آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ کا ہنرمند غیر ملکی ملازمین کی ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر کرنے کا اعلان

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملازمت کے لیے امریکہ آنے والے غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے ویزا فیس پندرہ سو ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حکم نامے سے امریکہ میں ٹیک کمپنیاں متاثر ہوں گی جن کی افرادی قوت کا انحصار چین اور انڈیا سے آنے والے ہنر مند افراد پر ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے چھٹی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا ہے جس میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خفیہ شرائط نہیں، کسی دوسرے ملک نے چاہا تو انھیں بھی معاہدے میں شامل کرنے پر غور کر سکتے ہیں: خواجہ آصف
  • فلسطین میں غزہ شہر پر قبضے کے دوران چار اسرائیلی فوجی ہلاک، یمن سے داغا گیا ڈرون اسرائیلی شہر پر آ گِرا
  • صدر ٹرمپ نے انڈیا کو چابہار بندرگاہ سے متعلق دی گئی رعایت واپس لے لی، 'یہ فیصلہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسے تنہا کرنے کی مہم کا حصہ ہے'
  • بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک

لائیو کوریج

  1. فرانسیسی صدر اپنی اہلیہ کے خاتون ہونے سے متعلق ’سائنسی شواہد امریکی عدالت میں پیش کریں گے‘

    ایمانوئل میکرون اور ان کی اہلیہ بریژیت ایک امریکی عدالت میں تصاویر اور سائنسی شواہد پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ بریژیت میکرون ایک خاتون ہیں۔

    ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر اور بریژیت میکرون یہ دستاویزات ایک ہتکِ عزت کے مقدمے میں پیش کریں گے جو انھوں نے دائیں بازو کی انفلوئنسر کینڈیس اوونز کے خلاف دائر کیا ہے، جنھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بریژیت میکرون مرد پیدا ہوئی تھیں۔

    مس اوونز کے وکلاء نے اس دعوے کو خارج کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

    بی بی سی کے پوڈکاسٹ ’فیم انڈر فائر‘ سے بات کرتے ہوئے میکرون کے وکیل ٹام کلیئر نے کہا کہ بریژیت میکرون نے ان دعوؤں کو ’انتہائی تکلیف دہ‘ قرار دیا ہے اور یہ فرانسیسی صدر کے لیے ایک ’مُشکل اور تکلیف دہ‘ وقت ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں یہ تجویز نہیں دینا چاہتا کہ اس نے کسی طرح سے ان کے کام کو متاثر کیا ہے۔ لیکن جس طرح کوئی بھی شخص کیریئر اور خاندانی زندگی کو ساتھ لے کر چلتا ہے، جب آپ کے خاندان پر حملہ ہوتا ہے تو یہ آپ پر اثر ڈالتا ہے اور وہ اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں صرف اس لیے کہ وہ ایک ملک کے صدر ہیں۔‘

    کلیئر نے کہا کہ ’ماہرین کی شہادت پیش کی جائے گی جو سائنسی نوعیت کی ہوگی‘ اور اگرچہ وہ اس مرحلے پر اس کی نوعیت کو ظاہر نہیں کریں گے، انھوں نے کہا کہ یہ جوڑا مکمل طور پر یہ دکھانے کے لیے تیار ہے کہ ’یہ الزامات‘ جھوٹے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ آپ کو ’اپنے بارے میں اس قسم کے ثبوت پیش کرنے پڑیں۔‘

  2. ٹرمپ نے انڈیا کو چابہار بندرگاہ سے متعلق دی گئی رعایت واپس لے لی، ’یہ فیصلہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسے تنہا کرنے کی مہم کا حصہ ہے‘

    امریکہ نے ایران پر ’دباؤ‘ بڑھانے اور اسے ’تنہا‘ کرنے والی مہم کے تحت چابہار بندرگاہ میں نئی دہلی کو دی جانے والی چھوٹ واپس لے لی ہے۔ صدر ٹرمپ نے مودی کو یہ چھوٹ اپنے پہلے دور صدارت میں سنہ 2018 میں دی تھی۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس رعایت کو واپس لے لیا ہے اور اس حوالے سے حکمنامہ جاری کر دیا ہے اور اگر اب کوئی ایران سے اس معاملے میں شراکت داری آگے بڑھائے گا تو اسے عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس امریکی فیصلے کا اطلاق 29 ستمبر 2025 سے ہوگا۔

    اس سے پہلے امریکا نے انڈیا پر روسی تیل کی خریداری نہ روکنے پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھانے کا حکم دیا اور اب یہ چند دن میں انڈیا کے خلاف ٹرمپ کا ایک اور بڑا اقدام ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں مقیم متعدد افراد اور اداروں کے ساتھ ایک بین الاقوامی غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے ذریعے ایران کی تخریبی سرگرمیوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’ان نیٹ ورکس نے ایرانی تیل کی فروخت میں سہولت فراہم کی ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس آئی آر جی سی-کیو ایف اور وزارت دفاع اور مسلح افواج کی لاجسٹک ایم او ڈی اے ایف ایل کو فائدہ پہنچا ہے۔‘

