اتوار کو اس وقت ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھ گئی جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 50 سے زیادہ افغان بچوں کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے پر حراست میں لے لیا تاہم قبائلی عمائدین کی مداخلت کے بعد انھیں اتوار کی رات کو ہی واپس افغانستان بھیج دیا گیا۔

    مقامی افراد کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں نو عمر لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے جو سرحد پار مختلف قسم کا سامان سمگل کرتے ہیں۔

    لنڈی کوتل تھانے کے ایس ایچ او عدنان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ لگ بھگ 50 بچے سرحد پر لگی باڑ توڑ کر پاکستان میں داخل ہوئے تھے جنھیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے مختلف قسم کا سامان سمگل کرتے ہیں جن میں سگریٹ اور دیگر اشیا شامل ہوتی ہیں۔

    عدنان خان کے مطابق طور خم سرحد پر تقریباً 700 کے لگ بھگ ایسے بچے جو ان کاموں میں ملوث ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مقامی عمائدین اور جرگہ اراکین کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے کوششوں کے بعد ماہ رمضان میں جزبہ خیر سگالی کے تحت ان بچوں کو جرگہ اراکین کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

    مقامی قبائلی رہنما ملک تاج الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ سرحد کھلنے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ ان کے مطابق ان بچوں کو زیرو پوائنٹ پر افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

    ملک تاج الدین کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے بچوں میں 17 بچیاں جبکہ 33 بچے اور نو عمر لڑکے شامل تھے۔

    پاک افغان سرحد پر ماضی میں بڑے پیمانے پر مختلف اشیا کی سمگلنگ کی جاتی تھی لیکن سرحد پر باڑ لگنے سے سمگلنگ میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اب بھی سرحد پر بچے مختلف اشیا سمگل کرتے رہتے ہیں جن میں سگریٹ، نشہ آور اشیا، مختلف قسم کی ادویات اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

    یہ بچے ماضی میں بڑی گاڑیوں اور ٹرکوں کے اوٹ میں چھپ کر یا کنٹنیرز اور ٹرکوں کے نیچے چل چل کر سامان سمگل کیا کرتے تھے۔

  5. صحافی احمد نورانی کے بھائیوں کی بازیابی کا معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا آئی جی پولیس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران تھانہ نون کے ایس ایچ او کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پولیس اسلام آباد کو 26 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    سوموار کے روز احمد نورانی کی والدہ کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس انعام امین منہاس نے کی۔

    ایڈوکیٹ ایمان مزاری احمد نورانی کی والدہ اور بہن کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئی۔

    دوران سماعت جب احمد نورانی کی والدہ روسٹرم پر آئیں تو آبدیدہ ہو گئیں۔

    عدالت میں بات کرتے ہوئے انھوں نے سوال کیا کہ اگر ان کے بچوں کو کچھ ہو جاتا ہے تو کیا ہائی کورٹ ذمہ دار ہو گی؟

    سماعت کے دوران تھانہ نون کے ایس ایچ او نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام دستیاب ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جیوفنسنگ کی ہے اور کال ڈیٹا ریکارڈز بھی منگوائے ہیں۔

    ایس ایچ او کا مزید کہنا تھا کہ احمد نورانی کے بھائیوں کے گھر کے قریب لگے کیمرے بھی چیک کروائے ہیں۔

    جسٹس انعام امین منہاس نے کہا ایس ایچ او سے کہا کہ آپ نے اپنی فائنڈنگ دینی تھی وہ نہیں دی۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ درخوست گذار کی جانب سے مقدمے کے اندراج کی درخواست نہیں آئی ہے۔

    جسٹس منہاس نے کہا کہ ابھی پرچے کی بات نہیں کر رہے، ان کے پاس متبادل فورم موجود ہے۔

    درکواست گذار کی وکیل ایمان مزاری نے سوال کیا کہ پانچ دن سے اگر پولیس پرچہ درج نہیں کر رہی تو تفتیش کیسے کر رہی ہے؟

    جسٹس منہاس کا کہنا تھا کہ وہ آئی جی اسلام آباد کو طلب کر رہے ہیں، وہی تفتیش کروائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اختیار کے مطابق ہی آرڈر کر سکتے ہیں۔

    ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے کہا کہ اس کیس میں ڈائریکٹ الزام خفیہ اداروں پر ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ احمد نورانی کی سٹوری کی وجہ سے ان بھائیوں کو اٹھائے جانے کا الزام ہے۔

    جسٹس منہاس نے کہا کہ وہ کوئی ایسا آرڈر پاس نہیں کریں گےجس پر عمل نا ہو۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 26 مارچ تک ملتوی کردی۔

    گذشتہ ہفتے پاکستانی صحافی احمد نورانی کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر 'حملہ' کر کے احمد کے دو بھائیوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

    کئی برس سے امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی نے بھی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایک خبر پر ان کے خاندان کو نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

