پِنک فلوئڈ: 28 سال بعد عالمی شہرت یافتہ بینڈ کا نیا گانا یوکرینی گلوکار کی بہادری کو خراج تحسین

ڈیوڈ گِلمور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈیوڈ گِلمور کا کہنا ہے کہ انھیں روسی جارحیت کے سامنے مغرب کی بے بسی پر بہت غصہ ہے۔
    • مصنف, مارک سیویج
    • عہدہ, بی بی سی میوزک
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

برطانیہ کے مشہور میوزک بینڈ پِنک فلوئڈ کے ارکان 28 سال کے بعد ایک نئے گانے کے لیے دوبارہ یکجا ہوئے ہیں۔ یہ یوکرین کی جنگ کے خلاف ایک احتجاجی گانا ہے۔

'ہے ہے رائز اپ' ٹائٹل والے اس گانے کے لیے ڈیوڈ گِلمور اور نِک میسن کے ساتھ پنِک فلوئڈ کے بیس گٹارسٹ گے پریٹ اور کی بورڈ پلیئر نتن ساہونے اکھٹا ہوئے ہیں۔

یہ گانا میوزک بینڈ بوم باکس کے یوکرینی گلوکار آندری کلینییک کی بہادری کے گرد گھومتا ہے۔

ڈیوڈ گِلمور کا کہنا ہے کہ 'یہ گانا ایک سپر پاور کی جانب سے ایک پر امن قوم پر حملے کے خلاف غصے کا اظہار ہے۔'

ان کے مطابق یہ یوکرین کے عوام کا حوصلہ بڑھانے اور امن پر زور دینے کے لیے بھی ہے۔

چند ہفتے قبل گِلمور کو آندری کلینییک کی ایک انسٹاگرام پوسٹ دکھائی گئی جس کے بعد اس گانے کی تیاری شروع کی گئی۔

یوکرینی گلوکار نے انسٹاگرام پر اپنی ویڈیو لگائی تھی جس میں وہ دارالحکومت کیئو کے سوفیساکاوا سکوائر پر اسلحے کے ساتھ کھڑے ہیں اور روس فوج کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

آندری کلینییک کیمرے کے سامنے احتجاج پر مبنی گانا 'دا ریڈ وائی برنم ان دا میڈو' گا رہے تھے جو پہلی جنگِ عظیم کے دوران لکھا گیا تھا۔ اب یہ گانا گزشتہ چھ ہفتوں سے یوکرین میں ایک علامت بن چکا ہے۔

بی بی سی سِکس میوزک سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ گِلمور نے کہا 'اس نے مجھے چونکا دیا، یہ بغیر میوزک کا ایک گانا تھا جسے ایک خوبصورت گانے میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔'

یہ بھی پڑھیے

یہ ایک اتفاق ہے کہ گِلمور نے بوم باکس کے ساتھ سنہ 2015 میں لندن میں بیلاروس فری تھیٹر کے لیے پرفارم کیا تھا۔ اس لیے گِلمور کلینیییک کو پہلے سے جانتے تھے اور انھوں نے کلینییک سے اجازت لینے کے لیے رابطہ کیا۔

'جب میری ان سے بات ہوئی تو وہ مارٹر کا ٹکڑا لگنے سے معمولی زخمی ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں تھے۔ وہ محاز جنگ پر تھے۔ میں نے فون پر انھیں یہ گانا سنایا اور انھوں نے مجھے اجازت دی۔'

یہ گانا جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ریلیز کیا گیا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی امدادی کاموں میں خرچ ہو گی۔

پنِک فلوئڈ

،تصویر کا ذریعہPink Floyd

یہ گانا ڈیوڈ گِلمور کے لیے اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کی بہو یوکرینی نژاد گلوگارہ جینینا پیڈن ہیں۔

گِلمور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس گانے کے لیے آرٹ ورک جینینا کا انتخاب ہے جس میں یوکرین کا قومی پھول سورج مکھی شامل ہے۔

'میری بہو نے اس جنگ کے آغاز پر ہمیں ایک خاتون کی کہانی سنائی تھی جو روسی فوجیوں کو سورج مکھی کے بیج دیتی تھی اور کہتی تھی کہ جہاں وہ مریں گے اس جگہ پر یہ پھول نکل آئیں گے۔'

گِلمور نے کہا کہ انھیں روسی جارحیت کے سامنے مغرب کی بے بسی پر بہت غصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے روس پر پابندیوں کی حمایت کی تھی۔

'یہ افسوس ناک ہے کہ روس کے عام لوگ ان پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے لیکن پابندیوں سے یہی ہوتا ہے۔ ان سے ملک میں غم و غصہ بڑھتا ہے اور جس کے نتیجے میں امید ہے کہ وہاں حکومت تبدیل ہو سکے گی۔'

جب ان سے یوکرین کے بحران پر برطانیہ کی حکومت کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے یوکرینی مہاجرین کے بارے میں حکومت کے سست رفتار ردعمل پر مایوسی کا اظہار کیا۔

'یورپ کے زیادہ تر ممالک یوکرین کے لوگوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں جبکہ برطانوی حکومت کہہ رہی ہے کہ آپ کمپیوٹر پر کئی فارم بھریں۔ میرا یہ کہنا ہے کہ آپ پہلے انھیں آنے دیں اور کاغذی کارروائیاں بعد میں پوری کر لیں۔'

پِنک فلوئڈ کے رکن راجر واٹرز اس نئے گانے میں شامل نہیں ہیں۔ انھوں نے پنِک فلوئڈ کو سنہ 1985 میں چھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد سے بہت کم بینڈ کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں۔