'اے مودی خرم کی جان چھوڑ دو'

    • مصنف, حسین عسکری
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، لندن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

برطانیہ کے مشہور میوزک بینڈ پنِک فلوئڈ کے گلوکار اور گٹارسٹ راجر واٹرز کی جانب سے ٹوئٹر پر خرم پرویز کے حق میں بیان کے بعد سوشل میڈیا پر الفاظ کی جنگ چھڑ گئی ہے۔

راجر واٹرز نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن خرم پرویز کے بارے میں ٹویٹ میں لکھا تھا ('ہئے مودی لیؤ خرم الون' )اے مودی خرم کی جان چھوڑ دو۔'

خرم پرویز کو گزشتہ مہینے گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں انسدادِ دہشت گردی کے جس قانون کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اس میں ضمانت ملنا تقریباً ناممکن ہے۔

راجر واٹرز کی ٹویٹ کے بعد ان کی حمایت اور مخالفت میں تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اسٹیئروے ٹو ہیوِن نامی صارف نے لکھا 'مسٹر واٹرز کشمیر میں میری نوجوانی کے دنوں ہی سے آپ میرے ہیرو ہیں۔ آپ نے ہمیشہ لوگوں کو صحیح راستہ دکھایا ہے، ہمیشہ صحیح کا ساتھ دینے کا شکریہ۔'

نون چھائے نامی صارف نے لکھا 'شکریہ راجر دنیا میں انسانی حقوق کے اس معروف محافط کا ساتھ دینے پر۔'

راجر واٹرز کی ٹویٹ کے الفاظ کا پس منظر

راجر واٹرز نے یہ الفاظ اپنے مشہور ایلبم 'دا وال' کے گانے 'این ادر برِک اِن دا وال' سے لیے ہیں۔ یہ گانا فرسودہ نظامِ تعلیم اور ان نفسیاتی کیفیات کے بارے میں ہے جن کی وجہ سے انسان معاشرے اور لوگوں سے علیحدگی اختیار کر کے تنہا ہو جاتا ہے۔ یہ معاشرہ ایک وال یعنی دیوار کی مانند ہے اور ہر انسان اس میں ایک اینٹ کی طرح چنا جا رہا ہے اور یہ دیوار بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی ہے۔

اس گانے میں پہلے گلوکار اور پھر بچے چیخ کر کہتے ہیں 'ہئے ٹیچرز لیؤ دیم کڈز الون' (اے ٹیچرز بچوں کی جان چھوڑ دو)

راجر واٹرز ایک برطانوی گلوکار، شاعر، بیس گٹارسٹ اور کمپوزر ہیں۔ وہ سنہ 1965 میں قائم کیے جانے والے ایک ترقی پسند راک میوزک بینڈ 'پِنک فلوئڈ' کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ اس میوزک بینڈ کے اکثر گانے فاشزم، برطانوی آبادیاتی استحصال، طبقاتی نظام اور عالمی استحصالی قوتوں کے خلاف تھے۔ راجر واٹرز آج بھی استحصالی قوتوں کے خلاف سرگرم نظر آتے ہیں۔ وہ فلسطینوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے بھی سخت ناقد ہیں۔

کرشنا داس نے راجر واٹرز کی ٹویٹ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا 'انڈیا کی تقسیم تک آبادیاتی لوٹ مار اور ظلم و جبر کے بارے میں پہلے کچھ لکھیں۔'

جبکہ اس کا جواب دیتے ہوئے لیٹس ڈسکس 101 نے کہا کہ وہ ایسا کیا کہیں جو اب تک نہیں کہا گیا ہے اور آج کے دور میں اس کی کیا اہمیت ہے؟'

ہریش راتھوڑ نے لکھا ' آپ کی ٹویٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ انڈیا کو نہیں جانتے۔'

رحیم تنگ نے لکھا 'آپ کے تبصرے پڑھ کر شرم آ رہی ہے۔ شاید مودی کے دور میں آزادی اظہار آپ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ انڈیا کا مطلب ہے آزادی اور برداشت نہ کہ عدم برداشت والی بکواس۔'

خرم پرویز کا شمار انڈیا میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے ناقدین میں ہوتا ہے اور ان کے گروپ 'جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی' نے کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے حقوِق انسانی کی خلاف ورزی پر متعدد رپورٹس شائع کی ہیں۔

نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی نے خرم پرویز کے دفتر اور رہائش گاہ پر چھاپے مارے اور ان پر 'دہشت گردوں کی مالی معاونت' اور 'سازش تیار کرنے' کے الزامات عائد کیے گئے۔

وہ کشمیر اور ایشیا میں جبراً لاپتہ کیے جانے والے افراد کے بارے میں قائم کی گئی ایک تنظیم کے سربراہ بھی ہیں۔ سنہ 2016 میں بھی حکام نے انھیں سوئٹزر لینڈ میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اجازت نہ دیتے ہوئے متنازع پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق خرم سرینگر ایک آسودہ حال خاندان سے رکھتے ہیں جنھوں نے 20 سال قبل کشمیر یونیورسٹی سے صحافت میں ڈگری حاصل کی اور مختصر عرصے تک صحافت کرنے کے بعد انسانی حقوق کے سلسلے میں سرگرم ہو گئے۔

سنہ 2004 کے انتخابات کے دوران خرم نے انتخابات کے مشاہدے کے لیے پورے کشمیر میں رضاکاروں کو بھیجا اور خود بھی ایک ٹیم کی قیادت کی۔ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں اسی دورے کے دوران ایک سڑک پر بارودی دھماکہ ہوا جس میں اُن کی ایک رضاکار آسیہ جیلانی ہلاک ہو گئیں جبکہ خود خرم اپنی ٹانگ کھو بیٹھے۔ خرم کی اہلیہ حکومت کے شعبۂ سماجی بہبود میں افسر ہیں۔ اُن کے دو بچے ہیں۔

انڈیا میں بی جے پی کی حکومت کے فیصلوں اور اقدامات کے خلاف اکثر فنکاروں اور دیگر شعبوں کی مشہور شخصیات کی جانب سے بیانات آتے رہتے ہیں۔ ایسے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ جاتی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اور حمایت میں گفتگو کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

اس سال فروری میں بارباڈوس نژاد امریکی گلوکارہ ریحانہ کی جانب سے کسانوں کے احتجاج کے حق میں ٹویٹ کے بعد انڈیا میں ان کی مخالفت اور حمایت میں بیانات اور تبصرے سامنے آئے تھے۔ ریحانہ کی کسانوں کے حق میں کی جانے والی ٹویٹ کے بعد انڈیا میں انھیں آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔

ریحانہ نے انڈیا میں کسانوں کے احتجاج اور مظاہرین کی انٹرنیٹ تک رسائی محدود کیے جانے کی جانب توجہ دلائی تھی۔