    امریکا کے مطابق ’یہ رقوم علاقائی دہشت گرد آلہ کاروں کی مدد اور اسلحے کے نظام کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جو امریکی افواج اور ہمارے اتحادیوں کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔‘

    محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کی ضرررساں سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے غیر قانونی فنڈنگ کے ذرائع کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جب تک ایران اپنی غیر قانونی آمدنی امریکہ اور ہمارے اتحادیوں پر حملوں کی مالی معاونت، دنیا بھر میں دہشت گردی کی حمایت اور دیگر تخریبی اقدامات کے لیے تعاون کرتا ہے تو ہم ایرانی حکومت کو جوابدہ بنانے کے لیے تمام تر ذرائع استعمال کرتے رہیں گے۔‘

    چابہار انڈیا کے لیے افغانستان اور وسط ایشیا تک رسائی کا اہم تجارتی راستہ ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس انڈیا اور ایران کے درمیان چابہار بندرگاہ کے انتظامات چلانے کے لیے ایک دس سالہ معاہدہ طے پایا تھا۔

    انڈیا کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا لیکن امریکا نے اس معاہدے کے حوالے سے انتباہ جاری کیا تھا کہ ایران سے جو بھی ملک کسی بھی طرح کا تجارتی معاہدہ کرتا ہے اسے ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے بھی آگاہ رہنا چاہیے۔

    انڈیا نے امریکہ کی اس وارننگ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ امریکی انتطامیہ کے ترجمان کے پاس اس معاملے کے حوالے سے درست معلومات موجود نہیں اور یہ کہ امریکا پابندیوں کی بات کر کے تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کرے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی کے سنہ 2016 میں ایران کے دورے کے دوران انڈیا، ایران اور افغانستان کے درمیان چابہار کی ’شہید بہشتی بندرگاہ‘ پر انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ اور ٹرانزٹ کوریڈور تعمیر کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    انڈیا ایرانی حکومت کے ساتھ اس بندرگاہ کے پہلے مرحلے کی تعمیر میں بھی تعاون کر رہا ہے۔

    امریکہ نے ایران کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں لیکن انڈیا کی حکومت نے امریکہ کی سابقہ ٹرمپ انتطامیہ سے مذاکرات کے بعد چابہار بندرگاہ کی تعمیر کے لیے استثنیٰ یعنی چھوٹ حاصل کر لی تھی۔

    یہ انڈیا کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی لیکن اس چھوٹ کے باوجود اس پراجیکٹ میں کافی تاخیر ہوئی کیونکہ بندرگاہ تعمیر کرنے میں مہارت رکھنے والی متعلقہ بین الاقوامی کمپنیاں امریکی پابندیوں اور بلیک لسٹ ہونے کے خوف سے ایران میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔

    مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  3. بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں بم دھماکے کے ایک واقعے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنرچمن امیتاز بلوچ نے بتایا کہ واقعہ بارڈر کے قریب ٹیکسی سٹینڈ پر پیش آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سٹینڈ کے ساتھ ایک دکان کے قریب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ بعد میں زخمی ہونے والا شخص بھی زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔

    چمن پولیس کے ایس ایچ او ولی کاکڑ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دو افراد کی شناخت ہوئی ہے جو کہ چمن کے مقامی تھے۔

    حکومت بلوچستان نے چمن ٹیکسی سٹینڈ پر بم دھماکے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق دھماکے کے بعد لیویز فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا۔

    حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے ذریعے دھماکے کی نوعیت اور محرکات کا تعین کیا جا رہا ہے۔

    اعلامیے میں حکومت بلوچستان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ تحقیقات کو مؤثر اور جلد مکمل کیا جاسکے۔

  4. بلوچستان: ضلع کیچ میں بم حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک، 27 زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں بم حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 27 زخمی ہو گئے ہیں۔

    سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو ان اہلکاروں کو دشت کُھڈان کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

    دشت سے تعلق رکھنے والے انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کُھڈان کے علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کو اس وقت بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جب بسوں سمیت دیگر گاڑیوں پر مشتمل ان کا قافلہ یہاں سے گزر رہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد ایک پک اپ گاڑی میں نصب تھا جس کو قافلے میں شامل ایک گاڑی کے ساتھ ٹکرایا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کا یہ قافلہ تربت شہر کی جانب جا رہا تھا۔

    اس واقعے کے حوالے سے بلوچستان میں انتظامیہ کے ایک اور سینیئر اہلکار نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ یہ حملہ خودکش تھا اور ایک گاڑی میں سوار حملہ آور نے گاڑی کو قافلے میں شامل ایک بس سے ٹکرایا۔

    اُنھوں نے بتایا کہ اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں 12 کی حالت تشویشناک ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس واقعے میں دو عام شہریوں کی بھی ہلاکت ہوئی ہے تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

    واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    دشت کُھڈان ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے اندازاً 65 کلو میٹرمغرب میں ایم 8 شاہراہ پر واقع ہے۔

    ضلع کیچ کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ حالات کی خرابی کے بعد سے شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔ تین روز قبل اس علاقے میں ڈکیتی کا بھی واقعہ پیش آیا تھا جس میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک سکیورٹی کمپنی کی گاڑی سے دو بینکوں کے 22 کروڑ روپے سے زائد لوٹ لیے تھے۔

    گزشتہ پیر کو ضلع میں ایک دیسی ساختہ بم حملے میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیپٹن سمیت پانچ اہلکار جان کی بازی ہار گئے تھے۔

  5. امریکہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

    لندن میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک چھوٹی سی بریکنگ نیوز ہو سکتی ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنا فوجی اڈہ واپس چاہتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں سے چین اپنے جوہری ہتھیار بناتا ہے۔‘

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے اپنے ملک کی افواج کے انخلا کے بعد سے متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں بگرام فوجی اڈہ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔

    تقریباً دو دہائیوں تک یہ اڈہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑائی کا مرکز رہا۔ یہ 77 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جبکہ اس میں موجود بیرکس اور رہائش گاہیں ایک وقت میں 10 ہزار سے زیادہ فوجیوں کو پناہ دے سکتی ہیں۔

    بگرام اڈے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں تین امریکی صدور اس اڈے کا دورہ کر چکے ہیں جن میں جارج ڈبلیو بش، براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ شامل ہیں۔ جو بائیڈن نے سنہ 2011 میں بگرام ایئربیس کا دورہ کیا تھا تاہم اُس وقت وہ امریکہ کے نائب صدر تھے۔

    سوویت یونین نے یہ فوجی اڈہ 1950 کی دہائی میں صوبہ پروان میں قائم کیا تھا۔ بگرام 1980 کی دہائی میں افغانستان پر قبضے کے دوران سوویت افواج کا انتہائی اہم اڈہ سمجھا جاتا تھا۔

    11 ستمبر کے حملوں اور امریکہ کی طرف سے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا اعلان کرنے کے بعد، امریکی افواج دسمبر 2001 میں اس اڈے میں داخل ہوئیں اور یہاں قابض ہو گئیں۔

  6. خضدار میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں چار دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشن میں چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کے دوران فورسز نے مؤثر طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا پتہ لگایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، یہ دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے۔

  7. غزہ کو ’ریئل سٹیٹ‘ میں تبدیل کرنے کا ’بزنس پلان‘ اب بھی صدر ٹرمپ کی میز پر ہے: اسرائیلی وزیر خزانہ

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی ’ریئل سٹیٹ` کے لیے بہترین ہے اور جنگ ختم ہونے کے بعد علاقے کی تقسیم کے بارے میں امریکہ سے بات چیت جاری ہے۔

    جمعرات کو تل ابیب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سموٹریچ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ’بزنس پلان‘ صدر ٹرمپ کی میز پر ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے غزہ میں انہدام کا عمل مکمل کر لیا ہے اور اب تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل اس نوعیت کے بیانات کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

    صدر ٹرمپ نے فروری میں غزہ کی ملکیت حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

    اس منصوبے میں غزہ کے شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا کہا گیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گا۔

    امریکہ اور اسرائیل نے کہا ہے کہ اس میں ’رضاکارانہ‘ ہجرت شامل ہوگی۔ بی بی سی نے سموٹریچ کے ریمارکس پر تبصرے کرنے کے لیے امریکی محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔

    ٹرمپ کے منصوبے کو فلسطینیوں، عرب ریاستوں اور بین الاقوامی برادری نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔ بعد میں وائٹ ہاؤس نے بھی اسے مسترد کر دیا تھا۔ ٹرمپ نے جولائی میں اسے ایک ایسا تصور قرار دیا تھا جسے اُن کے بقول بہت سے لوگوں نے پسند کیا تھا، لیکن کچھ لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا تھا۔

    رواں ماہ کے آغاز پر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ اس منصوبے کا ایک حصہ دوبارہ زیر بحث ہے اور اس میں غزہ کو کم ازکم دس برس تک امریکہ کے زیر انتظام ایک ٹرسٹ میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ اس دوران اسے ایک سیاحتی مرکز اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ ہب میں تبدیل کیا جائے گا۔

    اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ غزہ میں 92 فیصد ہاؤسنگ یونٹس کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ 91 فیصد سکولوں کو دوبارہ مکمل طور پر تعمیر کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں 86 فیصد زرعی زمین بھی اب کاشت کے قابل نہیں رہی۔

    اقوام متحدہ نے فروری میں تخمینہ لگایا تھا کہ اگلے 10 سالوں میں اس علاقے کی تعمیر نو پر 53 ارب ڈالرز لاگت آئے گی۔

    سموٹریچ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اس جنگ کے لیے بہت زیادہ رقم ادا کی ہے۔ لہذا ہمیں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم بعد میں زمین کی مارکیٹنگ کے لیے کتنے فیصد کے حصہ دار ہوں گے۔