    احمد نورانی کی والدہ کی جانب سے اپنے بیٹوں کی بازیابی کے لیے دائر پیٹیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منگل کی رات ایک بج کر پانچ منٹ پر ان کے دو بیٹوں کو بظاہر ملک کے دو خفیہ اداروں کے نامعلوم اہلکاروں نے اغوا کر لیا ہے۔

    درخواست گزار کی جانب سے اس معاملے میں ان اداروں کے ملوث ہونے کے الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’حراست میں لیے گئے دونوں افراد انجینیئرز ہیں اور ان کا اپنے بھائی احمد نورانی کی رپورٹنگ یا تحقیقاتی صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

    احمد نورانی کی والدہ امینہ بشیر کی جانب سے سیکریٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور تھانہ نون کے ایس ایچ او کو فریق بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ صحافی کے دونوں بھائیوں کو فوری طور پر بازیاب کروا کر ہائی کورٹ میں پیش کیا جائے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت فریقین کو حکم جاری کرے کہ وہ صحافی کے بھائیوں کو غیرقانونی حراست میں لینے والوں کی شناخت کریں اور ان کے خلاف تحقیقات کریں۔

  6. روس اور یوکرین کے مابین جنگ بندی: کیا ریاض میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے میں مددگار ثابت ہوں گے؟, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    امریکی مذاکرات کار سوموار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں یوکرینی اور روسی وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔

    واشنگٹن کی کوشش ہے کہ فوری طور پر روس اور یوکرین کے مابین فوری جزوی جنگ بندی ہو جائے اور بعد ازاں دونوں کے درمیان ایک جامع امن معاہدہ طے پا جائے۔

    تو کیا یہ ریاض میں ہونے والے مذاکرات کسی ایسے نتیجے پر پہنچے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جس کی بہت سے لوگ امید کر رہے ہیں؟

    اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ یہ سوال کر کس سے کر رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف کے خیال میں پوتن امن چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ سوموار کو آپ کو سعودی عرب میں کچھ حقیقی پیش رفت دیکھنے کو ملیں گے۔‘

    تاہم کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان مذاکرات سے زیادہ امیدیں نہیں جوڑنی چاہیئیں۔ انھوں نے روسی سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ یہ مذاکرات صرف ایک ابتدا ہے۔

    سنیچر کے روز کیئو کو روسی ڈرونز کے شدید ترین حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے میں ایک پانچ سالہ بچی سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کے روز اپنے خطاب میں کہا، ’ہمیں پوتن پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے کہ وہ ان حملوں کو روکنے کا حقیقی حکم دیں۔‘

    ’جس نے یہ جنگ شروع کی ہے اسے ہی اس کو ختم کرنا ہوگا۔‘

    دوسری جانب بظاہر روس کو جنگ بندی پر دستخط کرنے کی کوئی جلدی دکھائی نہیں دیتی اور ولادیمیر پوتن نے واشنگٹن کی طرف سے تجویز کردہ 30 روزہ جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرنے سے قبل متعدد پیشگی شرائط سامنے رکھی ہیں۔ یوکرین اس مجوزہ جزوی جنگ بندی معاہدے پر راضی ہے۔

    ریاض میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد کی سربراہی ملک کے وزیر دفاع رستم عمروف کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والی بات چیت ’تکنیکی‘ تھی جس کا مقصد توانائی کی تنصیبات اور دیگر انفراسٹرکچر کو محفوظ رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کافی مثبت رہی۔

    بحیرہ اسود کی شپنگ لین بھی زیر بحث ہیں۔ مبینہ طور پر روس اس معاہدے کو بحال کرنے کا خواہشمند ہے جس کے تحت روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں یوکرین کو اپنی بندرگاہوں سے اناج برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی اور اس کے جہازوں پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔

    روس اور یوکرین، دونوں ہی ایک دوسرے کے انفراسٹرکچر تنصیبات پر تباہ کن حملے کر رہے ہیں۔

    روس کی جانب سے مسلسل یوکرین کی بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ یوکرین ڈرون حملوں میں روسی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ اس جنگ کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ 1945 کے بعد ہونے والی یورپ کی بدترین جنگ ہے جس میں دونوں طرف سے لاکھوں افراد ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہیں۔

    یوکرین کی قیادت واشنگٹن کو یہ باور کرانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ وہ امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔

    جب امریکہ نے رواں ماہ جدہ میں ہونے والے مذاکرات میں زمینی، سمندری اور فضا میں 30 دن کی جامع جنگ بندی کی تجویز پیش کی تو یوکرین نے فوری طور پر ان شرائط پر رضامندی ظاہر کر دی۔

    اُس وقت امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ گیند اب روس کے کورٹ میں ہے۔

