بالی وڈ ڈائری: پرینکا کی ایرانی خواتین کی حمایت، ساجد خان کا تنازع اور آرین خان کی انٹری

،تصویر کا ذریعہSTRDEL
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
کچھ ایسی ہی کیفیت فلمساز ساجد خان کی بھی ہوگی، فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے نہیں بلکہ لوگوں کے حافظہ کے لیے دعا کر رہے ہوں گے جو ٹی وی ریالٹی شو 'بگ باس' میں انھیں شامل کیے جانے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
تقریباً چار سال پہلے ساجد کے ساتھ کام کرنے والی آٹھ خواتین اور ایک صحافی نے ان پر جنسی استحصال کے الزامات لگائے تھے۔ ساجد خان نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور ان کے خلاف کوئی کیس بھی درج نہیں کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد سے ساجد خان تقریباً خاموش زندگی گذار رہے تھے اور منظر عام سے غائب تھے۔
سلمان کی میزبانی میں ہونے والے بگ باس کے سیزن 16 میں ساجد خان کے منظر عام پر آتے ہی سینکڑوں لوگوں نے سوشل میڈیا پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے جن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
یہ شو کلر ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے اس شو کے آفیشیل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کئی پرومو ریلیز کیے گئے ہیں تاہم ساجد خان کو شو میں شامل کرنے پر شدید ردِ عمل کے بارے میں کلر ٹی وی کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا گیا

،تصویر کا ذریعہMilind Shelte/The India Today Group via Getty Imag
کچھ لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ انڈیا کے مقبول ترین ریالٹی شو پر ساجد خان کو لانے کا کیا مقصد ہے؟ اسے مقصد نہیں بزنس کہا جا سکتا ہے کیونکہ ایک متنازع شخصیت کو شو میں شامل کرنے سے شو کی مقبولیت بھی بڑھے گی اب چاہے وہ منفی پبلسٹی ہی کیوں نہ ہو، ایک کہاوت بھی ہے کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTheo Wargo
پرینکا چوپڑا کی ایرانی خواتین کی حمایت
نام تو ان کا بھی بہت ہے جنھوں نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر بالی وڈ سے لے کر ہالی وڈ تک خوب نام کمایا ہے اور وہ ہیں بالی وڈ کی سپرسٹار پرینکا چوپڑا۔
پرینکا نے ایران میں جاری خواتین کی احتجاجی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان خواتین کو کچلا نہیں جا سکتا اور ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔‘
پرینکا چوپڑا جونز نے سوشل میڈیا پر ایرانی خواتین کی حمایت میں ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا ’ایران اور دنیا بھر کی خواتین اپنے حق کے لیے کھڑی ہو رہی ہیں اور مہسا امینی کے لیے مختلف انداز میں احتجاج کر رہی ہیں جنھیں ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔
برسوں تک زبردستی دبائی جانے والی آوازیں جب اٹھتی ہیں تو وہ آتش فشاں کی طرح پھٹتی ہیں اور ان آوازوں کو کسی بھی صورت نہیں دبایا جا سکتا، میں آپ کے مقصد اور آپ کی جرات دیکھ کر حیران ہوں، پدرانہ سماج یا سٹیبلشمینٹ کے خلاف آواز اٹھانا اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھا کر اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا آسان کام نہیں ہے اور آپ بے خوف ہوکر ہر روز یہ کام کر رہی ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
پرینکا کی اس پوسٹ پر تعریف کم اور تنقید زیادہ ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ پرینکا کی اس پوسٹ کو موقع کا فائدہ اٹھانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور ان کی شکایت ہے کہ جب انڈیا کی خواتین کے ساتھ ریپ، قتل یا زیادتی ہوتی ہے تب وہ کہاں ہوتی ہیں۔‘
پرینکا چوپڑا نے اس سے پہلے سوشل میڈیا پر 'بلیک لائف میٹرز' کے حق میں بھی آواز اٹھائی تھی اور جب ان سے انڈیا میں ہونے والے لِنچِنگ کے واقعات پر سوال کیے گئے تھے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہProdip Guha
شاہ رخ خان کے بیٹے کی بالی وڈ میں انٹری
زویا اختر، بالی وڈ کے کنگ شاہ رخ خان کی بیٹی سہانہ خان کو لانچ کر رہی ہیں لیکن ساتھ ہی شاہ رخ کے بیٹے آرین خان بھی باقاعدہ بالی وڈ میں انٹری کرنے والے ہیں مگر بطور ہیرو نہیں بلکہ بطور رائٹر۔
ای ٹائمز کے مطابق آرین خان ایک ویب سیریز کی کہانی پر کام کر رہے ہیں جس میں مصنف بلال صدیقی ان کے شریک مصنف ہیں۔آرین ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے بطور رائٹر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے اداکاروں کا آڈیشن شروع ہو چکا ہے اور امید ہے کہ اس سیریز پر اس سال کے آخر میں کام شروع ہو جائے گا۔
