    اسرائیل کی مذہبی صیہونی پارٹی کے رہنما سموٹریچ ایک الٹرا نیشنلسٹ ہیں جن پر برطانیہ اور دیگر ممالک نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو بار بار اکسانے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

  8. فینٹینیل کی سمگلنگ کا الزام: انڈین کمپنی کے عہدے داروں اور اہلخانہ کے امریکی ویزے منسوخ

    امریکی محکمہ خزانہ نے امریکہ میں فینٹینیل کی سمگلنگ کے الزام میں انڈین کمپنی کے عہدے داروں اور اہلخانہ کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔

    امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں فینٹینیل اور اس سے منسلک دیگر منشیات کو روکنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث افراد یا اس ضمن میں سہولت فراہم کرنے والوں کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ہم اُن حکومتوں کے شکرگزار ہیں، جو اس معاملے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔

    دلی میں امریکی سفارت خان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق فینٹینیل کی سمگلنگ کے الزام پر انڈین کمپنیز سے منسلک عہدے داروں اور اُن کے اہلخانہ کی ویزہ درخواستیں بھی مسترد کی گئی ہیں۔ تاہم بیان میں انڈین کمپنیوں کے نام یا عہدے داروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

    فینٹینیل یوں تو شدید درد اور تکلیف میں مبتلا مریضوں خاص کر کینسر کے مریضوں اور سرجری کروانے والوں کے لیے درد کش دوا ہے لیکن گذشتہ ایک دہائی کے دوران فینٹینل کی پیداوار میں آسانی کے باعث اب یہ اتنا مہلک نشہ بن چکا ہے کہ امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق 2023 میں فینٹینل اوور ڈوز کے باعث ملک میں کم سے کم ایک لاکھ 12 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    فینیٹینل کیا ہے اور یہ انسانی جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

    پہلی بار سنہ 1959 میں تیار کردہ اور 1960 کی دہائی میں نس کے ذریعے درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی فینٹینیل کو اپنی مختلف شکلوں (گولیاں، پیچ، انجیکشن وغیرہ) میں ایک بے ہوشی کی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اور سرجری یا پیچیدہ صحت کی حالت کی وجہ سے ہونے والے شدید اور پرانے درد کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    لاہور میں ایک طویل عرصے سے کام کرنے والے ایڈکشن سپیشلسٹ اور ولنگ ویز کے سی ای او ڈاکٹرصداقت علی کے مطابق اوپیوئڈز افیون کے پھول یعنی پوپی سے نکالے گئے سنتھیٹک اجزا اور نیچرل طریقے دونوں طرح سے تیار ہوتے ہیں۔ ان میں ہیروئن، مورفین، کوڈین، اور سنتھیٹک اوپیوئڈز جیسے فینٹینل شامل ہیں۔

    ہیروئن یا مورفین جیسی دیگر اوپیئڈز کی طرح فینٹینیل دماغ کے ان حصوں میں پائے جانے والے ’اوپیئڈ ریسیپٹرز‘ کے ساتھ جا کر ایسے ملتا ہے جو درد اور جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر صداقت علی کے مطابق ’اوپیوئڈز دماغ میں موجود اوپیوئڈ ریسیپٹرز کے ساتھ خود کو ایسے جوڑتے ہیں کہ درد کا احساس کم ہو جاتا ہے اور خوشی اور سکون کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔‘

    اوپیئڈز کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ یہ مادہ دماغ میں کتنی جلدی داخل ہوتا ہے اور کتنی جلدی ایسا کرتا ہے۔

  9. خیبرپختونخوا: باجوڑ کی تحصیل ماموند میں عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کا عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔ اس دوران 13 دیہات کو شدت پسندوں سے کلیئر کروا لیا گیا اور نقل مکانی کرنے والے افراد کو اپنے گھروں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 22 دیہات ایسے ہیں جہاں مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں۔

    ان دیہات میں شدت پسندوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں تاہم سرکاری زرائع کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں اور جلد یہ علاقے بھی کلیئر کر دیے جائیں گے۔

    باجوڑ کی تحصیل ماموند میں مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں گزشتہ ماہ شروع کی گئی تھیں اور 36 دیہات سے لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ ان علاقوں سے 22657 خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

    متاثرہ خاندانوں کے لیے باجوڑ میں سکولوں اور دیگر مقامات پر کیمپ اور خیمہ بستیاں قائم کی گئی تھیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے تھے۔

  10. ’سپریم کورٹ سے صرف 31 کلومیٹر دُور ہوں، لیکن انصاف کے دروازے میرے لیے بند ہیں‘: عمران خان کا چیف جسٹس کو خط

    سابق وزیراعظم عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھ کر اپنے اور اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک کو انصاف اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے صرف 31 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوں مگر میرے اور میری اہلیہ کے لیے انصاف کے دروازے بند ہیں۔ 772 دنوں سے، ایک 9x11 کے پنجرے میں مسلسل تنہائی کی قید کاٹ رہا ہوں۔‘