    ماسکو کو اس جنگ بندی پر راضی کرنے میں ناکامی کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ روس پر زیادہ دباؤ نہیں ڈال رہی ہے۔ کم از کم عوامی سطح پر تو ایسا ہی نظر آتا ہے۔

    ٹرمپ کے حامی صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں، جنگ بندی کے لیے امریکی مہم کی قیادت کرنے والے اسٹیو وِٹکوف یورپ کے مقابلے میں بالکل ایک مختلف موقف اختیار کیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین ایک ’حقیقی ملک نہیں‘ ہے، روس کو اشتعال دلایا گیا اور پوتن اپنے وعدے کا پاس رکھنے والے شخص ہیں جن کا بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔

    نیو یارک کے سابق رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے گولفنگ پارٹنر وِٹکوف نے برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر کی یوکرین میں حتمی امن معاہدے کی حفاظت میں مدد کے لیے ایک فوجی دستے کی تشکیل کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

  7. غزہ ہسپتال پر اسرائیل کا حملہ، حماس کے مالیاتی امور کے سربراہ ہلاک

    حماس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام غزہ میں ایک ہسپتال پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک سینیئر حماس رہنما اور ان کے معاون ہلاک ہو گئے ہیں۔

    عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس کے مالیاتی امور کے سربراہ اسماعیل برہوم خان یونس کے مرکزی طبی مرکز ناصر ہسپتال پر حملے میں مارے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسماعیل برہوم چار روز قبل ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر‘ ہسپتال کے احاطے کے اندر سے کام کرنے والے حماس کے ایک اہم رکن کو نشانہ بنایا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ نقصان کم سے کم ہو۔

    حماس کے زیرِ نگرانی کام کرنے والی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں طبی عملے سمیت متعدد دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارت صحت کا مزید کہنا ہے کہ حملے میں ہسپتال کے اس ڈیپارٹمنٹ کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا ہے جسے خالی کروا لیا گیا ہے۔

    بی بی سی کی طرف سے تصدیق شدہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی حملے کے بعد ہسپتال میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اس سے قبل اتوار کے روز ہی غزہ کے جنوبی شہر خان یونس پر ایک اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے سیاسی رہنما صلاح البردويل ہلاک ہوگئے تھے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں بردويل اور ان کی بیوی دونوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ بردویل حماس کے سیاسی دفتر کے اہم رکن تھے۔

    منگل سے اسرائیلی فوج نے دوبارہ غزہ میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس نے جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع کی پیشکش سے انکار کیا تھا۔ حماس کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے اور کہا کہ اسرائیل نے 19 جنوری کو طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ یہ معاہدہ قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں طے پایا تھا۔

  8. کینیڈین وزیر اعظم کا مُلک میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان

    کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے مُلک میں فوری اور قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا ہے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیے جانے کے بعد کینیڈین عوام اب 28 اپریل کو اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

    مارک کارنی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ’مضبوط مثبت مینڈیٹ‘ چاہتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محصولات کا نفاذ ’ہماری زندگیوں کے سب سے اہم خطرات‘ میں سے ایک ہیں۔

    کارنی کا مزید کہنا تھا کہ ’انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت اقدامات سے نمٹنے اور ایک ایسی معیشت بنانے کے لیے ایک واضح اور مثبت مینڈیٹ کی ضرورت ہے جس سے سب کو فائدہ ہو۔‘

    انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کی نسل خوش قسمت تھی جبکہ آج کے نوجوانوں کو اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے کرایہ اور دیگر اخراجات برداشت کرنے کے لئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔

    کینیڈا کے وزیراعظم کے مُلک میں قبل از وقت انتخابات کے اس اعلان سے مُلک میں ایک انتخابی مہم کا آغاز ہوا ہے جس میں کارنی کو ان کے اہم حریف کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پولییور کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔

    کینیڈین وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پولییور کا نقطہ نظر ڈونلڈ ٹرمپ کے نقطہ نظر سے ’غیر معمولی طور پر ’مماثلت‘ رکھتا ہے۔

    دریں اثنا، کارنی کے اعلان سے پہلے، پولییور نے اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے ٹیکسوں میں کٹوتی، قدرتی وسائل کو ’استعمال‘ کرنے اور کینیڈا میں ملازمتوں کے مواقعے واپس لانے پر زور دیا ہے۔

  9. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کو اگرچہ سنیچر کے روز ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا لیکن اب ان کو ان تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ قتل ہونے والے یہ تینوں افراد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر پولیس کی کریک ڈاؤن کے دوران مارے گئے تھے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد ’بلوائیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔
    • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کلے میں 22 اور 23 مارچ کی درمیانی شب دراندازی کی کوشش کی گئی جس پر سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 16 شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے اہم حریف کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم امام اوغلو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
    • افغانستان میں طالبان حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے انعام کو منسوخ کرتے ہوئے انھیں مطلوب افراد کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