آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی اداکارہ کونسٹینس وو نے اپنی جان لینے کی کوشش کیوں کی تھی؟
امریکی اداکارہ کونسٹینس وو نے کہا ہے کہ ان کی ٹی وی سیریز ’فریش آف دا بوٹ‘ کو پھر سے شروع کرنے کے بارے میں انھوں نے جو ٹویٹس کی تھیں اس کے جواب میں ہونے والے سخت ردعمل کے بعد انھوں نے خود کو مارنے کی کوشش کی تھی۔
کونسٹینس وو نے یہ انکشاف ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کیا۔ وہ اس سوشل پلیٹ فارم پر تقریباً تین سال بعد واپس آئی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے سوشل میڈیا پر واپس آنے سے ڈر لگنے لگا تھا کیوںکہ اس کے سبب میں زندگی سے تقریباً ہاتھ دھو بیٹی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کی ’غیر محتاط ٹویٹس‘ کے بعد انھیں ’انٹرنیٹ پر بدنامی‘ کا تجربہ ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’تین برس قبل جب انھوں نے اپنے ٹی وی شو کو پھر سے شروع کرنے کی بات کی تو اس سے اشتعال پھیل گیا اور انھیں انٹرنیٹ پر بری طرح سے بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔‘
امریکی اداکارہ نے 2019 میں متعدد ٹویٹس کی تھیں۔
40 سالہ کونسٹینس وو اس مزاحیہ ٹی وی شو میں 2015 سے سٹار رول کر رہی تھیں۔ انھوں نے پوسٹ کی تھی: ’میں اس وقت اتنی اپ سیٹ ہوں کہ واقعی رو رہی ہوں۔‘
بعد میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے غیر مناسب وقت پر تبصرہ کیا تھااور وہ دن ان کے لیے بہت مشکل دن تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
’کیا اس کے بعد بھی کوئی جینے کا مستحق تھا‘
رواں ہفتے ٹوئٹر پر واپس آنے کے بعد انھوں نے کہا: ’میں نے جو کچھ اس وقت کہا تھا اس پر مجھے بہت دکھ تھا اور میری ایک ساتھی ایشین اداکارہ نے جب مجھے براہ راست بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ میں ایشین امریکن کمیونٹی کے نام پر دھبہ بن جاؤں گی تو مجھے لگا کہ اب مجھے جینے کا حق نہیں ہے۔‘
’مجھے لگا کہ میں اپنی کمیونٹی کے لیے باعث شرم ہوں، اور میرے بغیر وہ اچھی رہے گی۔ اب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو یہ بات حقیقت سے دور لگتی ہے کہ کس طرح سے چند براہ راست بھیجے گئے پیغامات نے مجھے اپنی زندگی ختم کرنے پر آمادہ کر لیا تھا۔ مگر ہوا یہ ہی تھا۔ خوش قسمتی سے میری ایک دوست کو پتا چل گیا اور اس نے میری مدد کی۔‘
وو نے 2019 میں بننے والی فلم ہسلس میں بھی کام کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی کیفیت کے بارے میں ’میکنگ آ سینس‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے تاکہ ان لوگوں کی مدد کی جا سکے جو ایسی ہی کیفیت سے گزرتے ہیں۔
سنہ 2018 میں وو کو بہترین لیڈ ایکٹریس کی کیٹیگری میں گولڈن گلوب ایوارڈ کےلیے نامزد کیا گیا تھا، 44 کے دوران اس شعبے میں نامزدگی پانے والی وہ پہلی ایشین خاتون تھی۔ انھوں نے یہ کردار ’کریزی رِچ ایشینز‘ میں ادا کیا تھا اور یہ 25 برس میں پہلی فلم تھی جس کی پوری کاسٹ ایشین نژاد تھی۔