    خط میں عمران خان نے مزید کہا کہ ’میرے بیٹے اپنے والد سے فون پر بات کرنے کے حق سے محروم ہیں۔ یہ کوئی قانونی سزا نہیں بلکہ نفسیاتی تشدد ہے جس کا مقصد میرا حوصلہ توڑنا اور 25 کروڑ عوام کی روح کو کچلنا ہے۔‘

    عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت دیں کہ ان کی القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کریں۔

    بانی پی ٹی آئی نے خط میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2024 میں قرار دیا کہ بھٹو کے مقدمے میں شفاف ٹرائل اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ فیصلے بروقت ہوں، تاخیر سے انصاف، انصاف نہیں ہوتا۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹوں کو جیل مینوئل کے مطابق ٹیلی فونک کالز کی اجازت دی جائے اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈاکٹر تک رسائی دی جائے۔

    عمران خان نے خط کے آخر میں کہا کہ ’آج پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ صرف آئین کے دیے ہوئے انصاف، وقار اور مساوات کا طالب ہوں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اپنے حلف کی پاسداری کریں اور عوام کو یقین دلائیں کہ سپریم کورٹ پاکستان میں انصاف کی آخری پناہ گاہ ہے۔‘

    یہ خط عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے چیف جسٹس کو پہنچایا۔

  11. سنگل بینچ کا فیصلہ معطل، چیئرمین پی ٹی اے عہدے پر بحال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو اُن کے عہدے پر بحال کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رُکنی بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن کو کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس نے حکم جاری کیا۔

    سنگل بینچ فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان سے 64 افراد میں مقابلہ تھا جس میں سے 24 امیدوارواں نے کوالیفائی کیا۔ اہلیت کے معیار پر سختی سے عمل ہوا، کوئی امیدوار عدالت نہیں آیا۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورت کے جج جسٹس بابر ستار نے منگل کو میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے پی ٹی اے کے کسی سینئر رُکن کو چیئرمین لگانے کی ہدایت کی تھی۔

    میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن کو مئی 2023 میں چیئرمین پی ٹی اے لگایا گیا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں اُن کی تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔

  12. افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل جاری: ’کسی بھی مرحلے پر توہین آمیز رویے ہرگز برداشت نہیں ہوگا‘ میر سرفراز بگٹی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان حکومت افغان مہاجرین کے انخلاء کی وفاقی حکومت کی پالیسی پر بھرپور عملدرآمد کرا رہی ہے۔

    یہ بات ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت افغان مہاجرین کے انخلاء اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ کے امن و امان پر اعلیٰ سطح اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتائی۔

    ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بتایا کہ انخلاء کے عمل میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے افغان مہاجرین کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ انخلاء کے عمل کے دوران خواتین، بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ کسی بھی مرحلے پر توہین آمیز رویہ ہرگز برداشت نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ توہین آمیز رویوں کی شکایات پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ مہاجر خواتین کی معاونت و سہولت کے لئے عارضی بنیادوں پر فیمیل سکیورٹی اہلکار بھرتی کیے جائیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قلعہ عبداللہ سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں لیویز اور پولیس ایریاز کی تقسیم سے قطع نظر بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

  13. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حریت رہنما پروفیسر بٹ کی وفات، اہل خانہ کو راتوں رات تدفین کی ہدایت, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 90 سالہ حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ بدھ کی شب سوپور میں وفات پا گئے ہیں۔

    اُن کی وفات پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ، سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا اور اہلخانہ سے تعزیت کی۔

    جیسے ہی پروفیسر بٹ کی وفات کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، سوپور میں انڈین پولیس نے اُن کے خاندان سے کہا کہ پروفیسر بٹ کی تدفین فوری طور پر کر دی جائے اور اس کے لیے انتظامیہ کی جانب سے رات ساڑھے گیارہ بجے کا وقت بھی دیا گیا۔

    پروفیسر بٹ کے ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ ’ہمیں کہا گیا کہ کچھ شرپسند عناصر جنازے میں بدمزگی پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے رات کو ہی تدفین کی جائے اور بہت زیادہ ہجوم بھی نہ اکٹھا ہونے دیا جائے۔‘

    جمعرات کو پولیس نے حزبِ اختلاف کی رہنما محبوبہ مفتی، حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق اور دوسرے سیاسی رہنماوٴں کو نظربند کر دیا اور سوپور جانے والے سبھی راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی۔

    محبوبہ مفتی نے ایکس پر ریاستی انتظامیہ کی جانب سے ان انتظامات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’سیاسی لیڈرشپ کو نظربند کرنے کا فیصلہ جموں کشمیر کی جارحانہ اور غیرجمہوری حقیقت کا اظہار ہے۔ حالیہ دنوں میں حضرت بل میں لوگوں نے جس طرح غصے کا اظہار کیا یہ لوگوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی کا ردعمل تھا، لیکن بی جے پی ان حقائق سے آنکھیں چُراتی ہے اور برسوں سے عوام کے اندر پیدا ہونے والے غم اور غصے سے کچھ بھی سیکھنے پر آمادہ نہیں ہے۔‘

    پروفیسر بٹ کون تھے؟

    پروفیسر عبدالغنی بٹ سنہ 1935 میں کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور کے بٹنگو گاوٴں میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے سوپور کے ڈگری کالج سے گریجویشن کے بعد انڈیا کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارسی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، لیکن وہ اُردو اور انگریزی ادب کے بھی ماہر تھے۔ بعد ازاں میں وہ کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کے محکمہ میں فارسی کے پروفیسر تعینات ہوئے۔

    پروفیسر بٹ کے ایک طالب علم اور مصنف ڈاکٹر غلام قادر لون کہتے ہیں کہ ’شمالی کشمیر کے بارہمولہ، بانڈی پورہ اور کپوارہ کو کمراز کہتے ہیں۔ پروفیسر صاحب کو یہاں دانشورِ کمراز کہتے تھے۔ شعروادب، فلسفہ اور تاریخ میں دلچسپی رکھنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کے سیاسی حالات سے متعلق بٹ صاحب کافی حساس تھے۔ انھیں ان کی صاف گوئی کی وجہ سے ہی سنہ 1986 میں اُس وقت کے گورنر جگموہن نے نوکری سے برخاست کردیا۔ وہ اُس وقت سوپور ڈگری کالج میں فارسی کے پروفیسر تھے۔‘

    واضح رہے سنہ 1986 میں انڈیا میں بی جے پی نے بابری مسجد گرانے کے لئے پیدل مارچ شروع کیا تھا اور مسجد کے احاطے میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

    اس واقعہ پر کشمیر میں طلبا نے مظاہرے کئے۔ پروفیسر بٹ نے کئی جلسوں سے خطاب کیا اور اس حرکت کی مذمت کی۔ اُس وقت کے گورنر جگموہن نے پروفیسر بٹ، پروفیسر محمد اشرف صراف اور پروفیسر غلام رسول بچہ کو نوکریوں سے برخاست کردیا۔

  14. اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ ہو سکتا ہے: احمد الشرع

    شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتیجے میں ایک سکیورٹی معاہدہ ’آنے والے دنوں میں‘ طے پا سکتا ہے۔

    انھوں نے دمشق میں صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ سکیورٹی معاہدہ ایک ’ضرورت‘ ہے، بشرطیکہ یہ شامی فضائی حدود اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے اور یہ سب اسلامی قانون کے مطابق اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو۔‘

    الشرع نے کہا کہ ’جولائی میں شام اور اسرائیل ایک سکیورٹی معاہدے کے بہت قریب تھے کہ صوبہ سویڈا کے جنوب میں ہونے والی ایک کارروائی نے ان مذاکرات کو متاثر کیا۔‘

    شام اور اسرائیل اس وقت ایسے معاہدے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے بارے میں دمشق کو اُمید ہے کہ اس کے نتیجے میں اسرائیلی فضائی حملے رک جائیں گے اور جنوبی شام تک پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ جائیں گی۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے شامی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی رہنماؤں کی ملاقات سے قبل ایک معاہدہ طے کر لے۔

    لیکن الشرع نے نیویارک کے مجوزہ دورے سے قبل صحافیوں، جن میں ایک رائٹرز کے نمائندے بھی شامل تھے، کو اس بات کی تردید کی کہ امریکہ شام پر کوئی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دراصل ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ 8 دسمبر سے جس دن الشرع کی قیادت میں ہونے والے آپریشن نے سابق شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹا، اسرائیل شام میں ایک ہزار سے زیادہ فضائی حملے اور 400 سے زائد سرحد کی خلاف ورزی کر چُکا ہے۔

  15. دونوں ممالک کے درمیان تجارت، کاروباری تعلقات اور مستقل حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: شہباز شریف

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی ولی عہد سے ملاقات اور اہم ’سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کے بعد ایکس پر اپنے ایک پیغام میں سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا اور حالیہ ملاقات اور دورے کو دونوں مُمالک کے درمیان انتہائی اہم قرار دیا۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’میں اپنے عزیز بھائی، سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ریاض میں سرکاری دورے کے موقع پر پرجوش استقبال پر بے حد شکر گزار ہوں۔‘

    واضح رہے کہ بدھ کے روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ (جوائنٹ سٹریٹجک ڈیفنس ایگریمننٹ) پر دستخط ہوئے، جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

    وزیراعظم پاکستان نے ایکس پر مزید لکھا کہ ’ہم دونوں (سعودی ولی عہد اور وزیراعظم) کے درمیان ہونے والی ملاقات میں متعدد مسائل زیر غور آئے، جس میں علاقائی چیلنجز کا جائزہ اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے امکانات شامل تھے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے میں ولی عہد کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان سعودی سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کو بڑھانے میں ان کی گہری دلچسپی کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔‘

    تاہم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس اہم نوعیت کے معاہدے پر انڈیا کی جانب سے بھی ردِعمل سامنے آیا ہے جس میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا تھا کہ انھیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور اس پیش رفت (دفاعی معاہدے) کے بارے میں اطلاعات تھیں اور اُن پر غور بھی کیا جا رہا تھا۔

  16. پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ: ’انڈیا کو اس پیش رفت کے بارے میں اطلاعات تھیں اور اس پر غور بھی کیا جا رہا تھا‘

    انڈیا کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور اس پیش رفت (دفاعی معاہدے) کے بارے میں اطلاعات تھیں اور اُن پر غور بھی کیا جا رہا تھا۔

    انڈین وزارتِ خارجہ نے یہ بیان پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اہم ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر ردِعمل دیتے ہوئے جاری کیا ہے۔

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بیان میں مزید کہا کہ ’ہمیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ (جوائنٹ سٹریٹجک ڈیفنس ایگریمننٹ) پر دستخط سے متعلق اطلاعات ملی ہیں۔‘

    انڈین وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس اہم پیش رفت کے اپنی قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی استحکام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کے ممکنہ اثرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور اس پر کام جاری رہے گا۔ انڈین حکومت اپنے مفادات کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔‘

    پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

    پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی شراکت داری سے متعلق اس معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے حملے کے بعد سے عرب ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔

  17. پاکستان سعودی عرب کے درمیان سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس 157000 پوائنٹس کی حد عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کی گیا اور مارکیٹ انڈیکس میں 1000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس 157302 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    آج یعنی بروز جمعرات مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور کاروبار کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کا رجحان غالب رہا۔

    مارکیٹ تجزیہ کار پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ پاکستان کے سفارتی اور معاشی میدان میں ہونے والی پیش رفت کو قرار دیتے ہیں جس میں سب سے نمایاں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹرٹیجک دفاعی معاہدہ ہے۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کا مارکیٹ میں کاروبار پر مثبت اثر ہوا۔ انھوں نے ملک کے سفارتی میدان میں ہونے والی یہ پیش رفت پاکستان کے لیے بہت نمایاں ہے اور سٹاک مارکیٹ نے اس خیر مقدم کیا۔

    جبران نے بتایا کہ اس طرح آئی ایم ایف کا مشن آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے جس میں پاکستان کے ساتھ پروگرام کا جائزہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے مکمل ہونے کا امکان ہے جس کے پاکستان کے لیے اگلی قسط کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

    انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان گیس و تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے سلسلے میں بھی ایک پیش رفت سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے تیل و گیس کی کمپنیوں کے حصص اور کاروبار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گی ہے۔

  18. بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل تُمپ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی بازیاب, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل تُمپ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی بازیاب ہوگئے۔

    ڈپٹی کمشنتر کیچ بشیربڑیچ نے ان کی بازیابی کی تصدیق کی تاہم اس سلسلے میں انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی۔

    محمد حنیف نورزئی شورش سے متاثرہ ضلع کیچ کی تحصیل تمپ میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

    وہ اپنی فیملی کے ہمراہ چار جون کو عید منانے کے لیے پمجگور کے راستے بذریعہ روڈ کوئٹہ آرہے تھے کہ ضلع کیچ کی حدود میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کو اغوا کیا تھا۔ بعد ازاں اغوا کاروں نے ان کی فیملی، ڈرائیور اور گن مین کو چھوڑ دیا تھا۔

    ان کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔

    اگرچہ سرکاری حکام نے بدھ کی شب ان کی بازیابی کی تصدیق کی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کی بازیابی کس طرح ہوئی۔

    ان کے بعد اگست کے مہینے میں بلوچستان کے ضلع زیارت کی تحصیل زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل باقی اور ان کے صاحبزادے کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔

    تاہم ان دونوں کی بازیابی تاحال ممکن نہیں ہوسکی۔

  19. اسرائیلی فوج کا غزہ شہر میں 150 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، 63 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    اسرائیلی فوج نے دو روز قبل غزہ شہر پر قبضے کے لیے اپنی زمینی کارروائی کا آغاز کیا جس کے بعد اب اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ انھوں نے غزہ شہر پر کارروائی کے بعد سے اب تک ’150 سے زائد اہداف‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’گزشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیلی فضائیہ اور زمینی فوج میں شامل توپ خانے نے غزہ شہر بھر میں حماس کے زیر استعمال 150 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے تاکہ علاقے میں موجود زمینی افواج کے لیے اس آپریشن کو مزید تیز کرنے میں مدد کی جا سکے۔‘

    غزہ کے محکمہ صحت نے کہا کہ بدھ کو اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ میں پورے علاقے میں کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر کا تعلق غزہ شہر سے تھا۔

    اس سے قبل آئی ڈی ایف نے اعلان کیا تھا کہ زمینی کارروائی کے پھیلاؤ اور غزہ کی سب سے بڑے شہروں پر بمباری میں شدت کے بعد غزہ سٹی کے رہائشیوں کے انخلا کے لیے ایک ’عارضی راہداری‘ قائم کی گئی ہے۔

    حماس کے زیرانتظام وزارتِ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہہ کہ سنہ 2023 سے اب تک علاقے میں جنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 65,062 تک پہنچ گئی ہے۔

    فوج کے ترجمان آویخائے اَدریئی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جنوب کی طرف نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے صلاح الدین سٹریٹ کے ذریعے ایک عارضی راستہ کھولا گیا ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’اس راستے کو استعمال کرنے کے لیے صرف ’48 گھنٹوں‘ کا وقت دیا جا رہا ہے جو بدھ کی دوپہر سے شروع ہو کر جمعے کی دوپہر کو ختم ہوگا۔‘

    اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اطلاع دی ہے کہ ’آئی ڈی ایف کی 36ویں ڈویژن کے آنے والے دنوں میں فوجی آپریشن میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ غزہ شہر پر قبضے کے لیے جاری یہ آپریشن ’دو سے تین ماہ‘ تک جاری رہ سکتا ہے۔‘

    اسرائیلی فوجی ذرائع نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’حماس کا کمانڈ سینٹر غزہ شہر میں واقع ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ تحریک کے فوجی کمانڈر عزالدین الحداد وہاں ایک سرنگ کے اندر موجود ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر کے جنوب میں صلاح الدین سٹریٹ کے ذریعے ایک ’عارضی راہداری‘ کھولنے کے اعلان کے باوجود متعدد رہائشیوں نے اس سڑک کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کی ہے اور اپنے گزشتہ تجربات کو یاد کیا ہے جنھیں انھوں نے ’خطرناک اور المناک‘ قرار دیا۔

    غزہ کے رہائشی محمد الکحلوت نے بی بی سی کے ’غزہ ٹوڈے‘ پوڈکاسٹ کو بتایا کہ ’اسرائیلی فوج پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے بھی نقل مکانی کے دوران متعدد عام شہری گرفتار کر لیے گئے تھے اور کچھ لاپتہ ہو گئے تھے۔ صلاح الدین روڈ بہت مشکل اور خطرناک تھی اور کوئی بھی اپنی یا اپنے خاندان والوں کی جان خطرے میں نہیں ڈالے گا جب تک کہ اسے مکمل یقین نہ ہو جائے کہ یہ راستہ محفوظ ہے۔‘

    دوسری جانب بدھ کے روز برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ غزہ کے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ برطانیہ پہنچ گیا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ سے ان بیمار بچوں کو ایک مہم کے تحت لایا گیا ہے تاکہ انھیں ہنگامی طور پر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    حکومت کا مزید کہنا ہے کہ ’ایک سرکاری ٹاسک فورس نے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے ایک ’پیچیدہ آپریشن‘ کے بعد بیمار بچوں اور اُن کے خاندان کے افراد کو غزہ سے نکالا اور نیشنل ہیلتھ سروس کی جانب سے شروع کیے جانے والے ایک پروگرام کے تحت برطانیہ پہنچایا گیا۔‘

    عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دس بچوں کو ’انتہائی نازک حالت‘ میں غزہ سے برطانیہ منتقل کرنے مںی معاونت فراہم کی ان بچوں کے ساتھ 50 تیماردار بھی ہیں۔‘

    برطانیہ کی سیکریٹری آف سٹیٹ یویٹ کوپر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ غزہ کا نظامِ صحت ’تباہ ہو چکا ہے‘ اور ’ہسپتال اب مزید کام نہیں کر رہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ بچوں کی آمد ’ہمارے انسان دوست اقدامات کے عزم اور بین الاقوامی تعاون کی طاقت کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم غزہ میں طبی سہولتوں اور صحت کے کارکنوں کے تحفظ اور وہاں ادویات اور سامان کی بڑی مقدار میں ترسیل کے مطالبے کو دہراتے رہیں گے۔‘

  20. پاکستان اور سعودی عرب باہمی دفاعی معاہدہ، دونوں ملکوں میں عمارتیں سجا دی گئیں

    سعودی عرب اور پاکستان کے مابین بدھ کے روز ’سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ (جوائنٹ سٹریٹجک ڈیفنس ایگریمننٹ) پر دستخط کی خوشی میں دونوں ملکوں میں سرکاری عمارتوں اور اہم مقامات کو سجایا گیا ہے۔

    بدھ کے روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق طے پائے جانے والے معاہدے کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، دونوں ملکوں کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد سعودی عرب کے مختلف شہروں میں نمایاں عمارتوں اور مقامات کو سعودی عرب اور پاکستان کے جھنڈوں سے مزین کیا گیا۔

    دوسری جانب، پاکستان کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے بھی ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں دارالحکومت اسلام آباد کی مختلف سڑکوں، عمارتیں اور اہم مقامات کو قومی پرچموں اور دلکش روشنیوں سے سجا دکھایا گیا ہے۔